قومی سلامتی، ہائبرڈ وار اور ہماری منصوبہ بندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں صورتحال کی سنگینی، خدشات اور قیاس آرائیوں سے کچھ بڑھ کر ہی ہے، ملکی میڈیا (پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا) ان دنوں بحران کاشکار ہے، مگر افرادی قوت وسائل کی کمی اور مالی بحران کے باوجودقومی میڈیا نے اپنی استعداد کار میں کمی نہیں آنے دی، پلوامہ حملے اور پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی دونوں پریس کانفرنسوں میں قومی میڈیا کے کردار کی تعریف اور اظہار اطمینان دراصل ان ذمہ داریوں کا اعتراف ہے جو پاکستانی میڈیا تمام تر مشکلات کے باوجود احسن طریقے سے ادا کررہا ہے۔

یہاں معاملہ محض رجائیت اور قنوطیت کے درمیان سوچ کے تخلیقی فرق کے حائل ہونے کا نہیں ہے، بلکہ ٹیکنالوجی اور جدت  کے ساتھ آنے والے اُن مسائل کا بھی ہے، جن میں سے ایک ہائبرڈ وارفیئر اور دوسرا قومی سلامتی کے تقاضے ہیں۔ آپ اسے ففتھ جنریشن وار کہیے یا ہائبرڈ وار، ایک غیر محسوس طریقے سے ہم اس جنگ کا حصہ بن چکے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ نہ تو ہم نے ڈیجیٹل اختراع کے جلو میں آنے والے مسائل کے بارے میں کبھی سوچا ہے تو نہ ہی ابھی تک یہ ادراک کر پا رہے ہیں کہ کس طرح دشمن اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔

جنگیں اب روایتی نہیں رہیں، خصوصاً بیانیے کی جنگ تو دور حاضر میں جارحیت کی اہم ترین شکل بن چکی ہے، نائن الیون کے بعد مسلم اُمہ کو دہشتگردی کے ساتھ ساتھ بیانیے کی جنگ کا بھی سامنا ہے، بالخصوص پاکستان جو نہ صرف خود ایک طرف دہشتگردی کا شکار ہے، 70 ہزار شہریوں کی شہادتیں اور کروڑوں ڈالر کے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ نائن الیون اور بمبئی حملے کے بعد بیانیے کی جارحیت کاشکار رہا ہے، مزید برآں پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کو عسکری جارحیت کی ناپاک جسارت میں یکے بعد دیگرے ناکامیاں ہی ہوئی ہیں مگر پلوامہ دھماکے کے بعد بیانیے کی جنگ نے جو شدت اختیار کی ہے، اسے واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ پہلی جنگ ہے جو سوشل میڈیا پر بھی لڑی گئی ہے، اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہندوستانی فوج سے زیادہ بھارتی میڈیا نے یہ جنگ لڑی ہے، انڈین میڈیا نے اپنے جھوٹے پروپگینڈے، اشتعال انگیزی اور نفرت کے پرچار سے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کے شعلے بھڑکانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، ان حالات میں جب پاکستان عسکری دھمکیوں، بیانیے کی جارحیت اور ففتھ جنریشن وار کا شکار ہے تو کیا کوئی جامع پالیسی اور مربوط حکمت عملی اپنائی گئی ہے، ابھی تک تو یہ ایک سوالیہ نشان ہی لگ رہا ہے۔

حقیقت تویہ ہے کہ ملک کے روایتی میڈیا (پرنٹ والیکٹرانک میڈیا) کوڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن یاورچوئل رئیلٹی سے اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا قومی سلامتی کو ہائبرڈ وارفیئر اور ففتھ جنریشن وار سے ہے۔ پاکستان کی آبادی کابڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، نہ صرف یہ کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے بلکہ ملک دشمنوں کا بڑا ہدف بھی نوجوان ہی ہیں۔ بدقسمتی سے ایک طرف تو ہماری نوجوان نسل کی اکثریت اپنی قومی تاریخ کے حقیقی پس منظر یا اس کی روح سے آگاہ نہیں، جیسے تحریک آزادی، تقسیم ہند کے فسادات، سقوط ڈھاکہ خارجہ اور داخلہ پالیسی کی سنگین غلطیوں کی تاریخ، جبکہ دوسری طرف انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر جو مواد معلومات کے تبادلے کی شکل میں میسر آتا ہے اس کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا، کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ واقعہ کے بعد سوشل میڈیا کے استعمال میں غیر ذمہ داری کے مظاہرے نے تو مہذب دنیا کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے جبکہ پاکستان میں اکثر اہم واقعات کے دوران جو خبریں اور تصاویر پھیلائی جاتی ہیں ان میں، ”فوٹوشاپ“ وغیرہ کے ذریعے جعلسازی کا جوسلسلہ جاری ہے وہ بذات خود ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

جدت اور ترقی کی کوئی بری بات نہیں ہے، بلکہ اس کے مثبت استعمال سے زندگی میں آسانی اور سہولت آتی ہے، ہمارے ملک میں ڈیجٹل اختراع فی الوقت پاکستان میں غیر ملکی مارکیٹنگ کمپنیوں، شماریات کے ملٹی نیشنل اداروں، اور عالمی پالیسی سازوں کے لئے تو بہت سودمند ثابت ہورہا ہے، جبکہ قومی سطح پر کوئی اہم فائدہ فی الحال حاصل نہیں ہورہا، اُلٹا کچھ مضمرات ہی سامنے آئے ہیں۔

سیاست کے جو حالات آج ہیں وہ ایوبی دور کے مارشل لاء سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں جن کانتیجہ ملک دولخت کرنے اور سقوط ڈھاکہ کا سبب بنا، افغان جہاد کے دور میں بھی بدقسمتی سے پاکستان پر ڈکٹیٹر شپ کاراج تھا، جہاد اور اسلام کے نام پر فرقہ واریت اور مسلح مذہبی تنظیمیں جس طرح مسلط ہوئی ہیں اس کی تباہ کاریاں ابھی تک جاری ہیں، جانی اور مالی نقصان کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ فاشزم، میکاولی فلسفہ سیاست اور فاشسٹ طرز حکمرانی کی کلاسیکل مثال اگرچہ مسولینی کو ہی قراردیا جاتا ہے مگر آج بھی یہ بنگلہ دیش ماڈل، ہندواتا اور دیگر طریقوں سے کسی نہ کسی شکل میں نظر آتا ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاکستانی سیاست پر اردگر کے حالات کا تھوڑا بہت اثر نہ پڑے، ؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اپنی تقریروں میں متعدد بار اس امر کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ پاکستان ففتھ جنریشن /ہائبرڈ وار کے دور سے گزررہا ہے اور دشمن کا ہدف ہمارا نوجوان طبقہ ہے، ہمدردانہ اور پرخلوص جذبے، پوری ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ میں یہاں انتہائی معذرت کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا کہ جن خدشات کا اظہار اور جس خطرے کی طرف اشارہ کیا جاتارہا ہے وہ سراٹھاچکاہے نہ صرف یہ بلکہ ”آتش گیر فصل“ تیار نظر آتی ہے۔

اگر کسی کو شک تو سروے کرواکر اپنی تسلی کرلے، پاکستان کے 47، 5 ملین سے زائد انٹر نیٹ صارفین کی بھاری اکثریت سوشل میڈیا پر باضابطہ اور منظم طریقے سے پھیلائی جانے والی شرانگیزی کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ آج اس وقت پاکستانی سیاست سے برداشت، رواداری، تہذیب اور شائستگی ختم ہوچکی ہے اقتدار کے ایوانوں اور پارلیمنٹ سے لے کر چوکوں چوراہوں تک عدم برداشت، بدکلامی، بدزبانی اور گالم گلوچ کا دور دورہ ہے۔ جس منظم طریقے سے انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پر گروپ بنا کر مخالف سیاسی قیادت اور رہنماوَں کی کردارکشی، گھٹیا اشتہاربازی، غلیظ زبان کا استعمال، اور ناشائستہ گفتگو اور جملے بازی کی جاتی ہے یہ خطرے کاآخری نشان ہے۔ جن دو ادوار کا تذکرہ درج بالا ہوچکا ہے ان میں بھی ایسا ہی تجاہل عارفانہ برتا گیا تھا جس بے پرواہی کا مظاہرہ آج کیا جارہا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پروان چڑھنے والی جہادی جن کو ”قابل فخر اثاثہ“ سمجھا، اور، کہا، جاتا تھا انہوں نے وہ حال کیا کہ بزبان شاعر:

دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

سوشل میڈیا ٹیم کے نام پر جو ”چیتے“، ”ببرشیر“ اورقابل فخر شاہین بچوں کی جس نسل کو پروان چڑھایا جارہا ہے، ان کے فن کاکمال دیکھنے میں اب تھوڑا وقت ہی رہ گیا ہے، 70 سالوں سے نادیدہ قوتوں نے جس کو بھی لایا بعد میں وہ انہی کا دشمن بن گیا، کل کے

جہادیوں کا خمیازہ آپ ابھی تک بھگت رہے ہیں اس کی قیمت آپ سے چکائی نہیں جارہی، آج کے ”سائبر فسادی“ آپ کو کیا عذاب دکھائیں گے یہ آنے والا وقت ہی بہتر بتا سکتا ہے۔

جنرل پرویز مشرف کی حکومت بہت استحکام کے ساتھ چل رہی تھی اُس وقت یہ گمان کرنا بہت مشکل تھا کہ ”ججز بحالی“ جیسی کوئی تحریک آمرانہ اقتدار کے خاتمے کی نوید بن سکتی ہے، بالخصوص سابقہ حکومت کو جن سیاسی ہنگامہ خیزیوں اور قانونی حیرت انگیزیوں کا سامنا کرنا پڑا اُس کے صدمے سے تووہ ابھی تک باہر نہیں آسکے مگر کچھ سچائیوں کا ”ادراک“ بچے بچے کو ہوگیا ہے، اسی طرح آنے والے وقت میں بہت کچھ ”انہونا“ اور ”ان چاہا“ بھی ہوسکتا ہے۔

ملک کی سیاسی فضاء کشمکش، خلفشار اور مایوسی کا شکار ہے، معاشی حالات ابتر، منصوبہ بندی کا فقدان اور قیادت کا بحران ہے، عالمی سطح پر پاکستان ایک مشکل محاذ پر ہے۔ خدا نہ کرے بجٹ سے قبل کوئی بڑا سانحہ یا حادثہ ہو مگر بجٹ کے بعد مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام مجبوراً، ”امپائر“، کی طرف دیکھ رہی ہوگی۔

گذشتہ دو عشروں میں عالمی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیوں بالخصوص اسلامی ممالک میں رونما ہونے والے واقعات اقتدار کی تبدیلیاں اور خانہ جنگی، یہ سب جن اسباب کی وجہ سے ہوا وہ سب پاکستان میں پیدا، ہوچکی ہیں، یا/ کی جارہی ہیں۔ ”تھرڈ امپائر“ کی مرضی تو کچھ اور ہی لگ رہی ہے۔ اگر محاذ جنگ ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وارفیئر ہوا توکیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ، ”امپائر“، اور ”سائبرفسادی“ کیا ”، “ کردار ”“ ”، ادا کریں گے؟

صورتحال کواس کی اصل حقیقت اور تمام پہلووَں سے دیکھنے کے بجائے اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھنے اور اپنی خواہش کے مطابق حل کرنے کی روش نہ کبھی فائدہ مند ہوئی ہے نہ کبھی ہوگی، حالات کا جبر اور بے رحم تقدیر ضروری نہیں کہ انسان کی ہر خواہش کو پورا ہونے دیں، تاریخ انسانی گواہ ہے کہ انسانوں کے کسی گروہ نے جب بھی خواہشات کی غلامی میں نظام قدرت سے بغاوت کی ان کو ناکامی ہی ملی، صدافسوس ’جب خواہشات زندگی کا مقصد بن جائیں اور نیت ہی عمل سے متضاد ہو توسب پندونصائح اور اُصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا جاتاہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زاہد علی شاہ کی دیگر تحریریں
زاہد علی شاہ کی دیگر تحریریں