مولوی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں
میرا زندگی کا تجربہ یہی ہے کہ مولوی یا افسر سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ ان سے ڈرنے سے انکار کر دیں تو یہ آپ کے ساتھ عزت و احترام پر مبنی رویہ اپنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آج مجھے اس ضمن میں کچھ واقعات یاد آ رہے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی کی جامع مسجد میں ایک خطیب صاحب ہوا کرتے تھے۔ بڑا ان کا رعب اور دبدبہ ہوتا تھا۔ جمعیت کے کندھوں پر سوار ہو کر گریڈ سے لے کر گھر تک سب کچھ دھونس اور دھاندلی سے حاصل کر رکھا تھا۔ یونیورسٹی بجٹ میں خطیب کی پوسٹ 14 گریڈ کی ہے لیکن وہ اپنے کمال فن سے انیسویں گریڈ سے فیض یاب ہو رہے تھے۔ جمعہ کے خطبے میں اکثر اساتذہ کو لتاڑتے رہتے تھے۔ میں ان کے پیچھے جمعہ نہیں پڑھا کرتا تھا۔ میں ایسی مسجد میں جمعہ پڑھنا پسند کرتا تھا جس کے متعلق مجھے یقین ہو کہ میرے پہنچنے سے پہلے تقریر ختم ہو چکی ہو گی۔ یہ خطیب صاحب وقت کی پابندی نہیں کرتے تھے اس لیے تقریر میں پندرہ بیس منٹ زیادہ لے لیا کرتے تھے۔
اسی کی دہائی کے ایک جمعہ کا ذکر ہے کہ اس روز پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کا ون ڈے میچ ہو رہا تھا۔ پہلی اننگز کے آخری اوور کافی سنسنی خیز ہو گئے۔ اس لیے میں جس مسجد میں جمعہ پڑھتا تھا وہاں نماز کا وقت نکل چکا تھا۔ چناں چہ مجبوراً یونیورسٹی کی مسجد میں جانا پڑا۔ جب مسجد پہنچا تو مولانا صاحب کی گرجدار آواز باہر تک سنائی دے رہی تھی۔ مجھے نہیں پتا وہ کس موضوع پر تقریر فرما رہے تھے لیکن جو حصہ میں نے سنا وہ کچھ یوں تھا۔ ان کا ایک مخصوص جملہ ہوتا تھا ہماری غیرت کو کیا ہو گیا ہے۔ ایک صحابہ کی غیرت ہوتی تھی۔ اس دن بھی وہ کسی صحابی کی دینی غیرت کا واقعہ بیان کر رہے تھے۔ صحابی کا نام انھیں تیقن سے یاد نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے نابالغ بچے کو بتایا کہ حضور نبی کرم ﷺ کو کدو بہت پسند تھا۔ اس بچے نے آگے سے کہا چھوڑیں ابا جان یہ بھی کوئی کھانے کی چیز ہے۔ اس پر اس صحابی نے کہا او مردود تو میرے گھر پید ا ہوا ہے۔ جب میں نے کہہ دیا ہے کہ حضور ﷺ کو بہت پسند تھا تو تمھاری جرات کس طرح ہوئی یہ بات کرنے کی۔ نکل جاو میرے گھر سے میں تمھاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا اور اس کے بعد انھوں سے ساری عمر اس کی شکل نہیں دیکھی۔ یہ تھی صحابہ کی غیرت۔ قصہ گھڑنے والے کو شاید یہ یاد نہیں رہا تھا کہ نابالغ بچے مرفوع القلم ہوتے ہیں۔
اس کے بعد عباسی سلطنت کے چیف جسٹس امام ابو یوسف کی دینی غیرت کا تذکرہ کیا۔ ان کے سامنے کسی نے کدو کی شان میں گستاخی کی تو انھوں نے کہا تم کدو کھاو یا نہ کھاو یہ تمھاری مرضی ہے، لیکن تمھیں اسلامی شریعت کی توہین کا کوئی حق نہیں۔ اس لیے آپ نے اسے کوڑے لگوائے۔ نماز کے بعد مسجد سے باہر نکل کر وہاں کھڑے اساتذہ سے میں نے کہا مجھے آج پتہ چلا ہے کہ کدو اسلامی شریعت کا کتنا اہم اور معتبر رکن ہے۔ اگرچہ مجھے کدو کوئی خاص پسند نہیں لیکن میں آئندہ اسے کدو شریف کہا کروں گا۔
کچھ عرصہ بعد اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی میٹنگ تھی۔ اس میں تقریر کرتے ہوئے میں نے کہا یونیورسٹی میں اسلامیات کا شعبہ ہے اور عربی کا بھی۔ لیکن افسوس کا مقام ہے اس کے باوجود یونیورسٹی نے جمعہ کا خطبہ دینے کے لیے انیس گریڈ کا ایک مولوی رکھا ہوا ہے۔ آپ حساب لگائیں کہ جمعہ کا ایک خطبہ کتنے میں پڑتا ہے۔ وہ جمعہ میں اس قسم کی جاہلانہ تقریریں کرتا ہے اور اس کے بعد میں نے ان کی تقریر بیان بھی کر دی۔
کچھ دن بعد جب ہمارے گروپ کی میٹنگ ہوئی تو بہت سے ساتھی مجھ پر برس پڑے کہ میں نے امام مسجد کی توہین کی ہے جس کا دین میں رتبہ بہت بلند ہوتا ہے۔ کچھ دوستوں نے تنقید کی شدت سے گھبرا کر میرا دفاع کرنے کی کوشش کی کہ شاید میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ یعنی میں کہنا کچھ اور چاہتا تھا لیکن میری زبان سے غلطی سے کچھ اور ادا ہو گیا۔ میں نے دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا مجھے اس دفاع کی ضرورت نہیں ۔ میں نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ بہت سوچ سمجھ کر کہا ہے اور میں اس پر قائم ہوں۔ میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سٹیج پر میری زبان سے وہ الفاظ پھسل جائیں جو میں کہنا نہیں چاہتا تھا۔ اس پر کسی نے کہا مولانا صاحب آئندہ جمعہ کی تقریر آپ کے خلاف کریں گے۔ میں نے جواب دیا خطیب صاحب کو میری طرف سے بس اتنا پیغام دے دیجیے گا کہ اس سے اگلے جمعہ کی تقریر میں کروں گا۔
خیر اپنی بات پر قائم رہنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ میرے دوست احباب کے پاس جا کر سفارشیں ڈھونڈنے لگے۔ ان سے کہتے اسے سمجھائیں یہ خواہ مخواہ میرے پیچھے پڑ گیا ہے۔ ایک دن ایک دعوت پر ہم اکٹھے ہو گئے۔ میں پلیٹ میں کھانا ڈال رہا تھا۔ انھوں نے پیچھے سے آ کر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کرکہا ساجد صاحب، مجھے کوئی افسوس نہیں کہ اپ نے میرے خلاف تقریر کی۔ میں نے مڑ کر دیکھا اور کہا مجھے بھی کوئی افسوس نہیں۔ اس پر وہ کھسیانے سے ہو کر رہ گئے۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ یاد آ رہا ہے۔ میں ایک نجی تعلیمی ادارے میں اسلامیات کے پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ایک کورس پڑھا رہا تھا۔ آدھے سے زیادہ طلبہ مدارس سے فارغ التحصیل تھے۔ ایک دن کلاس سے باہر آیا تو معلوم ہوا کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کر دیا گیا ہے۔ دو دن بعد جب دوبارہ کلاس ہوئی تو طلبہ نے اس بارے میں سوال پوچھ لیا۔ صورت حال نازک بھی تھی اور جذباتی بھی۔ ایک لمحے کو خیال آیا کہ اس سوال کو ٹال دوں۔ لیکن دل سے آواز نہیں یہ بزدلی ہو گی۔ خیر اس کے بعد میں نے ایک گھنٹہ سے زاید عرصہ تک اپنا مدعا بیان کیا۔ اس وقت یہ تو یاد نہیں کہ کیا کہا تھا لیکن جو بھی کہا تھا وہ روش عام سے ہٹا ہوا تھا۔ بہرحال میری خوش قسمتی سمجھیے کہ ان لوگوں نے میری بات خاموشی سے سن لی تھی۔
حالیہ عرصے میں اس موضوع پر تحریریں نظر سے گزری ہیں کہ بہاول پور والے سانحہ کے بعد اساتذہ خوف زدہ ہیں کہ نجانے ان کی کون سی بات کسی کو ناگوار گزرے اور اس کے نتائج استاد کے لیے خطرناک ہوں۔ مجھے یہ تسلیم کرنے سے انکار نہیں کہ حالات سنگین ہیں لیکن استاد کا خوف زدہ ہونا نہیں بنتا۔ استاد کو اپنی بات کرتے رہنا ہے اور مجھے قوی یقین ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب کان بات سننے اور سمجھنے لگ جائیں گے۔ استاد اگر خوف زدہ ہو کر خاموش ہو گیا تو اس سے بڑا سانحہ کوئی اور نہیں ہو گا۔ تاریک ذہنوں کو روشنی کی کرن سے منور کرنے کی سعی کرتے رہنا فرض کفایہ نہیں، فرض عین ہے۔


