کیا اہل کشمیر دو ریاستوں کے مہرے ہیں؟
نامور امریکی اسکالر و بین الاقوامی امور خارجہ کے ماہر Max Boot اپنی کتاب Invisible Armies میں لکھتے ہیں کہ سال 2019 میں کشمیر کے اندر جاری مسلح تحریک کے تیس سال مکمل ہوجائیں گے۔ بھارت کے خلاف کشمیریوں کی مسلح جدوجہد دنیا میں ان تک لڑی جانے والی گوریلا جنگوں میں سے اپنی نوعیت کی منفرد جنگ ہے۔ میکس بُوٹ لکھتے ہیں کہ تیس سالوں پر محیط جنگ کا کسی منطقی انجام تک نہ پہنچنا جہاں حیرانی کی بات ہے وہیں اس مسلح جدوجہد کا جاری رہنا ایک تاریخی بات ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا فوجی زون سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس اہم مسلے پر اقوام عالم کی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے اور اقوام عالم کی خاموشی کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی واحد وجہ ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشمیری ستر سال سے اپنی آزادی کی نہ صرف جنگ لڑھ رہے ہیں بلکہ آزادی کے مطالبے پر ہر صورت ہر محاز پر متحرک ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر جہاں اقوام متحدہ کی خاموشی ستم بالائے ستم ہے وہیں منقسم خطہ کشمیر پر دو ایٹمی قوتوں کی ہٹ دھرمی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بھارت ہو یا پاکستان دونوں ممالک کی کشمیری قوم سے فریب اور بے وفائیوں کی بہت طویل داستان ہے۔ 1947 کی تقسیم کے بعد بھارت نے کشمیریوں سے کیے گئے وعدوں کا کبھی پاس نہیں رکھا۔ اُلٹا اپنے ہی وعدوں سے انحراف کرکے کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے کر کشمیریوں کی اپنی ہی زمین ان کے لئے تنگ کردی۔ نئی دلی میں سیاسی محلات کھڑے کرنے کے لئے کشمیر کو شورش زدہ حالات میں رکھنا کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مستقل پالیسی رہی ہے۔
اسی طرح پاکستان بننے کے بعد یہاں کے حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے اصل اہداف اور مقاصد سے کشمیریوں کو غافل رکھا۔ 1947 میں کشمیر کے اندر قبائلی لشکر کشی ہو یا 1965 میں آپریشن جبرالٹر، 1971 میں بنگلہ دیش کی علحیدگی کے بعد شملہ معاہدے کی بات ہویا 1988 میں بھارت کی جانب سے کشمیر میں تاریخی انتخابی دھاندلی کی بات ہو، نوے کی دہائی میں مسلح تحریک کا آغاز ہو یا 1999 میں کارگل جنگ کی بات ہو، 2002 میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف فارمولہ کے تحت عملاً مسلح تحریک کا خاتمہ ہو یا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت علحیدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کو توڑنے کی بات ہووغیرہ وغیرہ۔ دونوں ممالک نے کشمیری قوم کو سوائے محرومیوں اور مایوسیوں کے کچھ نہیں دیا۔ صرف یہیں پہ بس نہیں ہوتا کشمیریوں کی نمائندگی کا دم بھرنے والوں نے بھی اپنی قوم کے زخموں پر مرحم رکھنے کیبجائے ہمیشہ اسلام آباد اور دلی کی نوکری کے فرائض عین مطابق نبھائے۔
بھارت نواز کشمیری سیاست دان، پاکستان سے الحاق کے حامی سیاست دان اور کہیں کہیں کشمیر کی مکمل خود مختاری کی حامی قیادت نے دنیا کو کنفیوژ کردیا ہے۔ اب دنیا پوچھنے پر مجبور ہے کہ کشمیریوں کی اصل نمائندہ قیادت کس کو مانا جائے۔ بھارت کے زیر اثر طبقے کی دلیل ہے کہ بھارتی آئین کے تحت بھارتی حکمرانوں کی آشیرباد سے کشمیر میں جیسے تیسے انتخابات کے ذریعے حکومتی ایوانوں میں پہچ کر ہی کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان سے الحاق کی حامی قیادت کی دلیل ہے کہ مذہبی اور جغرافیائی اعتبار سے کشمیر کا رشتہ پاکستان سے جوڑ کر ہی کشمیریوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ جبکہ کشمیر کی مکمل خود مختاری کی حامی قیادت سمجھتی ہے کہ دونوں ممالک سے جان چھڑانے میں کشمیریوں کی عافیت ہے۔ اس ساری کھیچا تانی کے نتیجے میں کشمیری گزشتہ ستر سالوں سے دونوں ممالک ان کی اپنی لیڈر شپ کی استحصالی پالیسیوں کی وجہ سے زیر عتاب ہیں۔
اسلام آباد اور دلی میں بیٹھے حکمرانوں کی ایما پر ایک دوسرے کو بھارتی اور پاکستانی ایجنٹ کہنا پاکستان اور بھارت نواز کشمیری لیڈر شپ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ بھارتی حکمران جب ڈھونگ انتخابات کے ذریعے شیخ عبداللہ خاندان یا مفتی سعید خاندان میں سے کسی ایک کو سرینگر کے حکومتی ایوانوں میں بٹھانا چاہتے ہیں تو دوسرا خاندان تب تک آزادی پسند کیمپ کے قریب ہوجاتا ہے جب تک نہ حکومتی قلمدان ان کے ہاتھ میں آنے کی باری آتی ہے۔
بھارت کے اسی فارمولہ کی کاپی کرکے پاکستان نے بھی حریت کے مختلف دھڑے بنادئے۔ تاکہ بھارت سے کسی بھی طرز کے مذاکرات میں کسی ایک دھڑے کا صحیح صحیح استعمال عمل میں لایا جائے۔ پاکستان میں حکومت کسی کی بھی ہو حکمران بھارت سے الجھے بغیر مذاکر ات کا اپنا اپنا ایجنڈا طے کرلیتے ہیں۔ ان ایجنڈوں میں مسئلہ کشمیر کی سطحی اہمیت کا تاثر دینے کے لئے وہ حریت کانفرنس کے دھڑوں کا صحیح استعمال کرکے انہیں اپنے منصوبوں میں فٹ کرلیتے ہیں۔ جنرل ایوب خان سے لے کر یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیا الحق، بے نظیربھٹو، نواز شریف، پرویز مشرف، زرداری حکومت اور اب عمران خان کی کشمیر پالیسی پر سرسری نگاہ ڈالی جائے تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ پاکستان میں بدلتی حکومتوں کی بدلتی کشمیر پالیسیوں کی وجہ سے کشمیریوں نے کتنا سفر کیا۔
مورخین کے مطابق کشمیر میں واحد شیخ محمد عبداللہ ہی ایک ایسے لیڈر گزرے ہیں جنہیں ایک وقت میں عوام کی بھر پور حمایت حاصل رہی ہے۔ لیکن انہوں نے بھی پاکستان سے مایوسی کی صورت میں بھارت سے ایک ایسا معاہدہ کیا جس کا خمیازہ کشمیری قوم اب تک بھگت رہی ہے اور معلوم نہیں آنے والی کتنی نسلوں تک بھگتے گی۔ مورخین کا یہ بھی خیال ہے کہ سخت گیر موقف رکھنے والے آزادی پسند حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی جو شیخ محمد عبداللہ اور ان کی جماعت نیشنل کانفرنس کے ہمیشہ مضبوط حریف رہے ہیں اکیسویں صدی کے عظیم کشمیری لیڈر قرار پا سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ شیخ محمد عبداللہ نے تو ایک طویل جدوجہد کے بعد بھارت سے لڑنا جھگڑنا فضول مشق سمجھ کرایک عوامی لیڈر اور شیر کشمیر کا خطاب پا لیا اور گیلانی صاحب بھی اپنی سخت گیری کی بدولت ہتھیار نہ چھوڑ نے کی ضد میں ایک عظیم لیڈر کا خطاب پا ہی لیں گے لیکن؟ لیکن کشمیریوں کا کیا بنے گا؟ جو نصف سے زائد صدی سے قربانیاں دیتی چلی آرہی ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ آزادی پسند قیادت کے اندر دھڑوں پہ تو گزارا کر لیں گے جبکہ دلی والوں کے لئے شیخ عبداللہ اور مفتی سعید خاندانوں کی موجودگی میں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ لیکن کیا کشمیری مِن حیث القوم مزید سات دہائیوں تک اپنی بربادی کا تماشا دیکھنے کو تیا رہیں؟
پاکستان میں عام انتخابات کے وقت کشمیرکو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور ہر سیاسی پارٹی کے منشور کا اہم نقطہ کشمیر ہی ہوتا ہے لیکن جونہی وقت گزرتا جاتا ہے تو تجارت، ثقافت، سیاست، ہمسایوں سے اچھے تعلقات وغیرہ وغیرہ آڑے آجاتے ہیں یا کشمیر بارے ایسا کوئی فارمولہ تیار کیا جاتا ہے کہ کشمیری بیچارے اسی فارمولے میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ اسی دوران دونوں ممالک کے حکمران اپنا اپنا دور حکومت پورا کرلیتے ہیں۔ بھارت میں جب عام انتخابات قریب آتے ہیں تو بھارتی حکمران کشمیریوں کو تخت دار پر لٹکانے اور ووٹ بٹورنے کے لئے کشمیر میں نافذ بدترین قوانین کا پورا پورا استعمال کرتے ہیں۔
انتخابات کے فوراً بعد بھارتی حکمران ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے شیخ اورمفتی خاندانوں کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔ آخر کب تک یہ کھیل جاری رہے گا؟ کیا متذکرہ سارے حالات و واقعات جھوٹ پر مبنی ہیں؟ کیا سچ صرف وہی ہے جو بھارتی اور پاکستانی حکمران بولتے ہیں۔ اگر تو سچ صرف وہی ہے پھر کشمیریوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اگر کسی نے واقعی عظیم لیڈرکاخطاب پانا ہے تو قوم کی بے مثال قربانیوں کے متبادل اُن کوسچائی اور بہتر مستقبل کی راہ دکھائی جائے کیونکہ دنیا کے ہر عظیم لیڈر کی عظمت ان ہی دو باتوں سے منسوب ہوتی ہیں۔


