کیا فیس بک جانبدار ہوگئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سماجی میڈیا کی ویب سائیٹ ”فیس بک“ لگتا ہے کہ حرکت میں آگئی ہے۔ پاکستان کے کئی اہم محکموں کا سماجی میڈیا کی اس ویب سائیٹ پر بہت شدید دباؤ تھا کہ وہ ایسے تمام جعلی اور حقیقی اکاؤنٹ بند کردے جس کی وجہ سے پاکستان کی ”سیکورٹی“ کوخدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔

سماجی ویب سائیٹس خواہ فیس بک ہو، ٹیوٹرہو یا پھر کسی بھی اور نام سے ہو، پوری دنیا میں مقبولِ عام ہوتی جارہی ہیں۔ وہ تمام خبریں جن کو ہر ملک کی حکومتیں صیغہ راز میں رکھنا چاہتی ہیں اور اپنے تئیں یہ سمجھ بیٹھی ہیں کہ ان کا الم نشرح ہونا ان کے اپنے ملک اور حکومت کے مفاد میں نہیں، اب وہ تمام باتیں بھی لحظوں اور لمحوں میں سوشل میڈیا پر وائیرل ہوجاتی ہیں۔ اس قسم کی اطلاعات، خبریں اور باقاعدہ ان کی ویڈیوز ایسی حکو متوں اور اداروں کے لئے درد سر بن جاتی ہیں جن کی خواہش ہوتی ہے ان کی ہر ایسی پالیسی یا کارروائی جو ان کی ”نفی“ میں جاتی ہو، وہ عوام یا دنیا کے سامنے نہ آئے۔

گزشتہ کئی سال سے پاکستان کی حکومت اور کچھ اداروں کی یہ کوشش رہی ہے کہ سوشل میڈیا کی ویب سائیٹ ”فیس بک“ سے ایسے سارے اکاؤنٹ جو ان کی مخالفت میں خبریں وائیرل کر رہے ہیں، وہ بند ہوجائیں لیکن نہ صرف یہ کہ فیس بک نے ان پر اب تک کوئی پابندی نہیں عائد کی بلکہ اس کے برعکس اقدامات کرکے ایسے بہت سارے جعلی اکاؤنٹ جو پاکستان کے اہم ادارے کے (حاضر اور سابق) اہل کاروں سے تعلق رکھتے تھے بند کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ ان کو بند بھی کر دیا ہے۔

”بی بی سی ڈاٹ کام سلیش اردو کے مطابق فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان سے چلائے جانے والے 103 ایسے انفرادی اور اجتماعی (گروپ) اکاؤنٹ اور صفحات بند کر دیے ہیں جو کمپنی کے بقول منظم طریقے سے غیرمصدقہ رویے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ فیس بک کے مطابق ان صفحات اور اکاؤنٹ کا تعلق پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے اہلکاروں سے پایا گیا ہے۔ پاکستان سے چلائے جانے والے انسٹاگرام اور فیس بُک کے جن اکاؤنٹس کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ان میں 24 صفحات، 57 فیس بُک اکاؤنٹس، سات گروپ اکاؤنٹس اور 15 انسٹاگرام اکاؤنٹس شامل ہیں۔

بی بی سی نے رپورٹ جاری کرتے ہوئی بتایا ہے کہ ایسا نہ صرف پاکستان کے ساتھ ہوا ہے بلکہ فیس بک کے مطابق کمپنی تقریباً سات سو ایسے اکاؤنٹس اور صفحات کو بھی اپنے پلیٹ فارم سے اتار رہی ہے جن کا تعلق انڈیا کی کانگریس پارٹی سے ہے۔ فیس بک نے پیر کو ایک اعلان میں بتایا ہے کہ کمپنی کی تفتیش کے مطابق ان اکاؤنٹس کے پیچھے ایسے افراد کا ہاتھ ہے جو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوج کی حمایت میں صفحات چلا رہے تھے۔ اس کے علاوہ جن 103 اکاؤنٹس کو ہٹایا گیا ہے ان میں پاکستان میں دلچسپی کے عمومی اکاؤنٹس کے علاوہ کشمیری برادی کے نام کے اکاؤنٹ اور خبروں والے صفحات بھی شامل ہیں۔

فیس بُک کے مطابق پاکستان سے چلائے جانے والے ان اکاؤنٹس پر اکثر مقامی اور سیاسی خبریں پوسٹ کی جاتی ہیں جن میں انڈیا کی حکومت، مختلف سیاسی رہنماؤں اور فوج سے متعلق خبریں شامل ہوتی ہیں۔ اگرچہ ان اکاؤٹس کے پیچھے موجود افراد نے اپنی اصل شناخت کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی، تاہم ہماری تحقیق میں یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ اکاؤنٹس آئی ایس پی آر کے ملازمین سے منسلک تھے۔ پاکستان سے چلائے جانے والے انسٹاگرام اور فیس بُک کے جن اکاؤنٹس کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ان میں 24 پیجز، 57 فیس بُک اکاؤنٹس، سات گروپ اکاؤنٹ اور 15 انسٹاگرام اکاؤنٹس شامل ہیں۔

فیس بک کے مطابق ان میں سے ایک یا ایک سے زیادہ ایسے فیس بک پیج شامل ہیں جن کو تقریباً 28 لاکھ افراد فالو کر رہے تھے اور تقریباً چار ہزار سات سو اکاونٹس نے ان صفحات کی رکنیت لے رکھی تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 1050 افراد یا اکاؤنٹس ان پیجز کو انسٹا گرام پر بھی فالو کر رہے تھے۔ فیس بُک نے چند ایسے اکاؤنٹس کی مثالیں بھی دی ہیں جن کو بند کیا گیا ہے ”۔

بظاہر فیس بک والوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم نے یہ سارے اکاؤنٹ اس لئے بند کیے ہیں کہ ان اکاؤنٹ کے ذریعے لوگوں تک جو خبریں یا اطلاعات پہنچائی جاتیں تھیں وہ ”سچ“ پر مشتمل نہیں ہوتی تھیں لیکن اگر اس کا بغور جائزہ لیا جائے تو حقیقت دعوؤں کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ایسے سارے اکاؤنٹ جو انڈیا کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ”کانگریس“ سے متعلق ہیں، ان کو بڑے پیمانے پر بند کیا گیا ہے جبکہ حکمران جماعت اور ان کے اتحادیوں کے اکاؤنٹ اسی طرح موجود ہیں۔

یاد رہے کہ ہندوستان میں چند ہفتوں بعد الیکشن بھی ہونے والے ہیں ایسے وقت صرف مخالف جماعت کی سات سو اکاؤنٹ بند کردینا سازش اور جانبدارانہ فعل لگتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے جو بھی اکاؤنٹ کلوز کیے گئے ہیں وہ صرف آئی ایس پی آر ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دونوں کارروائیوں میں سراسر جانبدارانہ انداز اس بات کا مظہر ہے کہ بین الاقوامی پیمانے پر کوئی اعلیٰ منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کا مقصد ہندوستان کی موجودہ حکومت کی حمایت اور پاکستانی افواج کی مخالفت ہے۔

ہندوستان کے لئے اس کی موجودہ حکومت کی جانب جھکاؤ اور پاکستان کے لئے پاکستان کے ایک مقتدر ادارے کی مخالفت ایک لمحہ فکریہ ہے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مفادات کے خلاف اٹھایا جانے والا قدم لگتا ہے۔ اسی لئے پاکستانی فوج کے ایک حاضر سروس افسر نے الزام لگایا کہ یہ محض انڈین لابی کی کارروائی لگتی ہے۔ بی بی سی اردو کے عابد حسین سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھ لیں کہ انڈیا سے بھی جس مواد اور جن صارفین اور صفحات پر پابندی لگائی گئی ہے وہ کانگریس (انڈیا کی مرکزی حزب اختلاف کی جماعت) سے تعلق رکھتے ہیں۔ انتہا پسند ہندو جماعت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صارفین کو تو کچھ نہیں کہا۔ یہ صرف پاک فوج اور آئی ایس پی آر کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

بی بی سی کے مطابق فیس بک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معطل کیے جانے والے صفحات کی جانب سے 1100 ڈالر کی لاگت کے اشتہارات بھی خریدے گئے تھے لیکن فوجی افسر نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فوج کا ادارہ عوامی ادارہ ہے اور اس کی مد میں استعمال ہونے والے ایک ایک پیسے کا حساب رکھا جاتا ہے۔ اس کے پاس عوام کے ٹیکس سے حاصل کی گئی رقم ہوتی ہے۔ اس میں کسی قسم کے کوئی خفیہ فنڈ نہیں ہوتے اور ہمیں پیسے پیسے کا حساب دینا ہوتا ہے۔ اس طرح سے اشتہارات نہیں خریدے جا سکتے۔

اس رپورٹ میں اور بھی بہت سارے الزامات، جو مفروضوں پر مشتمل ہیں، عائد کیے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بند کیے جانے والے سارے اکاؤنٹ وہ ہیں جس میں جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے افواج پاکستان کی بے جا تعریف کی گئی ہے، ان کے کارناموں کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور غیر مصدقہ خبریں اور اطلاعات فراہم کی گئی ہیں۔

ان ساری باتوں پر اگر غور کیا جائے تو فیس بک (سوشل میڈیا) جس کو اظہار خیال کا ایک اچھا ذریعہ تصور کیا جاتا تھا اور ایسی خبریں اور اطلاعات جو ریاستیں اپنے عوام اور دنیا سے چھپانے کی کوشش کیا کرتی تھیں، وہ سب عوام تک پہنچانے کا ایک مناسب راستہ خیال کیا جاتا تھا، اس پر سے اعتماد اٹھتا ہوا محسوس ہونے لگا ہے۔ جو ذریعہ سیاست سے پاک اور غیر جانبدار سمجھا جاتا تھا اب اس کی جانب داری پر شبہ ہونے لگا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ایک جانب وہ بھارت پر موجدہ قابض حکمران ٹولے کی حمایت میں وہاں کی حزب اختلاف کے خلاف کارروائی کرتا نظر آرہا ہے اور دوسری جانب پاکستان کی افواج کو بدنام کرنے کی مہم چلارہا ہے۔ فیس بک کا یہ عمل اس کی جانبداری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس کی غیر جانبداری کے دعوؤں کا سینہ چاک کر رہا ہے جو ایک بہت ہی غیر معمولی بات ہے۔

حکومت پاکستان کو سماجی میڈیا ”فیس بک“ کی اس کارروائی کے خلاف کوئی مؤثر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ورنہ پاکستان کی سیکیورٹی پر بہت بھاری ضرب پڑ سکتی ہے کیونکہ اب سماجی ویب سائیٹ پوری دنیا میں تبدیلی کا ایک بہت بڑا نشان بنتی جا رہی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>