ہاروکی موراکامی ایک دوڑتے ناول نگار

اکیسویں صدی کے ادب کے بڑے ناموں میں ایک جپانی دوڑنے والے کا نام بھی ہے جو فقط لکھتا ہے اور دوڑتا ہے۔ بقول اس دوڑتے ہوئے ناول نگار کے اس نے زندگی میں دو کام ہی مستقل مزاجی سے سرانجام دیے ہیں، لکھنا اور دوڑنا۔ لکھنا اور دوڑنا ان کی زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل ہے وہ تو ان کی آپ بیتی کو ہاتھ میں پکڑنے سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے جس کا نام ہی انہوں نے ’واٹ وی ٹاک وین وی ٹاک اباؤٹ رننگ‘ ( ہم کیا بات کرتے ہیں جب ہم بات کرتے ہیں دوڑنے کی) رکھا ہے۔

Read more

بھٹو اور ضیا الحق پر لکھا گیا ایک ڈراما

ذوالفقار علی بھٹو کی موت کی داستان اور اس سے جڑے ہوئے سیاست پر بہت سارے لوگوں نے لکھا ہے۔ پر یہ کتاب چیتا اور لومڑی (لیپرڈ اینڈ فاکس) جو 1985 ع میں طارق علی نے لکھا وہ اپنے آپ میں ایک الگ مقام پر ہے۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ کہ وہ ایک ڈرامائی انداز میں لکھی گئی ہے۔ جو پڑھنے والے کو اور زیادہ لطف اندوز کرتی ہے۔ ہماری ملک کی سب سے بڑی سیاسی ٹریجڈی پر یہ اس وقت تک پہلا ڈراما تھا جو اپنی منطقی انجام کو نہ سر کر سکا۔

یہ ڈرامہ 1985 میں بی بی سی کے ڈرامہ سیکشن کے لیے طارق علی نے لکھا جو 3 اقساط پر مشتمل تھا۔ اس وقت یہ ڈراما تحریر کتابچے میں ہے جس میں 106 سینز پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اس ڈرامہ کو بی بی سی نہ یہ کہ کر کینسل کردیا کہ اس میں چند باتیں ڈیفیمیشن یعنی ہتک عزت کے زمرے میں آتی ہیں۔ وہ کیا باتیں تھی، بقول طارق علی کہ ”جنرل ضیا الحق امریکی آشیرواد سے ملک میں مارشل لاء نافذ کر چکا تھا اور جہاد اسلام جس کا فقط ایک ہی مقصد تھا کہ روسی افواج کو افغانستان سے پیچھے دھکیلا جائے اس سارے مسئلے پر اگر ایک ایسا کچھ سامنے آ جائے جو اس بیانیہ کو ہوا دیتا کہ بھٹو کا عدالتی قتل اس وقت کی امریکی حکومت کے نظر سے کیا گیا ہے تو وہ بات، امریکا کو بہت نا گوار گزرتی“۔

Read more