اسلام کا بشریاتی تناظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا اسلام کا ایک خالص معروضی مطالعہ ممکن ہے؟ یعنی ویسی ہی معروضیت جو مغربی درس گاہی نظام یعنی ’اکیڈمی‘ میں یہودیت اور عیسائیت کا وہ مطالعہ ممکن بناتی ہے جس کی رو سے ان دونوں کی تعریف ایسے ’مذاہب‘ کے طور پر کی جاتی ہے جن کے ماننے والے خود کو یہودی یا عیسائی کہتے ہیں۔ درس گاہی تناظر کی اس تنصیب کے بعد مذہب اور کلچر ایک ہی سکے کے دو رخ بن جاتے ہیں او ر یہودیت یا عیسائیت کے معنی کم وبیش یہودی اور عیسائی ثقافت کے ٹھہرتے ہیں۔

روایتی مطالعۂ اسلام شایداس لیے مذہب اور کلچر کی لاینحل دبدھا کا شکار ہے کہ خارجی روایتِ علم سے وارد ہونے والی ان دونوں اصطلاحات کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے انہیں سماجی محاورے میں خاطرخواہ جگہ دی جا چکی ہے لیکن دوسری طرف دینِ اسلام اور مسلم ثقافت کے درمیان صحت و استناد کے سوال پرمسلسل کھینچا تانی جاری ہے۔ زمانۂ جدید میں اس کھینچا تانی کا ایک میدان تو روایتی اسلام اور متجددین کے درمیان جاری تعبیراتی کشمکش میں زمانی ومکانی استناد ہے جب کہ دوسرا میدان متقابل روایتی مظاہر کے درمیان وہ تعبیراتی کشمکش ہے جس میں ماضی کے ایک مستند دور سے سند لانا لازم مانا جاتا ہے۔

لیکن ان روایتی تناظرات کے برعکس بشریاتی تناظر میں یہ کوئی منفی کشمکش نہیں بلکہ ایک ایسی اضافیت پسند تکثیریت ہے جو مطالعہ ٔ اسلام کی نئی خاکہ بندیوں کے ذریعے مکالمے اورفہم کے امکانات میں بڑھوتی کا باعث بنتی ہے۔

لہٰذا مطالعۂ اسلام کی مغربی علمی روایت میں پچھلی نصف صدی کے دوران اٹھایا جانے والا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ’اسلام‘ نامی اصطلاح کو بشریاتی تناظر میں پرکھنے کے کیا امکانات ہیں؟ یہ سوال یوں پیدا ہوا کہ ’مذہب‘ اور ’ثقافت‘ جیسی عمرانی اصطلاحات کے برعکس ’اسلام‘ کی اصطلاح اس بشریاتی تناظر کے قیام سے قبل نہ صرف اپنا ایک محکم وجود رکھتی ہے بلکہ نوعِ انسانی کی کئی معاشروں کو ان کی یکساں شناخت بھی عطا کرتی ہے۔

اسلامی عقیدے کے مشمولات کا تعین کرنے والی اہم ترین دستاویز یعنی قرآن کریم نے نہ صرف اس اصطلاح کا من وعن استعمال کیا بلکہ اسے ایک نیم بشریاتی تناظر میں نوعِ انسانی کی اس معنویت پسندفطری حالت سے بھی تعبیر کیا جس کی رُو سے انفس و آفاق، انسان کے اندر اور باہر موجود دونوں جہان ایک ہی واحد و یکتا، اول و آخر، حیّ و قیوم ذاتِ مطلق کے آگے ہمہ دم سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال کہ ’کیا اسلام ایک مذہب ہے؟

’ ایک نہایت پیچیدہ بلکہ شاید تاحال قریب قریب ناممکن خاکہ بندی کو دعوت دیتا ہے۔ ایک طرف تو قرآن کریم اسلام کو توحید پرست ابراہیمی روایت کے تسلسل کے طور پر متعارف کرواتا ہے لیکن دوسری طرف اسی ابراہیمی روایت کی دوسری ممیز شاخوں یعنی یہودیت اور عیسائیت سے ایک امتیازی شناخت پر بھی اصرار کرتا ہے۔ جب تک ہم بشریاتی تناظر قائم نہیں کرتے یہ الجھن کچھ خاص نمایاں نہیں ہوتی لیکن عمرانی میدان میں اترتے ہی ہمارے سامنے باربار آن کھڑی ہوتی ہے۔

اس مشکل کا حل تو دور کی بات، پہلا نازک مسئلہ تودرست سوالوں کی خاکہ بندی یعنی تصورِ اسلام کی بشریاتی وضاحت کا ہے۔ کلاسیکی اسلامی روایت سے جڑا ادب اس خاکہ بندی سے دامن بچا کر گزرتا ہے تو اسلام کو ’مذہب‘ کی بجائے ایک اور قرآنی اصطلاح ’دین‘ کی صورت میں متعارف کروا دیتا ہے جو رائج بشریاتی تناظر کے لیے اتنی معنی خیز نہیں بلکہ کافی حد تک اجنبی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علم و ادب میں رائج لاطینی الاصل انگریزی اصطلاح ’ریلیجن‘ یعنی ’مذہب‘ سے قبل بھی ابراہیمی روایتوں سے منسلک انسان مختلف آفاقی نظام ہائے اعتقادات سے خود کو منسلک کرتے اور ایک دوسرے کو اہلِ یہود، یسوح مسیح کے پیروکار، نصرانی وغیرہ کی شناختوں سے جانتے تھے۔

’کلچر‘ یعنی ’ثقافت‘ اور ’سویلائزیشن‘ یعنی ’تہذیب‘ کی مروجہ متبادل اصطلاحات سے قبل بھی انسان آخر ثقافتی مظاہر سے تو منسلک تھا اور خود کو تہذیب یافتہ یا مہذب مخلوق مانتا تھا۔ لیکن دراصل ان دونوں اور اس قسم کی کچھ دوسری اصطلاحات نے علم و ادب کا وہ مخصوص تناظر قائم کیا جس میں ’مذہب‘ یا ’ثقافت‘ نامی مقولات کے تحت نوعِ انسانی کی وہ تغیراتی خاکہ بندی ممکن ہو سکی جس نے انسانی سماج کو اس کی کلیت میں سمجھنے اور اس پرنفسیاتی، سیاسی اور معاشی اعتبارات سے بامعنی تبصرہ کرنے کے کئی منفرد امکانات پیدا کیے۔ اسی مخصوص تناظر اور اس سے متعلقہ مقولات کو عرفِ خاص میں بشریاتی ڈھانچہ کہا جاتا ہے جوعلمِ بشریات کے اصولوں کے مطابق فرد اور معاشرے کی خاکہ بندی ممکن بناتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نوعِ انسانی ہی کے ایک چنیدہ بشرِ واحد کے شعورو لاشعور پر منطبق ہونے والی ایک ملفوظ روایت اور اس سے جڑی نفسیاتی واردات کے طور پر اسلام کا کوئی بھی تعریفی خاکہ دراصل ایک خالص بشریاتی واقعے میں تبدیل نہیں ہو جاتا؟

اسلامی مطالعے کے تمام مروجہ مناہج کی رُو سے لفظ ’اسلام‘ کے تمام متنوع اور متقابل و متطابق معنویاتی گروہ اپنی تعریفات کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کی قلبی واردات، ان سے جڑے تاریخی واقعات اور ان واقعات سے منسلک ان تعبیری و تشریحی مفروضوں کے محتاج ہیں جواسلامی روایت سے جڑے الہامی متون یعنی قرآن و حدیث اور اولین معاشرتی مظاہر کو محفوظ کرنے والے آثارواخبارکے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے روایتی ہوں یا تجدید پسند، اسلام کی تمام تر تعریفات خود کو اضافی نہیں بلکہ معیاری گردانتی ہیں۔

یہ تعریفات جہاں خود ایک آفاقی کسوٹی پر پورا اترنے کا دعویٰ کرتی ہیں وہیں کچھ دوسری متقابل تعریفات اور ان سے جڑے اعمال کے مجموعوں غیرمعیاری بھی مانتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کیا ہے کا سوال خود بخود ایک معکوس سوال یعنی ’کیا اسلام نہیں ہے؟ ‘ کو ابھارتا ہے۔ چونکہ یہ تمام متقابل روایات انسانی لاشعور وشعور میں اپنی محکم جگہ بنا کر مختلف ثقافتی مظاہر کے ذریعے مسلسل ترویج پاتی ہیں لہٰذا ان دونوں سوالوں پر جوابی ردّعمل اور پیش مفروضے خود بخود بشریاتی تناظر میں نئی خاکہ بندیوں کو دعوت دیتے ہیں۔

یہاں قارئین کے سامنے بشریاتی تناظر میں اسلام کی تعریف کا ایک نہایت مختصر ساعمومی خاکہ رکھ دینا مناسب ہو گا۔ مروجہ روایتی یا نیم روایتی (یعنی جدت پسند یا اصلاح پسند) تناظرات کے برعکس بشریاتی تناظر نظامِ عقائد اور مبادیات دین کے الہامی مباحث میں آفاق سے نفسِ انسانی اور عملِ انسانی کی جانب عمودی اتار کی بجائے انسانی نفسیاتی و اعمال کے افقی پھیلاؤ کو اپنی بحث کا موضوع بناتا ہے۔ الٰہیات و فقہ کے عظیم علمی مسائل اور نصوص میں علتی نسبتیں نہیں بلکہ کسی بیمار شخص پر دم درود پڑھنے، شادی بیاہ یا قربانی کی اسلامی ثقافتی رسومات اور آفاقی استناد و صحت کے حصول کی خاطر فرد اور معاشرے کی نفسیات اہم ہیں۔

ساٹھ کی دہائی سے قبل روایتی تناظر کو قبول کرتے ہوئے مغرب میں استشراقی علمی روایت کے تحت ہی اسلام کا تجزیہ مروج رہا جہاں تجزیاتی ڈھانچہ ایک جانب تو تاریخیت اور دوسری جانب بائبل کے ضمن میں وضع کیے جانے والے تاریخی انتقاد کے اصول و مبادیات کا اطلاق قرآن و حدیث پر بھی کرتا رہا۔ اوّل الذکر کو مقامی ثقافت سے جنم لینے والے نفسیاتی یا شعری الہام اور آخر الذکر کو تاریخی دستاویز کے طورپر تجزیے کے سپرد کیا جاتا رہا۔

اس تجزیاتی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی ساٹھ کی دہائی میں آئی جب بین الثقافتی مثلاً جاوا اور مراکش کی مسلم ثقافتوں کے درمیان موازنے اور تقابل کے ذریعے ایک نئی روایت آغاز ہوا۔ تجزیے کے میدان میں یہ ایک لمبی جست تھی کیوں کہ روایتی تناظر کے برعکس اسلام اب معاشرتی رجحانات کا وہ مجموعہ نہیں تھا جو کل مظاہر کے مجموعے میں سے ثقافت کو منفی کر دینے کے بعد بقیہ بچتا ہے بلکہ ثقافت سے گنجلک کوئی پیچیدہ ملغوبہ تھا۔

کم و بیش ڈیڑھ دہائی اسی سمت میں سفر جاری رہا لیکن پھر اسّی کی دہائی کے وسط میں ایک نئے بشریاتی تناظر کے تصور پر بحث کا آغاز ہوا جہاں کسی بھی معاشرے میں مطالعۂ اسلام کو ثقافت سے نمودار ہوتے ہوئے دیکھنے کی بجائے ان طاقت ور شخصیتوں اور اداروں کو تجزیے کا بنیادی موضوع بنانے کی ترغیب دی گئی جو اسلام کے سوال پر اختیار کا منبع ہیں۔ اس حقیقت کو بشریاتی تناظر میں زیادہ دلچسپ مان لیاگیا کہ اختیارات کے یہ شخصی یا غیرشخصی مراکز ہی دراصل فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا اسلام ہے اور کیا نہیں اور نتیجتاً ایک استدلالی روایت کی تشکیل کرتے ہیں جسے معاشرے کی غالب اکثریت کا اعتماد حاصل ہو جاتا ہے۔

نوے کی دہائی میں گلوبلازیشن اور بین الاقوامی مواصلاتی انقلاب کے بعد ان دونوں بظاہر متضاد تجزیاتی ڈھانچوں نے مل کر ایک تیسرے بشریاتی تناظر کو جنم دیا جس میں سیاسی رجحانات اور اختیار اورطاقت کی کشمکش کو فیصلہ کن تجزیاتی اساس مانا گیا۔ یہاں اولین ڈھانچے سے تاریخی یاداشت کا اصول لیا گیا اور دوسرے متبادل ڈھانچے سے سیاسی و ثقافتی قوت کے رجحانات کو اصولی تسلیم کیا گیا۔ تیسری دنیا یعنی جنوبی ایشیا اور افریقہ کے مسلمانوں کے یوروپی اسلام کے علمبرداروں سے علمی مراسم قائم ہوئے تو اسلام کے پسِ استعمار اور نوآبادیاتی تنقید پر مبنی مطالعے بھی سامنے آئے۔

اگلی تین دہائیاں انہی رجحانات کا تسلسل ہیں جو مطالعۂ اسلام کی خاطر قائم کیے گئے مفروضوں کو بشریاتی میدان میں ثقافتی تجربہ گاہوں میں جانچنے کے بعد مختلف نتائج پر پہنچتی ہیں۔ یہ لازماً ایک ایسا استخراجی ڈھانچہ ہے جہاں مطالعۂ اسلام کا نظریاتی تناظر پیش قیاس کرنے کے بعد ہی تھیوری سے عملی تجزیے کی جانب پیش قدمی ممکن ہوتی ہے۔ اس طرح مطالعۂ اسلام لازماً دو خانوں میں بٹ جاتا ہے جن میں سے ایک اسلام تو خالص نظری جب کہ دوسرا اسلام عملی یا تجزیاتی بن کر ابھرتا ہے۔ اسلام کے ان دونوں مطالعات کو جوڑ کر ایک ساتھ پیچیدگی سے نمٹنا وہ چیلنج ہے جو اب اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کا تیزی سے رائج ہوتا بشریاتی تناظر ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 76 posts and counting.See all posts by aasembakhshi