شمالی پختونخوا، جنوبی پختونخوا اور ان کی شاملات


پختون مسئلہ نہیں مسئلے میں گرفتار ایک مصیبت زدہ، باصلاحیت لیکن منتشر قوم ہے۔ تقسیم ہند کے وقت پنجابی بھی، پختونوں کی طرح تقسیم کردیے گئے تھے۔ لیکن ان کی تقسیم واضح فالٹ لائن، یعنی سکھ پنجابی اور مسلمان پنجابی کے اصولوں پر مبنی تھی۔ پختونوں کے درمیان اس قسم کی کوئی فالٹ لائن بھی موجود نہیں تھی لیکن پھر بھی تقسیم در تقسیم کے کمزور کردینے والی عمل سے گزار کر ان کو قدرتی عدد کی بجائے کسری عدد کی شکل دے دی گئی۔

افغانستان میں پختون قوم کی موجودگی اور حالت کی بات پھر کبھی سہی، صرف پاکستان میں موجود پختون قوم کی بات کرتے ہیں۔ تو شمالی پختون (خیبر پختونخوا) جنوبی پختون (بلوچستان میں موجود پختون) مشرقی پختون ( ہزارہ اور ایبٹ آباد کے پختون جن سے ملنے کے لئے پختونخوا کے لوگ پنجاب سے ہو کر گزرتے ہیں۔ اور اس جغرافیائی نارسائی کی وجہ سے ہزارہ اور ایبٹ آباد کی پختون ابادی کی زبان، ثقافت قومی رویوں پر پنجاب کے اثرات دن بدن بڑھ رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں کہ چھچھ کے پختونوں کی طرح، جو ون یونٹ توڑنے کے بعد پنجاب کے حوالے کردیے گئے تھے، یہ علاقے بھی اپنی زبان، ثقافت، شناخت اور باقی علاقوں کے رشتہ داروں کے لئے اجنبی بن جائیں گے) ان کے علاؤہ قبائلی پختون، کراچی اور خلیجی ممالک میں رہائش پذیر پختون۔

پختونوں کے خاندانی نظام، روایتی طرز زندگی اور ڈالے گئے مخصوص اثرات کی بناء پر، پیدا کردہ ذہنی ساخت کی وجہ سے، ان کی ابادی باقی قوموں مناسبت سے تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد جان بوجھ کر ان کے علاقے میں صنعتیں قائم نہیں کی گئیں۔ پختونوں کی قابل کاشت زمینیں تھوڑی اور روزگار کے دوسرے ذرائع کم تھے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے علاقے سے دور دراز علاقوں میں روزگار کی تلاش میں منتقل ہوگئے۔ جس میں پختون خواہ کی اقتصادی حالت سے زیادہ سیاسی صورتحال ملوث دکھائی دے رہی ہے۔

انگریز کی موجودگی میں جو سامراج دشمن تحریک اس علاقے میں عبدالغفار خان کی قیادتِ میں اٹھی تھی، اس کے اثرات پاکستان بننے کے بعد، بہت ساری مخالف کوششوں کے باوجود باقی رہے۔ اور آج تک موجود ہیں۔ آگر پختونخوا میں صنعتیں لگا دی جاتیں۔ تو پختون روزگار کی تلاش میں دور دراز علاقوں میں جانے کی بجائے اپنے علاقے میں رہتے، خوشحال ہو جاتے تو تعلیم حاصل کرتے، تعلیم حاصل کرتے، تو اس کی بنیاد پر وہ پختونخوا کی سیاست میں اپنا شعوری حصہ ڈالتے، اور یوں پختون قوم پرستی مضبوط ہوجاتی۔

پختون قوم پرستی کی مضبوطی اور قومی اتحاد کی وجہ سے مصنوعی اسلامی شجرکاری بیکار ہو جاتی تو سرحد پار کے پختونوں کے علاوہ، شمال، جنوب اور مشرق میں منتشر پختون ابادی کے متحد ہونے کا خطرہ رہتا۔ اس لیے اس سیاسی خطرے کی پیش بندی کی خاطر، اقتصادی میدان میں، باوجود اس کے، کہ پختون محنت کرنے میں کسی قوم سے پیچھے نہیں بلکہ اس میدان کوئی ان کا ہمسر نہیں، ان کے علاقے کو بنجر رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے آج پختونوں کا بڑا حصہ روزگار کی خاطر کراچی اور خلیج کے علاوہ پاکستان کے ہر صوبے کے ہر اہم شہر میں سڑکیں توڑتے، پہاڑ کھودتے، اینٹیں ڈھوتے، قالین کاندھے پر ڈھالے، ہاتھوں میں موبائل فون کے متعلقات لئے، کاک بورڈز کے ہوم میڈ سٹینڈز پر عینکیں سجائے، پھلوں کے ریڑے دھکیلتے، چھابڑیاں لگائے، بوٹ پالش کے ڈبے سامنے رکھے، لنڈے کی دکانیں کھولے، کباڑ کی بوریاں اٹھائے، مکئی کے دانوں کی بھٹیاں دھکائے، تسبیح کنگھیاں اور مسواک بیچتے ہوئے ملتے ہیں۔

پختونوں کو سمتوں اور علاقوں میں منتشر کرنے کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی کھیلوں میں بھی حصہ دار بناکر فوائد سمیٹے گئے۔ ساتھ ساتھ اندرون ملک ان کی سکونت اور ہجرتوں سے بھی اچھے نتائج حاصل کیے گئے۔ آگر ایک طرف بلوچستان میں پختون موجودگی کو، بلوچ قوم اور ان کی ریاست مخالف تحریک کے قوت متقابل کے طور پر، استعمال کی جارہی ہے۔ تو دوسری طرف پختون علاقوں کی بیروزگاری، سوات اور وزیرستان کی حالیہ فوجی آپریشنوں کی وجہ سے پیداکردہ، اندرونی ہجرتوں کے ذریعے، کراچی میں ایم کیو ایم کی عددی اکثریت اور جارحانہ سیاسی رویوں کا علاج کیا گیا۔ نیز نقیب اللہ کے بہیمانہ قتل کی وجہ سے کراچی میں قبائلی علاقوں سے نئے منتقل شدہ پختونوں کو ایک علیحدہ پلیٹ فارم پر متحد کرکے، کراچی میں موجود پختونوں کی واحد اواز، اے این پی کے لئے بھی ایک متبادل مسابقتی شریک کار پیدا کیا گیا۔

قبائلی پختون علاقوں کو جن مقاصد کے لئے علحیدہ رکھا گیا تھا۔ ان مقاصد کے ضمنی حصول، بین الاقوامی مجبوریوں اور پی ٹی ایم کے ظہور نے ان قبائلی علاقوں کو ”جلد بازی“ اور ”بغیر تیاری“ کے خیبرپختونخوا کا حصہ بنایا گیا۔ جس کی وجہ سے شمال و جنوب میں موجود، قوم پرست سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک نئی کشمکش شروع ہوگئی، اور یہی کشمکش شروع کروانا اور پختون یکجہتی کو مزید دوری سے ہمکنار کروانا، قبائلی علاقوں کے ساتھ اس ”اچانک“ انضمام کے مقاصدِ تھے۔

پی ٹی ایم کی تحریک اندرونی مسائل کی وجہ سے اٹھی تھی۔ پختون لیڈرشپ میں کھلا ہاتھ اور حجرہ (ڈیرہ) بچھا ہوا دسترخوان اور برابری کا سلوک اچھی کوالٹی سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اضطراری حالات میں پختون، نر (بہادر) اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ موخر الذکر دونوں خصوصیات ان کو منظور پشتین میں نظر آئیں۔ اس لیے اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے اگر چہ قومی غیرت دلانے کے علاوہ، منظور پشتین کے بیانیہ میں، قبائلی علاقوں سے باہر کے پختونوں کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔

اور پورا ایک سال گزر جانے کے باوجود اج بھی پی ٹی ایم کی اہم مرکزی لیڈرشپ اور مخصوص بیانیہ مخصوص علاقوں سے متعلق ہے۔ جبکہ اب ان کے مطالبات پانچ سے گیارہ ہوگیے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے بیانیہ میں اب علاقائیت کی بجائے قومیت کی کچھ کچھ جھلک نظر آتی ہے۔ پی ٹی ایم کے اسلام آباد دھرنے میں تقریریں تو سب نے کیں۔ لیکن بعد میں محمود خان اچکزئی کی اجازتِ سے صرف ان کی پارٹی کے کارکن پی ٹی ایم کی تنظیم سازی، نعرہ سازی اور نعرہ بازی میں نمایاں رہے۔

اے این پی کے برخلاف، اسٹیبلشمنٹ نے محمود خان اچکزئی کو بلوچ مجبوریوں کی بنا پر ہمیشہ برداشت کیا ہے۔ اور ان کی صوبائی سیاسی پوزیشن کو زیادہ کمزور نہیں کرنے دیا گیا۔ (مثلاً جنوبی پختونخوا میں پختون ابادی کی موجودگی کے باوجود پی ٹی آئی موجود نہیں) ۔ لیکن 2018 کے الیکشن سے پہلے، اینٹی اسٹیبلشمنٹ تحریک میں نمایاں حصہ ڈالنے کی وجہ سے ان کو پیچھے کر دیا گیا۔ اگرچہ اب بھی بلوچستان کے جغرافیائی، ڈیموگرافک، بین الاقوامی اور سیاسی صورتحال میں وہ بے بدل اور بلا متبادل پوزیشن کے مالک غیربلوچ سیاستدان ہیں۔ جس کی بنا پر پی ٹی ایم کو اپنے پروں میں لینے کے بعد وہ افغانستان سے ہوکر انگلینڈ میں بھی قومی اور بین الاقوامی ملوث کرداروں کو سمجھنے اور سمجھانے میں مصروف ہیں۔

دوسری طرف، شمال میں اسفندیار ولی خان کی قیادت میں، اے این پی ہے۔ جو باچہ خان اور عبدالولی خان کی وراثت اور ان کی بھاری بھرکم شخصیات کے موجودہ قیادت کے ساتھ ان کے تقابل کے وجوہات کی بناء پر مشکلات کا شکار، لیکن جہد مسلسل کی راہ پر مستقل مزاجی سے گامزن ہے۔ جنوبی پختونخوا کی طرح یہاں بلوچ مسئلہ موجود نہیں اس لیے ریاست نے دامے، درمے سخنے، ہر طریقے سے ان کی قوم پرست پارٹی کو کمزور سے کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

نیز غداری کے سب سے زیادہ اور اعلیٰ تمغے بھی ان کے حصے میں آئے۔ منبر و محراب تک ان کے خلاف استعمال کیا گیا۔ پاکستان بننے کے بعد نئے ملک کو ایک ولن کی ضرورت تھی، سامراج دشمنی کے لئے مشہور باچہ خان کی صورت میں نئے ملک کو وہ ولن میسر ہوا۔ قیوم خان جو کبھی باچہ خان کے لئے رطب اللسان رہتا تھا، ان پر چھوڑا گیا۔ جس نے ملک کے ابتدائی سال میں بابڑہ کی زمین کو ہزاروں بے گناہ پختونوں کو محض جلوس نکالنے کے جرم میں خون میں نہلا دیا۔

ایوبی دور کی قید و بند اور بھٹو کے لیاقت باغ کے پختون قتل عام بھی اے این پی کی سیاسی جدوجہد کو اپنے علاقے میں ناپید نہیں کرسکی۔ پختو نخوا میں اسلامی شجرکاری اور طالبان کی کاشت بھی اے این پی کے تناظر میں دیکھ لینی چاہیے۔ چارسدہ میں نثار محمد خان اور شیرپاؤ فیملی کا سیاسی ظہور بھی اے این پی کی سیاست کی مرہون منت ہے۔ نیز بلور اور میاں افتخار کے خاندانوں کے سانحات بھی اس تعلق کی بناء پر وقوع پذیر ہوئیں۔

افغانستان میں امریکی مداخلت اور موجودگی کی وجہ سے اسلامی شجرکاری سرحد کے دونوں طرف کمزور پڑ گئی۔ تو پی ٹی آئی اس خلا کو پر کرنے کے لئے شمالی پختونخوا میں استعمال کی گئی۔ تاکہ اے این پی کو اسلامسٹوں کی کمزور پوزیشن کی وجہ سے الیکشن میں واک اوور نہ مل سکے۔ 2018 کے الیکشن سے قبل، آغا برادران کے ذریعے، جنوب کو فتح کرنے کا خوش نما لالی پاپ شمال کو دیا گیا تھا۔ لیکن نتائج آنے کے بعد، مولانا فضل الرحمان کی طرح، محمود خان اچکزئی کے ساتھ ساتھ اسفندیار خان بھی شدید حیرت میں مبتلا کردیے گئے تھے۔ کیونکہ سیاسی بورڈ کے کرتا دھرتاؤں کو لوکل ٹورنامنٹ سے زیادہ بین الاقوامی ٹورنامنٹ کے لئے ٹیم تیار کرنے کی فکر تھی۔

سیاسی آزادی کی حد تک پختونوں کے پاس پہلے سے دو علاقائی سیاسی قوم پرست جماعتیں موجود تھیں۔ اب قبائلی علاقوں کی واگذاری کے بعد اگرچہ ان علاقوں کو شمال میں ضم کیا گیا ہے، تین قوم پرست سیاسی جماعتیں ہوگئی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) پختونخوا ملی عوامی پارٹی مختصرا میپ، اور پختون تحفظ مومنٹ یعنی پی ٹی ایم۔ پی ٹی ایم کی انتظامی، نظریاتی، تنظیمی اور پروپیگنڈا کے معاملات میپ نے اپنے ہاتھ میں لئے ہیں۔

جس کی بناء پر بعض اوقات اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔ کہ میپ اور پی ٹی ایم کہاں پر الگ اور کہاں پر یکجان ہیں۔ پی ٹی ایم کا اپنا بیانیہ کیا ہے اور میپ کہاں کہاں ان کے بیانیہ پر اثرانداز ہوتا ہے؟ جنوبی پختونخوا میں پی ٹی ایم کی کارکردگی اور غالب اکثریت، میپ کے ارکان پر مبنی اور مرہون منت ہے۔ ارمان لونی کے قتل کے بعد پی ٹی ایم کی ذہنی کشمکش اور پس وپیش بھی اس بات کو عیاں کرتا ہے۔ کہ پی ٹی ایم کے مطالبات پس منظر میں چلے گئے۔ اور ارمان لونی کے قتل کی ایف آئی آر سب سے اہم ایشو بن کر سامنے آیا تھا۔ پشاور جلسہ کئی لحاظ سے سابقہ جلسوں کی بازگشت ثابت ہوا لیکن نئی بات، آئین، قانون اور عدم تشدد کی پرچارک تحریک نے آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کا نعرہ لگا کر کی ہے۔

میپ پی ٹی ایم کو اپنی بارگیننگ پوزیشن بہتر کرنے، بلوچستان میں اپنی سابقہ پوزیشن بحال کرنے کے ساتھ ساتھ، شمالی پختونخوا میں اپنے سیاسی اثرات کو سوات، صوابی اور پشاور تک بڑھانے کے لئے کام میں لارہی ہے۔ نیز بین الاقوامی مارکیٹ میں فرنچائز کھولنے کے لئے بھی میپ کوشاں ہے۔ پی ٹی ایم کی شکل میں شمالی پختونخوا میں، میپ کے بڑھتے ہوئے اثرات کو اے این پی اپنے لیے خطرناک سمجھتی ہے۔ اس لیے اے این پی، پی ٹی ایم کے ساتھ مخالف جماعت کا سلوک روا رکھتی ہے۔

جس کی وجہ سے ملک کے اندر پختون یکجہتی کا راستہ لمبا ہوتا جا رہا ہے۔ اے این پی، پی ٹی ایم کی مخالفت کرکے، مقتدر حلقوں سے اپنے لئے نرم گوشہ، آسانیاں، وعدے وعید اور یقین دہانیاں بھی حاصل کرنے کی امید رکھتی ہے۔ جبکہ پی ٹی ایم کو بھی اپنا بیانیہ مقبول بنانے کے لیے شمالی اور جنوبی پختونخوا کی اکثریت کی ضرورت تھی اور ہے۔ اس لیے ان کو جس نے بھی کاندھا پیش کیا وہ سپورٹ کے لئے ادھر جھک گئی۔ پی ٹی ایم نے قبائلی علاقوں کی انضمام کے وقت اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھ کر اپنے پتے مہارت سے کھیلے تھے۔

لیکن پارلیمانی سیاست میں ان کے مشہور کھلاڑیوں کی موجودگی اور ان کی صفوں میں میپ کی موجودگی اور اہمیت اے این پی کے لئے کافی الارمنگ صورتحال تھی۔ جس کی بناء پر انہوں نے اپنے بہترین کھلاڑیوں کو نئی سٹریٹیجی کے تحت نئی ترتیب دے دی۔ اور یوں پی ٹی ایم کی شدید خواہش کے باوجود بھی پی ٹی ایم کو صرف میپ کے کارکنان پر اکتفاء کرنا پڑا۔ جبکہ شمال (اے این پی) اور جنوب (میپ) قبائلی علاقوں کو اپنی آبائی شاملات دیہہ سمجھ کر آپس میں لڑ رہی ہیں۔

اور پی ٹی ایم ان دونوں کے پاس اپنی بربادی کا رونا لے کر آئی تھی۔ جبکہ دوسری طرف پی ٹی ایم کے ظہور اور بیانیہ کے بعد پھر سے بہار آئی ہے۔ جس کی وجہ سے اسلامی شجرکاری خوب پھل پھول رہی ہے اور نئے تناور درخت نظر انے لگے ہیں۔ پی ٹی ایم کو پارلیمنٹ تک پہنچانے کے علاوہ، یوتھ آف وزیرستان کے لئے، مستقل کے ڈرامے میں مضبوط اور موثر کردار لکھنے کے لئے کہنہ مشق ادیبوں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ یوتھ آف وزیرستان پر وار ویٹرن، جماعت اسلامی کے شدید اثرات بتائے جاتے ہیں۔ اس لیے پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ کہ مستقبل قریب میں، پی ٹی ایم کو، سوات، صوابی اور پشاور میں جلسے کرنے کی بجائے، یوتھ آف وزیرستان کی ٹیم کے ہاتھوں اپنے ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کے بارے میں فکرمندی کی ضرورت ہوگی۔

رنگارنگ سیاسی اسلامی پارٹیوں کی طرح جن کا نعرہ، امت مسلمہ کی وحدت اور اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔ لیکن ایک دوسرے کے پیچھے اللہ کے سامنے جھکنے کو بھی تیار نہیں ہوتیں۔ ان سہہ رنگے پختون قوم پرست جماعتوں کی بھی سمجھ نہیں آنی مشکل ہے۔ کیونکہ دو بڑے اور ایک چھوٹا ایک ساتھ بیٹھ کر اپنے مسائل حل کرکے متحد اور متفق نہیں ہوسکتے تو گروہوں، جماعتوں، علاقوں اور سمتوں میں بکھری پختون قوم کو یہ کیسے یکجا کرکے منزل مقصود تک پہنچائیں گے۔ اب ان تینوں سے قربانی کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ باقی قوم نے کافی صعوبتیں اٹھائی ہیں۔ مزید امتحانات دینے کی ان میں سکت نہیں۔

یہ فیصلہ مستقبل قریب میں ہونے والا ہے کہ ان تینوں میں کون کس کو استعمال کرتا ہے اور اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے؟ یا تینوں ایک دوسرے کی پشت بانی کرکے ذاتی، اور شخصی مفادات اور اناووں سے بالاتر ہو کر صرف سیاست کرنے کی بجائے مدبرانہ قومی سوچ اپناتے ہیں۔ یاد رہے، منظور احمد پشتین اس میدان میں نئے ہیں۔ ان کو ایک تاریخی لمحے نے جنم دیا ہے۔ آیا اس نے جماعت اسلامی کی طرح دوسروں ( آرمی) کو استعمال کرتے کرتے خود استعمال شدہ ہونا ہے۔ یا شیر شاہ سوری کی طرح بہت جھنڈے، کئی گروہ اور ان کے قلیل المدت اور طویل المدت مفادات، بڑے بڑے ناموں کی موجودگی کے باوجود، مختلف سمتوں میں منقسم اور منتشر پختونوں کو ایک جھنڈے، ایک پارٹی، ایک نعرہ اور ایک نصب العین پر اکٹھا کرکے جدید دنیا کے ترقی یافتہ اور روشن خیال شہری بنانے ہیں؟

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani