لٹ خانہ سے لٹ خانہ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لٹ خانے سے میری نسبت تب کی ہے جب میں میکانگی روڈ پر گھوڑا ہسپتال کے پاس ایک ٹیوشن سینٹر میں غلط انگریزی پڑھاتا تھا جس کے عوض ماہانہ بارہ سو روپے تنخواہ لیتا تھا اور ایک عدد ذاتی چائنا سائیکل کا مالک تھا۔ میرے سر کے بال اس وقت بھی یوحنا عارف کے مکاشفے میں مذکور شخص کی طرح برف کی مانند سفید تھے، فرق بس اتنا کہ وقت کی بھٹی میں تپنے کے باوجود میرے پیر خالص پیتل کے نہ ہو سکے تھے۔ وقت کی تپش کو افتخار کے ساتھ بیان کرنا بڑے لوگوں کو سزاوار ہے۔ ہم عاصی نسخہ مرض پر حرف انکار لکھتے رہے۔ داد میں غضب سمیٹتے رہے۔ ابرار احمد نے کہا تھا، اور یہ دل ہے کہ اب کوئی تقاضا نہ کرے۔

لٹ کا کسی ایک لفظ یا اصطلاح میں ترجمہ ممکن نہیں ہے۔ اردو زبان میں اس کے قریب کا مفہوم ” آزاد منش انسان یا بے فکرا انسان“ ہے۔ اسی نسبت سے لٹ خانے کا نام پڑا۔ لٹ خانہ اس گھر کو کہتے ہیں جہاں چند بے فکرے زندگی کی صورت گری میں مصروف رہتے ہیں۔ اس خانہ فہم سے میرا پہلا تعارف ڈاکٹر اقبال علی کے توسط ہوا تھا۔ میں ان دنوں سائنس کالج سے گریجوئیشن کر رہا تھا۔ کوئٹہ بھر میں انگریزی زبان سکھانے والے ٹیوشن سینٹرز سرکنڈوں کی طرح اگے ہوئے تھے۔ خداوند ستار ہے، عیوب پر پردہ ڈالنے والا۔ ایک ٹیوشن سینٹر میں میری مزدودی کا سامان بھی ہو گیا۔ ہفتہ وار چھٹی پر اپنے شہر پشین جاتا تو ڈاکٹر صاحب کی صحبت سے فیضیاب ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب کو داد دیجیے کہ یہ تعلق ابھی تک استوار ہے۔ ڈاکٹر صاحب فہم و دانش کے اس کارواں کے راہی ہیں جس کا آغاز ماما عبداللہ جمالدینی، سائیں کمال خان شیرانی اور ڈاکٹر خدائیداد خان نے کیا تھا۔

یہ داستان کوئٹہ کی ہے اورکوئٹہ میرا شہر ہے۔ یہ مجھے رخ دلبر کے جیسا عزیز ہے۔ اس کے چائے خانوں کے در طواف یاد کرتا ہوں تو مجھے اپنے دوستوں کے چہرے نظر آتے ہیں۔ مجھے اس شہر کے نیم اجڑے کتب خانوں کے وہ شیلف یاد ہیں جن میں اب بھی جابجا میخائل شولوخوف، میکسم گورکی، ٹالسٹائی اور دوستوئیفسکی کے ناولوں کی خستہ اشاعتیں موجود ہیں۔ کھلی سڑکوں پر کہیں کہیں جدید تہذیب کی یلغار سے محفوظ ٹین کے چھتوں، کھلے صحنوں والے سیون ٹائپ ہٹس آج بھی نظر آ سکتے ہیں جن کے صحن کوئٹہ پائن کے اونچے درختوں سے آباد ہوں اور ان میں شاموں کو ہرے طوطوں کے غول بیٹھتے ہوں۔ سر شام جب فضا میں کوئلے کی مہک اٹھتی تو جناح روڈ کے تھڑے خوش لباس جوانوں سے بھر جاتے۔ ان میں لٹ خانہ کی روایت کا کوئی شفیق بوڑھا بھی نظر آتا۔ یہاں رات دیر تک سیاست، ادب، فلسفہ، سائنس اور شاعری پر گفتگو ہوتی۔ رمضان میں تراویح کے بعد منان چوک پر ڈھول بجتا اور یہ خوش رنگ نوجوان سحر تک رقص کرتے۔ اب تو یاد کی پوٹلی میں بس راکھ بچی ہے۔ بورخیس نے لکھا تھا، ’مجھے اپنے موجود ہونے پر یقین نہیں۔ میں درحقیقت وہ تمام کتابیں ہوں جو میں نے پڑھیں، وہ تمام لوگ ہوں جن سے میں ملا۔ وہ تمام عورتیں جن سے میں نے محبت کی۔ وہ تمام شہر جو میں گھوما‘۔ وہ تمام تھڑے، چائے خانوں سے اٹھتی مہک، انگور کی سرکش بیلیں، نوجوانوں کا جوش، ڈھول کی تھاپ، نیم اجڑے کتب خانے اور لٹ خانہ ، یہ سب کوئٹہ ہیں ۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری ماما عبداللہ جمالدینی سے نیاز حاصل کرتے ہوئے

غالباَ 1940کا عشرہ تھا جب کوئٹہ شہر پر علم و عرفان کا در مہربان ہوا۔ ماما عبداللہ جمالدینی اور سائیں کمال خان شیرانی اسلامیہ کالج پشاور سے فارغ التحصیل ہو کر نائب تحصیلدار بھرتی ہوئے تھے۔ یہ اپنے دور کے وہ نوجوان تھے جو کتاب سے شغف رکھتے تھے۔ عالمی سیاست پر نظر تھی، خطے کی معاشی صورتحال سے واقف تھے، ترقی پسند ادب میں رسوخ رکھتے تھے۔

ماما جمالدینی، سائیں کمال خان اور خدائیداد خان 1930کے عشرے میں سکول کے زمانے کے دوست تھے۔ سائیں کا تعلق ژوب سے تھا جبکہ ماما کا تعلق نوشکی سے تھا۔ ملازمت کے بعد اپنا فکری سفر جاری رکھنے کے لئے انہوں نے کوئٹہ میں ایک ٹھکانہ بنانے کا قصدکیا۔ 1935 کے زلزلے کے بعد کوئٹہ میں انگریزی سرکار نے شہر کو زلزلے سے محفوظ بنانے کی خاطر ٹین کے چھتوں والے سیون ٹائپ مکانات تعمیر کروائے۔ ان میں جگہ جگہ ایک کمرے کے ہٹ بھی تھے ۔ ان دونوں احباب نے بلوچی سٹریٹ میں ایک کمرے کا ایسا ہی ہٹ کرائے پر حاصل کیا۔ چونکہ خود بھی تحصیلدار تھے اور دیگر تحصیلداروں کا بھی اس ہٹ میں آنا جانا تھا اس لئے گلی والوں نے اس ہٹ کو ’ تحصیلداروں کا گھر‘ قرار دیا تھا۔ یہاں خوش لباس تحصیلدار رہا کرتے تھے۔ اس جانب اشارہ کرتے ہوئے ماما اپنی کتاب’ لٹ خانہ‘ میں لکھتے ہیں، ’ کمال خان تو نہایت مغربی تھے۔ تھری پیس سوٹ کے ساتھ پائپ کا شوق بھی رکھتے۔ سینٹ اور خوشبودار کریم استعمال کرتے تھے اور نہایت قیمتی تمباکو استعمال کرتے جو لوگوں کو متاثر کرتی‘۔

اس لٹی، یارباشی اور معاش سے بے فکری کے باوجود ان نوجوانوں کو نظام سے شکوہ تھا۔ انہوں نے سماج کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ طبقاتی اونچ نیچ ، حکومتوں کی ناانصافیوں اور سماجی جوہڑ نے ان کو انکار کے رستے پر چلنے پر آمادہ کیا۔ ماما لکھتے ہیں، ’ کالج ہی کے زمانے میں کمال خان، بہادر خان اور میں نے اپنے لوگوں کے بارے میں، اپنے سماج کو سدھارنے کے بارے میں سوچا تھا۔ ادب، فلسفہ، تاریخ اور سوشلزم نے فکری جہت دی تھی۔ برناڈ شا، رسل، تھامس نے فکری بنیادیں فراہم کی تھیں۔ ملک اور عالمی حالات نے ان بنیادوں پر عملی ڈھانچہ کھڑا کرنے کا جذبہ پیدا کیا تھا۔ سیاست ادب اور فلسفہ نے ایسی فکر دی کہ سرکاری ملازمت سے بیزاری پیدا ہوئی۔ نصیر آباد میں کچھ عرصہ رہنے کا یہ اثر ہوا کہ جاگیرداری استحصال عملی صورت میں دیکھا۔ کسانوں کی تباہ حالی، سرکاری ملازمین کی رشوت ستانی، جاگیردار طبقہ کی من مانیوں کو بڑھاوا دینا اور غریب طبقہ کو پامال کرنا روزمرہ کا کام تھا۔ ادھر چین میں انقلاب آیا، عالمی سیاسی صورتحال نے کروٹ لی۔ ہم جیسے فکری نوجوان ان حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے‘۔

بالآخر پانچ سال کی ملازمت کے بعد پہلے سائیں کمال خان نے اور پھر ماما جمالدینی سرکاری ملازمت سے استعفی دے دیا۔ اب ان کا ٹھکانہ بلوچی سٹریٹ کا وہ ہٹ تھا جس کے تیسرے اہم رکن خدائیداد خان تھے۔ خدائیداد ان کے فکری ساتھی، بچپن کے دوست اور محکمہ ٹی اینڈ ٹی میں ملازم تھے۔ ان کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بھی ملازمت کو لات مار دی۔ اب ہٹ میں ادب، فلسفہ، سیاست اور سماجی پر گفتگو کی محفلیں جمتیں۔ لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔

 ملازمت سے مستعفی ہونے کے بعد سرکار کی طرف سے ملے ہوئے اردلی بھی رخصت ہو گئے۔ خدائیداد خان نے باورچی خانے کا انتظام سنبھال لیا۔ سائیں مکان کی آرائش میں لگ گئے اور ماما کے ذمے سودا سلف لانا تھا۔ دن بھر مختلف موضوعات پر گفتگو چلتی، رات کو گاسلیٹ والے لالٹین کی روشنی میں مطالعہ ہوتا اور صبح دیر سے اٹھنا۔ کوئٹہ کی بولی میں یہ مکمل لٹوں والی زندگی تھی۔ چونکہ تحصیلداروں کا مکان اب ایک فکری آماجگاہ تھی اس لئے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا۔ انہی احباب میں ایک لٹ غنی اچکزئی بھی شامل ہوئے۔ غنی دن چڑھے آتے تو ہٹ کے باسی بدستور بستروں میں پڑے رہتے۔ غنی آواز لگاتا، ’ لٹانو سہ کوئی چی تر اوسہ لا پراتہ یاست‘۔ لٹو کیا کر رہے ہو جو اب تک لیٹے ہوئے ہو۔ یوں اس ترکیب سے احباب ہٹ نے مکان کا نام لٹ خانہ رکھ چھوڑا۔

لٹ خانہ کہنے کو تو ایک کمرے کے مکان کا نام ہے جس کا کرایہ ماہوار دس روپے تھا مگر بلوچستان میں روشن خیالی اور ترقی پسندی کا پورا مکتبہ فکر بن گیا۔ یہ بات بلامبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ بلوچستان میں ادب، فلسفہ، سیاست اور علم دوستی کے تمام ڈانڈے لٹ خانہ سے ہی جڑتے ہیں۔ ماما عبداللہ جمالدینی بلوچ ادب کے سرخیل ثابت ہوئے۔ سائیں کمال خان لیفٹ کی سیاست کے فکری امام کے مقام پر فائز ہو گئے۔ ڈاکٹر خدائیداد خان علم و ادب کا سرچشمہ تھے۔ لٹ خانہ اور احباب لٹ خانہ کے لئے بارے میں کلام کے لئے کالم کا دامن بہت تنگ ہے۔ ان کے بارے میں پوری پوری کتاب لکھنی پڑے گی۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ لٹ خانہ کی روایت کا آخری دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری ہمارے درمیان موجود ہے۔ انہوں نے لٹ خانہ کی پوری روایت کو ہمارے لئے محفوظ کیا جس کے لئے بلوچستان ان کا شکرگزار ہے۔ لٹ خانے سے بلواسطہ اور بلاواسطہ فکری جلا پانے والے نام ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ پشتو، بلوچی، برہوی اور اردو ادب، ترقی پسند سیاست کا آغاز یہیں سے ہوا تھا۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری، ڈاکٹر مالک بلوچ، ڈاکٹر اقبال علی، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، مولا بخش دشتی، گل خان نصیر، بسم اللہ کاکڑ، عزیز اللہ ماما، سرور کاکڑ، کامل القادری،حبیب جالب، صبا دشتیاری، رازق بگٹی، انجم قزلباش، یوسف عزیز مگسی، اے عزیز لونی، ڈاکٹر عنایت اللہ کاسی، سیال کاکڑ، خیر محمد عارف، غرض سینکڑوں نام ہیں جن کی فکری اٹھان لٹ خانے کے ہی مرہون منت ہے۔ آہ!کیسی کیسی صورتیں خاک میں پنہاں ہو گئیں اور جبر دیکھئے کہ نہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغ۔ ۔

کبرنا موت الکبراء

لٹ خانہ کی ایک نسبت مگر اور بھی ہے۔ اکتوبر 2015 کی ایک شام مرشدی وجاہت مسعود کا فون موصول ہوا۔ مرشدی وجاہت مسعود محبت کا اشلوک ہیں۔ نصاب گل کا وید جانتے ہیں۔ فرمانے لگے، میاں یہ فیس بک پر کیا پاکھنڈ مچا رکھا ہے؟ عرض کیا مرشد حکم۔ فرمانے لگے، ’ دنیا پاکستان ‘ کی ادارت اپنے ذمہ لی ہے، لکھو۔ یوں عاصیوں کے قافلے میں شمولیت اختیار کی۔ وجاہت مسعود دنیا پاکستان سے الگ ہوئے تو ہم سب کے (موجودہ ادارتی ٹیم) کے احباب بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ وجاہت مسعود نے ’ہم سب‘ کا آغاز کیا تو برادرم عثمان قاضی صاحب، عاصم بخشی صاحب، وقار احمد ملک، عدنان خان کاکڑ، فرنود عالم، حسنین جمال، وسی بابا، محمد حسن معراج، سید مجاہد علی صاحب، تنویر جہاں، ذیشان ہاشم کے ساتھ میرا نام بھی گنتی میں شامل تھا۔ برادرم عدنان خان کاکڑ نے ان تمام احباب کا ایک گروپ بنا دیا۔ اب عمومی گفتگو کا ذریعہ یہی گروپ تھا۔ کچھ عرصے بعد حاشر ابن ارشاد، ظفر عمران اور عمید ملک بھی شامل حال ہو گئے۔

ستمبر 2016 کے کسی شام وجاہت مسعود کے گھر بیٹھے تھے کہ ماما جمالدینی کے وفات کی خبر آئی۔ خبر کیا تھی دکھ کا نقارہ تھا۔ بقول فیض، چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر۔ محفل رات کی گھمبیر خاموشی تک پہنچی تو لٹ خانہ کا ذکر بھی آ گیا۔ میں نے تجویز رکھی کہ اگر ہمارے چیٹ گروپ یا ادارتی گروپ کا نام بدل دیا جائے تو کیا احباب اجازت دیں گے؟ حاضرین نے بخوشی اجازت دے دی اور میں نے ماما عبداللہ جمالدینی اور احباب لٹ خانہ کی یاد میں گروپ کا نام ’ لٹ خانہ‘ رکھ دیا۔ لٹ خانہ آج بھی قائم ہے۔ افتخار عارف صاحب نے لکھا، وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی ہے وجود۔ خدا اسے آباد رکھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 179 posts and counting.See all posts by zafarullah