کچھ ’محسنِ پاکستان‘ کے دھندے کے بارے میں
ڈاکٹر عبدالقدیر کے ذکر پر جس طرح پوری دنیا کی ایٹمی بلیک مارکیٹ چونک جاتی ہے، اسی طرح ہماری قوم بھی یکبار اپنی حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ برسوں کی پبلک ریلیشننگ کا کمال یہ ہے کہ ایک جھوٹ کو اتنی بار بولا گیا کہ اب اس پر سچ کا گمان ہے۔ گذشتہ دنوں محسنِ پاکستان کا جھوٹا بت کے نام سے انہی صفحات پر کچھ لکھا تو اندازہ ہوا کہ برسوں کی انویسٹمنٹ اپنا اثر دکھا رہی ہے۔ تاہم سینکڑوں کی تعداد میں قارئین نے مثبت فیڈ بیک سے نوازا۔ اسی لئے محسنِ پاکستان کے دھندے کے بارے میں کچھ تحقیق کے بعد آج لکھنے کا ارادہ کیا۔ جیسا کہ متعدد بار عرض کیا ہے کہ نصابی بیانیے سے ہٹ کر کسی بات پر یقین کرنا مشکل ہے، لہٰذا خود تحقیق کیجیے اور اپنے سچ کا فیصلہ کیجئے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر بنیادی طور پر ایک میٹالرجسٹ ہیں۔ میٹالرجی کا علم دھاتوں کی کیمیائی خصوصیات کا تجزیہ کرتا ہے۔ اسی بنا پر انہیں ہالینڈ میں یورینکو گروپ میں تحقیق اور ترجمے کی ملازمت ملی۔ جہاں انہیں یورینئم کی افزودگی کے کچھ خاکے اور خفیہ ایٹمی دستاویزات جرمن زبان سے ڈچ زبان میں ترجمہ کرنا کا موقع ملا۔ یہاں سے انہوں نے کچھ دستاویزات چرائیں اور اسی بنا پر انہوں نے پاکستان آ کر پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کی معاونت کا فیصلہ کیا۔
یورینئم کی افزودگی ایک مرحلہ ہے جس کا بم کی تیاری میں اہم کردار ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر سے پہلے پاکستان پلوٹونیم کی افزودگی کے ذریعے ایٹم بم تیار کرنے کے مرحلے میں تھا۔ یوریئنم کی افزودگی کی یورپی ٹیکنالوجی نے اس عمل کو آسان کر دیا۔ اس کے بعد نیوکلئیر وارہیڈ کا حصول ایک پورا مکمل مرحلہ ہے اور ایٹم بم کے حصول کی یہی اصل ٹیکنالوجی ہے۔ یورینئم اور پلوٹونیم کو افزودہ کرنا یقیناً ایک اہم حصہ ہے، لیکن یہ جان لیجیے کہ دنیا میں ساٹھ سے زیادہ ممالک یورینیئم افزودہ کر کے ایٹمی توانائی حاصل کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے ہر ایک کے پاس ایٹم بم نہیں ہے۔ 1980 کی دہائی میں پاکستان یورینئم اور پلوٹونیم دونوں سے ایٹم بم تیار کر چکا تھا۔
بم کی ٹیکنالوجی میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا کردار صفر ہے۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ طویل عرصہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا سربراہ رہنے اور ایٹمی توانائی کمیشن میں عمل دخل سے ڈاکٹر صاحب نے کچھ مزید ایٹمی رازوں تک رسائی حاصل کی۔ یہیں سے ڈاکٹر عبدالقدیر کو استعمال کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ کس نے استعمال کیا، یہ لکھتے ہوئے میرے بھی پر جلتے ہیں۔ اگرچہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے 2009 میں نظربندی سے رہائی کے بعد کچھ پردہ نشینوں کے نام بھی لئے۔ آپ خود تحقیق کر سکتے ہیں۔
1994 میں محترمہ بینظیر بھٹو نے چین کے دورے سے واپسی پر شمالی کوریا میں مختصر قیام کیا جہاں ان کی شمالی کوریا کی قیادت سے ملاقات ہوئی۔ 1995 میں امریکی وزیر خارجہ نے بینظیر بھٹو کو سیٹلائٹ تصاویر اور شواہد فراہم کیے کہ کیسے ایٹمی پرزے شمالی کوریا بھیجے گئے۔ ظاہر ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر اکیلے یہ سب نہیں کر سکتے تھے۔ اس وقت کی ملٹری قیادت کی تائید کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس کے بعد ایران اور لیبیا کو یورئینئم افزودگی کی ٹیکنالوجی اور مختلف آلات سمگل کیے گئے۔ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد ایران اور لیبیا نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو اپنی ایٹمی تنصیبات تک رسائی دی، جہاں سے ایسے ایٹمی آلات ملے جو ممکنہ طور پر ایٹم بم کی تیاری میں استعمال کیے جا سکتے تھے۔ ان آلات کی سمگلنگ کی کڑیاں ڈاکٹر عبدالقدیر کے نیٹ ورک سے ملتی تھیں۔
2004 میں جب ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی سے تعاون شروع کیا تو یہ بھی بتایا کہ 1994 سے 1999 کے دوران ایرانی سائنسدانوں کی ڈاکٹر عبدالقدیر اور ان کے نمائندے سے 13 ملاقاتیں ہوئیں۔
یہاں دو معاملات کو علیحدہ دیکھنا ہو گا۔ ایک وہ ایٹمی تعاون جو پاکستانی ریاست نے خفیہ طور پر شمالی کوریا سے کیا جس کے بدلے میزائل ٹیکنالوجی پاکستان نے لی۔ دوسرا ایٹمی رازوں اور آلات کی غیر قانونی منتقلی جو ڈاکٹر عبدالقدیر کے نیٹ ورک نے خفیہ طور پر کی۔ تحقیقات سے سامنے آیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نیٹ ورک نے ایران، شمالی کوریا اور لیبیا میں ایٹمی سمگلنگ کی۔ اس سمگلنگ سے کس نے کتنا مال بنایا، یہ خدا بہتر جانتا ہے۔
لیکن خود ڈاکٹر عبدالقدیر نے 2007 میں امریکی صحافی سائمن ہینڈرسن کو شمالی کوریا کے ایک انٹیلی جنس اہلکار کا ایک خط دیا۔ خط کے مندرجات کے مطابق شمالی کوریا نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو تین ملین ڈالر دیے، جو ڈاکٹر صاحب کے بیان کے مطابق انہوں نے اس وقت کے ایک جرنیل کو دیے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے نیوکلئیر بلیک مارکیٹ سے کتنا مال بنایا، شاید کبھی کسی تحقیق سے یہ آشکار ہو سکے۔
آئی ایس آئی نے 2001 میں ڈاکٹر عبدالقدیر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔ 2002 میں ایک چارٹرڈ طیارہ بھی پکڑا جو ڈاکٹر عبدالقدیر نے شمالی کوریا کے لئے بک کروایا تھا۔ صدر پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے اعترافی بیان کے بعد کہا کہ انہوں نے 2001 میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹیز سے ڈاکٹر عبدالقدیر کو جبری ریٹائر کیا تھا۔ فروری 2004 میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ جو شواہد اور تحقیقات میرے سامنے پیش کی گئی ہیں، میں اقرار کرتا ہوں کہ اس کا زیادہ تر حصہ درست ہے۔
اگر ڈاکٹر عبدالقدیر ایٹمی سائنسدان ہوتے اور ان سب کارروائیوں میں ملوث بھی ہوتے، تو کہا جا سکتا تھے کہ لالچ میں یا کسی اور وجہ سے انہوں نے ایسا کیا۔ ستم تو یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو ایٹمی سائنسدان بھی نہیں، پاکستان کے ایٹم بم کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے فنڈز کا بے دریغ استعمال کیا۔ اپنی پبلک ریلشننگ کی، اخبارات میں آرٹیکلز اور انٹرویو چھپوائے۔ مختلف لوگوں سے ایسے بیان دلوائے گئے کہ چند سال بعد ڈاکٹر عبدالقدیر واقعی محسنِ پاکستان لگنے لگے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک طرف اپنی امیج بلڈنگ کی، دوسری طرف ایٹمی سمگلنگ سے اندھا دھند مال بنایا۔
ڈاکٹر صاحب کا شوق خودپسندی اور واحد مشغلہ اپنی تعریف سننا ہے۔ ایک معروف اخبار میں ڈاکٹر صاحب کے کالم اپنی تعریف سے بھرے ہوتے ہیں۔ نظر بندی ختم ہونے کے بعد سے ڈاکٹر صاحب نے اپنی سیاسی جماعت بنا رکھی ہے اور موصوف پارلیمانی نظام ختم کر کے صدارتی نظام لانے کے پرجوش داعی ہیں۔ کیونکہ مجوزہ نظام میں انہیں اپنے لئے سکوپ نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی عمر 83 برس ہے، اور اب بھی موصوف صدرِ پاکستان بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔
نواز شریف سے ناراضگی کی وجہ بھی یہی تھی کہ انہیں صدر کیوں نہیں بنایا۔ سیاست کے علاوہ ڈاکٹر صاحب فلاحی کاموں میں بھی دلچسپی لینے لگے ہیں۔ گذشتہ سات، آٹھ سالوں سے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے نام پر زکوٰة، صدقات اور چندے وغیرہ جمع کر رہے ہیں۔ ہسپتال کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق ان سالوں میں تقریباً ایک ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں۔ لاہور میں مینارِ پاکستان کے قریب ہسپتال کی سائٹ ہے۔ جو دوست تحقیق کرنا چاہیں وہ جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ ایک ارب روپے میں کتنا ہسپتال تعمیر ہوا ہے۔
گذشتہ تین سال سے پانامہ لیکس کا چرچا ہے۔ میاں نواز شریف تو اسی پانامہ لیکس کے طفیل جیل جا پہنچے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ پانامہ لیکس میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی فیملی کا بھی نام تھا؟ موصوف کے بھائی عبدالقیوم، اہلیہ ہینڈرینا خان اور دو بیٹیوں عائشہ خان اور دینا خان کے نام بھی دیگر ہزاروں پاکستانیوں کے ساتھ پانامہ لیکس میں شامل تھے۔ لیکن کیونکہ یہ ایسا سچ ہے جو ہم سننا نہیں چاہتے، تو جلد ہی ہماری قومی یادداشت سے محو ہو گیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ موصوف کے خلاف بھی ایک جے آئی ٹی بنتی تو پتہ چلتا کہ ہمارے خودساختہ محسنِ پاکستان نے کتنا مال بنایا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے علاوہ برطانیہ، امریکہ اور براعظم افریقہ میں موصوف کی کتنی پراپرٹی ہے؟ پاکستان میں موصوف کے خاندان کے مختلف افراد کے نام پر متعدد پراپرٹیز ہیں۔ افریقی ملک مالی کے شہر ٹمبکٹو میں ہینڈرینا خان ہوٹل ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنی اہلیہ کے نام پر بنایا۔ کیسپین سی پر ایک شاندار ولا بھی ڈاکٹر صاحب کی ملکیت ہے۔ جنوری 1998 میں بھاماس میں ایک کمپنی وحدت لیمیٹد کے نام سے اپنی اہلیہ کے نام پر بنائی۔ پانامہ اور بہاماس میں آف شور کمپنیاں کس مقصد کے لئے بنائی جاتی ہیں؟ یہ پانامہ کیس کے طفیل بچہ بچہ جانتا ہے۔ 2004 میں یو اے ای کی حکومت نے امریکی درخواست پر ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ کا بینک اکاؤنٹ مشکوک سرگرمیوں کی بنا پرمنجمد کر دیا۔
2008 میں اپنی نظر بندی ختم ہونے کے بعد ایک انٹرویو میں ڈاکٹر صاحب نے 2004 کے اپنے اعترافی بیان پر ندامت کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں کچھ دوستوں نے دھوکہ دیا۔ ملاحظہ کیجئے۔ ایٹمی بلیک مارکیٹ سے کروڑوں ڈالر کمانے پر ندامت نہیں، اپنے اعترافی بیان پر ندامت ہے!
مندرجہ بالا حقائق سے اگر کسی دوست کو اختلاف ہو تو اپنے طور پر تحقیق کر سکتے ہیں۔


