وفاقیت، صوبائی اکائیاں اور آنکھوں میں چبھتی اٹھارویں ترمیم


آج کل اٹھارویں آئینی ترمیم پر بڑا شور سنائی دے رہا ہے، پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ مجھ پر اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، چلیں ہم آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی بات کا یقین نہیں کرتے، شاہ محمود قریشی سے لے کر فواد چودہری تک تمام حکومتی اکابرین کی وہ سب وضاحتیں بھی سر آنکھوں پر جن میں کہا گیا تھا کہ حکومت اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کرنا چاہتی، نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے وغیرہ وغیرہ۔

لیکن جب وزیراعظم عمران خان نے اٹھارویں ترمیم پر اپنی زبان کھولی اور یہاں تک کہہ دیا کہ اٹھارویں ترمیم نے وفاق کو دیوالیہ بنا دیا ہے تو آگے کیا رہ جاتا ہے؟ وزیراعظم صاحب کے اس بیان سے تو سب کو یقین ہو چکا کہ اب حکومت کی آنکھ میں اٹھارویں ترمیم کنکر بن کر چبھ رہی ہے، کچھ حلقوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ خان صاحب کو اقتدار میں لانے کے کئی مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ کسی طرح بھی اس ترمیم سے جان چھڑوائی جائے۔

اب تو ہمیں یقین پڑے گا کہ اس وقت سارا جھگڑا ہی اٹھارویں ترمیم پر ہے۔ اصل میں تنازعہ اس ترمیم کا ہے یا اس آئین کا؟ جس کو جنرل ضیا الحق سے لے کر پرویز مشرف تک سب نے کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دیا تھا، اگر ہم اٹھارویں ترمیم پر مقتدر قوتوں کی ناراضگی کو مانتے ہیں تو پہر سمجھ لینا چاہیے کہ یہ تنازعہ آئین، پارلیامنٹ اور پارلیامانی جمہوری نظام کا ہے۔ اس تنازعہ کو جنم دینے والے وہ آمرانہ سوچ کے حامل ذہن ہیں جو اب بھی سویلینز کو بلڈی سویلینز کہہ کر پکارتے ہیں یا ان کو نا اہل سمجھتے ہیں۔

جناب وزیراعظم نے اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے جو کچھ فرمایا ہے اس پر بھی کئی سوال اٹھتے ہیں، سب سے پہلا سوال یہ کہ ان کا اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے ان کا یہ موقف کب سے ہے؟ یا ان کو کب سے یہ احساس ہوا کہ اس ترمیم کی وجہ سے وفاق کنگلہ ہو رہا ہے۔ اس بات سے مراد یہ ہے کہ خان صاحب کو انتخابات سے پہلے اٹھارویں ترمیم کی خرابیاں سمجھ میں آئیں یا یہ موقف بعد از انتخابات کا ہے؟ اگر انتخابات سے پہلے ان کو یہ بات سمجھ میں آ چکی تھی تو کسی انتخابی جلسے، کارنر میٹنگ میں اس کا اظہار تک کیوں نہیں کیا گیا؟

اگر یہ احساس حکومت ملنے کے بعد ہوا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے تو بڑی اچھل کود ہو رہی تھی کہ حکومت ملتے ہی منی لانڈرنگ رک جائے گی، لاکھوں ڈالر بچیں گے، کرپشن کو بریک لگ جائے گی، ادارے نئے بن جائیں گے، سوئیز بئنک اکاؤنٹس سے کھربوں رپیے مل جائیں گے، ایکسپورٹ ڈبل ہوجائے گی، رمینٹس سے بڑا مال آئے گا، انوسٹمنٹ ٹرپل ہوجائے گی کیونکہ چوروں کی جگہ فرشتے مسند اقتدار پر بیٹھ چکے ہیں۔ اگر آپ اتنے ہی اہل ہیں تو پہلے بتائیں کتنا پیسہ بچا پائے ہیں؟

جب ان تمام حکومتی اعلانات اور واعدوں میں آپ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو پھر آپ کو یہ سوجھا کہ اب بہانا اس ترمیم کو ہی بنایا جائے کہ معاشی ناکامیاں صرف اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے سامنے آ رہی ہیں؟ کیوں کہ سارا پیسہ تو صوبے لے جاتے ہیں اور وفاق کے پاس ککھ نہیں بچتا۔ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ایسے بہانے کرنے پر کیوں نہ یہ مان لیا جائے کہ حکومت کی خود کی کوئی کارکردگی نہیں، حکمرانوں کو بات سمجھنے اور معاملات کو حل کرنے کا فہم ہی نہیں۔ عمران خان اور ان کی تمام ٹیم کے پاس نہ کوئی ویژن ہے نہ ہی ان کا ہوم ورک۔

یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اٹھارویں ترمیم والی بات وزیراعظم نے خود کی ہے یا انہوں نے کسی اور کے کہنے پر یہ بات کر دی؟ ان کی اس بات سے تاثر یہ مل رہا ہے وزیراعظم صاحب وفاقیت، صوبائی اکائیوں، وفاق اور وحدتوں کے درمیاں نازک رشتے، پارلیامنٹری جمہوری نظام اور سویلین منتخب نمائندوں کی طرف سے دیے گئے آئین پاکستان کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے، نہ اس کو اہمیت دینے کے لیے تیار ہیں، نہ ان کو یہ علم ہے کہ کچے دھاگے کے نازک رشتے سے جڑے صوبوں اور وفاق کو ایک ایسے ہی آئینی پیکیج کی اشد ضرورت تھی جس سے ان کا رشتہ زیادہ مضبوط ہو۔

اگر اس ترمیم کو چھیڑا گیا تو نقصان سب کا ہوگا لیکن اس کے خلاف سب سے زوردار آواز سندھ سے اٹھی گی، کیونکہ اس ترمیم کی موجد پیپلز پارٹی ہے، اور کیا گارنٹی ہے کہ کے پی کے اور بلوچستان کی قوم پرست قیادت بھی اس پر خاموش رہے؟ ان کے تو بیانات رکارڈ پر ہیں کہ اگر اٹھارویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑ ہوئی تو پھر ہم نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ کریں گے۔ یہ ترمیم پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور ان کی اتحادی جماعتوں کے اتفاق سے منظور ہوئی، لیکن افسوس کی بات ہے کہ مسلم نوازکی قیادت اس وقت اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے خاموش ہے۔

اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ کہ سابق وزیراعظم شاھد خاقان عباسی جب پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کا قلمدان اپنے پاس رکھے ہوئے تھے تو خود بھی اٹھارویں ترمیم کے کئی شقوں کے مخالف رہے ہیں خاص طور پر وہ آرٹیکل ایک سو بہترکے بڑے نقاد تھے۔ یہ شق قدرتی وسائل پر صوبوں اور وفاق کو برابر مالکی کا اختیار دیتی ہے۔

اٹھارویں ترمیم کو وفاق کے لئے خطرہ سمجھنے والوں کے پاس وفاق کی تعریف و تشریح بھی اپنی ہی ہے، یہاں وفاقیت کے حوالے سے دو آرا پائے جاتے ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ مضبوط صوبے مضبوط وفاق کی علامت ہوتے ہیں، جبکہ دوسرا موقف یہ ہے کہ صوبے خود کچھ نہیں اصل میں سب کچھ وفاق ہے، صوبے ٹیکس وصولیاں کرکے وفاق کو دیں اور پھر ان کے رحم و کرم پر رہیں، ان کی رائے میں کسی ملک کا استحکام مرکزیت میں ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب یہ ملک اور اس کا وفاق نہیں تھا اس وقت بھی صوبے موجود تھے، صوبوں نے مل کر ملک بنایا جس کے توسط سے وفاق وجود میں آیا ہے۔

وزیراعظم صاحب کو یہ بات بھی واضع کرنا پڑی گی کہ اٹھارویں ترمیم آپ کی آنکھ کا کانٹا ہے یا کچھ دوسرے اداروں کو کھٹک رہی ہے؟ اور پھر اس ترمیم سے وفاق کب سے دیوالیہ ہوا ہے؟ اٹھارویں ترمیم آج کی تو نہیں یہ ترمیم دو ہزار دس میں منظور ہوئی تھی۔ اگر ترمیم اتنی ہی خراب ہے تو پھر نو برس تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی حکومتیں وفاق کو کیسے چلا رہی تھیں؟

اب دیکھتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم میں ایسا کیا ہے جو وفاق کو ایک آنکھ نہیں بھاتا، اس آئینی پیکیج کی سب سے اہم ترمیم تو آرٹیکل چھ میں ترمیم ہے جس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ اب آئین کو معطل کرنے والوں پر بھی غداری کا مقدمہ چلے گا، اس کے ساتھ معاونت کرنے والے، اس کی توثیق کرنے اور اس جو جائز قرار دینے والے بھی قانون کی پکڑ میں آئیں گے۔ اس آئینی ترمیم کو سابقہ آمر پرویز مشرف کے خلاف چلنے والے غداری مقدمہ کی روشنی میں دیکھا جائے۔

ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے والے اختیار ختم کرنا وفاقیت کے خلاف سازش ہے، اٹھاون ٹو بی کو جنرل ضیا الحق نے آئین کا حصہ بنایا اور پھر سب نے دیکھا کہ کس طرح منتخب حکومتوں کو چلتا کیا گیا۔ کس طرح ایوان صدر کو سویلین حکمرانی کے خلاف سازشوں کا گڑہ بنا دیا گیا۔ صدر سے اسمبلی توڑنے کے اختیار واپس لینے سے ہی جمہوریت کا تسلسل قائم ہوا ہے، یہ ترمیم کس طرح وفاق کے خلاف ہو سکتی ہے؟

خانصاحب کو وضاحت تو دینا پڑے گی کہ کس آئینی شق کے تحت وفاق کا دیوالیہ نکلا ہے؟ کیا آرٹیکل 172 کی بات تو نہیں ہو رہی؟ جس میں قدرتی وسائل پر وفاق کے ساتھ صوبوں کو بھی برابری کا حق دیا گیا ہے، دنیا میں اس طرح کی وفاقیت میں قدرتی وسائل پر پہلا حق صوبوں یا ریاستوں کا ہوتا ہے، کیوں کہ ان کی زمین سے یہ وسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کیا آرٹیکل 19 جو معلومات تک رسائی کا بنیادی حق دیتا ہے وہ وفاق کو دیوالیہ بنا رہا ہے؟ یا پھر آرٹیکل 25 جو چودہ برس تک کے بچوں کو مفت تعلیم کابنیادی حق فراہم کرتا ہے وہ وفاق پر بوجھ کی طرح ہے؟

آرٹیکل 147 تو وفاقی ادارے یا اہلکاروں کی صوبوں میں مقرری کی صوبائی اسمبلی کی منظوری سے مشروط کرتا ہے، ہو سکتا ہے صوبوں میں خاص طور سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے یہ معاملا خان صاحب کو یا ان کو لانے والوں کی آنکھوں میں چبھتا ہو، ایک خیال یہ ہے کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ سیکیورٹی کے معاملات میں وفاق کو کھلی چھوٹ دی جایے اصل میں وہ چھوٹ وفاق کو نہیں کچھ اداروں کے لیے مانگی جا رہی ہے۔ اسی آئینی پیکیج میں

آرٹیکل 157 پر بھی اعتراض ہو سکتا ہے جو کہتا ہے کہ کوئی بھی ڈیم یا پاور منصوبا اسی صوبے کی مرضی کے بغیر نہیں بن سکتا۔ اگر مالی اعتبار سے وفاقیت کی دیوالیہ پن کا معاملہ ہے تو پھر شاید حکومت آرٹیکل 160 کو اڑانا چاہتی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کا فیصلہ کرتے وقت یہ بات طئے ہوگی کہ صوبوں کا مالی حصہ آخری این ایف سی ایوارڈ سے کم نہیں ہوگا، اب شاید وفاقی حکومت اور حکمرانوں کے ذہن میں یہ بات ہے کہ وسائل کا بڑا حصہ صوبوں کو چلے جانے سے وفاق کے پاس پیسے نہیں بچتے۔ لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ملک کے عوام ان صوبوں میں رہتے ہیں، اور ان صوبوں کو مالی فوائد مل رہے ہیں جن کے اشتراک اور اتفاق سے یہ ملک اوراس کا وفاق بنا ہے۔

آمر کا نام اورجمہوریت کی روح کو زخمی کرنے والی شقیں آئین سے نکال کر اصلی جمہوری شکل میں بحال کیے گئے آئین سے بھلا کس کو کیا شکوہ شکایت ہو سکتی ہے؟ کیونکہ اٹھارویں ترمیم سے مشترکہ مفادات کاؤنسل کے اختیارات بڑھا کر صوبوں اور وفاق کے تنازعات کے حل کا ایک مضبوط فورم مہیا کیا گیا تاکہ دونوں کے تعلقات مزید رہیں۔ وزیراعظم پارلیمنٹ کے قائد ایوان ہیں، اور صوبوں کو تھوڑی بہت خودمختاری پر ان کو ایسا موقف اختیار نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ اس ترمیم نے وفاق میں جان ڈالی ہے۔ اس کو چھیڑنے سے نہ صرف نفاق پیدا ہوگا لیکن یہ پھر یہ بھی یقین ہو جایے گا کہ وفاق کو چلانے والے صوبوں کی حیثیت تسلیم کرنے کے بجائے ان کو فاتح بن کرچلانا چاہتے ہیں

Facebook Comments HS

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 57 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar