عینک: کب سے؟ کیوں؟ کب تک؟ اور کیسے؟


ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا مضمون ’آپ زندگی کو کس عینک سے دیکھتے ہیں‘ نظر سے گزرا۔ کیا خوب عینک کا استعمال کیا ہے۔ ایک انسان دوست ہونے کے ناطے ڈاکٹر صاحب جو رعایت دیتے ہیں اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی بات کو آگے بڑھانا چاہوں گا۔ قلم کشائی کے لیے ارتقاء کو نقطہ آغاز بنایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ بہت سے مسلم، عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے اب بھی ارتقاء کو جھٹلاتے ہیں مگر سائنس میں ارتقاء کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ایک یاد دہانی ضروری ہے کہ ارتقاء کا عمل کبھی بھی ہموار اور خط مستقیم پر نہیں بڑھتا بلکہ ارتقاء کے مراحل چھلانگوں میں طے پاتے ہیں۔ صدیوں تک کچھ نہیں ہوتا اور پھر چند سالوں بہت کچھ ہو جاتا ہے۔ دوسرا ارتقاء کے نتیجے میں جنم لینے والی انواع یا پہلے سے موجود انواع میں کسی تبدیلی کی بقا بھی ضروری نہیں مگر یہ عمل پھر بھی جاری رہتا ہے۔ جہاں انسان ارتقاء کے مراحل اور سماج انقلابات کو پھلانگتا یہاں تک پہنچا ہے وہیں خود آنکھ اور بصارت بھی ارتقاء کے منازل طے کرتی یہاں تک آئی ہے۔

آنکھ کی ابتداء یک خلوی آبی حیات کی سطح پر موجود آئی سپاٹ سے ہوئی ہو گی جو محض روشنی اور تاریکی میں فرق کر سکتے تھے۔ یہ یک خلوی آبی جاندار سورج کی روشنی جذب کر کے اپنی خوراک بناتے تھے اور اس کے لیے سطح پر موجود آئی سپاٹ روشنی کی سمت کے تعین میں بہت موثر نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ یہ آئی سپاٹ جھلی کے اندر دھنستا گیا اور گڑھے کی شکل اختیار کر گیا۔ چونکہ گڑھے میں ایک خاص سمت سے ہی روشنی آ سکتی تھی تو اب اسے روشنی کی سمت کا تعین بھی ہونے لگا۔

کہ زیادہ روشنی اور زیادہ خوراک کے لیے کس سمت حرکت کرنی ہے۔ وقت کے ساتھ گڑھے کا منہ تنگ ہوتا گیا اور پن ہول (pinhole ) کی شکل اختیار کر گیا۔ پھر اس سوراخ اور آئی سپاٹ کے بیچ مائع بھرا اور جھلی بنی یوں عدسے کا جنم ہوا۔ یہ وہ پہلا وقت تھا جب روشنی کو فوکس کیا جا سکتا ہو گا اور شاید پہلی بار آنکھ شکل (shape ) دیکھ پائی ہو۔ لیکن رنگ دیکھنا تب بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ سورج کی روشنی بہت سی طول موج (wavelengths ) پر مشتمل ہوتی ہے لیکن پانی میں سے صرف ہرے اور نیلے رنگ کی روشنی ہی گزر پاتی ہے۔

ابتدائی آنکھ سب کچھ نیلے اور ہرے رنگ میں ہی دیکھتی ہو گی۔ یہ visible spectrum کی جڑیں اسی وقت سے جا ملتی ہیں۔ آج بھی آنکھ بالا بنفشی اور زیریں سرخ روشنی نہیں دیکھ پاتی۔ آنکھ کو بہت بڑا چیلنج اس وقت درپیش آیا ہو گا جب حیات پانیوں سے نکل کر خشکی پر آئی ہو گی جیسے روشنی کی فراوانی، دیکھنے کو بہت سے رنگ، پانی اور ہوا میں روشنی کے انعطاف کا فرق، فاصلے کے اندازے کا تعین، اور کافی دور تک دیکھنے کی صلاحیت وغیرہ۔

آئیے ارتقاء کو ذرا فاسٹ فارورڈ کرتے ہیں۔ ہر طرح کے پیڑ پودوں اور چرند پرند کے بیچ انسان آجاتا ہے جس کی بصارت سب سے بہتر بھلے نہ ہو مگر دماغ میں سب سے دور دیکھنے کی دھن۔ اس جستجو نے ہمارا سر اٹھایا ہو گا اور ہم نے آسمان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہو گیا۔ سورج، چاند، ستارے، دن رات۔ سردی، گرمی، برکھا، برسات۔ تحیر میں غرق انسان بہت سے سوالوں کے جوابات کا متلاشی تھا۔ اور یہی پہلی عینک کی ایجاد کا لمحہ تھا۔

انسانی سوچ ابھی سائینسی نہیں ہوئی تھی اس لیے یہ اہم نہیں تھا کہ اس پہلی عینک سے دیکھنے سے اس کی بصارت حقیقت کے کتنے قریب ہو۔ ضروری امر یہ تھا کہ اس کی بصارت اس کے سوالوں کے جواب دے پاتی ہے یا نہیں۔ یہ پہلی عینک ایک ضرورت کے تحت ایجاد ہوئی اور اس وقت اس کی افادیت سے انکار نہیں مگر یہ عینک اس وقت تک رہی جب تک اس سے فائدہ حاصل ہوتا رہا۔ کل ہمیشہ اجزاء کے مجموعے سے بڑا ہوتا ہے۔ کائنات کے راز افشا ہونے، مادی وسائل اور اوزاروں کی ترقی کے ساتھ پرانی عینک کی افادیت جاتی رہی۔

ایک انسان شاید ایک ہی عینک کے ساتھ عمر گزار دے مگر سماج ( جو افراد کے مجموعے سے بڑا ہے ) نے کئی بار عینکیں بدلی ہیں۔ اور آئندہ بھی بدلے گا۔ ارتقا اب بھی جاری ہے۔ جھنڈ اور غول میں رہنا تو جانور انسان کے ظہور سے پہلے سے سیکھ گئے تھے۔ یہ ان کی بقا کے لیے سود مند تھا۔ انسانوں کی آبادی بڑھی تو ہم نے بھی اپنے اپنے گروہ بنائے اور ہر گروہ نے اپنی اپنی عینکیں۔ کوئی ہری عینک پہنا گیا تو کوئی کیسری تو کوئی لال۔

مگر یہ عینکیں اب اپنی افادیت کھو کے اپنی ضد میں بدل گئی ہیں۔ یہ صاف دکھانے کی بجائے دھندلا دکھاتی ہیں، رنگ خراب کرتی ہیں اور دور تک دیکھنے میں مانع ہیں۔ ہو سکتا ہے ہماری بصارت اتنی ترقی پا گئی ہو کہ اب اسے عینک کی ضرورت ہی نہیں ہو مگر ہم اسے اتارنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ اور اگر کوئی ایسا کر بیٹھے تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ عینک اتارنا نہ تو عینک بیچنے والوں کے حق میں ہے نہ عینک بنانے والے کارخانہ داروں کے مفاد میں۔

لیکن عینکوں کے دھندے میں موجود دکانداروں اور کارخانہ داروں سے چھٹکارا پا بھی لیا جائے تو بھی ہماری عینکیں اتارنا کتنا موثر ہو گا؟ تاریخ میں ہم نے کبھی عینک اتارنے کی کوشش ہی نہیں کی، ہاں البتہ زبردستی غلط عینک پہنانے کے بہت سے تجربے ہوئے جو ناکام رہے۔ تو زبردستی عینک اتارنے کی کوشش بھی زیادہ سود مند نہیں ہو گی۔ اس کے لیے ہمیں ایک عبوری دور سے گزرنا ہو گا جس میں عینکیں تو رہیں گی مگر اس میں عدسہ صفر نمبر کا اور شفاف ہو گا۔ پہلی دفعہ ہو گا کہ عینک اس لیے پہنی جائیں گی کہ اس سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ ایک دفعہ ہمارا دماغ روشنی اور رنگوں کی بہتات کا عادی ہو جائے گا تو عینک کی عادت سے چھٹکارا پانا بھی آسان ہو گا۔

Facebook Comments HS