خصوصی توجہ اور شفقت کے طالب افراد


تھامس ایلوا ایڈیسن کے حوالے سے میرا کالم ”کند ذہن؛سائنسی جادوگر“ گذشتہ دنوں شائع ہوا تو لاہور میں مقیم میرے دوست، فزکس کے نامور استاد ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایسے ہی ”سلو لرنر“ نے دنیا میں بہت نام کمایا۔ آئن سٹائن بھی سیکھنے میں ایسا ہی سست رفتار تھا۔ ایسے بچے Autism جیسی کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں، ان کو خصوصی شفقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی کالم پر انگریزی ادب کے سینئر استاد بزرگوارم پروفیسر وسیم بیگ مرزاجو ہمیشہ میری حوصلہ افزائی فرماتے ہیں انہوں نے بھی فون کے ذریعے کالم کو سراہا اور ہدایت کی کہ ایسے موضوعات پر لکھنا ہمارا انسانی فریضہ ہے تاکہ والدین بالخصوص اساتذہ ایسے طالبعلموں پر بھر پور توجہ دے سکیں چنانچہ اسی تناظر میں آج کا کالم لکھنے کی سعی کی ہے۔

ذہنی ناہمواری کی کیفیت کے حامل افراد کو آئٹزم یا ASD کا مریض کہا جاتا ہے۔ آئٹزم دراصل دماغی خلیوں کے ارتقاء کا مسئلہ ہے۔ اس بیماری کی جڑیں دوران حمل دماغ کی بہت ابتدائی تیاری میں ہی ہوتی ہیں لیکن اس بیماری کی علامات کا اظہار دو یا تین سال کی عمر میں جا کر ہونے لگتا ہے۔ امریکہ جیسے ممالک میں 68 میں سے ایک بچہ اس کا شکار ہوتا ہے۔ اس وقت بھی امریکہ میں 2 ملین افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ بچپن میں اس مرض سے بچوں کی سماجی رابطہ کاری متاثر ہوتی ہے کھیل کود، زبان سیکھنے، بولنے اور تعلیم میں توجہ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

دنیا میں اس وقت کئی ملین افراد اس مرض سے متاثر ہیں اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ مرض لڑکوں میں چار، پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ امریکہ میں ہر 42 میں سے ایک لڑکا اور ہر 89 میں سے ایک لڑکی اس کا شکار ہو جاتی ہے۔ صحت کے عالمی اداروں کے مطابق حالیہ برسوں میں اس بیماری کی شرح میں 10 سے 17 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک تشویشناک بات ہے۔ اس بیماری کی کئی ذیلی قسمیں ہیں تاہم مئی 2013 میں شائع ہونے والے DMS۔

5 کے diagnostic mannual میں مختلف قسموں کو ایک چھتری تلے جمع کر کے ASD یعنی ”Autism spectrum Disorder“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس بیماری کی علامات بچے کے ابتدائی دو، تین سالوں میں ہی نمایاں ہونے لگتی ہیں، ایسے بچوں پر والدین اور اساتذہ کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ ابتدائی طور پر ان بچوں کی مدد کر کے انہیں اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ سماج میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ہمارے جیسے پسماندہ ممالک میں تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے بچے بڑی مشکلات کا شکار ہو کر معذوری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ان بچوں کی شناخت بہت ضروری ہے ا ور شناخت کے ساتھ ان کا اچھے طریقے سے علاج بھی لازمی ہے۔ آئٹزم کا شکار ہونے والوں میں البرٹ آئن سٹائن، سر آئزک نیوٹن، امادیوس موزرٹ، چارلس ڈارون، تھامس جیفرسن جیسے لوگ شامل ہیں۔ آئن سٹائن کا سکول میں سیکھنے کا عمل متاثر ہوا نیز وہ لوگوں میں ملنے جلنے میں مشکلات کا شکار رہا۔ نیوٹن اپنے کام میں اس طرح مگن رہتا کہ کھانا پینا بھی بھول جاتا۔ وہ دوست بنانے اور دوستی نبھانے میں کبھی اچھا نہیں رہا اور ہمیشہ روٹین پر ہی انحصار کرتا۔

موسیقار موزرٹ چہرے کے تاثرات دہراتا رہتا تھا اور اپنی حرکتوں سے فزیکلی کمزور لگتا تھا، ڈارون بھی لوگوں سے میل جول میں گھبراتا تھا۔ وہ خطوط لکھنا پسند کرتا مگر آمنے سامنے ملنے اور گفتگو سے بھاگتا تھا۔ امریکی صدر تھامس جیفرسن بھی بچپن سے ہی بڑا شرمیلا تھا، کئی معاملات میں ابنارمل رویوں کا حامل تھا۔ عوامی خطابات میں مشکلات کا شکار رہتا تھا۔ یہ آئٹزم کا شکار ہونے والوں کی عمومی علامات ہیں۔ اس مرض کا شکار ہونے والی ایک بچی نے آج کل دنیا بھر میں بڑی شہرت حاصل کی ہے۔

اس بچی کو ذہنی طور پر کمتر، معذور اور سست مزاج سمجھا گیا مگر اس کے جہاندیدہ والدین نے اسے معذور سمجھنے کی بجائے اس پر توجہ دی۔ یہ بچی نہ بول سکتی تھی اور نہ ہی تیز آوازیں برداشت کر سکتی تھی۔ لوگوں میں اس کا دم گھٹتا تھا۔ پھر اسے خیال آیا کہ وہ کچھ ایسا کرے کہ اس جیسے بچے تحفظ محسوس کریں۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی اور آئسٹک افراد کے لیے Hugging Machine ایجاد کی۔ اس کا نام ڈاکٹر ٹمپل گرینڈن ہے۔ وہ آئسٹک لوگوں کو differently۔ abled brains قرار دیتی ہے اور اس نے زندگی میں یہ ثابت بھی کیا ہے۔

ٹمپل گرینڈن 29 اگست 1947 ء کو امریکہ کے شہر بوسٹن میں اپنے والدین رچرڈ اور اسٹیشیا کے گھر پیدا ہوئی۔ بظاہر عام بچوں کی طرح دکھائی دینے والی یہ بچی شروع ہی سے دوسروں سے مختلف رویے کی حامل تھی۔ کوئی اسے گود میں اٹھانے کی کوشش کرتا تو یہ اپنا جسم اکڑا لیتی، عمر کے ساتھ دوسرے لوگوں سے اس کا رویہ غیر دوستانہ ہوتا گیا۔ وہ گھنٹوں اپنی دنیا میں اکیلی کھیلتی رہتی مگر دوسروں سے نہ گھلتی ملتی۔ وہ اکثر غصہ میں رہتی۔

دو سال کی عمر تک ٹمپل نے بولنا بھی شروع نہ کیا تھا۔ تین سال کی عمر میں والدین اسے نیورولوجسٹ کے پاس لے گئے تو تفصیلی معائنہ کے بعد پتہ چلا کہ اس کو آئٹزم ہے۔ پچاس کی دہائی تک ایسے بچوں کو امریکہ میں بھی ذہنی طور پر کمتر یا معذور ہی سمجھا جاتا تھا۔ اس کے والدین نے اس کے لیے ایک ملازمہ رکھ لی جس کا کام اس کے ساتھ کھیلنا، باتیں کرنا اور خیال رکھنا تھا کہ وہ اکیلی نہ بیٹھے، ٹمپل کی اسپیچ تھراپی بھی کرائی گئی۔

اس کی ماں اسے کتابیں پڑھ کر سناتی مگر اس سب کے باوجود وہ پانچ سال کی عمر تک ایک یا د و الفاظ کے جملے بول سکتی تھی۔ شور اس کو خوفزدہ اور پریشان کر دیتا تھا، کوئی چھو لے تو پریشان ہو جاتی تھی، ہجوم میں اس کا دم گھٹنے لگتا تھا۔ لوگوں کی باتیں اسے سمجھ نہیں آتی تھیں۔ وہ کہتی تھی کہ الفاظ میرے لیے ایک دوسری زبان ہیں۔ میں تصویروں میں سوچتی ہوں، آئٹزم کی وجہ سے اسے جملہ دہرانے کی عادت تھی اسی لیے دوسرے بچوں نے اس کا نام ”ٹیپ ریکارڈر“ رکھ دیا۔ مگر ٹمپل کی ماں کو یقین تھا کہ اس کی بچی ذہین ہی نہیں بلکہ Gifted بچی ہے۔ اس نے اسے ورمونٹ کنٹری سکول میں داخل کرا دیا یہاں اس کی بچوں سے لڑائیاں تو کم ہوئیں مگر پینک ایٹک دورے بہت پڑنے لگے۔ اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگتا، ہاتھوں میں پسینہ آتا اور یوں لگتا جیسے وہ بے ہو ش ہو گئی ہے۔

چھ سال کی عمر میں ٹمپل دوسری جماعت میں تھی کہ اسے گلے لگانے والی مشین کا خیال آیا چونکہ آئٹزم کی وجہ سے اسے لوگوں کو گلے لگانے سے پریشانی ہوتی تھی، وہ اکثر تصور کرتی کہ وہ ایسے ڈبے کے اندر جا رہی ہے جو ماں جیسی محبت بھرے بازوں میں اسے سمیٹ رہا ہے۔ سولہ سال کی عمر میں وہ چھٹیوں میں آنٹی کے گھر گئی ان کے شوہر مویشیوں کا کاروبار کرتے تھے وہاں ٹمپل کو پہلی بار ایسی مشین دیکھنے کا اتفاق ہوا جسے ”اسکوئینر شوٹ“ کہتے تھے جانوروں کو اس مشین میں دبا کر انجکشن لگائے جاتے تھے اسے اچھا لگا تو اس نے آنٹی سے پوچھ کر اس مشین میں کھڑا ہونے کا تجربہ کیا اور اسے لگا آئٹزم میں مبتلا لوگوں کے دماغ اور ان مویشیوں کے دماغ میں کچھ ایک جیسا ضرور ہے۔ آئٹزم میں مبتلا لوگوں کے دماغ کے حصے عام لوگوں کے دماغ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہم ربط نہیں ہوتے۔

اس نے ایری زونا یونیورسٹی کے اینمل سائنسز کے شعبہ سے تعلیم حاصل کی اور کیٹل انڈسٹری میں ملازمت بھی کرلی اور اس کے تحقیقی مجلے کی ایڈیٹر بھی ہوگئی۔ 1973 ء میں اس نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی۔ ذہنی معذوری کے مسائل کے باوجود وہ کولر اڈو اسٹیٹ یونیورسٹی میں لائیو سٹاک مینجمنٹ کی پروفیسر ہیں۔ اس نے جانوروں کے دماغ تک رسائی اپنے آئسٹک ذہن کو سمجھ کر کی۔ ٹمپل نے اپنی کنسلٹنگ فرم بھی کھول رکھی ہے جس کا نام ”گرینڈن لائیو اسٹاک ہینڈلنگ سسٹم“ ہے۔

اس کی بنائی ہوئی Hugging machine آئٹزم میں مبتلا بچوں کو سکون دیتی ہے۔ ٹمپل گرینڈن خوش قسمت ہے کہ اس کے والدین نے توجہ کی، اس نے خود محنت اور شوق سے نام کمایا۔ اس نے کئی کتب بھی لکھی ہیں اور آج یہ کتب سب سے زیادہ بکنے والی کتب میں شمار ہوتی ہیں۔ اس نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ آئٹزم نے اس کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا۔ تاہم اس نے ہمت نہ ہاری اور پھر TIME میگزین نے دنیا کے 100 موثر ہیروز کی فہرست میں ٹمپل گرینڈن کا نام شائع کیا۔

آئٹزم ایسی بیماری ہے جس کی وجوہات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ بچے کی پیدائش کے پہلے کے دور میں لاحق ہوتی ہے دوران حمل ماں کی بیماری کی وجہ سے یا ولادت کے وقت ایسے مسائل جن سے بچے کے دماغ کو آکسیجن کی کمی واقع ہو جائے اس سے یہ مرض لاحق ہوتا ہے جسمانی ارتقاء کے ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے فولک ایسڈ کی کمی یا فولک ایسڈ کی زیادتی والی خوراک کی کمی اس کے اسباب میں اہم ترین ہے۔ اس لیے بچے کی خواہشمند ماں کے لیے ضروری ہے کہ وہ حمل سے پہلے اور بعد کے ابتدائی مہینوں میں کم از کم 600 mg فولک ایسڈ ضرور لے۔

آج تک کوئی ایسا میڈیکل ٹیسٹ نہیں جس سے پتہ چل سکے کہ آئٹزم ہے تاہم احتیاط سے بالخصوص Advance Parental Age conception کے وقت کچھ احتیاطوں سے بچوں کو اس سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس بیماری کے بچے خصوصی توجہ، شفقت اور راہنمائی کے حقدار ہوتے ہیں۔ ہمارا رویہ انہیں ذہنی معذور بنا سکتا ہے۔ اگر والدین توجہ دیں تو آئٹزم کے مریض ٹمپل گرینڈن کی طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔ امریکہ Colorado State University نے ٹمپل گرینڈن کے بارے کہا ہے کہ:

The most accomplished and well۔known adult with autism in the world

اس کی زندگی آئٹزم کے مریضوں کے لیے مثالی اور قابل تقلید ہے

Facebook Comments HS