ڈاکٹر وزیر آغا اور میں !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1992 میں جہلم شالوم سنٹر میں نئے لکھنے والوں کے لئے ایک رائٹرورکشاپ منعقد ہوئی جس کا اہتمام فیصل آباد کی مس روت جو جریدہ ’رہبر‘ کی ڈائریکٹرتھیں جن کا تعلق بلجیم سے تھا اس ورکشاپ میں مجھے میرے دوست شہزاد انجم لے گئے ورکشاپ سے نکلنے کے بعد میں تھوڑا بہت لکھنے لگا۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو پہلے کہانی اور افسانہ لکھا کرتا تھا پھر شعرکہنے کا شوق ہوا تو پہلے سیالکوٹ کے سیاسی سماجی اور ادبی شخصیّت عزیز ہمدم، جن کا یہ شعر میں کبھی نہیں بھول سکتا،

؂ یوں تو میری چشم ِ بینا متفق نہ تھی مگر
لے گئی اندھے کنویں پر پیاس کی شدت مجھے

پروفیسر یوسف نیر، اور بعدازاں گوجرانوالہ کے معروف شاعر جان کاشمیری سے شعر کی درستگی و مشورہ سخن کرنے لگا۔

1996 میں حلقہ ارباب ذوق گوجرانوالہ کا جوائنٹ سیکریٹری اور پروفیسر طارق جاوید جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے اسی سے میرے باقاعدہ ادبی دور کا آغاز ہوا اور میں گوجرانوالہ کے علاوہ سیالکوٹ، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر جگہوں پر ادبی محافل میں شریک ہونے لگا۔ میں جب بھی لاہور جاتا تو کلاسک بک شاپ پر ضرور جاتا کیونکہ اس دور کے تمام ادبی رسائل وہاں سے مل جاتے تھے اسی دوران مجھے ایک ادبی رسالہ ’اوراق‘ ملا اور میری نظمیں اور غزلیں اس میں شائع ہونے لگیں۔

ایک دن میں نے ’اوراق‘ کے مدیراعلیٰ ڈاکٹر وزیر آغا صاحب (جو سرگودھا میں رہتے تھے ) کو خط لکھا کہ میں آپ کو ملنا چاہتا ہوں توانہوں نے جواب میں لکھا کہ وہ ایک دو ہفتہ کے لئے لاہور کینٹ میں اپنے بیٹے (سلیم آغاقزلباش جو خود بھی بہت عمدہ رائٹر ہیں ) کے گھر آرہے ہیں آپ جب چاہیں آجائیں۔ تو ایک دن ان سے ملنے میں لاہور چلا گیا جب میں ان کے گھر پہنچا تو لاہور کی کئی ادبی شخصیات وہاں موجود تھیں ( شہزاداحمد، ڈاکٹر خورشید رضوی۔احمد مشتاق، کیپٹن صوفی نیاز اور کئی معروف ادبی شخصیات سے میری پہلی ملاقات آغا صاحب کے گھر پر ہی ہوتی تھی )

آغا صاحب نے خود اُٹھ کر میرے لئے کمرے کا دروازہ کھولا اور گرمجوشی کے ساتھ میرا استقبال کیا ان کی ادبی شخصیّت کا تو میں پہلے ہی قائل تھا ان سے مل کر میں ان کی شخصیّت کا دیوانہ ہوگیا اور پھر جب بھی ان کا لاہور آنا ہوتا میں ان سے ملنے چلا جاتا اور پھر میں انہیں روحانی استاد ماننے لگا اس کے بعد خط وکتابت کا ایک طویل سلسلہ چلتا رہا۔ 2000 میری پہلی مسیحی شاعروں کی شاعری پر مرتب کرداکتاب ’برگِ افکار‘ شائع ہوئی تواس کا فلیپ ڈاکٹر وزیر آغا صاحب نے ہی لکھا۔

وزیر آغاکی شخصیت کے بارے میں میَں کیا لکھوں ان کام اور ان کا نام دونوں بہت اہم ہیں آغا صاحب سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ میں 18 مئی 1922 کوپیدا ہوئے جو ان کا دادا ’وزیر آغا‘ نے قیام پاکستان سے پہلے انگریز حکومت کے دور میں آباد کیاتھا وہ شاعر، تنقید نگار، انشائیہ نگاراور خاص طور پر نئی نظم کے حوالے سے اردو ادب میں نمایاں جگہ ہی نہیں بنائی بلکہ ٹرینڈسیٹر رہے۔ انہوں نے 1943 ء میں گورنمنٹ کالج لاہو ر سے معاشیات میں ایم اے کیا۔

پی ایچ ڈی کی ڈگری انہوں نے جامعہ پنجاب سے 1956 ء میں حاصل کی۔ اپنی ادبی صحافت کا آغاز انہوں نے ادبی دنیا لاہو ر کے جوائنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے 1960 ء میں کیا تھا پھر انہوں نے لاہور سے اپنا سہ ماہی رسالہ اوراق 1965 ء میں شائع کرنا شروع کیا۔ جو 2003 ء تک باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا اور ان برسوں میں اس رسالے نے تین ادبی نسلوں کی آبیاری کی ’اوراق‘ نے مضامینِ نو کے انبار لگا دیے۔ صحافتی مصروفیات کے علاوہ وزیرآغا کا اپنا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ ان کے 10 شعری مجموعے، انشائیوں کے چھ مجموعے اور 15 تنقیدی مضامین کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی شعری تخلیقات کی کلیات ’چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل‘ بھی چھپ چکی ہے۔ تحقیقی مقالے اور ان پر لکھی جانے والی کتابوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔

بھارت میں ان کے فن پر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے پروفیسر عبد الواسع کے زیر نگرانی تحقیقی مقالے ”وزیر آغا کا فن“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مل چکی ہے۔ دوسرا مقالہ بھاگلپور یونیورسٹی میں پروفیسر مناظر عاشق ہر گانوی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی انشائیہ نگاری پر لکھا گیا اور تیسرا رانچی یونیورسٹی میں وہاب اشرفی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی تنقید کے موضوع پر لکھا گیا جن پر پی ایچ ڈی ایوارڈ ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ جے پور یونیورسٹی میں وزیر آغا کی تنقید نگاری پر ایم فل اور پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کا تحقیقی مقالہ لکھا گیا ہے۔ پاکستان میں وزیر آغا کے فن پر 14 کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی وفات 7 ستمبر 2010 ( 88 سال) میں ہوئی فن کے علاوہ میں نے انہیں بطور شخصیّت باکما ل انسان، مدبر، نرم مزاج، سنجیدہ، بہت دھیمہ بولنے والے، بے لوث پیار کرنے والی شخصیّت کے طور پر جانا ہے۔

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا

سارا لہو بدن کا رواں مشتِ پر میں تھا

حدِ افق پہ شام تھی خیمے میں منتظر

آنسو کا اک پہاڑ سا حائل نظر میں تھا

اس کا بدن تھا خون کی حدت سے شعلہ پوش

سورج کا اک گلاب سا طشتِ سحر میں تھا

ڈاکٹر وزیر آغا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •