بھٹو کا قتل تاریخ کا سیاہ صفحہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھٹو زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ اس کی وجہ صرف بھٹو نہیں۔ وہ حالات و واقعات ہیں جو بھٹو کو پھانسی گھاٹ تک لیجانے کا باعث بنے۔ پی این اے کی تحریک جسے مفتی محمود نے تحریک نظام مصطفے میں بدل کر اسے ایک مذہبی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ وہ تمام سیاسی پارٹیاں جو ستر کے انتخابات انفرادی حیثیت میں لڑ کر بھٹو سے پنجاب میں الیکشن ہاری تھیں اور ضیا الحق کی اقتدار کی خواہش۔ بھٹو کو یقین نہیں تھا کہ ضیا الحق میں اتنی جرات ہے کہ وہ ایک مقبول عوامی رہنما کو مارنے کا فیصلہ کر سکے۔

اسی لئے جب بھٹو کو پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو اس نے کہا تھاکہ بند کرو یہ ڈراما۔ جہاں بھٹو کو قتل کرنے یا عدالتی قتل کرانے کا غلیظ کام ضیالحق نے کیا وہیں بھٹو کو زندہ رکھنے کا کریڈٹ بھی ضیا الحق کو جاتا ہے جس کے اقتدار کی لمبائی بھٹو کی موت سے مشروط تھی۔ کم ازکم اس کو یہی یقین دلایا گیا تھا۔ جنرل ضیا کی اس خواہش کہ بھٹو کو قانونی طریقے سے مارا جائے اور قانون کی بالادستی قائم ہو جائے، نے دراصل بھٹو کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ بھٹو کو مارنا چاہتا تھا کہ بھٹو اس کے اقتدار کی راہ کا کانٹا تھا لیکن اس کی موت کا الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتا تھا۔

پاکستان میں چیف آف آرمی سٹاف کی نامزدگی سیاستدان سربراہ مملکت کے لئے بہت بڑا امتحان ہوتی ہے۔ تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ سیاستدان سربراہ مملکت جتنا مرضی زیرک ہو جتنا بھی کائیاں ہو چیف آف آرمی کے انتخاب میں غلطی کرتا ہے۔ سب سے زیادہ چیف تقرر کرنے کا اعزاز نواز شریف کو حاصل ہے مگر ہر بار اس نے غلطی کی ہے۔ شاید غلطی نہ کی ہو اس ادارے کی روایات ہی ایسی بن گئی ہوں؟

بھٹو جس کی نظر پاکستان کے عوام کی نبض پر تھی، ضیا الحق کی ٹیڑھی آنکھ میں چھپی اقتدار کی چمک نہ دیکھ سکا۔ عین اس وقت جب بھٹو اور پی این اے کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز ہونے لگے، ضیا کی ضیائی ظلمت میں بدل گئی۔ اقتدار کا وہ گھناونا کھیل کھل کر کھیلا گیا جس نے پاکستان کی جڑوں میں ہیروئین کا پانی ڈالا۔ جس نے پاکستانیوں جیسے محبت کرنے والے دیش کے باسیوں کو نفرت، کمینگی اور منافقت کا سبق پڑھایا۔ بھٹو جو بھی تھا۔ اس کا تاریخی کردار اچھے اور برے نمونوں سے بھرا پڑا ہے۔ ضیا الحق نے اسے پھانسی دے کر اس کے کردار کے تمام منفی پہلو دفن کرکے اسے ایک اجلا اور نکھرا ہوا کردار بنا دیا ہے۔ یہ بھی تاریخ کا جبر ہے۔ اقتدار اور اس سے بڑھ کر اقتدار کو طول دینے کی خواہش حکمرانوں کو غلاظت کے اس ڈھیر پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں بدبو کا راج ہوتا ہے۔ بھٹو کو پھانسی گھاٹ تک پہنچانے میں ایک نہیں سینکڑوں ضیا الحق درکار تھے۔ تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے ضیا الحق تفتیشی افسروں سے لے کر مسعود محمود جیسے وعدہ معاف گواہوں اور نسیم حسن شاہ جیسے ججوں تک مشتمل ہوتی ہے۔ تارا مسیح تو ایک خادم کا نام ہے جس نے گلے میں پھندا ڈالنا ہوتا ہے۔

زمانہ انسان کو کیا کیا دکھاتا ہے۔ کیسے کیسے خواب ہماری آنکھوں میں اترتے ہیں جن کے خمار ٹوٹنے کا نام نہیں لیتے۔ پھر یہی خواب چکناچور ہوتے ہیں تو ان کی کرچیاں جڑنے کا نام نہیں لیتیں۔ ایسا ہی ایک خواب تھا جو زمانہ طالبعلمی میں دیکھا اور اس کی تعبیر ڈھونڈھنے چل پڑے۔ ملک ایوبی آمریت کے سائے میں صنعتی انقلاب کی طرف بڑھ رہا تھا۔ لیکن ہم یہ دیکھ رہے اور سن رہے تھے کہ بائیس خاندان ملک کی دولت لوٹے چلے جا رہے ہیں۔

ہم ناتواں سکول طالبعلم ہونے کے باوجود اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ جلوس نکلتے، ہم ایوب کتا کے نعرے لگاتے۔ پولیس ڈنڈے لے کر ہمارے پیچھے بھاگتی۔ ہم سڑک کے کنارے پڑے پتھر اٹھا کر پولیس والوں کو مارتے۔ تحریک کے نتیجے میں ایوبی آمریت تمام ہوئی۔ یحیٰ آمریت شروع ہوئی۔ ایک آمریت دوسری کو جنم دے کر رخصت ہوئی۔ جلوس نکلنے بند ہوئے۔ الیکشن کا شور اٹھا۔ منصفانہ انتخابات ہوئے مگر نا انصافی کو عروج ملا۔ حقدار کو حق نہ ملا۔

اچانک جنگ ہوئی اور ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ ہمارا ہیرو، ہمارا جمہوری چیمپئین ملک کو دولخت کرنے کی راہ ہموار کرتا رہا۔ اقتدار اس کی منزل تھی، اقتدار اسے مل گیا۔ بھٹو چیف سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گیا۔ جیسے جیسے اس کا اقتدار مضبوط ہوتا گیا ویسے ویسے اس کا جمہوری رویہ ختم ہوتا گیا۔ جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت قائم ہوئی، سیاسی مخالف قتل کئیے جانے لگے۔ ہمارا جمہوری خواب چکنا چور ہوگیا۔ ہمارا ہیرو ولن بن گیا۔ ایوبی آمریت میں جو صنعتی ترقی ہوئی تھی وہ رک گئی۔ غربت ملک کے دروازے پر ناچنے لگی۔

77 کی تحریک چل رہی تھی اور ہم بھٹو مخالف پی این اے کی حمایت میں الیکشن دھاندلی کے خلاف تحریک چلارہے تھے۔ روزانہ جلوس نکلتے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں۔ بھٹو کی بنائی فیڈرل سیکیورٹی فورس کی نہتے شہریوں پر اندھادھند گولیاں برستی اور سڑکوں پر بہتا خون میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ وہ خواب جو بھٹو کے ساتھ مل کر ایوبی آمریت ختم کرنے کے لئے دیکھے تھے وہ تو زندہ بھٹو نے چکنا چور کر دیے تھے۔

اس کے بعد خواب تو نہ دیکھے۔ جو بھی دیکھا جاگتی آنکھوں سے دیکھا۔ بھٹو کی عدالتوں میں پیشی، گرفتاری، جھوٹے گواہ، نا انصاف عدالتیں، بے رحم جیلیں اور ظالم جیلراور پھانسی۔ بے ضمیر معاشرہ اس ظلم پر خاموش تماشائی بنا رہا۔ بھٹو خاندان جیل کی سختیاں برداشت کرتا رہا اور جمہوریت اور اسلام کے ٹھیکیدار ضیا الحق کی وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے۔ نہ کسی کو جمہوریت کی فکر ہوئی نہ اسلام کی۔ ایسا اسلام لایا گیا جس کا نظام مصطفے سے کوئی تعلق نہ تھا۔

بینظیر کا والہانہ استقبال، ضیا الحق سے اکتاہٹ اور بیزاری کا برملا اظہار تھا۔ بینظیر دو بار اقتدار میں آئی۔ روتی آنکھوں نے بینظیر کے دور حکومت میں ہی بھٹو کے بیٹے کا سڑک پر پولیس کے ہاتھوں بہتا خون اور تڑپتا بدن دیکھا۔ فاطمہ بھٹو کی باپ کی لاش پر دلخراش چیخیں سنیں اور پھر بینظیر کا راولپنڈی میں وحشیانہ قتل بھی دیکھا۔ یہ سب المناک واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ سفاکی اور بربریت کی المناک داستانیں ہیں اور چیخ چیخ کر فریاد کناں ہیں اور پکار پکار کر کہ رہی ہیں ”پاکستانیو؛خواب دیکھنا چھوڑ دو“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •