ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا مضمون ’آپ زندگی کو کس عینک سے دیکھتے ہیں‘ نظر سے گزرا۔ کیا خوب عینک کا استعمال کیا ہے۔ ایک انسان دوست ہونے کے ناطے ڈاکٹر صاحب جو رعایت دیتے ہیں اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی بات کو آگے بڑھانا چاہوں گا۔ قلم کشائی کے لیے ارتقاء کو نقطہ آغاز بنایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ بہت سے مسلم، عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے اب بھی ارتقاء کو جھٹلاتے ہیں مگر سائنس میں ارتقاء کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ایک یاد دہانی ضروری ہے کہ ارتقاء کا عمل کبھی بھی ہموار اور خط مستقیم پر نہیں بڑھتا بلکہ ارتقاء کے مراحل چھلانگوں میں طے پاتے ہیں۔ صدیوں تک کچھ نہیں ہوتا اور پھر چند سالوں بہت کچھ ہو جاتا ہے۔ دوسرا ارتقاء کے نتیجے میں جنم لینے والی انواع یا پہلے سے موجود انواع میں کسی تبدیلی کی بقا بھی ضروری نہیں مگر یہ عمل پھر بھی جاری رہتا ہے۔ جہاں انسان ارتقاء کے مراحل اور سماج انقلابات کو پھلانگتا یہاں تک پہنچا ہے وہیں خود آنکھ اور بصارت بھی ارتقاء کے منازل طے کرتی یہاں تک آئی ہے۔
Read more