روز ایک نیا ٹاک شو
عوام میں بڑھتے ہوئے شعور اور خبروں سے دلچسپی کے سبب مختلف نیوز چینلز کو اپنی چھاپ بٹھانے میں نہ صرف آسانی پیدا ہوئی ہے بلکہ وافر منافع بھی حاصل کیا گیا ہے۔ یکے بعد دیگرے نیوز چینلز کی بھرمار ہوگئی ہے اور اتنے ٹاک شوز وجود میں آگئے ہیں کہ نام تک یاد رکھنا دشوار ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ روز ایک نیا ٹاک شو منظر عام پر آجاتا ہے جو اپنا منجن بیچنے میں لگا ہوتا ہے۔ کئی پروگراموں میں تو تمیز و تہذیب اور گفتگو کے کے طور طریقوں کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ چند ایک ہی ایسے ٹاک شوز رہ گئے ہیں جہاں اطمینان کے ساتھ سب کو سننے اور کہنے کا موقع دیا جاتا ہے اور جن کا مقصد حقیقتاً عوام کو ملک کے درپیش مسائل سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
ٹاک شوز کو ایک زمانے میں ایک الگ اہمیت اور مقام حاصل تھا جہاں پروگرام میں شرکت کرنے والے افراد باشعو ر، تعلیم یافتہ اور اصل میں صحافی یا تجزیہ کار کہلانے کا حق رکھتے تھے۔ اب ایسا شاذونادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ آج کل کے ٹاک شوز میں بات کو گھمانا، مرچ مسالہ لگانا اور ایک دوسرے کوجھوٹا ثابت کرنا مقصد بن گیا ہے۔ اتنی کثیر تعداد میں ان ٹاک شوز ہونے کا مقصد یا تو عوام کی جانب سے واقعی پذیرائی حاصل ہورہی ہے یا تو یہ کام اب معمولی بات ہوگئی ہے۔ جو شخص بھی خوبرو شخصیت کا حامل ہو اور قینچی جیسی زبان رکھتا ہوگویا وہ آرام سے ٹاک شو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اکثر شوز میں اصل مسائل کو زیر بحث لانے کی جگہ صرف سیاستدانوں کو ہی موضوع بنایا جا رہا ہوتا ہے اور عوام کی توجہ دوسری طرف مرکوز کردی جاتی ہے۔
میڈیا انڈسٹری اور نیوز چینلز کے مالکان کو اس امر کی جانب ضرور توجہ دینی چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ ان پروگراموں سے عوام کو کیا پیغام دیا جارہا ہے۔ سوچ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک سے انتشار اور اضطراب کو دور کیا جاسکے۔ ان شوز سے عوام کو سر درد میں مبتلا کرنے کے بجائے امید اور ترقی کی جانب گامزن کرنا چاہیے۔
ہر با شعور فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے 60 سیکنڈز جو ایک ڈبے کے آگے گزارتا ہے اس کے بعد وہ خود غور و فکر کرے کہ آیا یہ بہتر فیصلہ تھا یا بیوقوفانہ۔


