استاد محترم ڈاکٹر خالد سہیل سے اختلاف

شاگرد استاد سے اختلاف کرنا ترک کر دیں، تو علم اور تحقیق کا سلسلہ رک نہ جائے؟! ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے مضامین میں اکثر نکات پر میں ان سے متفق ہوتا ہوں اور جہاں مجھے ڈاکٹر صاحب سے اختلاف ہوتا ہے، وہاں میں بلا جھجک اس کا اظہار کرتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ…

Read more

ناپسندیدہ تشخیص کی صورت میں معالج کو مت کوسیں

دو دن پہلے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا مضمون پڑھا جس میں ناول ”اے تحیر عشق“ کے کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ کیا گیا تھا۔ آج سونے سے قبل حسب عادت ”ہم سب“ کا صفحہ کھولا کہ کچھ اچھا پڑھنے کو مل جائے تو نیند اچھی آئے گی تو ”تحیر عشق“ کے خالق رفیع مصطفی صاحب کا اپنا مضمون دیکھا، ”شرافت یا جنسی بزدلی“۔ سو وہ پڑھنا شروع کر دیا اور پھر ہوا یوں کہ نیند ہی غارت ہو گئی۔

Read more

عینک: کب سے؟ کیوں؟ کب تک؟ اور کیسے؟

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا مضمون ’آپ زندگی کو کس عینک سے دیکھتے ہیں‘ نظر سے گزرا۔ کیا خوب عینک کا استعمال کیا ہے۔ ایک انسان دوست ہونے کے ناطے ڈاکٹر صاحب جو رعایت دیتے ہیں اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی بات کو آگے بڑھانا چاہوں گا۔ قلم کشائی کے لیے ارتقاء کو نقطہ آغاز بنایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ بہت سے مسلم، عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے اب بھی ارتقاء کو جھٹلاتے ہیں مگر سائنس میں ارتقاء کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ایک یاد دہانی ضروری ہے کہ ارتقاء کا عمل کبھی بھی ہموار اور خط مستقیم پر نہیں بڑھتا بلکہ ارتقاء کے مراحل چھلانگوں میں طے پاتے ہیں۔ صدیوں تک کچھ نہیں ہوتا اور پھر چند سالوں بہت کچھ ہو جاتا ہے۔ دوسرا ارتقاء کے نتیجے میں جنم لینے والی انواع یا پہلے سے موجود انواع میں کسی تبدیلی کی بقا بھی ضروری نہیں مگر یہ عمل پھر بھی جاری رہتا ہے۔ جہاں انسان ارتقاء کے مراحل اور سماج انقلابات کو پھلانگتا یہاں تک پہنچا ہے وہیں خود آنکھ اور بصارت بھی ارتقاء کے منازل طے کرتی یہاں تک آئی ہے۔

Read more

خالد سہیل، منٹو اور بایاں بازو

محترم ڈاکٹر صاحب آپ کا تازہ مضمون ’منٹو کے افسانے صرف ذہنی بالغوں کے لئے ہیں‘ نظر سے گزرا۔ آپ کے مضامین میں بہت شوق سے پڑھتا ہوں اور جس چیز کا لطف اٹھاتا ہوں اور دل ہی دل میں آپ کو داد دیتا ہوں اس کا تذکرہ بہت ضروری ہے۔ آپ کا مطالعہ اور…

Read more
––>