چکوال کے دہقان اور نیا پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے گاؤں میں کہتے ہیں ”راہ پیا جانئے یا واہ پیا جانئے“ یعنی بندے کو سمجھ اسی وقت آتی ہے جب وہ کسی کام میں اپنی مرضی سے پڑے یا وہ کام اس پر مسلط ہو جائے۔ پڑھے لکھے لوگ اسی بات کو یوں کہتے ہیں کہ کنارے پر کھڑے ہونے سے پانی کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اس کے لئے پانی میں اترنا پڑتا ہے۔

جب کوئی ”راہ پڑ جائے“ یعنی اپنی آزاد مرضی سے کسی کام میں کود پڑے اور پھر بے بسی ظاہر کرے تو میرے گاؤں میں اس سے پوچھا جاتا ہے کہ ”پتہ لگا ای کتنے ویہاں دا سو ہوندا“؟ یعنی اب حساب سمجھ میں آیا کہ کتنے 20 ہوں تو ایک سو بنتا ہے۔ بامحاورہ ترجمہ کچھ یوں ہو گا کہ اب پتہ چلی حقیقت، باتیں کرنا آسان ہوتا ہے۔ یہی بات پڑھے لکھے لوگ یوں کہتے ہیں کہ اب آٹے دال کا بھاؤ معلوم پڑا؟ شاید اسی لئے آج کل پڑھے لکھے علاقوں یعنی شہروں میں آٹے دال کے بھاؤ کو لے کر لوگوں کو کافی آگاہی حاصل ہو رہی ہے۔ زمانہ جدید ہے اس لئے آٹے دال کے ساتھ گیس، بجلی، پٹرول وغیرہ بھی شامل باجہ ہو گئے ہیں۔

میرے گاؤں کے پرانے لوگ اپنی آسانی کے لئے 20 کے ”ملٹی پل“ میں گنتی یاد رکھتے تھے۔ یہ کوئی حیرانی والی بات نہیں ہونی چاہیے کیونکہ میرے گاؤں والے عباسی خلیفہ مامون کی زیر سرپرستی ریاضی کی گتھیاں سلجھاتے موسیٰ خوارزمی کی نسل سے نہیں، چکوال کے سیدھے سادے دہقان ہیں۔

خاکسار نے خود کوئی بیس بائیس برس قبل جب پہلا ڈیبٹ کارڈ بنوایا تو کارڈ ملتے ہی بڑے اشتیاق سے اسلام آباد کی میلوڈی مارکیٹ میں نصب اے ٹی ایم مشین سے اتنے ہی پیسے نکالنے کی کوشش کی جتنے اس وقت ضرورت تھے۔ اب یاد نہیں کہ کھانے اور ریڈ اینڈ وائٹ کے دو کھلے سگریٹ لینے کے لئے 21 روپے ضرورت تھے یا 23۔ بہر حال وہ تو بھلا ہو مشین کا جس نے بتا دیا کہ اے غریب دہقان زادے جس طرح تمہارے گاؤں والے 20 کے ملٹی پل میں گنتی یاد رکھتے ہیں اسی طرح تم بھی یاد رکھو کہ پیسے دینے والی مشین یعنی میں ہمیشہ 500 کے ملٹی پل میں پیسے دیتی ہوں۔

خوشی بھی ہوئی کہ جدید مشین بھی گنتی اسی طرح یاد رکھتی ہے جس طرح چکوال کے دہقان۔ اور پریشانی بھی کہ اس زمانے میں میری کل کائنات تو 500 کے تین چار ملٹی پل ہی ہوتے تھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کبھی کبھی ہی مشین سے ملاقات اور کڑکتے نوٹ نکالنے کی خوشی حاصل ہو پائے گی۔ اگر اکاؤنٹ میں 500 سے کم ہوئے تو کیا مشین سے ملنے سے پہلے بنک میں جا کر اکاؤنٹ میں کچھ جمع کروانا ہو گا کہ 500 کا ملٹی پل بن سکے۔ ان دنوں ”اسی کشمکش میں گزریں میری زندگی کی راتیں“، کیونکہ یہ قانونی مجبوری جو تھی۔

یہ بہت بعد میں پتہ چلا کہ 500 کے ملٹی پل میں پیسے دینا صرف مشینی اے ٹی ایم کی مجبوری ہے۔ کچھ عرصہ قبل معروف ہونے والے انسانی اے ٹی ایم ان مجبوریوں سے مبرّا ہیں۔ وہ بھلے لاکھوں کروڑوں کے ملٹی پل میں دیں، اور 24 گھنٹوں میں جب چاہیں ”کارڈ ہولڈرز“ پر مالی نوازشات کریں، کوئی پابندی نہیں۔ جہانگیر ترین اور علیم خان ہمارے دور میں سامنے آنے والی نمایاں انسانی اے ٹی ایم میں سے ہیں۔ حسن اتفاق کہ دونوں کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔

اے ٹی ایم کا ذکر کرتے خیال آیا کہ سرکردہ پارٹی رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ترین کا پلڑا بھاری ہے اور اس کی بظاہر وجہ ان کی لامحدود اے ٹی ایم کارکردگی ہے۔ دوسری جانب قریشی ہیں جو طبعاً اے ٹی ایم بن ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ تو خود چھوٹے چھوٹے مگر ان گنت اے ٹی ایمز سے مستفید ہوتے ہیں جو سال میں ایک بار تو ضرور اور حسب توفیق ایک سے زیادہ بار بھی قریشی صاحب کے اجداد کے مزارات پر خیر و برکت کے حصول کے لئے حاضری دیتے ہیں۔ اس حاضری کے دوران وہ صاحب مزار سے نسبت کے طفیل ہدیہ عقیدت مخدوم شاہ محمود قریشی کی نذر گزارتے ہیں۔ جو عام طور پر سکہ رائج الوقت کی شکل میں ہی ہوتا ہے۔

تو شاہ صاحب لینے کے عادی ہیں، دینا ان کے مسلک میں نہیں۔ خدا ان کو سلامت رکھے لیکن اگر کبھی آپ اتفاق سے ان کو کسی گڑھے میں گرا پڑا دیکھیں اور وہاں سے نکلنے کے لئے ان کی مدد کا قصد کریں تو کبھی یہ نہ کہئے گا کہ شاہ صاحب ہاتھ دیں۔ بلکہ اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا کر شاہ صاحب ہاتھ لیں کہئے گا۔ اس سے ہاتھ دینے دلانے کا مقصد پورا ہو جائے گا، مخدوم صاحب کی خدمت بھی ہو جائے گی اور آپ کو خیر و برکت حاصل ہو گی۔

بات کہاں سے کہاں نکلی جا رہی ہے کیونکہ بات کی باگیں راہوارِ خیال کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔ بہر حال میں تو مختصراً صرف یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ چکوالی دہقانوں کے مطابق ٹیم نیا پاکستان کو ”راہ پڑ“ کر جانکاری حاصل ہو رہی ہے کہ غزل کہنا ہوٹنگ کرنے سے کتنا مشکل اور مختلف کام ہے۔ اور کتنی 20 غزلیں ہوں تو دیوان کا 100 پورا ہوتا ہے۔ اور لوگوں کو بھی ”واہ پڑنے“ پر اندازہ ہو رہا ہے کہ ”تھا انتظار جس کا یہ وہ تبدیلی تو نہیں“۔ ان پڑھ سہی پر دہقان سچے ہیں کہ راہ پیا جانئے یا واہ پیا جانئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •