بھٹو اور ضیا الحق پر لکھا گیا ایک ڈراما
ذوالفقار علی بھٹو کی موت کی داستان اور اس سے جڑے ہوئے سیاست پر بہت سارے لوگوں نے لکھا ہے۔ پر یہ کتاب چیتا اور لومڑی (لیپرڈ اینڈ فاکس) جو 1985 ع میں طارق علی نے لکھا وہ اپنے آپ میں ایک الگ مقام پر ہے۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ کہ وہ ایک ڈرامائی انداز میں لکھی گئی ہے۔ جو پڑھنے والے کو اور زیادہ لطف اندوز کرتی ہے۔ ہماری ملک کی سب سے بڑی سیاسی ٹریجڈی پر یہ اس وقت تک پہلا ڈراما تھا جو اپنی منطقی انجام کو نہ سر کر سکا۔
یہ ڈرامہ 1985 میں بی بی سی کے ڈرامہ سیکشن کے لیے طارق علی نے لکھا جو 3 اقساط پر مشتمل تھا۔ اس وقت یہ ڈراما تحریر کتابچے میں ہے جس میں 106 سینز پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اس ڈرامہ کو بی بی سی نہ یہ کہ کر کینسل کردیا کہ اس میں چند باتیں ڈیفیمیشن یعنی ہتک عزت کے زمرے میں آتی ہیں۔ وہ کیا باتیں تھی، بقول طارق علی کہ ”جنرل ضیا الحق امریکی آشیرواد سے ملک میں مارشل لاء نافذ کر چکا تھا اور جہاد اسلام جس کا فقط ایک ہی مقصد تھا کہ روسی افواج کو افغانستان سے پیچھے دھکیلا جائے اس سارے مسئلے پر اگر ایک ایسا کچھ سامنے آ جائے جو اس بیانیہ کو ہوا دیتا کہ بھٹو کا عدالتی قتل اس وقت کی امریکی حکومت کے نظر سے کیا گیا ہے تو وہ بات، امریکا کو بہت نا گوار گزرتی“۔
اس بات سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا بی بی سی بھی سینزرشپ کی لپیٹ میں تھا؟ اس بات کا بھی جواب بھی ڈراما کے مصنف نے اس کے دیباچے میں تحریر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کے ایک دوست جو خود بھی صحافی تھے ان سے یہ کھا کہ اگر میں اس ڈرامے سے یہ بات نکال دوں کہ جس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ امریکی حکومت بھٹو کی پھانسی میں دیدہ و دانستہ ملوث تھی تو شاید یہ ڈرامہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس پر طارق علی نے انھیں یہ جواب دیا کہ ”ڈراما پیش کرتے ہیں تو کریں ورنہ، بی بی سی جائے بھاڑ میں۔ “
یہ ڈراما بظاہر تو فکشن ہے مگر 95 فیصد اس میں جو لکھا گیا ہے وہ تاریخی حقیقت سے بہت قریب ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ جب بی بی سی جیسا عالمی ادارہ اسے سینزر کرنے اور بعد میں وہ پراجیکٹ ہی کینسل کردے، تو کچھ تو اس چیز میں ہے جو عالمی قوتیں آشکار ہونے سے گھبرا رہیں تھیں۔
جنرل ضیا الحق کے موت کے بعد دیکھنے اور سننے کو ملا جو یہ کہتے تھے کہ بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کا ذمے دار جنرل ضیا الحق کے سوائے کسی اور کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس بیانیے کو چند جنرلوں سے لے کر صحافیوں محققوں نے فروغ تو دیا پر اس بارے میں کسی نے کوئی بات نہیں کی جس سے یہ پتا چلتا کے عالمی قوت (آمریکا) کا اس بات پر کیا عمل دخل تھا۔ یہ بات تو بھٹو صاحب بھی جانتے تھے کہ جنرل ضیا اتنے بھادر نہ تھے، یہ ہی وجہ تھی کہ بھٹو صاحب نے ان کو آرمی چیف منتخب کیا اور لگ بھگ ایک ایک درجن سینیئر جنرلوں کے ہوتے ہوئے، جنرل ضیا کو آرمی چیف کی ذمے داری سونپی گئی۔
یہ ڈراما پڑھنے سے آپ بھٹو اور جنرل ضیا الحق کی نفسیات کا بھی ادراک بڑے آسانی سے لگا سکتے ہیں۔ نیچے اس ڈرامے کے دو تین سین تحریر کیے ہیں۔ میرے ذاتی رائے ہے کہ پاکستان کے اس بھیانک سیاسی ٹریجڈی کو سمجھنے کی خاطر ہر ایک یہ ڈراما کم سے کم ایک بار لازمی پڑھنا چاہیے
ڈرامے کچھ سینز
سین۔ 32
باہر کا منظر، ملٹری ہیڈکوارٹر، دن
جنرل آزاد: یہ کیا بیہودگی ہے؟! میں ابھی لاہور سے واپس لوٹا ہوں، سارا شہر پر سکون ہے۔
ضیا الحق: درست! پر کیا تم یہ جانتے ہو کہ یہ سارا معاملہ کس بنیاد پر کھڑا یے؟ وہ سب بلوچ غنڈے ابھی یا الیکشن سے پہلے آزاد کیے جائیں گے۔ پتا بھی ہے اس سے کیا مصیبت آئے گی؟ (ریاست سے ) بغاوت کو قانونی شکل مل جائے گی۔ ان لوگوں نے ریاست کے ساتھ جنگ کی ہے اور ان کی آزادی، ہماری ناقابل برداشت بیعزتی ہے۔
جنرل آزاد: آپ کی بات سمجھ گیا۔ پر یہ فوجی بغاوت؟ ضرورت سے زیادہ ردعمل دکھانا! جناب میں ایسی کسی سازش کا حصہ نہیں بن سکتا جو جمہوریت کے خلاف ہو۔
جنرل زمان: لوگ سوچیں گے کہ ہم سیاستدانوں کے بیچ ہونے والے مفاہمت کو روکنے کے لیے یہ سب کجھ کر رہے ہیں۔
ضیاء: بات اب ملکی سلامتی کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے رکھوالوں کی حیثیت سے، ریاست اور مذہب کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ چونکہ پاکستان کے بننے کا سبب بھی یہی تھا۔ ہم، اسرائیل کی طرح ایک نظریاتی ریاست ہیں۔ اگر اسرائیل میں سے یہودیت کو نکال دوگے تو اسرائیل ٹکڑے ہو جائے گا۔ پاکستان میں سے اسلام کو نکال دو اور ریاست سیکولر ہو جائے تو پاکستان نہیں رہے گا۔ پاکستان فوج ہی پاکستان ہے۔
جنرل آزاد: تو بات یہ ہے! تم مولویوں کے اشارے پر چل رہے ہو۔ اردن والا بلیک ستمبر یاد ہے؟ جب تم نے شاہ حسین کی جا کر مدد کی اور فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ اس وقت تمہیں اسلام یاد نہ تھا۔
سین میں آگے اس معاملے پر بحث چلتی رہتی ہے کہ اچانک جنرل ضیا الحق سارے جنرلوں کو بتاتا ہے کہ بھٹو نے ان سب کو نوکریوں سے نکالنے کی کابینہ سے منظوری لے لی ہے۔ جس پر جنرل آزاد ان سے پوچھتے ہیں کہ اس بات ان کے پاس کا کیا ثبوت ہے۔ جس پر جنرل صاحب باہر بیٹھے ہوئے ایک شخص جو اندر بلاتے ہیں۔ اندر آنے والا شخص ”مولانا وسکی“ ہوتا ہے، جو جنرل آزاد کو مخاطب ہوتے کہتا ہے کہ ”میں نے اپنی آنکھوں سے جنرل صاحب اور آپ سب کے نوکریوں سے برخاستگی کے کاغذات دیکھے ہیں۔ اور! اور راشد تو یہ بھی بول پڑا کہ آپ سب کو بغاوت کے جرم میں گولیوں سے اڑا دینا چاہیے“۔
سین۔ 98
باہر کا منظر، باغ۔ فلیگ اسٹاف ہاؤس، آدھی رات۔
ضیاء اور چیف جسٹس صوفے ہے بیٹھے ہیں اور چائے پی رہے ہیں۔ بات چیت چل رہی ہے۔
ضیا الحق: تم سمجھ رہے ہو مجھے اپنی کوئی پرواہ نہیں۔ اگر وہ (بھٹو) مجھے گالیاں دیتا ہے تو دیتا رہے، کوئی مسئلہ نہیں، پر اگر وہ فوج کو بدنام کرنے کے لیے ریاستی راز افشا کرے تو پھر اسے ایک دم خاموش کر کے عدالت سے باہر کر دینا۔
چیف جسٹس: عدالت کے اندر تو بین الاقوامی صحافی بھی ہوں گے۔
ضیا: بھاڑ میں جائیں۔ ان کے مالکان کو پتا ہے یہاں کیا چل رہا ہے۔
چیف جسٹس: مجھ پر چھوڑ دو۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں! مشتاق نے ہائی کورٹ میں کیس کا ستیاناس کردیا۔ اس کے ریمارکس ذلت آمیز تھے۔
ضیاء: ایک اور بات، تمہیں یہ یقین ہے کہ (ججوں ) اکثریت تمہارے ساتھ ہے؟
ضیاء: (بات جو جاری رکھتے ہوئے ) سو فیصد یقین ہے؟
چیف جسٹس ’ہاں‘ کے انداز میں اپنے سر کو اوپر نیچے کرتا ہے
ضیاء: بہت اچھا! بہت اچھا!
چیف جسٹس: بس ایک مسئلہ ہے۔
جنرل ضیا الحق چیف جسٹس کو دیکھتا ہے۔
چیف جسٹس: (اپنے بات بولتے ہوئے ) جج صاحبان بھی پریشان ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تم الیکشن نہیں ہونے دوگے۔ گر یہ بات وہ سمجھ جاتے ہیں جس کے لیے تم نے اقتدار پر قبضہ کیا ہوا ہے تو شاید ہو سکتا ہے، بھٹو کو ختم کرنے کے لیے ان (جج صاحبان) کی اکثریت ہمارے ساتھ نہ ہو۔
ضیاء (مسکراتے ) : یہ اطمینان کرو کہ میں کوئی ناٹک نہیں کر رہا۔ اگر مجھے سیاسی طاقت کی بھوک ہوتی تو کونے ہے جو مجھے روک سکے؟ فوج میری پابند ہے، جو چاہوں وہ کر سکتا ہوں۔ آئین کیا ہے؟ میں اسے پھاڑ کر دو ٹکڑے کر دوں۔ اور میں ان کو یہ کہوں گا کہ، ہم ایک اور نظام بنائیں گے، کون روکے گا مجھے؟ تمہاری بہت سارے سیاستدان تو میرے پیچھے دم ہلاتے ہوئے چلے آئینگے، پر میں یہ سب نہیں چاہتا! جج صاحب! آپ اپنے ججوں کو بتا دیں کے ضیا الحق کا ایسا کوئی سیاسی مفاد نہیں۔ ذاتی طور پر میں ایسے سیاسی درجات میں یقین رکھتا ہوں نہ ہی کبھی سیاسی منصب قبول کروں گا۔ میں تمہیں ٫ زبان دیتا ہوں۔
سین۔ 106
بیرونِی منظر، جیل کا احاطہ۔ رات کے ڈھائی بجے۔
میں چند لوگ پھانسی گھاٹ کے تختہ کے برابر میں کھڑے ہیں۔ جلاد کا چہرہ نقاب سے چھپا ہوا ہے، اور بھٹو کو اسٹریچر کے ذریعے پھانسی کے تختے تک لایا جاتا ہے۔
کرنل: بیہوش ہے۔ ہم زیادہ انتظار نہیں کر سکتے۔
جلاد ( کرنل سے مخاطب ہوتے ہوئے ) : جناب! یہ تو مر چکا ہے۔
کرنل: تمہیں کیسے پتا۔ رسے پہ لٹکاؤ۔
جلاد:جناب! میں مسلمان نہیں بلکہ اک مسیحی ہوں۔ آپ کو تو پتا ہے کہ میں ایک ایماندار جلاد ہوں۔ پچھلے تیس سالوں سے یہ نوکری کر رہا ہوں، پیرا باپ بھی یہی کام کرتا تھا۔ میں اک مرے ہوئے انسان کو پھانسی نہیں دے سکتا!
کرنل ( اپنی پستول نکالتے ہوئے ) : میرے ایماندار مسیحی جلاد! جو میں بول رہا ہوں وہ کرو۔
جلاد بھٹو کے گلے میں رسا ڈال کر تختہ کھینچ لیتا ہے۔ ڈاکٹر گھاٹ کی طرف جاتا ہے۔ بھٹو کی نبض دیکھ کر اشارہ کرتا ہے۔
کرنل: مر گیا!


