پاکستان میں ہر روز منشیات کے ہاتھوں سات سو افراد کی موت
مجھے وطنِ عزیز پاکستان کو خیر باد کہے خاصا عرصہ ہو رہا ہے اب تو کئی یادیں دھندلا سی گئی ہیں لیکن نہیں بھولتا تو وہ بد ہئیت منظر کہ جب میرے شہر کراچی کی چوڑی شاہراہوں کے کنارے فٹ پاتھوں پہ، پُلوں کے نیچے، سنسان علاقوں میں دنیا جہان سے بے خبر اپنے سروں کو کمبل سے ڈھانپے، گندے حلیوں میں ملبوس منشیات کے عادی افراد چرس کا دھواں چھوڑ رہے ہوتے اور یا پھر اپنے ہاتھوں کو ہیروئن کے انجیکشن سے چھید رہے ہوتے۔ اس وقت بھی میں سوچتی تھی کہ کس طرح ہمارے حکمرانوں نے لیلائے وطن کی مانگ کو ستاروں سے سجانے کے بجائے غیر ملکی قرضوں کی ہزیمت، غربت کی عفریت اور جہالت کی کلونج سے بھر دیا ہے اور سونے پہ سہاگہ تو اس وقت ہوا جب ضیا کی آمریت کے دور میں اسلام کے نام پہ افغانستان کی زمین پہ امریکہ کے مفاد کی جنگ لڑی گئی کہ جس نے پاکستان میں ہتھیاروں کی بہتات اور منشیات کی آمد کے در چوپٹ کھول دیے۔
مستند اعداد وشمار کے مطابق 1980 میں نشہ کرنے والوں تعداد تخمیناً 50,000 تھی جو آج 89 لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور یہ تعداد 40,000 سالانہ کے حساب سے بڑھتی جا رہی ہے۔ یونائٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگ اینڈ کرائم (UNODC) کے مطابق منشیات استعمال کرنے والوں کی عمریں 15۔ 64 کے درمیان ہیں لیکن اکثریت مرد نوجوانوں کی ہے۔
ہمارے ملک میں یومیہ سات سو افراد منشیات کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور یہ تعداد دہشت گردی سے ہونے والی یومیہ اموات سے کہیں زیادہ ہے۔ اس طرح بدقسمتی سے پاکستان کا شمار دنیا میں منشیات سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے۔
https://www.pakistantoday.com.pk/2018/02/22/pakistans-huge-drug-addiction-problem/
کسی بھی ملک میں نوجوان اس کا سب سے بڑا اور اہم سرمایہ ہوتے ہیں اور پاکستان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے لیکن کیا یہ ہمارے لئے لمحہِ فکریہ نہیں ہے کہ ایک طرف ہمارے حکمران اور سیاست دان ملک کو لوٹنے کھسوٹنے میں مصروف ہیں تو دوسری جانب ہمارے نوجوان نشے میں دھت اور اب منشیات ان کے تعلیمی اداروں میں سستے داموں فروخت ہو رہی ہے۔ قوم کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور اکثریت اپنی دُھن میں مصروف زندگی گزار رہی ہے۔
اتفاق سے امریکہ میں میرا تعلق ایک ایسے ادارے سے ہے جو نشہ کے عادی افراد کو انفرادی اور گروپ تھراپی فراہم کرتا ہے۔ پچھلے دنوں میرے پروفیشن کے حوالے سے پاکستان کے ایک نوجوان عاصم (اصلی نام نہیں ہے ) نے فیس بک پر مجھ سے رابطہ قائم کیا۔ عاصم کا شمار بھی ان نوجوانوں میں سے ہے جو چرس، کرسٹل میتھ (آئس) جیسے نشہ کی عادت میں مبتلا ہیں۔ ان کا تعلق پشاور کے مڈل کلاس پڑھے لکھے گھرانے سے ہے۔ باپ ریٹائرڈ پروفیسر جبکہ ماں گھریلو خاتون ہیں۔
عاصم نے بتایا کہ نشے کی عادت انہیں اپنے کزنز کو ماروانہ ( یا چرس) پیتے دیکھ کر ہوئی تھی۔ تجسس سے شروع ہونے والی عادت کے دوران تعلیم کو بھی خیر باد کہا اور ملازمت صرف اس حد تک کہ نشہ کا خرچہ پورا کر سکے۔ سولہ سترہ برس کی عمر میں شروع ہونے والا شوق دس سال میں قبیح عادت بن گیا۔ باپ نے اس کا علاج کروانے کی کوشش کی مگر ہر بار کچھ عرصے بعد دوبارہ نشہ عود آتا جسے (relapse) کہتے ہیں۔ پھر سونے پہ سہاگہ اسکرزفرینیا کے مرض کی تشخیص تھی۔
عاصم نے بتایا گو وہ گذشتہ ایک سال سے منشیات سے ”پاک“ ہے۔ مگر اس کے لئے زندگی مشکل ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ دوائیاں لے رہا ہے۔ وہ ڈیپریشن اور مایوسی کا شکار ہے۔ ”میرے دوست اچھے مقام پہ ہیں۔ شادی شدہ ہیں۔ ان کے پاس گاڑی اور بنک بیلنس ہے اور میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ میں اپنی ماں سے پیسے مانگ کر اپنا خرچہ پورا کرتا ہوں۔ جس سے میری عزتِ نفس بری طرح مجروح ہوتی ہے۔ “
عاصم کے مطابق جب وہ کالج میں تھا تو اس وقت اس کی آدھی کلاس منشیات کا استعمال کر رہی تھی۔ تاہم سن 2000 کے بعد سے نشہ کرنے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ چرس، گانجا، آئس (کرسٹل میتھ) جیسی منشیات تو اسلام آباد اور راولپنڈی کے تعلیمی اداروں میں باقاعدہ مہیا ہیں۔ عاصم نے کہا ”میں اپنی صورتحال کے لیے خود کو موردِ الزام ٹھہراتا ہوں۔ لیکن ضرورت ہے کہ اس سلسلے میں سماج میں آگہی اور شعور پھیلایا جائے۔ “ یقینا عاصم کا یہ پیغام فکر انگیز ہے جو ہمیں دعوت دیتا ہے کہ کوئی لائحہ عمل ہو کہ جس کو اپنا کے ہزاروں افراد بالخصوص نوجوانوں کا مستقبل بہتر بنایا جائے۔
پہلے ہمارے معاشرے میں منشیات کا استعمال بدعت سمجھی جاتی تھی کہ جس کی جڑیں غربت اور جہالت تصور کی جاتی تھیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ متمول اور پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی منشیات کا استعمال عام ہے۔ جہاں و الدین اگر اسکولوں میں بھاری فیسیں ادا کر رہے ہیں تو بچے اپنی پاکٹ منی کو منشیات کے ڈیلرز اور ایجنٹ کے حوالے کر رہے ہیں۔ جو صرف ایک کال کے فاصلہ پر ہوتے ہیں۔ کبھی فقیر کے روپ میں تو کبھی ٹھیلے والے، سبزی فروش تو کبھی دکاندار اور اکثر اسکولوں کے باہر گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے ریکارڈ کے مطابق محض 2018 میں 6000 سے زائد منشیات کے کیسز درج ہوئے اور ستر سے زائد منشیات ڈیلرز کو پکڑا گیا۔ یہی حال کراچی اورلاہور کے اسکولوں کا بھی ہے۔ جہاں ڈرگ ڈیلرز اسکولوں کے باہر گھومتے ہوئے پکڑے گئے۔
ساسی (SASSI۔ South Asian Strategic Stability Institute) کے مطابق 53۔ 44 فی صد پرائیویٹ اسکولوں کے بچے کسی نہ کسی قسم کے نشہ کے عادی ہیں جن کی عمریں بارہ سے انیس سال کی ہیں۔ جب کہ ستمبر 2018 میں سینٹ کے شامنے پیش ہونے والی ایک رپورت کے مطابق 53 فیصد پرائیویٹ اسکولوں کے بچے منشیات کے عادی ہیں۔ یہ منشیات انہیں اسکولوں کے بچے اور کبھی خود اساتذہ فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح چھالیا، گٹکا، پان۔ سگریٹ اور چرس سے شروع ہونے والے طلباء بتدریج افیون، ہیروئن، کوکین۔
ایل ایس ڈی اور چرس اور کرسٹل میتھ وغیرہ استعمال کر رہے ہیں۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ امریکہ میں ہیروئن کا استعمال سب سے زیادہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ 44 ٹن ہیروئن ہر سال محض پاکستان میں استعمال ہو رہی ہے جو امریکہ کے مقابلہ میں دو سے تین گنا زیادہ ہے۔ بدقسمتی سے منشیات کے ان بیوپاریوں کے پیچھے بڑی سیاسی پارٹیوں اور اہم سرکاری عہدہ داروں کا کا کردار ملوث ہے۔ اس کی وجہ سے اکثر اس مسئلے میں ہاتھ ڈالنے والوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم مسئلہ کی سنگینی کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور ان عوامل کے متعلق گفتگو کریں کہ جو اس صورتحال کا محرک بنتے ہیں۔ مثلاسماجی، ماحولیاتی، نفسیاتی عوامل۔ اس سلسلے میں موروثیت یاجینیاتی کردار بھی نشہ کا مظہر ہونے میں اہم ہے۔ اس کے علاوہ ہماری مخصوص بیالوجی اور ذہنی امراض۔ اگر کسی شخص میں ذہنی مرض مثلاڈیپریشن، اینگزائٹی، اسکرزوفیرنیا یا موڈ ڈس آرڈر جیسی بیماری ہو تو ڈرگ یا الکوحل کے استعمال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماحول کی وجہ سے اگر کوئی شخص طبعی، جنسی یا جذباتی تشدد یا ٹراما سے گزر رہا ہے تو اس میں بھی نشہ کے استعمال کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیے منشیات کے استعمال کی عادت کسی اخلاقی انحطاط کی بجائے پیچیدہ عوامل کا مظہر ہے۔ جس کا اثر ہمارے دماغ پر ہوتا ہے لہذا اس کو ذہنی بیماری کہا جاتا ہے اور ہر بیماری کی طرح اس کا علاج ضروری ہے۔ جس کے لئے ایسے پروفیشنل افرادکی خدمات اہم ہیں جو اس مسئلہ کو گہرائی سے سمجھتے ہوں۔
اسکولوں اور کالجوں میں اس مسئلہ کا حل اساتذہ، طلباء اور والدین کے باہمی اشتراک کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے ساتھ ہائیرایجوکیشن کمیشن اور ہائیر سیکنڈری ایجوکیشن کمیشن کی سرکردگی میں یہ ایجنڈا تیار کر کے عمل کرنا ہو گا۔ یونیورسٹی سطح پہ سخت ڈرگ پالیسی نافذ کرنی ہو گی۔ کاؤنسلنگ سینٹرز، ٹریٹمنٹ سینٹرز، الکوحل اور منشیات سے متعلق آگہی کے جامع پروگرام ترتیب دینے ہوں گے۔ اس کے علاوہ اہم ضرورت ہے کہ طلباء یونینز پر پابندی ختم ہو، غیر نصابی سرگرمیاں جس میں اسپورٹس، پوسٹر بنانے کے مقابلے، پینٹنگز، ڈرامے، موسیقی، شاعری اور نثری تخلیقات کی حوصلہ افزائی ہو تاکہ ان نوجوانوں کو بجائے نشہ کے زرخیز تخلیقی فضا دی جا سکے۔
۔

