40 برس انتظار کے بعد بھٹو صاحب کا خط


می لارڈ!

میں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کا پہلا منتخب وزیراعظم اور اس ملک کے عوام کو اپنے حقوق کا شعور دینے والا لیڈر، ایک بار پھر آپ کی عدالت میں اپنا مدعا بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، یور آنر! مجھے آج مورخہ 4 اپریل 2019ء کو گڑہی خدابخش کے آبائی قبرستان میں اپنی قبر کے اندر انصاف کا انتظار کرتے پورے چالیس برس بیت گئے ہیں پر نہایت ہی ادب و احترام اور حیرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میرے عدالتی قتل پر مجھے انصاف آج تک فراہم نہیں کیا گیا، الٹا میرے دو بیٹوں اور دختر مشرق میری بیٹی بینظیر کو بھی قتل کر کے راہ سے ہٹایا گیا، جبکہ میری شریک حیات کو بھی اولاد کی غیرفطری موت کے صدمے میں ڈال کر ایک طرح سے قتل ہی کیا گیا پر انصاف کا ترازو اپنی تول میں شاید میرے ساتھ نا انصافی کر رہا ہے یا پھر مجھے انصاف دینے کے لائق نہیں سمجھا جا رہا، ایسے کئی سوالات برسوں سے آج تک میرے ذہن میں گردش کرتے آرہے ہیں پر مجھے ان تمام تر سوالات کا کوئی جواب نہیں مل رہا۔

جناب والا! بات صرف میرے عدالتی قتل کی نہیں پر اس ملک کے عوام کو دیے گئے سیاسی حقوق کے قتل کی بھی ہے، جو میرے عدالتی قتل کے ساتھ غصب کئے گئے۔ آپ بغور جائزہ لیں کہ مجھ  بیگناہ کو تختہ دار پر لٹکانے والی قوتوں نے اس ملک و قوم کی تباہی کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، کلاشنکوف، ہیروئن کلچر متعارف کرایا، جبکہ فرقہ واریت، لسانیت کو ہوا دے کر پورے معاشرے کو پرتشدد سرگرمیوں میں دھکیل کر ایک طرح سے پاکستان کی بنیادیں کمزور کردیں، جس کے بدترین نتائج آج آپ کے سامنے ہیں۔

مائی لارڈ! مجھے ایک ناکردہ گناہ کی سزا دی گئی، جسے نہ صرف اس ملک و خطے بلکہ پوری دنیا کے تمام منجھے ہوئے قانونی ماہرین نے عدالتی قتل قرار دیا تھا۔ جناب! کیا میرا قصور یہ تھا کہ میں نے ایک شکست خوردہ قوم کو یکجا کر کے حوصلہ فراہم کیا تھا اور لوگوں کو سر اٹھا کے جینے کا درس دیا تھا۔ کیا میرا قصور یہ تھا کہ میں 1971 ء میں دو لخت ہونے کے بعد باقی ماندہ پاکستان کو قلیل مدت کے اندر دنیا میں ایک بار پھر ایک مستحکم مقام پر لے آیا؟

مائی لارڈ، آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ ملک کہاں کھڑا ہے، آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا اس بات کا کہ میرے عدالتی قتل کے بعد اس ملک کو کیا ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے، کیا میری مخالف قوتیں آج تک صورت حال کو سنبھالنے میں کامیاب ہوسکی ہیں؟ میں نے کال کوٹھری سے لکھی اپنی کتاب ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ میں جن تمام خدشات کا اظہار کیا تھا آپ بتائیں کیا وہ تمام باتیں درست ثابت ہوئیں یا نہیں؟ اگر ہاں تو پھر میرے ساتھ آج تک انصاف کیوں نہیں کیا گیا؟

جناب والا! ترکی کے سابق وزیراعظم عدنان میندرس کی مثال دینا چاہوں گا جسے عوام اور آئین مخالفین نے میری ہی طرح پھانسی پر لٹکا دیا تھا پر جب عوامی حکومت آئی تو عدنان میندرس کو بیگناہ قرار دے کر معافی مانگی گئی تو پھر میرے ملک میں مجھے انصاف کیوں نہیں دیا گیا؟ آپ نے جسٹس (ر) مرحوم نسیم حسن شاہ کا عمر کے آخری ایام میں وہ اعتراف بھی ضرور سنا اور دیکھا ہوگا جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ بھٹو کو سزائے موت دینے کے لیے تمام منصفین پر ”دباؤ“ تھا اور اسی دباؤ کے نتیجے میں انہیں ایک ناکردہ گناہ میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

میرے خلاف کیس کی شنوائی کرنے والی بینچ میں شامل جج اگر اتنا بڑا اعتراف کرگیا تو مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آخر مجھے آج تک بے قصور قرار کیوں نہیں دیا گیا؟ حضور، 40 سال بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے اور اس عرصے کے دوران میرے ملک نے ان گنت نشیب و فراز دیکھے، عوام آج بھی میرے گن گا رہے ہیں اور کیوں نہ گائیں کیا مجھ سے پہلے کسی سیاستدان نے عوام کو ان کی اہمیت کا احساس دلایا تھا؟ مجھے بتایا جائے کہ میں نے اس ملک و قوم کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔

بدترین شکست کے باوجود بھارت جیسے پڑوسی دشمن کی قید سے 90 ہزار جنگی قیدی اور چھ ہزار مربع میل اراضی کو آزاد کرایا۔ میں اس ملک کی سیاست جو کہ چند وڈیروں، سرداروں، جاگیرداروں اور چودھریوں کے مرہون منت تھی کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑکوں، چوراہوں، گلیوں اور میدانوں پر لے آٰیا تاکہ اس ملک کے پسے ہوئے مظلوم و محکوم عوام کو زبان مل سکے پھر آپ سب نے دیکھا کہ کس طرح عوام کی طاقت سے بڑے بڑے سیاسی برج الٹ گئے اور پاکستان نہ صرف اسلامی دنیا پر چین، روس، مغرب و امریکا تک اپنی اہمیت منواتا چلا گیا۔

جناب! مجھے بہت دکھ اور افسوس ہے کہ میں نے اپنی زندگی اس ملک و قوم کی خدمت کے لیے وقف کردی ہر سو پاکستان کی کامیابی کے جھنڈے گاڑے پر مجھے ہی نشان عبرت بنایا گیا اور اس عمل میں عدلیہ جیسے اہم ادارے کو استعمال کیا گیا۔ آج میرے عدالتی قتل کو 40 سال گزر گئے ہیں اور اس دوران ایک پوری نسل جواں ہوکر اب ادھیڑ عمر میں پہنچ رہی ہے پر مجھے انصاف نہیں دیا گیا۔ یہ سوال اس ملک کی سیاسی تاریخ میں تب تک اٹھایا جائے گا جب تک عدالت اپنی تاریخی غلطی تسلیم نہیں کرتی۔

عدلیہ کی جانب سے انصاف نہ کرنے کے باعث مجھے آج گڑھی خدابخش کی قبر میں بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ جمہوری قوتیں آج بھی مقدم نہیں ہو سکی ہیں میرے ملک میں، ایسا لگتا ہے کہ قانون کا بول آج بھی بالا نہیں ہو پایا، ایسا لگتا ہے کہ غیر آئینی و غیر جمہوری قوتیں آج بھی عوامی طاقت سے ڈرتی ہیں۔ اسی وجہ سے قائد عوام کو انصاف کی فراہمی سے انکار کیا جا رہا ہے ورنہ چالیس برس اپنی فاش غلطی تسلیم کرنے اور ملک و قوم کے ایک حقیقی لیڈر کو انصاف فراہم کرنے کے لیے بہت ہوتے ہیں۔ پر لگتا ہے کہ میں نے پاکستان اور اس کے عوام، عدلیہ، فوج و دیگر اداروں کی مضبوطی کے لیے جو ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں شاید وہ بھلادی گئی ہیں اور حصول انصاف کے لیے مجھے مزید 40 برس انتظار کرایا جائے گا، شاید۔ ! ؟

Facebook Comments HS