بجٹ کٹوتی، تقسیم اور خرچ


گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن حکومت کو چار سال کا عرصہ پورا ہونے میں کچھ مہینے رہ گئے ہیں۔ آئندہ جون میں پاکستان مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت اپنا آخری اور پانچواں بجٹ پیش کرے گی۔ گزشتہ تقریباً چار سالوں میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے تعمیر و ترقی کے متعدد منصوبے مکمل کرائے ہیں جن میں بعض ان کے اپنے منصوبے ہیں جبکہ بعض منصوبے ایسے ہیں جو گزشتہ حکومت مکمل نہیں کرواسکی اور تاخیر کا شکار ہوگئی۔ وفاق میں میاں محمد نواز شریف کی بطور وزیراعظم موجودگی صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے لئے نیک شگون رہی جس کی وجہ سے چارسالوں میں بجٹ کی کمی دیکھنے کو نہیں ملی۔ میاں محمد نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں صوبائی حکومت کو ہر وہ چیز فراہم کی اور ہر اس چیز کی منظوری دیدی جس کا صوبائی حکومت نے مطالبہ کیا تھا۔

مسلم لیگ ن نے جی بی میں اپنے دوسرے اور تیسرے مالی سال پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہم نے پہلی مرتبہ ریکارڈ ترقیاتی کام کراتے ہوئے 100 فیصد بجٹ بھی خرچ کرلیا ہے۔ دوسری جانب ایک پہلو یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان میں ابھی تک صرف ایک اے ڈی پی مکمل ہوچکی ہے جبکہ دوسری اے ڈی پی ابھی بھی ٹینڈر کے مرحلے میں ہے اور عملی کام شروع نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن پر وہی تیر پھینکے جارہے ہیں جو اس نے پیپلزپارٹی کی گزشتہ حکومت پر برسائے تھے۔

رواں مالی سال جون میں اختتام پذیر ہوگا۔ رواں مالی سال میں گلگت بلتستان حکومت کو ایک اہم رکاوٹ بھی پیش آئی۔ صوبائی حکومت نے سابقہ روایت کے مطابق 17 ارب روپے کا بجٹ منظور کرلیا جبکہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے بجٹ سے 2 ارب روپے کی کٹ لگادی جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے متعدد منصوبوں کے فنڈز ریلیز کرنے سے انکار کردیا اور روک دیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے دو ارب روپے صوبائی بجٹ سے کٹ لگانے کا معاملہ گزشتہ کئی مہینوں سے جی بی کے اخبارات کی زینت بنا ہوا ہے اور وفاقی حکومت پر اس حوالے سے تنقید بھی کی جارہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے دو نوں فعال ذمہ داران یعنی گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون اور رکن اسمبلی راجہ جہانزیب اس معاملے پر شش و پنج میں نظر آرہے ہیں دونوں کا موقف اب تک یہی ہے کہ کٹ لگانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے بلکہ صوبائی حکومت کی جانب سے پھیلائی گئی افواہ ہے۔ جبکہ حقیقت یہی ہے کہ گزشتہ بجٹ کے نظرثانی ایڈیشن کی جاری شدہ پنک بک میں ان منصوبوں کی تفصیلات موجود ہیں اور دو ارب کٹ لگانے کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

مسلم لیگ ن نے اپنی نئی روایتی حریف تحریک انصاف پر تنقید کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جس میں سب سے زیادہ دوارب کٹ لگانے کی بات تھی۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے متعدد مواقعوں پر اس بات کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت نے جو دو ارب روپے کی کٹ لگادی ہے اس کی وجہ سے ہمیں بجٹ منصوبہ بندی میں رکاوٹیں آرہی ہیں۔ ہمارے پاس اس کا واحد حل بنکوں سے قرضہ لے کر اپنا بجٹ پورا کرنا ہے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا طویل عرصے کے بعد اجلاس منعقد ہوا۔ رکن اسمبلی رانی عتیقہ کی صدارت میں منعقدہونے والے اجلاس میں محکمہ تعمیرات نے جو بریفنگ دیدی وہ درج بالا دعوؤں کی قلعی کھول رہے ہیں۔ محکمہ تعمیرات کی جانب سے دیے گئے بریفنگ کے مطابق وفاقی حکومت نے ابھی تک قریب 10 ارب روپے جاری کردیا ہے جو کہ کل بجٹ کا دو تہائی حصہ ہے۔ اس بجٹ میں سے ابھی تک صرف 55 فیصد یعنی ساڑھے پانچ ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔

گلگت بلتستان کے تمام محکموں میں سے صرف ایک محکمے میں سو فیصد بجٹ خرچ کردیا گیا ہے۔ جبکہ باقی تمام محکمے بجٹ خرچ کرنے میں ناکام ہیں۔ چار کوارٹروں پر مشتمل بجٹ سے ابھی تک متعدد محکموں نے تیسری ریلیز یا کوارٹر کا مطالبہ تک نہیں کیا ہے۔ گزشتہ نو مہینوں میں صرف ساڑھے پانچ ارب روپے کا خرچ ہونا صوبائی حکومت کے تعمیر و ترقی پر سوال اٹھارہا ہے۔ قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ بھی اس خطرے کی گھنٹی بھی بجادی گئی کہ اگر رواں مالی سال بجٹ پورا خرچ نہیں کیا گیا تو وفاقی حکومت اگلے سال بجٹ میں کمی کرے گی۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی توجہ تعمیرات پر مرکوز رہی ہے۔ گلگت سکردوروڈ، گلگت استور روڈ، گلگت تا نلتر ایکسپریس وے سمیت متعددسڑکوں کی ازسرنوتعمیر مسلم لیگ ن کے دور میں شروع کیے گئے اور ان پر ابھی بھی کام جاری ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں وزیراعلیٰ کے اعداد و شمار کے مطابق 47 آر سی سی پل تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ 70 سالوں میں کل 11 آر سی سی پل تھے۔ اسی طریقے سے گلگت بلتستان کے لئے 5 وے کا منصوبہ بھی زیر غور رہا ہے جن میں شاہراہ قراقرم، بابوسر روڈ، گلگت چترال روڈ کے علاوہ استور شونٹر روڈ اور بٹوگاہ ویلی روڈ کی تعمیر بھی شامل ہے، تاہم بعد کے دونوں منصوبوں پر کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔

گلگت بلتستان میں سالانہ ترقیاتی پروگروام (اے ڈی پی) یوں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنگ کی سرخ لائن بنا ہوا ہے۔ اے ڈی پی کی غیر منصفانہ تقسیم کا الزام لگاکر قائد حزب اختلاف جی بی اسمبلی محمد شفیع نے چیف کورٹ سے رجوع کرلیا جہاں سے فیصلہ آیا کہ اے ڈی پی کی منصفانہ تقسیم کیا جائے تاہم غیر منتخب ممبران کے لئے کتنا دیا جانا چاہیے اس بات کا حتمی فیصلہ اسمبلی کی صوابدید پر ہے جبکہ بعد ازاں غالباً صوبائی حکومت نے اس فیصلے کو سپریم اپیلٹ کورٹ میں چیلنج کردیا۔

گزشتہ دنوں حزب اختلاف کے دوممبران محمد شفیع اور نواز خان ناجی نے اے ڈی پی تقسیم کے فارمولے کو اسمبلی میں بحث نہ کرانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی شروع کردیا۔ دونوں ممبران نے طے کرلیا تھا کہ ہنگامہ آرائی کے ذریعے اسمبلی اجلاس کو ہی چلنے نہیں دیں گے جس کے لئے ایک رکن نے گالیوں کا سہارا بھی لیا جس کی وجہ سے حزب اختلاف کی پردہ پوش رکن اجلاس ہی چھوڑ کر چلی گئی۔

دو ارب روپے کی کٹ، کل ساڑھے پانچ ارب خرچ، اور ممبران اسمبلی میں تقسیم کا فارمولہ آسانی سے حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ صوبائی حکومت اگر اپنے ناپسندیدہ ممبران کو اے ڈی پی کم دیگی تو وفاقی حکومت سے کٹ لگانے کا گلہ بھی نہیں کرے گی۔ تحریک انصاف کے درویش رکن راجہ جہانزیب کی یہ پیشکش اس ساری صورتحال میں مفاہمت کی طرف ایک قدم ہے کہ ’اول تو وفاقی حکومت نے دوارب کی کٹ نہیں لگائی ہے اگر پھر لگائی ہے تو میں اسلام آبادجاکر وفاقی حکومت سے مذاکرات کروں گا‘ ۔

صوبائی حکومت کو اس پیشکش کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن کے ساتھ رواں جارحانہ رویہ سے ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ اگر نو مہینوں میں ایک تہائی بجٹ خرچ ہوتا ہے تو تین مہینوں میں دوتہائی بجٹ خرچ کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقی اور صوبائی حکومت کا کڑا امتحان تین مہینوں پر مشتمل ہے جو اگلے سال کے بجٹ کے لئے روڈ میپ قائم کرے گا۔

Facebook Comments HS