ففتھ جنریشن وار فئیر اور میڈیا کی آزادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی منظر نامے میں پاکستان اس مقام پر کھڑا ہے جہاں دہشت گردی کی طویل اور کٹھن جنگ سے نبرد آزما رہنے ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جانوں کی قربانی دینے اور کامیابی سے دشمن کو اپنے ملک سے مار بھگانے کے بعد اب گوادر اور سی پیک کے ذریعے اس خطے کو پوری دنیا کا مرکز و محور بنا چکا ہے۔ عالمی طاقتیں جہاں گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے اور پاکستان کی معاشی راہداری میں اپنی شمولیت کی متمنی ہیں وہیں پاکستان کے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ خطے کی اس اہم طا قت کو کیسے ایک مرتبہ پھر پیچھے دھکیل کر اپنے لئے جگہ بنائی جا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر ڈرامہ رچا کر پلوامہ حملے کا قضیہ پاکستان کے سر تھوپنے کی کوشش کی۔ سعودی ولی عہد کا دورہ رکوانے کی بھر پور کوششیں کی گئیں۔ حتی کہ بھارت نے امریکہ سے اجازت مانگی کہ پاکستان پر حملے کی صورت میں امریکہ ان کا ساتھ دے۔ کوشش یہ تھی کہ محدود حملہ کیا جائے تاکہ مودی الیکشن میں کامیابی حاصل کر لے اور قوم کے سامنے رسوائی بھی نہ ہو اور اپنے جاسوس کلبھوشن کے لئے عالمی عدالت میں راہ ہموار کی جائے۔

گویا ایک مرتبہ پھر سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ کھیلا جانا تھا۔ خدشہ تھا کہ ہندوستان ایران کو بھی اس سازش میں اپنا ہمنوا بنا لے گا۔ اس شر انگیزی کا ایک اور مقصد یہ تھا کہ اسلام آباد میں افغان طالبان و امریکہ کے مابین مذاکرات کو سبو تاژ کیا جائے۔ گویا ایک تیر سے کئی شکار۔ لیکن اس مشکل گھڑی میں ہمارے سول و فوجی حکمران نہ صرف ایک پیج پر نظر آئے بلکہ پوری قوم بھی آہنی دیوار کی مانند ان کے پیچھے کھڑی نظر آئی۔

اور میڈیا نے بھی مثبت کردار ادا کیا یہی وجہ رہی کہ سعودی ولی عہد بھی تشریف لائے اور پاکستان کی جانب سے ہندوستان کو منہ توڑ جواب بھی دیا گیا۔ قارئین یہ بیانئیے کی جنگ ہے۔ اس محاذ پر تو ہم نے یہ جنگ جیت لی۔ اس جنگ میں میڈیا اور سوشل میڈیا وہ ہتھیار ہیں جہاں سازشوں کے تانے بانے بنے جاتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وار فیئر، بیانیے کی جنگ یا نفسیاتی مات کیا ہے اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ انسانی ارتقا کے کن تھپیڑوں نے ہمیں یہاں تک پہنچایا۔

تغیر و تبدل کا یہ سلسلہ ازل سے چلا ا ٓرہا ہے او ر ابد تک قائم رہے گا۔ ہم اکیسویں صدی کے ایک ا یسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ترقی یافتہ دنیا میں انسان کا اگلا ممکنہ پڑاؤ مریخ ہے، ا نسان 2030 تک دوسرے سیاروں پر بستیاں ا ٓباد کرنے کا سوچ رہا ہے اور سائنسدانوں نے اس کے لئے بھرپور تیاری بھی کر لی ہے۔ اگر آپ ناسا، ایلون مسک ٹیسلا، اور دیگر خلائی اداروں کی پلاننگ کی معلومات حاصل کریں تو یہ جان پائیں گے کہ آج سے تیس چالیس برس بعد انسان کن ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہو گا۔

یہ زمین جسے ہم نے گلوبل ولیج کا نام دیا ہے، اس کے موجودہ منظرنامے میں یہ سوچنا محال ہے کہ ایک زمانہ تھا جب انسان اپنی بقا کی جنگ تلواروں اور خنجروں سے لڑا کرتا تھا۔ اس وقت قبائل کے درمیان جنگیں ہاتھ سے بنائے تیر تفنگ، منجنیق اور تلواروں سے لڑی جاتی تھیں اور فتح یا شکست کا انحصار فوج کے حجم پر بھی ہوتا تھا۔ اس دور کو فرسٹ جنریشن وار کا نام دیا جاتا ہے۔ انسان نے کچھ ترقی کر لی تو ہاتھ سے بنائے، ہتھیاروں، اوزاروں ہاتھی اور گھوڑے کی جگہ بندوق، رائفل، ٹینکوں اور توپوں نے لے لی۔

یہ دور سیکنڈ جنریشن وار فئیر کہلایا۔ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے ہم نے مزید ترقی کی منزلیں عبور کیں۔ انڈسٹرئل دور میں ترقی کے نئے راستے وا ہوئے۔ ائیر کرافٹ، جیٹ، ایف 16، اور انواع و اقسام کے میزائل ایجاد ہوئے اس دور میں بری بحری اور فضائی افواج کی الگ الگ تخصیص کی جانے لگی۔ اس دور کو تھرڈ جنریشن وار فئیر کا نام دیا گیا۔ جنگی چالیں، جاسوس اور جاسوسی کے آلات تو تقریبا ہر دور میں استعمال کیے گئے لیکن فورتھ جنریشن وار فئیر میں کچھ نئے طریقے آزمائے گئے اس دور میں عالمی طاقتوں نے سامنے آئے بغیر اپنے مسلح حامیوں کو میدان میں اتار کر اور کبھی دو گروپوں کو آپس میں بھڑوا کر اپنے مقاصد حاصل کیے ۔

اس فورتھ جنریشن وار فئیر میں قبضہ کرنے کی خواہش مند طاقت تو پس منظر میں رہتی ہے لیکن وہ کثیر سرمایہ لگا کر ایسے گروہ تشکیل دیتی ہے جو مسلح جدوجہد، بغاوت اور سازشوں کے جال بچھا کر اپنے آقا کے لئے من پسند سر زمین پر قبضہ کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں۔ فورتھ جنریشن وار فئیر اور ففتھ جنریشن وار فئیر کسی نہ کسی حد تک ایک دوسرے سے منسلک بھی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگیں، پراکسی وارز، اور کالے سونے ( تیل ) کے لالچ نے جہاں اس دنیا میں آگ لگا دی وہیں ففتھ جنریشن وار کو حکمت عملی میں بنیادی حیثیت حاصل ہو گئی۔

گذشتہ دہائی کے آغاز میں جب الیکٹرانک میڈیا نے ترقی کی تو ہمارے ملک میں بھی نجی ٹیلی ویثرن چیینلز کا آغاز ہوا۔ نیوز اور کرنٹ افئیرز کے اس ہنگامہ خیز دور نے ریٹنگ کی ا یسی دوڑ لگائی کہ سچ اور جھوٹ میں تمیز مٹ گئی۔ کو ئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ یہ جادوئی کھٹولہ جس کے اندر پوری دنیا سمائی ہے اتنی جلد اپنی کشش کھو دے گا۔ ابھی تو چند برس ہی گزرے تھے کہ انسان نے اپنے آپ کو ٹی وی کے سحر سے آزاد کرا کر پوری کائنات کو اپنی انگلیوں کی پوروں کے گرد گھمانے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔ جی ہاں! انٹرنیٹ نے اس سوشل میڈیا کو جنم دیا

جس نے معلومات کی پٹاری ہر بچے جوان اور بوڑھے کے ہاتھ میں تھما دی اور یہیں سے ففتھ جنریشن وار فئیر میں تیزی آگئی۔ جہاں پہلے پراپیگنڈے کے لئے ٹی وی اور ریڈیو کا سہارا لیا جاتا تھا اب نظریات کی جنگیں سوشل میڈیا پر لڑی جاتی ہیں۔ یہ اذہان کی جنگ ہے، چومکھی لڑائی ہے۔ اس میں روایتی جنگ لڑنا ضروری نہیں، بلکہ میڈیا کے محاذ پر اذہان کو بدلنے کی ا یسی جنگ لڑی جاتی ہے کہ نوجوان نسل کو فوج، قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بھڑکا کر بغاوت برپا کی جاتی ہے۔

عرب سپرنگ میں بھی اس ٹول کو استعمال کر کے نوجوانوں کو بغاوت پر اکسایا گیا۔ ان معاشروں میں موجود معاشرتی اور معاشی نا انصافی سے اکتائی ہوئی عوام کو ورغلانا انتہائی سہل کام ثابت ہوا۔ کیمیاوی ہتھیاروں کے پراپیگنڈے نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن کیمیاوی ہتھیار دستیاب نہ ہو سکے۔ صدام حسین سے لے کر قذافی تک کو ان کی قوموں کے سامنے پھانسی پر لٹکایا گیا لیکن جس امن اور معاشی خوشحالی کے وعدے پر یہ سب کیا گیا ا وہ کبھی پورا نہ ہوا۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ ففتھ جنریشن وار آج کی بات ہے لیکن خالصتا ایسا نہیں۔ اس طریقہ کار کے مختلف حربے ایک مدت سے دشمن کو زیر کرنے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔ نازی ہٹلر دور میں ہٹلر پر حملے کے بعد فوج میں اس کی موت کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی، جاسوسوں کا استعمال کیا گیا تا کہ قوم پر نفسیاتی اثر ہو اور وہ ہٹلر کے خوف سے باہر نکل کر کسی اور کمانڈر کو حکمران تسلیم کر لیں لیکن ہٹلر کا خوف اس قدر حاوی تھا کہ اس کا کوئی بھی کمانڈر اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکا۔

اسی طرح اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں یہ بات کہ بندوق کے کارتوسوں میں ایک خاص جانور کی چربی استعمال ہوئی ہے دراصل جنگ آزادی کو مہمیز دینے کی ایک کامیاب نفسیاتی کوششش تھی۔ یہ ففتھ جنریشن وار سا ہی ایک حربہ تھا۔ موجودہ دور اب اسی اعصابی جنگ کا دور ہے۔ لیکن اب میڈیا اور سوشل میڈیا کے بعد اس وار کا احاطہ کار بہت پھیل چکا ہے۔

اس ففتھ جنریشن وار میں پاکستان اپنے مخالفین کی زد پر ہے۔ لیکن صحافیوں، ادیبوں کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ آزادی بہت قربانیوں کے بعد حاصل کی ہے لہذا ہم اس کو کسی کے کہنے پر ایسے نہ جانے دیں گے، ہماری زباں بندی نہ کی جائے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستانی میڈیا کو یہ آزادی پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی گئی۔ گو کہ ایسے صحافی اب گنتی کے ہیں جنھوں نے واقعی اس آزادی کی قیمت چکائی ہے۔ لیکن دہشت گردی کی جنگ میں بہت سے صحافیوں نے اپنی جان گنوائی۔

یہی وجہ کہ پاکستان کو صحافیوں کے لئے خطرناک ممالک میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ففتھ جنریشن وار میں میڈیا کی ذمے داری دگنی ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں جب ایک جانب سرحدوں پر گولہ باری ہو رہی ہو اور دوسری جانب معیشت کو کمزور کر کے ریڑھ کی ہڈی توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہو تو میڈیا کو شتر بے مہار آزادی نہیں دی جا سکتی۔ یہ ماننا ہے ریاستی اداروں کا!

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •