پاکستان کرکٹ: تھالی میں رکھ کر جیت پیش کرنے کی روش


قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق مایہ ناز بلے باز رہے ہیں۔ کئی ناکامیوں کو اُنہوں نے اپنی عمدہ کارکردگی کی بدولت جیت میں تبدیل کیا ہے۔ خصوصاً 1992 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں اُن کی جارحانہ اننگز 27 سال بعد بھی شائقین کے دل و دماغ میں آج بھی محفوظ ہے۔ ایک روزہ مقابلوں میں وہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے وابے بیٹسمین ہیں۔ بہ حیثیت بیٹسمین اور کپتان قومی ٹیم اُن کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔

گو اُن کے کیریئر کا اختتام آنسوؤں پر ہوا تھا کہ اُس سے چند روز قبل ہی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ باب وولمر کی ناگہانی موت کا سانحہ رونما ہوا تھا جب کہ قومی ٹیم 2007 کے ورلڈکپ میں آئرلینڈ جیسی ناآموز ٹیم سے ہارنے کے بعد عالمی کپ کی دوڑ سے باہر بھی ہوگئی تھی، جس کا قلق انضی جیسے عظیم بلے باز کو آج بھی ہوگا۔ خیرکرکٹ میں انہونیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ انضمام الحق قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ مقرر ہونے سے قبل افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ تھے۔ اُن کی کوچنگ میں افغان ٹیم نے کامیابیوں کے کئی مراحل طے کیے۔ انضمام کی عمدہ کوچنگ کا ہی نتیجہ ہے کہ عالمی کرکٹ کے اُفق پر افغانستان ایسی نوآموز ٹیم خاصی اُبھرکر سامنے آئی ہے۔

خیر انضمام الحق کوپاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا۔ اس کے بعد اُنہی کی منتخب کردہ زیادہ تر نئے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم نے سرفراز احمد کی قیادت میں چیمپئنز ٹرافی کرکٹ جیت کر دُنیا بھر کے کرکٹ ماہرین اور مبصرین کو انگشت بدنداں کرنے کے ساتھ داد دینے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اور کئی کامیابیاں انضمام الحق کی منتخب کردہ ٹیم نے سمیٹیں، کچھ ناکامیاں بھی ہاتھ لگیں۔

انضمام کو اپنے بھتیجے کے انتخاب کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اُن پر بعض اپنے ناپسندیدہ کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک مقابلوں میں مسلسل عمدہ کارکردگی کے باوجود منتخب نہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ خیر جہاں پھول کھلتے ہیں، وہاں کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ جب عمدہ کارکردگی پر قوم سر پر بٹھا لیتی ہے تو بدترین کارکردگی کی ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو جیت اُسی کا مقدر بنتی ہے جو بہتر کھیل پیش کرتا اور اپنی غلطیوں اور خامیوں سے سبق سیکھتا ہے۔ عالمی کرکٹ ہی کیا قریباً ہر کھیل میں ہی کھلاڑی جیت کے عزم کے ساتھ میدان میں اُترتے اور کامیابی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادیتے ہیں، لیکن جب جان بوجھ کر مخالف ٹیم کو جیت تھالی میں رکھ کر پیش کرنے کی روش اختیار کی جائے تو اس کو کیا نام دیا جاسکتا ہے۔ ویسے تو یہ طرز عمل بے وقوفانہ، احمقانہ اور اسی طرح کے ناپسندیدہ ناموں سے موسوم کیا جائے گا۔

ایسی ہی روش حال ہی میں آسٹریلیا پاکستان کے درمیان اختتام پذیر ہونے والی پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے اعلان کردہ ٹیم کے ضمن میں دیکھنے میں آئی۔ ان مقابلوں میں قومی ٹیم کی آسٹریلیا کے ہاتھوں جو درگت بنی، اس کی ذمے دار سلیکشن کمیٹی اور اُس کے سربراہ کو قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ جس نے ایک ایسے موقع پر جب کرکٹ کا عالمی کپ زیادہ دُور نہیں، آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے مقابلے میں نسبتاً کمزور ٹیم کا انتخاب کیا اور ریگولر کپتان سرفراز احمد سمیت کئی ”اہم“ کھلاڑیوں کو آرام کے نام پر ٹیم سے باہر کرکے آسان فتح آسٹریلیا کی جھولی میں ڈال دی۔

آسٹریلین بلے بازوں کو ”قابو“ کرنے کے لیے ایسے باؤلرز چُنے گئے جن کی مہمان بیٹسمین باآسانی درگت بناتے اور رنز کے انبار لگاتے رہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ تجربات نہ کیے جائیں، یہ ضرور کرنے چاہئیں کہ ان سے ہی کارکردگی میں نکھار پیدا ہوتا ہے، لیکن اُن کے لیے موقع محل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ جب ورلڈکپ میں دن کم رہ گئے ہیں، ایسے موقع پر اس قسم کے تجربات کرنے کی چنداں ضرورت نہ تھی کہ اس کا براہ راست اثر قومی ٹیم کی ورلڈکپ مہم پر اس لحاظ سے پڑچکا ہے کہ یہ میگا ایونٹ سے قبل قومی ٹیم کے لیے خاصی اہم ون ڈے سیریز تھی۔ اس میں اگر ورلڈکپ پلان میں شامل اہم کھلاڑیوں کی شمولیت رکھی جاتی تو عالمی کپ کی تیاریوں میں اس سے خاصی مدد ملتی، لیکن افسوس قومی ٹیم کو تجربات کی بھینٹ چڑھادیا گیا۔

اس ناکام تجربے کا نتیجہ وائٹ واش کی صورت سب کے سامنے ہے۔ پانچ میں سے ایک بھی مقابلے میں پاکستان ٹیم سرخرو نہ ہوسکی۔ اس پر شائقین کرکٹ میں خاصی بددلی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ قومی ٹیم کی خراب ترین کارکردگی کو لوگ خوب ہدفِ تنقید بنارہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہر کھلاڑی نے انفرادی کارکردگی کو ہی فوکس رکھا، اجتماعی کارکردگی کو کسی خاطر میں نہ لائے۔ اُن کی بات غلط بھی نہیں۔ دیکھا جائے تو آسٹریلیا سے سیریز میں قومی ٹیم کے بلے بازوں کی جانب سے پانچ سنچریاں بنائی گئیں، جس میں محمد رضوان، حارث سہیل کی دو دو سنچریاں جب کہ نئے بلے باز عابد علی کی ایک سنچری شامل ہیں۔

ایک ٹیم کی جانب سے ایک سیریز میں اتنی زیادہ سنچریاں بنانے کے واقعات خال خال ہی دیکھنے میں آتے ہیں، اس کے باوجود ایک بھی مقابلہ پاکستان کے نام نہ ہوسکا۔ اس پر عالمی کرکٹ کے بڑے بڑے مبصرین و ماہرین بھی حیراں ہیں۔ اس سے ایسا تاثر اُبھرا کہ کھلاڑیوں کی تمام تر توجہ انفرادی کھیل پر تھی، اُن کا مطمح نظر ٹیم کی جیت ہرگز دِکھائی نہ دیا۔ اگر وہ متحد ہوکر کھیلتے تو زیادہ نہیں تو ایک دو فتح باآسانی قومی ٹیم کا مقدر بن سکتی تھیں، لیکن افسوس وہ بطور ٹیم کارکردگی کے جوہر نہ دِکھا سکے اور انفرادیت غالب رہی۔

اب ازحد ضروری ہے کہ قومی ٹیم کی ورلڈکپ مہم کے حوالے سے مزید کوئی تجربہ نہ کیا جائے اور دستیاب بہترین کھلاڑیوں کا عالمی کپ کے لیے انتخاب عمل میں لایا جائے۔ اُن کو متحد ہوکر کھیلنے کی ترغیب دی جائے۔ کھلاڑی اپنی غلطیوں اور خامیوں پر قابو پائیں اور اپنا بہتر اور کرکٹ کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں تو ورلڈکپ مہم میں سرخروئی قومی ٹیم کا مقدر بن سکتی ہے۔

Facebook Comments HS