کاش پاکستان نیوزی لینڈ ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جتنی شہرت نیوزی لینڈ کے اُس کر ب ناک واقعہ نے حاصل کی جس میں پچاس کے قریب نمازی مسجد میں ہی شہید ہوگے اس سے زیادہ شہرت نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا کے گُڈ جیسچرکو حاصل ہوئی۔ جو نہ صرف مسلمانوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر شریک ہوئیں بلکہ اپنے کابینہ میں قرآن پاک کی تلاوت تک کرا دی۔ مسلمان نیوزی لینڈ میں کئی دہائیوں سے آباد ہیں اور یہ آبادی کا صرف ایک فیصد ہیں جس میں زیاد تعد اد سُنی مسلمانوں کی اور اس کے علاوہ شیعہ مسلمان اور دیگر شمار ہیں لیکن دیار غیر میں یعنی نیوزی لینڈ میں یہ سب لوگ برابر کے شہری ہی سمجھے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس اندوھناک واقعہ جس سے بہت سوں کی زندگیا ں گئیں وہاں پوری دنیا نے ایسے واقعات کو دیکھنے کے انداز بھی بدل لئے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے جہاں غیر معمولی ہمدردی کا مظاہرہ کیا وہاں پوری دنیا کو یہ سبق بھی سکھا دیا کہ اقلیتیں ملکوں کا سرمایہ ہوتی ہیں اور ملکوں کی داخلہ پالیسی اور امن و اخلاق کے معیار کو اقلیتوں کے حقوق کو پورا ہونے سے ماپا جا تا ہے۔ جس ملک کی اقلیت اپنے آپ کو محفوظ سمجھے اس ملک کی ترقی کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ نیوزی لینڈ کے اس لاثانی رویے پر ان ممالک کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے جن کے کلچر کو اقلیتوں کی مذہبی، آئینی اور سماجی آزادی سے خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور ایسا بالخصوص وسطیٰ ایشاء اور جنوبی ایشاء کے ممالک میں پایا جاتا ہے۔

جسینڈا نے دنیا کو بتا دیا ہے اگر آپ کی اقلییتں پرسکون ہیں تو ترقی آپ کا مقدر بن سکتی ہے۔ آج جو طوفان بدتمیزی بھارت اور پاکستان میں برپا ہے اس پے تو اہل کفر بھی شرما جائیں اور پچھلے چند سالوں میں جو حال برما میں مسلمانوں کا ہوا اور جس طرح کا سلوک بحیثیت اقلیت ایران میں مسیحیوں اور یہودیوں سے ہوا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور رہی بات میرے پیارے وطن پاکستان کی جس کو تو حاصل ہی اس وقت کے مظلوم اور محکوم طبقہ کے لیے کیا گیا تھا کیونکہ یہ خدشہ تھا کہ انگریزوں کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد وہاں کی اکثریت مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کریں گے۔

دو قومی نظریہ کی بنیاد ہی ایسے خدشات کی وجہ سے وجود میں آئی جو پھر بعد میں علیحدگی کی تحریک کی وجہ بنی اور مسلمانو ں اور دیگر مظلوم طبقات کو ایک وطن نصیب ہوا۔ غیرمسلم اقلیتیں جو ہجرت کے وقت صر ف اس وجہ سے انڈیا نہیں گئیں کہ اُن کو قائد اعظم کی شخصیت پر اندھا اعتماد تھا بلکہ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ان کا یہ فیصلہ انہیں ہندوستان کے اُس بوسیدہ ذات پات کے نظام سے خلاصی بخشے گا اور مسلمان جس اسلام کا ذکر کرتے ہیں وہ یقینا عدل وہ انصاف پر مبنی ہوگا جہاں انہیں برابر کا شہری سمجھا جائے گا پس وہ اسی خواب کو اپنی مصیبتوں کا آخری حل سمجھے۔

یعنی اقلیتوں نے پاکستان میں رہنے کا انتخاب کسی مجبوری یا دباؤ یا لالچ میں نہیں بلکہ یہ اُن کی اپنی چوائس تھی انہوں نے بالخصوص قائداعظم اور بالعموم اپنے گرد نواح میں رہنے والوں پر مکمل اعتماد کی بنیاد پر پاکستان کو بھارت پر ترجیح دی۔ لیکن افسوس صد افسوس جلد قرار داد مقاصد اور تہتر کے آئین نے ان کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دنیا اور پاکستان کے شہری ایک بار پھر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے پاکستانی اور غیر مسلم پاکستانی یعنی اقلیتیں۔

اس کے بعد ڈکیٹر جناب ضیا الحق صاحب مرد مومن نے دہشت اور تعصب کی وہ مثال قائم کردی جس کو دیکھ کر ہنود بھی شرمائے۔ مرد مومن نے ایک ایسے اسلام کی بنیاد رکھی جس پر سے ہماری دیواروں نے بھی فتوے جاری کیے یعنی ( یہ کافر وہ کافر وغیرہ وغیرہ) ۔ لوگ اسلام سے خوف کھانے لگے اور عام آدمی بالخصوص غیر مسلم تو اپنے ہی دیس میں ایک سوالیہ نشان بن کے رہ گئے۔ تعصب کی پنیری جگہ جگہ بڑھنے لگی لگ بھگ سارے ملک میں نرسریاں لگ گئیں اور اقلیتیں تعداد میں سمٹنے لگیں جس کو جہاں جگہ ملی وہ وہاں بھاگ گیا پس وطن میں صرف وہی غیر مسلم رہ گئے جن کو یا تو پاکستان سے جنوں کی حد تک پیار تھا یا پھر جو بیچارے بھاگ نہیں سکتے تھے۔

قیام پاکستان کے وقت غیر مسلم اقلیتیں تقریباً تئیس فیصد تھیں جو سُکڑ کر پانچ فیصد رہ گئیں سبز ہلالی پرچم کا سفید حصہ سرخ ہونا شروع ہو گیا اور کوشش تیز ہو گئی کہ سفید حصہ کو ختم ہی کر دیا جائے۔ مذہبی اور انتہا پسند طاقتیں بزور شمشیر کوئی چترالیوں پر چڑھ دوڑا اور کوئی باقی مسیحیوں، احمدی، شیعوں اور ہندوؤں پر۔ پارسیوں اور یہودیوں کا تو کھاتا ہی الگ رہا۔ ہمارا میڈیا، ماس میڈیا تعلیمی نصاب بالخصوص مطالعہ پاکستان زہر اگلنے لگے۔

کدھر جائیں؟ کس سے فریاد کریں؟ ظلم پہ ظلم پاکستان کا سیکولر طبقہ پتا نہیں کہاں کس کھڈے لائن لگ گیا، کامریڈ کہیں غائب ہوگئے صوفیاء کرام کی سرزمین مولویوں کے ہتے چڑھ گئی۔ بابا بلھے شاہ، وارث شاہ، میاں محمد بخش، شاہ عبداللہ بھٹائی کی تعلیمات معلوم نہیں کہاں چلی گئیں، واصف علی واصف اور اشفاق احمد جیسے ماڈرن صوفی پس پشت چلے گئے اور راج آگیا ظلم کا جبر کا۔ جس نے بھی امن کی بات کی، صلح کی بات کی اسے مغربی ایجنڈے کا پیرو کار تصور کیا جانے لگا۔

جس نے محبت کی بات کی، اس کو کافروں کا ایجنٹ سمجھا جانے لگا۔ ہر آنے والی حکومت تیسری انگلی کے اشارے پر یا پھر مذہبی انتہا پسندوں کی آشیر باد سے سیاست کرنے لگی۔ فوج، عدلیہ، صحافت اور تعلیم مذہبی اثرو رسوخ کے تابع نظر آنے لگے۔ ہر طرف کرپشن، بے ایمانی اور بدمعاشی نے میرے ملک میں ڈیرے ڈال لیے۔ ہندوؤں کے شمشان گھاٹ اور مسیحیوں کے قبرستان تک نہ چھوڑے۔ اقلیتوں کی بستیوں کی بستیاں جل گئیں۔ لیکن مجرموں کو سزا نہ مل سکی بلکہ اس بات کی بھی کوئی خبر نہیں کہ کب اور کس نے ایسے مجرموں پر مقدمات کیے۔

لوگ بھاگے، لوگ مرے۔ کوئی آنسو پوچھنے نہیں آیا، کسی نے اپنے سینے سے نہیں لگایا نہ کسی صوبائی اور نہ ہی قومی اسمبلی میں کوئی تعزیتی قرارداد پیش ہوئی نہ کوئی خاموشی اختیار ہوئی۔ جائیں تو کہاں جائیں؟ یہاں کوئی بھی وزیر اعظم جیسڈا نہیں بن سکا، کاش میرا ملک بھی نیوزی لینڈ بن سکتا۔ میرا ملک کب نیوزی لیڈ بنے گا۔ میرا وزیرعظم کب جسینڈا بنے گا۔ آئیں دُعا کریں کہ پاکستان ہمیشہ سلامت رہے جہاں امن، صلح ہو، ترقی ہو۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان پائندہ باد۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).