نواز شریف کا ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانیہ دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے
میاں نواز شریف کا ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانیہ آہستہ آہستہ دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے تاریخ شاہد ہے کہ ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹ کے جاتی ہے اور ن لیگ بھی ماضی کی سیاست کی طرف گامزن ہے انقلابی بننے کے نعرے میں وہ دم خم نہیں رہا جو جی ٹی روڈ پر مجھے کیوں نکالا کے بعد تخلیق کیا گیا تھا۔ ن لیگ جان چکی ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں مقتدر قوتوں کے ساتھ ٹکر لینا آسان نہیں اور نہ سیاست ہو سکتی ہے تو دوسری طرف بھی احساس ہو گیا ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی شخصیات کو سیاست سے مکمل الگ کر کے بھی نظام نہیں چلایا جا سکتا۔ موجودہ حکومت کی نا اہلی نے بھی مقتدر قوتوں کو اپنے بیانیہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اندر خانے بہت کچھ چل رہا ہے اسلام آباد کی خاموش فضاؤں میں سننے والوں کو بہت سی سرگوشیاں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ چھ ہفتوں کی ضمانت میں توسیع ہو جائے گی پھر بتدریج معاملات ”ڈھیل“ کی طرف جاہیں گے۔
نیب کی اسیری میں موجود اہم لیگی رہنما سے پوچھا کہ غصہ ٹھنڈا کیوں نہیں ہو رہا تو ترنت جواب ملا کہ غصہ کب کا ٹھنڈا ہو چکا ہے معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں پھر میں نے اُن پر سوال داغا کہ اگر یہ سب کچھ کرنا تھا تو پھر چوہدری نثار کی کیوں نہیں مانی گئی؟ ان سے ناراضگی کیوں مول لی گئی؟ کہنے لگے کہ کسے پتہ ہوتا ہے کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ درست ثابت ہو سکتے ہیں ہاں میں مانتا ہوں کہ ہم سے غلطیاں کوتاہیاں ہوئی ہیں ہمیں دوسروں کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے تھی۔
اسیر رہنما بتاتے ہیں کہ ہاتھ ملانے میں ہی پاکستان کی بھلائی ہے یہاں اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لے کر سیاست نہیں کی جا سکتی انھیں ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔
پیپلزپارٹی بھی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے کہ وہ بھی مقتدر حلقوں سے راہ رسم بڑھائے گزرے ماہ سندھ کے وزیر اعلٰی مراد علی شاہ اسلام آباد کے پانچ دورے کر چُکے ہیں چار دوروں میں ان کی مقتدر حلقوں سے ملاقات بھی ہوئی ہے اور یہ ملاقات رات کے اندھیرے میں ہوئی۔ معاملات دھیرج دھیرج آگے بڑھ رہے ہیں۔ جزئیات طے ہو رہی ہیں اور بالآخر کامیابی مل جائے گی۔ یہ سب کچھ بلاول سے بالا بالا ہی طے ہو رہا ہے انھیں ان باتوں سے لاعلم رکھا جا رہا ہے کیونکہ ان کے ڈیڈی کا خیال ہے کہ وہ ابھی سیاست میں میچور نہیں ہوا۔
مریم نواز اور نواز شریف کا نام اگلے دو سے تین ہفتوں میں ای ای ایل سے نکل جائے گا اور میاں نواز شریف بیٹی سمیت علاج کے لیے بیرون ملک عازم سفر ہو جائیں گے کچھ عرصہ وہاں مقیم رہیں گے۔ ن لیگ کی سیاست شبہاز شریف کے ہاتھ میں ہو گی سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار جلد ن لیگ کی صفوں میں شامل ہوں گے۔
چوہدری نثار مسلسل مقتدر حلقوں کے ساتھ رابطوں میں ہیں اور لیگ کو اس مشکل سے نکالنے میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال رہے ہیں۔ ن لیگ کے صف اول کے رہنما دبے لفظوں میں اظہار کر رہے ہیں کہ ہمیں چوہدری نثار کی باتوں کو اہمیت دینی چاہیے تھی۔


