نام نہاد روحانی بابوں کا گھناؤنا دھندا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

با با جی بس ایک بار میرا کام کر دیں، میں ساری عمر آپ کے پاؤں دھو کر پیوں گا !

” تنگ وتارک گلی سے نکلنے کے بعد سیدھے ہاتھ پر ایک چھوٹا سا آستانہ نما کمرہ تھا، جہاں ایک آدمی بڑی عاجزی و انکساری سے بابا جی کی عقیدت میں اپنی گردن خم کیے عرض گزار تھا۔ کمرے میں اور بھی لوگ بابا کی قدم بوسی کے منتظر بیٹھے ہوئے تھے، کمرے میں اگر بتیاں جل رہی تھیں جن کی خوشبو اور کمرے میں دھیمی دھیمی تاریکی مل کر ایک خا ص ماحول کا باعث بن رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ یہ خاص طریق پر شعوری کوشش سے پیدا کیا گیا ہے، فرش پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی اور درو دیوار پر بھی سفیدی کی وجہ سے کمرہ روحانی ماحول پیدا کرنے میں کسی حد تک کامیاب تھا۔ ارد گرد سے نظر ہٹی تو با با جی کی طرف اٹھی، با با جی اپنی وضع قطع سے بابے کم، بابا بننے کے شوقین زیادہ دکھائی دیے۔ ہٹے کٹے آدمی تھے شانوں تک زلفیں بڑھی ہوئیں تھیں، سر پر ٹوپی، سفید لباس اور ہاتھ میں بڑے دانوں والی تسبیح۔

ساتھ میں تین چار چیلے بھی گردن گھما گھما کر اللہ اللہ کر رہے تھے یہ سب کوئی غئیر معمولی نہیں تھا، جتنے بھی بابے دیکھے ہیں ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ایسے نہیں تو ملتے جلتے ہی ہوتے ہیں، سفید بے داغ لباس، سر پر ٹوپی اور ہاتھ میں تسبح، چہرے پر مصنوعی جلال اور آنکھوں میں دہشت لئے ہوئے، گویا مخلوق ِخدا کو ڈرانا ہی ان کا مسلک ہواور یہ سب سادہ لوح، کمزور اعتقاد اور توہم پرستوں کے لیے کافی کشش کا باعث ہوتا ہے۔ وہ سب اپنی تمام مشکلوں، مصیبتوں، پریشانیوں سے نجات کے لئے ان بابوں سے رجوع کرتے ہیں کسی کو بیروزگاری سے چھٹکارا چاہیے تو کسی کو من پسند محبوب درکار ہے، کوئی ناخلف اولاد سے عاجز ہے تو کوئی بے اولادی کا دکھڑا لیے ان کے آگے سرنگوں ہے۔ الغرض دنیاوی خواہشات کے حصول کے لئے جعلی پیروں اور عاملوں کے آستانوں کو تیل فراہم کرتا نظر آتا ہے۔

جعلی پیروں کے پاس جانے والوں میں اگرچہ مرد عورت دونوں شامل ہیں لیکن زیادہ تعداد عورتوں کی ہے اور ان میں زیادہ ترعورتیں ایسی جگہوں پر اولاد کے لیے جاتی ہیں جہاں ناصرف وہ اپنا پیسہ ضائع کرتی ہیں بلکہ ان میں سے اکثریت اپنی عزت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہں ے۔ جب وہ چیختی اور چلاتی ہیں تو خفیہ کیمروں سے کھینچی گئی تصاویر ہمیشہ کے لیے ان کی آواز دبا دیتی ہیں اور ہوس پرستوں کا دھندا بنا رُکے چلتا رہتا ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس شیطانی فعل میں جعلی پیروں، عاملوں کے ساتھ ہم اور ہما را معاشرہ بھی برابر کا شریک ہے۔

ہمارے معاشرے میں عورت کا بے اولاد ہونا بہت بڑا جرم ہے حالا نکہ اللہ کبھی بندے کو مال اور اولاد دے کر آزماتا ہے تو کبھی نا دے کر، اور اسی میں حکمت ہوتی ہے۔ چونکہ ہم انسان اس چھپی حکمت سے آگہی نہیں رکھتے تبھی ہمارے معاشرے میں پیروں، فقیروں کے ہا تھوں ان گنت عورتیں اپنی عصمتوں کو کھو چکی ہیں اور شعور نا ہونے کی وجہ سے یہ گھناؤنا کام جا ری و ساری ہے۔ ابھی چند دن بیشتر فیس بک پر ایک جعلی پیر کی وڈیو جاری ہوئی تھی جو تین سا ل تک ایک ہی علاقے میں اولاد کے جھانسے میں عورتوں کی آبروریزی جیساغلیظ شیطانی اور قبیح فعل کرتا رہا کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ آستانے کی آڑ میں کیا ہو رہا ہے اور وہ تین سو عورتوں کو اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا چکا تھا۔ !

اس جسے کیس سامنے آتے رہتے ہیں لیکن کوئی یہ کیوں نہیں سوچتا کہ وہ کیا چیز ہے جو انھیں خدا کے بجائے، خدا کی مخلوق کے آگے لے جا رہی ہے؟

ہمارا ایمان، اپنے رب پر یقین و بھر وسہ کہاں گیا۔ ؟

اللہ رب العزت قرآن ِ پاک میں بار بار کہتا ہے : ”مجھے پکارو! میں تمہاری پکار کو قبول کروں گا“ ایک اور جگہ پر ارشادِ پاک ہے : ”میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں وہ جب بھی پکارتا ہے“

مجھے بہت افسوس ہے کہ اب لوگوں کی اکثریت نے اس کام کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے ”اصل“ کو چھوڑ کر ”اسم“ کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ بابوں کا بھیس بدل کر ہمارے ایمانوں سے کھیل رہے ہیں اور اس مقدس کام کی آڑ میں بہتوں نے شیطانی اور اخلاق سوز گھناؤنا کام شروع کر رکھا ہے۔ رہی سہی کسر بنگالی عاملوں اور کالے جادوکی کاٹ کا دعویٰ کرنے والے اسکالرز نے پوری کر دی ہے۔ یہ کم وبیش ہر شہر کی چھوٹی بڑی شاہراہوں پر بکثرت بیٹھے مل جا تے ہیں۔ یہ سب اسلام اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہونے کے باوجود، ایک اسلامی ملک میں نا سور کی طرح پھیل چکا ہے اور ہر طبقہ اس نا سور کے ہاتھوں اپنا ایمان و ایقان کو تباہ کر رہا ہے۔

بیرونِ ملک جانے کا ٹکٹ، لاٹریوں، بانڈز کے لکی نمبرز کے لئے بشرطیہ رجوع کریں، کام نہ ہونے کی صورت میں پیسے واپس اور اس جیسے ان گنت دعوؤں سے مزین اشتہارات ہمارے اچھے اخبارات میں بھی شائع ہوتے ہیں اور یہی وہ ذریعہ ہے جس کی وجہ سے ان با بوں، عاملوں کا شیطانی کاروبار پھل پھول رہا ہے۔

پرنٹ میڈیا کواپنے تھوڑے سے ذاتی فا ئدے کے لیے معاشرے میں گمراہ کُن اور شیطانی کام کو راستہ فراہم نہیں کرنا چاہیے۔ عاملوں، بنگالی اسکالروں وغیرہ کا پروپگنڈہ کرنے والے اخبارات پر حکومت کوبھی سخت جرمانہ لگانا چاہیے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں تو سمجھتے کیوں نہیں۔ ! اس کتاب سے زیادہ رہنما کوئی اور نہیں۔ اور اللہ کے سوا ہماری دستگیری کی طاقت بھی کسی کے پا س نہیں۔ خدارا اپنی دستگیری کو کھوکھلے سہارے مت ڈھونڈو۔ !

لوگ کہتے ہیں ہم گناہ گار ہیں ہماری دُعا قبول نہیں ہوتی، میں کہتا ہوں اللہ کو استحقاق و یقین سے پکار کے دیکھو وہ سب کی سنتا ہے اور جو چیزیں ہم میں اور ہمارے اللہ میں دُوری پیدا کرتی ہوں تو اُن کا چھوڑدینا ہی بہتر ہے، اپنے نفس کی غلامی سے نجات کے لیے اللہ سے دوستی کر لجیے۔

نفس، اللہ اور بندے کی دوستی سے بھاگتا ہے یا خود کو غلامی دے دیتا ہے۔ ہمت، محنت اور کوشش کرنے میں کسر نا چھوڑیئے، اللہ تعالیٰ آپ کی لگن کے صدقے آپ کو کامیابی سے نوازے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •