نیوز چینلز کے حقائق اور پروپیگنڈے
موجودہ دور میں خبر کی شکل بالکل تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ اگر آج آپ کا قریبی دوست بھی کوئی خبر سناتا ہے تو اس کا مقصد آپ کو انفارم کرنا نہیں بلکہ آپ سے اس پر بحث کرنا یا آپ کے سامنے خود کو دانشور ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اب میڈیا کی کیا بات کریں جو ایک ایجنڈے کے تحت عوام کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
میڈیا کا مختلف پروپیگنڈے اختیار کرنا کیسا عمل ہے؟ ٹیلی ویژن (ٹی وی) کی صحافت ایک دلدل کی طرف بڑھ چکی ہے۔ نیوز چینلز پر خبر کا مقصد صرف ناظرین کو تفریح فراہم کرنا رہ گیا ہے۔ ”نیشنل ٹی وی چینل پر ایک مشہور شخصیت کا بیٹھ کر زور زور سے ہنسنا اور چند مزاح نگاروں کا سیاستدانوں کا مذاق اڑانا“ صرف عوام کو خود کی جانب راغب کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ ٹاک شو کے نام پر صحافی کا کچھ لوگوں کو بلا کر انھیں تجزیہ نگار کہنا اور ان سے بحث کرنا ایک غیر اخلاقی عمل ہے۔ ٹاک شوز نے بھی صحافت کا نظریہ بگاڑ رکھا ہے۔ شاید نیوز چینلز نے ریٹنگ حاصل کرنے کو ہی صحافت سمجھ لیا ہے۔
خبر کا بنیادی مقصد عوام کو آگاہ کرنا ہے۔ جبکہ نیوز چینلز میں خبر کم اور سنسنی زیادہ ہوتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ دیکھنے والے بھی ان سنسنی خیز خبروں کو دیکھنے کے شوقین ہیں۔ چنانچہ میڈیا نے اس کٹھ پتلی عوام کو حقیقت سے لاعلم رکھنے کے لئے ان بے معنی پروگرامز کا عادی بنایا ہے۔
انٹر کے نصاب میں شامل مقالاتِ سر سید سے ماخوز ایک سبق میں سر سید احمد خان لکھتے ہیں کہ : ”جو امر کہ پسندیدہ اور تسلیم کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اپنے فہم اور اپنی عقل سے کام لیں نہ کہ اندھوں کی طرح ایک ہی چیز سے لپٹے رہیں“۔ سر سید کا اشارہ رسم و رواج کی اندھا دھند تقلید کرنے والوں کی طرف ہے جو غور و فکر نہیں کرتے۔ اس بات کا اندازہ ہماری قوم کو بھی نہیں ہے کہ ہم میڈیا کے پروپیگنڈوں کا شکار ہوتے رہے ہیں نیز نیوز چینلز نے ہمارے ذہنوں پر تالے ڈال دیے ہیں۔
نیوز چینلز کا المیہ یہ ہے کہ جب کبھی ان کا تسلسل ٹوٹنے لگتا ہے یہ خبر کو ایک نئی شکل دے دیتے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ عوام کو ملک میں جاری رد و بدل کی رپورٹ سے آگاہ کریں نہ کہ اندھیرے میں رکھ کر اپنا کاروبار چمکائیں۔ غرض یہ کہ نیوز چینلز کا صرف ٹی آر پی بڑھانے کے لئے مختلف پروپیگنڈے اختیار کرنا صحافت کے نظریہ سے ایک نامعقول عمل ہے۔


