زلزلہ، مال پانی اور ادھوری خوشی


تھوڑے دنوں بیٹھنے کے بعد وہ امیونائزیشن پروگرام کے ڈائریکٹر بنادیئے گئے تھے۔ اس ڈائریکٹری کو حاصل کرنے کے لئے انہیں حکام بالا کو بھی کچھ رشوت دینی پڑی تھی کسی کے لئے شراب اور کسی کے لئے شباب کا انتظام کرنا پڑا تھا۔ وہ شریف آدمی تھے انہوں نے شہر کی کچھ طوائفوں کو اس کام کے لئے ملازم رکھا ہوا تھا وگرنہ لوگ تو اپنی بیویوں اور بہنوں کے ذریعے سے بھی ترقی کا زینہ چڑھ لینے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔

اس پروگرام میں کمانے کے دوسرے طریقے تھے۔ انہوں نے ہر طریقہ اصولوں کے مطابق آزمایا۔ خود بھی خوش رہے اوردوسروں کو بھی خوش رکھا۔ پولیو ختم نہیں ہوا تو کیا ہوا، بی سی جی کے ٹیکے نہیں لگے تو کیا فرق پڑا، خناق اور تشنج سے بچے مرتے رہے تو کون سی آندھی آگئی طوفان آگیا۔ ملک تو چل رہا تھا۔ جس طرح سے چلتا آرہا تھا اسی طرح سے چلتا رہا۔

ریٹائرمنٹ کے قریب انہیں ڈپٹی سیکریٹری ہیلتھ بنادیا گیا اور جب ریٹائر ہوگئے تو حکام کے حکم سے انہیں چیف اینڈ اسپیشل میڈیکل افسر بنادیا گیا۔ ان کا کام تھا کہ وہ گورنر، وزیراعلیٰ، وزیراعظم اورحکومت کے اہم لوگوں کو صحت کے معاملات سے باخبر رکھیں۔ انہیں صحت کے مراکز کا دورہ کرائیں، صوبے میں مثالی ہیلتھ سینٹر کی تعداد بڑھائیں۔ یہ کام ان سے اچھا کوئی بھی نہیں کرسکتا تھا۔ وہ صحت کے محکمے میں ہر عہدے پر رہے تھے، پھر ہر زمانے میں وہ حکام کے قریب تھے۔ ان کے لئے خاص عہدہ بنایا گیا تھا ان کی خاص تنخواہ تھی اور حکومت کے تمام لوازمات، عوام کی صحت کا اس سے زیادہ کیا خیال رکھا جاسکتا تھا۔

زلزلے سے ایک دن پہلے وہ بھی اس رورل سینٹر میں آئے تھے۔ وہ وزیراعلیٰ کے دورے سے پہلے آخری انتظامات دیکھنے آئے تھے تاکہ مثالی ہیلتھ سینٹر اعلیٰ حکام کے دوروں سے پہلے مثالی بن جائے، اسپیشل میڈیکل افسر کا یہی کام تھا۔ زلزلے والی صبح انہیں رورل ہیلتھ سینٹر کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا، بلڈنگ کے گرنے کے بعد سے ان کی کوئی خبر نہیں تھی۔

ہمارا سامان آنے میں دیر ہورہی تھی۔ میں نے اپنے اور ایدھی کے رضاکاروں سے مل کر پروگرام بنایا کہ اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو جمع کرکے رورل ہیلتھ سینٹر کے ملبے کو ہٹا کر کام کا سامان نکال کر کم از کم کام تو شروع کردیا جائے۔ جو بھی چیزیں، آلات، دوائیں موجود ہوں اور اگر اس حالت میں ہوئیں کہ کام آسکیں تو ان کو استعمال کرنے میں کیا برائی ہے۔ کچھ لوگوں کا بھلا ہوگا، کام شروع کرتے ہیں اس اثنا میں لاہور سے سامان بھی پہنچ جائے گا۔

اس دن ہم لوگ صبح سے کام کررہے تھے۔ پہلے چھت کے ملبے کو پھاؤڑوں اور گیتی سے ہٹایا گیا، لوہا کاٹ کر نکال تو نہیں سکے لیکن رسیوں سے باندھ کر کھینچا تانی کرکے راستہ ضرور بنالیا گیا تھا۔ پھر دیواروں کے ملبے کو آہستہ آہستہ ہٹایا گیا اس طرح سے ہٹایا گیا کہ سینٹر کا سامان کام آسکے، مزید خراب نہ ہو۔ درمیانی کاریڈور کے دونوں طرف کے کمروں میں مختلف سامان بھرا ہوا تھا، آخری کمرہ جو ڈاکٹر کا تھا محفوظ تھا۔ مگر ملبے نے سارا راستہ بند کردیا تھا۔

رورل ہیلتھ سینٹر میں تیس سال پہلے دیے گئے یونی سیف کے ڈبے بند پڑے ہوئے تھے جن میں مٹی کے تیل کے چولہے، سرنج، اسٹرلائزر اور بینڈیج کرنے کا سامان تھا۔ ایک اور کمرے میں پچھلے زلزلے میں آئے ہوئے امدادی سامان کے پیک تھے، اینٹی بائیوٹک اور طاقت کے بسکٹ وغیرہ وغیرہ۔ کچھ ڈبوں میں فیملی پلاننگ کی ایکسپائرشدہ گولیاں تھیں جن کو کبھی بانٹنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی تھی۔

سینٹر میں کبھی بھی دانتوں کا ڈاکٹر نہیں آیا مگر ڈینٹل چیئر پلاسٹک کے بڑے تھیلے میں چھپی ہوئی تھی۔ وزیراعلیٰ کے دورے کے لئے لائی گئی پرانا الٹراساؤنڈ مشین بھی موجود تھی کہ وزیراعلیٰ مثالی کلینک سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ سارا سامان باہر نکال کر ہم لوگوں نے ٹینٹوں میں رکھ دیا، مجھے خوشی تھی کہ کافی سامان بچ گیا تھا اور انہیں اب استعمال کیا جاسکتا تھا۔

جب سامان باہر نکال کر ڈھیر کیا جارہا تھا تو رضاکاروں نے بند کمرے کے چاروں طرف سے ملبہ ہٹانا شروع کردیا تاکہ چیف اور اسپیشل میڈیکل افسر کی لاش کو نکالا جاسکے جو شاید اب تک ملبے میں دبے ہوئے تھے۔ ابھی ملبہ ہٹا بھی نہیں تھا کہ پشاور سے فون پر خبر آئی کہ چیف میڈیکل افسر پشاور میں موجود ہیں اور انہیں حکومت نے زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے بنائی گئی کمیٹی کا چیئرمین نامزد کردیا ہے۔

یہ بھی پتہ چلا کہ جس وقت زلزلہ آیا اس وقت وہ رورل ہیلتھ سینٹر کی طرف جارہے تھے، ان کے سامنے پوری عمارت مٹی کے ڈھیر میں بدل گئی تھی، پھر وہ رُکے نہیں تھے، فوراً ہی پشاور کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔ اگر وہ پشاور میں نہیں ہوتے تو زلزلہ زدگان کی کمیٹی کا کوئی اور ڈائریکٹر بن جاتا۔
سامان کے بچ جانے کی مجھے بہت خوشی تھی مگر اسپیشل میڈیکل افسر کے بچ جانے پر مجھے دکھ بھی بہت ہوا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2