ناواقف آداب غلامی پرائم منسٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

ویسے تو یہ انقلابی شاعر جناب حبیب جالب کا شعر ہے جو مبینہ طور پر نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کے حکم پر فلم سٹار نیلو کو رقص نہ کرنے بلکہ اقدام خودکشی کرنے کی خبر کے بعد کہا گیا تھا مگر معروف تب ہوا جب اداکارہ مذکور کے شوہر نے اپنی فلم ”زرقا“ میں اسے اپنی اہلیہ پر بطور گیت فلمایا تھا جس کو گاتے ہوئے وہ جب ناچتے ناچتے رکتی تھی تو اس کی پیٹھ پر ایک کوڑا پڑتا تھا اور ”اللہ“ کہنے کی صدا کا گیت پر ”اوور لیپ“ ہوتا تھا۔

مجھے یہ گیت اور شعر دونوں اس جنگی رزمیہ کے بعد یاد آنے لگے تھے جب ابھے نندن قبضے میں آیا تھا۔ اس اثنا میں وزیر شیریں مقال چودھری فواد جہلمی دو چار روز کے لیے منظر عام سے غائب ہو گئے تھے جس کا بہانہ نعیم الحق سے ان کی چپقلش کو ظاہر کیا گیا تھا۔ ان کے لوٹنے سے پہلے وزیراعظم ایک بیان دے چکے تھے جو مجھے لفظ بہ لفظ تو یاد نہیں رہا مگر لب لباب یہ تھا کہ اس مناقشے کے دوران وزیر اطلاعات و نشریات چودھری فواد کی غیر موجودگی میں پاک ہند مخاصمت سے متعلق معاملات پر آئی ایس پی آر کا موقف سامنے آتا رہا مگر میرا موقف سامنے نہ آ سکا۔ ( ہائیں! آپ کا بھی کوئی موقف ہونا تھا کیا؟)

تب سے یہ شعر مجھے اور زیادہ یاد آنے لگا تھا کیونکہ خان صاحب جیسے تیسے وزیراعظم تو بن گئے مگر وہ آداب غلامی سے ناواقف ہیں۔ ابھے نندن کو واپس کیا، اس کی وجوہات پر بحث کا یہاں موقع نہیں مگر یزداں کی آنکھ میں وزیر اعظم تنکے کی طرح اٹکنے لگے تھے۔ یوں تو پہلے خان صاحب کی تعریف میں رطب اللسان رہنے کا اذن تھا مگر پھر حسن نثار سے لے کر ان کے شاگرد رشید ارشاد بھٹی تک، اینکر پرسن فیصل قریشی سے لے کر تجزیہ نگار عارف حمید بھٹی تک اور تو اور ہارون رشید صاحب سے لے کر نجم سیٹھی تک کو چھوٹ دے دی گئی کہ بس کچھ کہنا شروع کر دو۔

کسی نے پالیسیوں کو لیا، تو کسی نے مہنگائی کو، کسی نے گڈ گورننس کے فقدان کو تو کسی نے خان صاحب کی نرگسیت کو لیا اور چڑھ دوڑے مگر حد حسب معمول نجم سیٹھی صاحب نے کی جب انہوں نے خان صاحب کی اہلیہ اور مرشدہ بشرٰی بی بی عرف پنکی پیرنی پر شوہر کے ہاتھ اٹھائے جانے اور نتیجے میں علیحدگی کی افواہ کو عام کیا۔

بہت سے لوگ جانتے ہوں گے کہ عمران خان کے والدین اور بہنیں ایک ایسے مسلک سے ہیں جس میں پیر پرستی نہیں ہوتی جبکہ عمران خان صاحب بہشتی دروازے کی چوکھٹ چوم آئے تھے۔ یہ بات تو طے ہے کہ خواہش پرست لوگ متشکک ہونے کے ساتھ ساتھ ضعیف العقیدہ بھی ہوتے ہیں، خاص طور پر ہمارے ہاں کے جیسے معاشروں میں۔ میں تو انہیں چوکھٹ چومتے دیکھ کر بھی نہ مانتا کہ وہ پیر پرست ہیں بس یہی سمجھتا کہ انہوں نے بریلوی خواتین و حضرات کے ووٹ لینے کی خاطر عقیدت کا اظہار کیا تھا مگر انہوں نے تو مرشدہ کے ساتھ نکاح کر لیا۔

دیکھیے اب ہر طرف سے ناچنے سے انکار کرنے والے وزیر اعظم کو کوڑے پڑ رہے ہیں۔ چاہے وہ شاہ محمود قریشی کے بے نام الزام پر مبنی بیان سے یا جہانگیر ترین کے بے نام صرف نظر پر مبنی بیان کے ہوں، چاہے اسد عمر کی جانب سے مسلسل مہنگائی کرنے کے ہوں یا مریدین کا روپ دھارے ہوئے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے آنکھیں پھیرنے کے ہوں یا سوشل میڈیا پر بلبلاتے لوگوں اور خاموشی اختیار کیے پی ٹی آئی کے فعال کارکنوں کے عدم توازن کے ہوں مگر کمال ہے خان صاحب کا کہ جتنی بھی تکلیف ہوتی ہو وہ ”اللہ“ کی دردناک صدا بلند نہیں کرتے اور اس سے بھی بڑھ کر کہ ناچنے سے گریز کیے ہوئے ہیں۔

شاید صبر کی مے کشی کرتے ہوں مگر تا بہ کے؟ ایک نہ ایک روز تو ان کا کنٹینر والا عمران خان بیدار ہو ہی جائے گا، پھر وہ جو ناچنے پر مجبور کرنے والوں کو بے نقط سنائیں گے کہ الاماں البتہ یہ اور بات ہے کہ انتظام ہی کچھ مختلف کیے جا رہے ہوں۔ ان کو بھی اثاثہ بنا کے محفوظ رکھ لیا جائے پھر ناچنے کے شوقین اور رقص میں یکتا کسی شخص کو سٹیج پر چڑھا دیا جائے یعنی حکومت سونپ دیے جانے کا اہتمام کر دیا جائے۔ اب دیکھیں نا سال آٹھ ماہ میں درست طریقے سے حکومت کرنے کی سمجھ آ ہی جاتی ہے اور اس یقین دہانی کے ساتھ کہ چلیں آپ لوگ کچھ اڑھائی تین برس آرام کر لیں یا سیاست کی ”پولی پولی ڈھولکی“ بھی بجاتے رہیں تو کوئی بھی شک کیے بغیر آرام کرنے نکل جائے گا۔

یاد رہے میں یہ سب کچھ سنی سنائی پہ لکھ رہا ہوں کیونکہ میری اپنی خواہش تو یہی تھی اور ہے کہ عمران خان اپنی مدت پوری کریں، پانچ سال بعد وہ بہتر برس کے ہو ہی جائیں گے انشاءاللہ اور ہمارے ہاں مہاتیر محمد نہیں ہوتے، پی ٹی آئی کے سیاستدان غلطیاں کر کے سیکھیں اور باقی سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ آئندہ بھی ملکی سیاست میں رہیں۔ آخر شور شرابا کرنے کو بھی تو کچھ لوگ چاہیے ہی ہوتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •