یہ ماتم وقت کی گھڑی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھٹوکا اقتدار ختم ہوا ہے، دورنہیں۔ وہ ایک نام نہیں، نظریہ تھا جس کی بقاء کے لئے نہ صرف اس نے تختہ دار کو سرفراز کیا بلکہ اس کے پورے خاندان نے بے شمار صعوبتیں برداشت کیں، یہاں تک کہ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہید کردی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو بلاشبہ ایک آفاقی مفکر اور عالمی سطح کا وہ رہنما تھا جس سے مغرب تک خوف زدہ تھا، زندگی میں بھی اور بعد میں بھی۔ اپنے اسی تعصب کی خاطر مغربی میڈیا ان کا ذکر ان کی شہادت کے بعد بھی نہیں کرتا۔ گذشتہ 50 سال یا گزشتہ 100 سال کے عالمی لیڈروں کی فہرشت شائع ہوتی ہے تو ان کا نام جان بوجھ کرحذف کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ قومی اور حب الوطن سیاستدانوں کے لئے بڑی بدقسمت رہی ہے، آمر جرنیلوں نے قومی لیڈروں کے ساتھ افسوسناک سلوک کیا۔ حسین شہید سہروردی جنرل ایوب خان کے زیر عتاب رہے، بھٹو کو جنرل ضیا الحق نے شہید کیا۔ ہنری کسنجر نے اپنی کتاب میں طنز کیا کہ جنرل یحیی خان احمق ثابت ہوئے اور انہوں نے امریکہ چین تعلقات استوار کرنے کے لئے قومی مفاد میں کوئی معاوضہ وصول نہ کیا۔ جارج بش نے کہا کہ جنرل مشرف نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی سات شرائط مان لیں اور امریکہ سے کوئی معاوضہ بھی وصول نہ کیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ آمر جرنیل جب بھی اقتدار میں آئے۔ انہوں نے ریاست کو نقصان ہی پہنچایا۔ پاکستان کے ایٹمی نظریے کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کو امریکی وزیر خارجہ کسنجر نے لاہور میں دھمکی دی کہ اگر آپ باز نہ آئے تو آپ کو ایک عبرت ناک مثال بنا دیا جائے گا۔

بھٹو نے جانتے بوجھتے اپنی جان قربان کردی مگر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ایسی مضبوط بنیاد رکھ دی کہ آنے والی حکومتیں بھی اسے آگے بڑھانے پر مجبور رہیں۔ ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو اپنے عظیم والد کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے بے مثال جدوجہد کرتی رہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی سازشیں جاری رکھیں اور بالآخر انہی طاقتوں نے بے نظیر بھٹو کو بھی راستے سے ہٹا دیا اورمذہبی انتہا پسندی کو ملک کا مزاج بنا دیا۔

شہیدوں کا ایمان تھا کہ پاکستان کی سلامتی اور جمہوریت کی بقاء کے لئے ان کی جانیں حقیر ہیں لیکن نظریہ دونوں جہاں کا قیمتی ترین اثاثہ۔ یہی نظریہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور اس کے ہر جانثار کا عقیدہ ٹھہرا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بے ٰنظیر کی شہادت کے بعد بھی ”بغض بھٹو“ میں مبتلا ایک مخصوص مائنڈ سیٹ اس نظریہ کا دشمن ہے۔ پاکستان کے وسائل پر قابض یہ ٹولہ ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں جمہوری روایات اور ووٹ کے تقدس کو پامال کرنا اپنا فرض منصبی گردانتا ہے۔

جمہوری اور منتخب حکومتوں پر شب خون مارنا اس کا پسندیدہ اور مرغوب ترین مشغلہ ہے، جس کے لئے کبھی وطن عزیز کو آمریت کی بھٹی میں جھونکا گیا تو کبھی کنٹرولڈ ڈیموکریسی کے مذموم ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ چینی، ملائشین اور بنگلہ دیشی ماڈل سمیت صدارتی نظام کی بے سروپا تھیوریاں گھڑنے کی کہانی بہت پرانی ہے۔ ثبوت کے طورپر شہید بھٹو کی کتاب ”اگر مجھے قتل کیاگیا“ کے ایک ہوشربا باب سے رجوع کرتے ہیں جو آج بھی من وعن غیر سیاسی حالات پر سوفیصد منطبق ہے۔

” چند دہائیاں قبل انگریزوں نے بنگال میں بنیادی جمہوریت کی طرز کا ایک نظام متعارف کروایا تھا جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ آتش مزاج بنگالیوں کی شرکت داری کی خواہش کو ٹھنڈا کیا جاسکے۔ ایوب خان کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیرخارجہ مسٹر منظور قادر نے اس نظام کو منتخب کیا اور صدر ایوب خان کو مشورہ دیا کہ اس نظام میں چند تبدیلیاں کرکے اسے پاکستان کے تمام سیاسی امراض کے لئے بہترین علاج کے طور پر متعارف کروایا جائے۔

ایوب خان کو یہ منصوبہ انتہائی پرکشش لگا اور اس نظریہ کے ساتھ ان کی جذباتی وابستگی بڑھ گئی۔ بنیادی جمہوریتیں ہی مسائل کا آخری حل ہیں۔ کیونکہ اس میں ایوب خان کو پہلی بار قابل انتظام غیر فوجی طاقت کا مرکز مل چکا تھا۔ وہ فوج کے محدود ”جنرل ہیڈکوارٹرز“ کے پھسلواں حلقے سے نکل کر بڑے حلقے میں پہنچ چکے تھے۔ ایوب خان افسر شاہی اور منظم کرپشن میں اس طرح جکڑے ہوئے تھے کہ اس منصوبے کے ذریعے انہیں اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لئے گویا ایک بنی بنائی مشین ہاتھ لگ گئی تھی۔ اس نئے حکم نامے کے خاکہ کے اعلان کے ایک دن بعد ایوب خان، جنرل برکی اور میں تیتر کے شکار کے لئے خان گڑھ گئے۔ ہمارے میزبان کے ایوب خان سے ان زمانوں سے تعلقات ہیں جب وہ فوج میں محض کمانڈر انچیف تھے۔ ہمارا میزبان ایک ان پڑھ قبائلی سردار اور زمیندار تھا۔

دوپہر کے کھانے کے دوران ایوب خان نے میزبان سے پوچھا کہ کیا اس نے نئے نظام کے بارے میں سنا ہے۔ زمیندار نے جواب دیا کہ اس نے ریڈیو میں اس نظام کے مکمل خاکے کو سنا تھا۔ تب صدر ایوب خان نے پوچھا ”وہ اس کے بارے میں کیا سوچ بچار رکھتے ہیں؟ زمیندار کو ہرگز پتہ نہیں تھا کہ ایوب خان اس منصوبے کے بارے میں کس قدر جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ اس کا ردعمل تھا کہ“ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ یہ منصوبہ کامیاب رہے گا۔ ”جناب ایوب خان اس کے جواب پر حیران و ششدر رہ گئے۔ ایوب خان نے زمیندار سے پوچھا کہ انہیں اس کی کامیابی کے بارے میں اتنا شک کیوں ہے؟ ان پڑھ زمیندار نے مندرجہ ذیل نکات اٹھائے۔

(i) لوگ گزشتہ بیس سال سے زیادہ عرصے سے بالغ رائے دہندگی کے اصول پر ووٹ کا استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔ اگر بالغ رائے دہی میں کمی یا اسے ختم کیا گیا تو لوگ اس نئے نظام سے ناراض ہوجائیں گے۔

(ii) افسر شاہی پہلے سے زیادہ طاقتور اور خود سر ہوجائے گی اور اس کا رویہ عوام کے ساتھ زیادہ غیر ہمدردانہ ہوجائے گا۔

(iii) افسر شاہی اور بنیادی جمہوریتوں کے نمائندے عوام کی کھال اتارنے کے لئے آپس میں اکٹھے ہوجائیں گے۔

(iv) ایک چھوٹے سے انتخابی حلقے سے منتخب ہونے والے اراکین زیادہ تر بدمعاش قسم کے افراد ہوں گے۔

(v) چونکہ حلقہ انتخاب بہت چھوٹا ہوگا اور رکن منتخب ہونے کے چکر میں باپ اور بیٹے، بھائی اور بھائی کے درمیان دشمنیاں اور تنازعے پیدا ہوجائیں گے اور یوں ذاتی حرص اور انتقام گاؤں کے ہر جھونپڑے تک پہنچ جائے گا۔

(vi) یہ نظام کم ظرف برہمنوں کے طبقے کو جنم دے گا اور عوام ان برہمنوں کے ظہور سے نفرت کریں گے۔

(vii) یہ نظام ملک کی سیاسی زندگی کو خراب کردے گا۔

شامیانے میں بیٹھے دوسرے زمیندار ایوب خان کے چہرے کے تاثرات ناخوشگوار ہوتے دیکھ رہے تھے۔ ایوب خان سخت رنجیدہ ہوا۔ واپس کراچی جاتے ہوئے ایوب خان نے مجھ سے کہا کہ علی گوہر جیسے محدود بصیرت رکھنے والے شخص سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس نئے نظام کے فوائد کو سمجھ سکے۔ چھ ماہ بعد وہ زمیندار معدے کے کینسر کی وجہ سے فوت ہوگیا۔ جب میں کراچی واپس پہنچا تو میں نے ایوب خان کو بتایا کہ میں اس سردار کے خاندان سے اظہار تعزیت کرنے کے لئے خان گڑھ گیا تھا۔

ایوب خان نے مجھ سے کہا کہ وہ اپنے قریبی دوست کی موت کی خبرسن کر رنجیدہ ہوا ہے۔ ایوب خان نے مزید کہا کہ متوفی کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ بہت زیادہ شراب پیتا تھا۔ ایک ماہ کی خاموشی کے بعد ایوب خان نے مزید کہا کہ غالباً اس زمیندار نے بھی اس صبح بہت زیادہ پی ہوئی تھی جس وقت اس نے بنیادی جمہوری نظام کے خلاف تنقید کی تھی۔

دس سال بعد ایوب خان پر یہ منکشف ہوا کہ وہ بنیادی جمہوریتوں کے نظام کے نشے میں خود چور تھا۔ گول میز کانفرنس میں اسے چار و ناچار یہ اعتراف کرنا پڑا کہ بنیادی جمہوریتوں کا نظام ناکام ہوچکا ہے۔ اگر یہ نظام 1953ء میں ناقابل قبول تھا اور 1969ء میں لوگوں نے اس نظام کو کچل ڈالا تھا تو پھر کسی صورت بھی 1978 ء میں اس بے اعتبار نظام کی دھلی ہوئی نئی شکل کو عوام تسلیم نہیں کریں گے۔

ایک مخصوص ٹولہ آج بھی یہ مانتا ہے کہ پاکستانی عوام ”جذباتی“ اور ”ان پڑھ“ ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ پاکستان میں دو طرح کی دنیا آباد ہے، ایک عوام کی اور ایک آقاؤں کی دنیا۔ عوام اپنے بارے میں ایک الگ تصور رکھتے ہیں جبکہ متکبر ٹولے کا عوام کے بارے میں ایک مختلف تصور ہے۔ ہم عوام پر اعتماد کرتے ہیں اور ان کی ذہانت کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ پاکستان کے عوام بچوں کی طرح ہے جنہوں کوئی بھی مداری تماشا دکھا کر بہلا سکتا ہے اور نہ ہی وہ بھیڑ بکریاں ہیں جنہیں ہانک کر ذبح خانے پہنچایا دیاجائے۔

میں ”اردو“ میں فن خطابت کا ماہرنہیں ہوں۔ پھر بھی لوگ میری ٹوٹی پھوٹی کمزور اردو کو سنتے ہیں، کیونکہ وہ خود بھی غریب اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اس لئے وہ میری ذات پر اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ میں نے کبھی انہیں دھوکا نہیں دیا اور حتیٰ کہ اس وقت بھی میں موت کی وادی کے سائے تلے بیٹھا ہوں لیکن پھر بھی میں ان کے اعتماد کے ساتھ غداری نہیں کروں گا۔ میرے اس دعوے کو وقت نے ثابت کیا ہے۔ اگر آج بھی کسی کو میرے اس دعویٰ پر رتی بھر شک ہے تو وہ میرے اس دعویٰ کو آزما سکتا ہے اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ لوگوں کو ووٹ کے ذریعے یہ فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے کہ وہ مجھ پر آج بھی اعتماد کرتے ہیں یا کہ نہیں۔ عوام کو موقع دیں کہ میں نے عوام کے ساتھ دھوکا کیا ہے یا انہیں خودداری کی ان دیکھی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔

عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ یہ تبدیلیاں کسی طرح بھی تبدیلیاں نہیں کہلا سکتیں۔ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اب بھی اس کٹھ پتلی کابینہ کو چلا رہے ہیں۔ آئین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے گئے ہیں۔ یہ معاشی ابتری اس ٹولے نے پیدا کی ہے اور اس ابتری میں اس کی متروک پالیسیوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ وہ اور اس کی حکومت معاشی ابتری کو ختم نہیں کرسکتے۔ ایسے آدمی کا کون نوٹس لے گا جس نے یہ کہا تھا ”خواہ یہ آئینی ہے یا غیر آئینی، طاقت ہمیشہ اس شخص کے پاس رہے گی جو چیف آف آرمی سٹاف کی کرسی پر براجمان ہوگا۔

” اگر یہ پاکستان کی سیاست میں فوج کے مستقل کردار کے بارے میں روایتی اعلان ہے تب پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ پھر اس پر رسمی مہر پہلے ہی ثبت کی جا چکی ہے۔ اس طرح کی شراکت داری کو جمہوری اور نہ ہی کوئی غیر جمہوری نظام برداشت کر سکتا ہے۔ ایک نظام میں عوامی منتخب حکومت ہوتی ہے اور دوسرے نظام میں ایک جماعت کی حکومت ہوتی ہے۔ دونوں طرح کے نظاموں میں مسلح افواج عوامی حکومت کے تابع ہوتی اور اس کے حکم کے مطابق چلتی ہیں۔ اگر ایک ملک کی وحدت اور خود مختاری عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے اعلیٰ ہاتھوں میں محفوظ نہیں تو پھر یہ دوسرے ہاتھوں میں بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔ یہ عوام اور ان کی حب الوطنی کی توہین ہے کہ غیر منتخب تنخواہ دار چوکیداروں کو قومی وحدت کا پہریدار بنادیاجائے۔

کھوکھلے بہانے پر اعلیٰ اور آزاد پارلیمنٹ پر کوئی اعلیٰ ترین قوت پیدا نہیں کی جا سکتی۔ دو مطلق العنان قوتین ایک مطلق العنان قوت کے زیر اثر بیک وقت قائم نہیں رہ سکتیں۔ ایسی صورت حال سیاست کے لئے کوئی جگہ مہیا نہیں کرتی اور اگر سیاست کے لئے کوئی جگہ نہ بچے تو سمجھ لو پھر نظام حکومت کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں بچی۔ میں نوشتہ دیوار دیکھ چکا ہوں۔ میری رائے میں تبدیلی اس صورت جان لیوا نہیں ہوتی جسے ذہین ترین لوگ لے کر آتے ہیں، یہ تبدیلی جان لیوا ذہنوں سے جنم لیتی ہے جو کینہ پروری سے مغلوب ہو چکے ہوں۔ ”

سوچئے اور بغور جائزہ لیجیے کہ آج سے اکتالیس برس پہلے جو حالات ذوالفقار علی بھٹو کو درپیش تھے، کیا پاکستان آج بھی اسی بھنور میں ہچکولے نہیں کھا رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •