اللہ نصیب اچھے کرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک زمانہ تھا کہ جب کسی گھرکے زنانہ کمرے سے نومولودکی آواز گونجتی تھی اور دائی باہر آکر بتاتی تھی کہ مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے تو سب سُننے والے شکر کرنے کے ساتھ ساتھ کہتے تھے اللہ نصیب اچھے کرے۔ ہم میں سے اکثر جن کا زمانہ گزر گیا ہے، اب بھی بیٹیوں کو یہی دعا دیتے ہیں۔ آج کل ایسی ہی دعا، ٹی وی ڈرامہ سوپ ہو یا سیریل کی پہلی قسط میں ہیروئین پہ پہلی نظرپڑتے ہی دینے کو دل کرتا ہے کہ اللہ نصیب اچھے کرے، نہ جانے آگے آنے والی اقساط میں بیچاری کِن کِن مظالم کا شکار ہوگی۔

کچھ نرم دل خواتین و حضرات تو کمنگ سون کے پرومو اور ٹیزرز کے آن ایئر ہوتے ہی، اپنے ہاتھ بھی ہوا میں بلند کرلیتے ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ کہانی ایک ہی ہے بس تخلیقی کاوش یہ ہوتی ہے کہ مصنف یا مصنفہ کِس مہارت سے نئے مظالم تخلیق کرتا یا کرتی ہے۔ ویسے عموماً کرتی ہی ہے۔ ہیروئین کا بُرا شوہر، بُری ساس، بُری ماں، بُرا باپ، بُرا دیور، بُری نند، بُری بہن، بُرا بھائی، بُری پھپو، بُرا جیٹھ، بُراباس، بُری سہیلی وغیرہ وغیرہ اور اِن سب بُرائیوں میں گھری ہوئی تنہا پارسا ہماری ہیروئین۔

دیکھنے والے تو اُس کو دعا ہی دے سکتے ہیں۔ سکتے سے یاد آیا ایک دن میں گھر پہنچا تو دیکھا کہ بیگم صاحبہ ٹی وی دیکھ رہی ہیں اور سکتے کے عالم میں، ٹکٹکی باندھے ٹی وی پہ نظر جمائے ہیں۔ لفظ نصیب کے گرد کسی لاحقے سابقے کے حامل ڈرامے کی آخری قسط رواں دواں تھی اور اس کے ہمراہ بیگم صاحبہ کی نبض بھی۔ گزشتہ ہفتوں ایک دو بار مجھے تقریباً زبردستی ڈرامے کے نام پہ عقوبت خانے کے مناظر دکھائے گئے تھے۔ چنانچہ مجھے کرداروں کے ناموں سے آشنائی تھی، گوکہ ہیروئین کے علاوہ سب کے کردار مکروہ تھے، جبکہ ہیروئین کا نام مریم تھا۔

آج آخری قسط تھی، میں ہمیشہ آخری قسط کو اقبالِ جرم اور معافی تلافی کی ڈاکیومنٹری کہتا ہوں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا، لیکن اس بار مصنفہ محترمہ معافی تلافی کی بجائے سزا اور جزا پہ یقین رکھتی تھیں۔ ڈرامے کا مرد مرکزی کردار ہیرو یعنی وولن احمد، اس قسط میں دربدر پھررہا ہے جبکہ مریم کو اچھی نوکری مل چکی ہے، جہاں اُس کی گھر سے زیادہ وقعت و حیثیت ہے۔ وہ اپنی بیوی کو لینے سسرال جاتا ہے جہاں سے ذلیل کرکے نکالا جاتا ہے، بیوی خالہ کے گھر چلی جاتی ہے۔

پہلی عزت افزائی سے جی نہیں بھرا تھا چنانچہ احمد وہاں بھی جاتا ہے، وہاں زبردستی لے جانے کی کوشش کرتا ہے تو خالہ پولیس بُلا لیتی ہے، ہم نے گانوں میں بھی سُنا تھا کہ آنٹی پولیس بُلا لے گی مگر شاید احمد نے یہ گانا نہیں سُنا تھا۔ موسیقی سے عدم دلچسپی کے باعث احمد اب تھانے میں بند ہے لیکن وہاں پولیس والوں سے الجھتا ہے اور پولیس تو اپنے باپ کی نہیں سُنتی، وہاں بھی مسلسل ذلیل ہوتا رہتا ہے۔ پاکستان کے کسی تھانے میں ملزم کو کھانا نہیں دیا جاتا لیکن اس ڈرامے میں پولیس والا کھانا لاتا، احمد کو ٹھنڈا کھانا پسند نہیں، گلاس ایک جانب پھینکتا ہے اور پھر ذلیل ہوتا ہے۔

میں بیگم کے چہرے پہ خوشی دیکھ رہا تھا، شاید وہ دل ہی دل میں احمد کی جگہ مجھے محسوس کررہی تھیں۔ خیر یہ ذاتی قصہ ہے، کہانی تو ڈرامے کی چل رہی ہے۔ اگلی صبح عدالت میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں کے جج صاحب دوسری پیشی کے قائل نہیں، وہ ایک ہی سماعت میں بِنا ریمارکس دیے فیصلے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ عدالت ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں جج صاحب بھی بولنے سے پہلے ہتھوڑا بجا کر کونفیڈینس جمع کرتے ہیں، لیکن وہاں احمد نے بلاوجہ بولنا شروع کردیا، آخر ذلیل بھی تو ہونا ہے۔

احمد کا کوئی وکیل نہیں تھا، وہ شیخ رشید صاحب کی طرح خود دلائل دینا چاہتا تھا۔ دلیل کیا دیتا، یقیناً گزشتہ اقساط میں اُس نے بہت سے مظالم ڈھائے تھے، چنانچہ احمد کو باری باری سب نے ذلیل کیا۔ پہلے مریم کے وکیل نے، پھر مریم کے باپ نے اور جج صاحب نے حقائق، شواہد، جراح اور بیانات کی روشنی میں فیصلہ سُنادیا کہ ملزم احمد کو تین سال قید بامشقت، وہ دولاکھ جرمانہ ادا کرے گا اور مریم کو طلاق دے گا۔ یہ سُن کر مریم چونکی کہ میں مہان و عظیم ہیروئین، میرا دل تو شوہر کو ہونے والے سزا پہ پسیج کے رہ گیا ہے۔

خیر جج صاحب منہ موڑ کر چلے گئے۔ بیگم نے سکھ کا سانس لیا اور مجھے یوں دیکھا کہ سجاد زیدی سیدھے ہو جاؤ۔ میں نے نظر انداز کرکے عزت بچائی۔ احمد کو اپنے بُرے کاموں کی خاطر خواہ سزا مل چکی ہے اور ڈرامے کی کہانی منطقی انجام تک پہنچ چکی تھی مگر نہیں، مرد نے ابھی مزید ذلیل ہونا ہے۔ احمد چلایا مریم میں تمھیں چھوڑوں گا نہیں۔ مریم مڑی اور قانون کے مضبوط ہاتھوں میں جکڑے احمد کو زوردار تھپڑ رسید کیا۔ بیگم نے کہا شاباش، مجھے اپنے گال پہ سنسناہٹ محسوس ہوئی۔

میں نے اعصاب بحال کیے اور شکر کیا کہ چلو مردود ہیرو کو کیے کی سزا مل گئی اور عورت نے ہاتھ اُٹھانے کی حسرت ٹی وی سکرین پہ نکال لی، گوکہ ایسا گھروں میں بھی ہوتا ہو گا لیکن مرد کیسے کسی کو بیان کرسکتا ہے۔ اُسے کون سا مظلومیت کے نمبر ملنے ہیں اُسے تو معاشرہ نامردی کا طعنہ دے گا اور دوست جگتیں ماریں گے۔ خیر معاشرے اورمرد کو چھوڑیں، ابھی ڈرامے کے ہیرو کی ذلالت کا مزہ لیں۔ پڑھنے والوں کو یقین ہوگا کہ اس تھپڑ کے بعد ڈرامہ ختم ہو چکا ہے، احمد جیل میں اور مریم اپنی زندگی کو لوٹ گئی، لیکن نہیں، ابھی نہیں۔

احمد کو پولیس پکڑ کر عدالت کی راہداری سے لئے جارہی ہے وہ وکیل کے پاس کھڑی مریم کو گھور کر دیکھتا ہے، مریم جواباً دیکھتی ہے کہ یہ کیسا گھٹیا اور رذیل مرد ہے کہ اسے ابھی بھی ہوش نہیں آیا۔ اِن تمام تاثرات کے تبادلے کے بعد انسپکٹر رعب دار آواز میں کہتا ہے، لے چلو اسے۔ دوسری طرف احمد کی ماں اور مریم کی مکرہ ساس رکشوں میں لور لور یعنی دربدر پھررہی ہے کہ احمد کا پتہ چلے۔ وہ عدالت کے باہر پہنچی تھی کہ احمد نے خود کو پولیس کی گرفت سے چھڑایا اور سڑک پہ بھاگنے لگا۔

بیگم نے کہا یہ ہے ہی عادی کریمنل، دیکھو پولیس سے بھی بھاگ گیا، میں نے کہا ہاں۔ سکرین پہ موجود پولیس زیادہ تربیت یافتہ نہیں تھی اسی لئے احمد کسی اتھلیٹ کی طرح فراٹے بھرتا ان کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا تھا۔ ظالم مردوں کو اتنی ڈھیل نہیں دی جاتی، خدا کی لاٹھی ظالم مردوں پہ بے آواز پڑتی ہے، ایسا کہنا تھا بیگم کا، اور ہوا بھی ایسا ہی۔ احمد سامنے سے آتی آہستہ رفتار کار سے ٹکرا یا اور شدید زخمی ہوگیا، کیونکہ احمد کی اپنی اسپیڈ بہت زیادہ تھی۔

ایمبولنس کا سائرن گونجا۔ مریم روتی پیٹتی گھر پہنچی اور بلک بلک کر ماں کو بتایا کہ احمد کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ اس لمحے مجھے بھی لگا کہ یہ ہیروئین کوئی عام مخلوق نہیں یہ کردار کی پاکیزگی اور استقامت کی اوج پہ ہے۔ ہسپتال میں پتہ چلا کہ احمد کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا ہے، اُس نے ہوش میں آتے ہی مریم سے ملنے کی استدعا کی جسے مریم جیسی عظیم ہیروئین نے قبول کرلیا۔ اور پھر وہی معافی کی ڈاکیومنٹری۔ مریم نے معاف کردیا لیکن اب طلاق ہو چکی تھی، احمد شدتِ ندامت سے لوٹ پوٹ ہورہا تھا، مریم باہر جانے کے لئے پلٹی تو اس کی پاکیزہ آنکھوں سے آنسوں رواں تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •