غیر ریاستی عناصر، دنیا اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کر ہ ارض جس پر ہم زندگی گزار رہے ہیں، سات براعظموں کا مجموعہ ہے۔ تقریبا تمام برآعظموں پر انسان زندگی بسر کررہا ہے۔ ان بر اعظموں پر لیکریں کھینچ کر مختلف ریاستوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ ریاستیں یونہی وجود میں نہیں آ ئی، بلکہ ریاست کا موجودہ تصور انسان کے ہزاروں سالوں کی فکری کوششوں کا نتیجہ ہے۔ افلاطون سے لے کر میکاولی تک اور میکا ولی سے لے جیمزمل اور تھامس ہابس تک سب نے اپنے اپنے حالات کے مطابق اپنے اپنے دور میں ریاست کے بارے میں اپنے نظریات پیش کیے۔ موجودہ نیشن سٹیٹ انہی فلاسفر کی ذہنی محنت کی ارتقائی شکل ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افراد نے اپنے تمام اختیارات ریاست کے سپرد کیے اور بدلے میں اپنے حقوق کا مطالبہ کر دیا۔ ریاست کی ساخت کے علاوہ ان میں اداروں کے کردار کا تعین ہونے لگا۔ ریاست کی نمائندگی حکومت کے ذریعے طے ہوا۔ مقننہ کیا کردار ادا کرے گا، ایگزیکٹیو کے اختیارات کیا ہوں گے اور قانون سازی کی ذمہ داری کس کی ہوگی۔ نہ صر ف یہ کہ تمام کاموں کے لئے تمام اداروں کے اختیارات کا تعین کیا گیا بلکہ یہ بھی طے کیا گیا کہ ایک ریاست دوسری ریاست کے ساتھ تعلقات کس طر ح استوار کرے گا، اور ان کے لئے کن اُصولوں کے پاسداری ضروری ہو گی۔

آج ریاست بیرونی تعلقات استوار کرتے وقت اپنے نفع و نقصان کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرتی ہے کہ کس ریاست سے کس طرح کے تعلقات نا گزیر ہے۔ بعض دفعہ ریاست اپنے حکومت کے ذریعے دوستانہ اور بعض دفعہ حالات ریاستوں کو دشمنی پر مجبور کر دیتی ہے۔

ریاستوں کے تعلقات میں تاہم نان سٹٹ ایکٹرز کا کردار بیسیوی صدی کے نصف تک بالکل نہ ہونے کے برابر تھا۔ یہ کسی طر ح سے بھی ایک ریاست کے لئے برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا کہ غیر ریاستی عناصر ان کے اندورنی اور بیرونی معاملات میں مداخلت کریں۔ جہا ں کہی بھی نان سٹٹ ایکٹرز نے حکومت کی پشت پناہی اور یا ڈھکے چپے سے دوسرے ریاستوں میں داخل اندازی کی، تو اس کا نتیجہ ریاستوں کے تعلقات میں خرابی اور اس ریاست کی بد نامی پر منتج ہوا، جس ریاست کے ایما پر یہ نان سٹٹ ایکٹرز کارروائیاں کرتے رہے تھے۔

ْامریکہ میں ستمبر حملوں کے بعد دنیا میں تنظیموں کے بارے میں ترجیحات تبدیل ہونے لگی۔ یہ وہی تنظیمیں تھی جیسے روس کے خلاف امریکہ کی پشت پناہی میں استعمال کیاگیا۔ بعد میں چونکہ جہادی کو دہشت گرد اور جہادی تنظیموں کو دہشت گردتنظیم گنا جانے لگا، اس لئے ریاستوں نے ان تنظیموں سے ہا تھ اُٹھا لیا۔

ان عناصر نے جب اپنی بقا کو خطرے میں محسوس کیا، تو اپنے مدد آپ کے تحت اپنی تنطیم کاری شروع کردی۔ اگرچہ دنیا کی تمام مہذب ریاستوں کے نزدیک اب یہ عناصر ناقابل برداشت تھی، تاہم وہ ریاستیں جو اب بھی ان عناصر کی پشت پناہی کر رہی تھی، دنیا کے تمام ممالک نے ان صر ف ان عناصر کے خلاف اقدامات کیے بلکہ ان ریاستوں کے خلاف بھی مختلف فورم پر آواز بلند کی جو ان عناصر کو بڑھاوا دے رہے تھے۔

پاکستان میں چونکہ ان تنظیموں کی ابتدا قدرے مختلف ہے، بہرحال اس کی بنیاد کے بارے یہ ماننا پڑے گا کہ ریاستِ پاکستان نے ان جہادی عناصر کا استعمال تب شروع کیا، جب پاکستان نے پہلی دفعہ قبائلی لوگوں کو 1948 میں کشمیر میں جہاد کے لئے استعمال کیا۔ بعد میں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی مدد سے البدر، الشمس کی تشکیل اور ان کا بنگلہ دیش میں ظالمانہ کردار کی سرپرستی میں ریاستِ پاکستان کا کردار رہا۔ سرد جنگ میں ان جیسی تنظیموں جن کا واحد مقصد سُرخ کافر کو شکست ددینا تھا، کو ضیاء الحق حکومت نے کندھا دیا۔ ان عناصر کو سعودی عرب اور امریکہ سے پاکستان کے ہاتھوں فنڈنگ ہوتی رہی۔ ان کی جسمانی تربیت بھی ریاستِ پاکستان کی ذمہ داری ٹھہری۔

1991 میں روس کا شیرازہ  بکھرگیا۔ دُنیا دو لخت سے یک لخت ہوگئی۔ لیکن وہ فرینکن سٹاین جو کہ پاکستان نے تخلیق کیے تھے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت میں کمی آنے لگی۔ 2001 کے بعد جب مشرف حکومت نے طوعاً و کرہاً بین الا اقوامی دباؤ کے تحت کچھ منتخب تنظیموں کے خلاف ایکشن لینا شروع کیا، تو یہ عناصر اپنی بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے ہی تخلیق کار کے خلاف صف آرا ہوئی۔ اس وقت سے اب تک پاکستان نے تمام کے خلاف نہیں بلکہ دنیا کو خوش کرنے کے لئے صرف چند تنظیموں کے خلاف ایکشن لیا۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ تنظیمیں جس کے خلاف ایکشن لیا گیا، نے بھی نام اور کام کی تبدیلی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھا۔

ْامریکہ میں ستمبر حملوں کے بعد وہ تنطیمیں جن پر پاکستان کا سایہ رحمت رہا، ڈھکے چھپے آج تک اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہیں۔ یہ عناصراب پاکستان کے لئے بھی وبال جان بنی ہوئی ہیں۔ یہ دہشت گرد تنظمیں پاکستان کے خلاف بھی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان حکام نے ان کو اچھے اور برے طالبان میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ملک کا وزیر داخلہ پارلیمنٹ کے فلور پر ان عناصر کی وکالت کرے، اور یہی عناصر بعض با اثر افراد جو ان کے خیر خواہ تھے، کو اپنا کیس لڑنے کے لئے اپنا نمائندہ منتخب کریں۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد، جس میں 134 معصوم بچے نہایت بے دردی سے شہید کیے گئے، کے بعد پاکستان کی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان ( 2015 ) کے نام سے دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک منصوبہ نافذ کیا۔ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق یہ طے کیا گیا کہ وہ دہشت گرد تنظیمیں جو نام بدل کر کام کر رہی ہو اس کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کے مقاصد کی میڈیا کے ذریعے تشہیرکو روکنا، فرقہ واریت پر کڑی نظر رکھنا، دہشت گردوں کو جلدی اور کڑی سزا دینے کے لئے فوجی عدالتوں کا قیام اور اسی طرح چند اہم اقدامات کیے گئے۔

پٹھان کوٹ حملہ، ممبئی میں دہشت گردہو یا پلوامہ مین بربریت کی دستان ہو، دنیا اور خاص کر انڈیا پاکستان کو اس میں ملوث گردانتا ہے اور ان واقعات کے تانے بانے پاکستان سے ملاتا ہے۔ حقائق ہو سکتا ہے اس سے کچھ مختلف ہو، لیکن اگر دنیا کے ممالک اس شدومد سے پاکستان پر الزامات لگا رہے ہیں، تو ہو سکتا ہے ان کے الزامات میں کچھ سچائی کا عنصر موجود ہو؟ پاکستان بھی دنیا کا ایک اہم ذمہ دار ملک ہے۔ اس سلسلے میں دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چلنا پاکستان کے حق میں بہتر ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ زبان اورعمل سے یہ ثابت کرے کہ ریاستِ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتی ہے اور جہاں بھی ضرورت ہو ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ہر سطح پر کارروائی کرنے کے لئے تیار ہے۔

اس سلسلے میں کسی قسم کی معذرت خواہانہ موقف کہ ان عناصر کی نیت ٹھیک ہے، لیکن اپنے مقصد کے حصول کا طریقہ کار غلط ہے، لہذا ان کو اپنی کی نیت کی بنیاد پر کام کرنے دیا جائے، غلط ثابت ہو گا۔ کیوں کہ یہی تنظیمیں اس طرح کی نرم خوئی سے فائدہ اٹھا کر نام اور کام تبدیل کرکے اپنی کارروائیا ں جاری کیے ہوئے ہیں۔

بعض مذہبی /سیاسی جماتیں جو ان تنظیموں کے کاز کواپنے قول سے سہارا دیتے آئی ہیں، پر بھی پابندی لگا دینی چاہیے۔ اکثر علماء اس با ت پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ جہا د کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔ کوئی بھی انفرادی طور ریاست کے اندر سے ریاست کے اجازت کے بغیر دوسرے ممالک یا ملک کے اندر جہاد کی آڑ میں قتل وغارت نہیں کر سکتا۔ ریاست ہی یہ طے کرے گی کہ کب جہاد کرنا ہے۔

پاکستان سے اب دنیا کا اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔ ریاست کی یہ دوغلی پالیسی اخر کب تک چلی گی۔ دنیا کو با ر بار دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کو اگر مہذب دنیا کے ممالک کے ساتھ قدم قدم ملا کے چلنا ہے تو اسے ان غیر ریاستی عناصر کے خلاف بغیر کسی امتیاز کے ایکشن لینا پڑے گا ورنہ آج تو پاکستان ایف۔ اے۔ ٹی۔ ایف کے گرے لسٹ میں شامل ہے اور اگر حالات یہ رہے تو ہو سکتا ہے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے۔

اس سلسلے میں ایف۔ اے۔ ٹی۔ ایف کے نمائندگان نے پاکستان کے حکام سے دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بات چیت کی۔ نمائندگان نے پریس کانفرنس میں بتایا، کہ اگر چہ پاکستان نے کاغذی کارروائیاں بہت کی لیکن عملی طور پر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ۔ یہ حضرات پاکستان سے منہ بسور کے چلے گئے۔

نیوزی لینڈ کے شہر میں دہشت گردی کا جو واقعہ ہوا، اور اس کے بعد نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم نے جس طرح کا ری ایکشن دیا، وہ ہمار ے لئے مشعل راہ بن سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے واقعہ کے بعد کہا، ’یہ دہشت گرد ہم میں سے نہیں ہے، اور آج کے بعد میں اس دہشت گرد کو اس کے نام سے نہیں پکاروں گی بلکہ میں ان کو ہشت گرد ہی کہوں گی۔ اور یہ جو اس واقعہ میں شہید ہوئے وہ ہم میں سے ہیں۔ ‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عباس خان، صوابی کی دیگر تحریریں
عباس خان، صوابی کی دیگر تحریریں