نواز شریف کسی کو ”باپو“ تسلیم کرنے سے انکاری ہیں
اختلافات کہاں پیدا ہوتے ہیں اور اختلافات ختم کیوں نہیں ہو پاتے۔ سیاسی معاملات میں پوائنٹ آف نو ریٹرن کہاں اور کیوں آ جاتا ہے۔ یہ سوالات اس وقت پاکستان کی موجودہ سیاسی حالات میں جواب کے منتظر ہیں۔ نواز شریف اس حد تک کیوں چلے گئے کہ عارضہ قلب جیسی سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ سخت ترین حالات کا سامنے کرنے کے لئے سینہ سپر نظر آتے ہیں۔ آج اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے ذرا سو سال قبل کی طرف چلتے ہیں۔ لیکن اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ ہر دور کے اپنے حالات ہوتے ہیں اور کسی لیڈر کا کسی دوسرے لیڈر سے تقابل نہیں بنتا اور نہ ہی میں یہ تقابل کرنے لگا ہوں۔
قائد اعظم ؒ کانگریس کے چوٹی کے رہنماؤں میں شامل تھے۔ اختلاف رائے ممکن تھا مگر کسی کی شخصی پیروی کا تصور کانگریس میں بھی موجود نہیں تھا۔ اسی دوران ہندوستان کی سیاست میں گاندھی جی کی اینٹری ہوتی ہے اور تلک کی موت کے بعد وہ اہم ترین رہنماء بن جاتے ہیں اور اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اتنی مضبوط کہ اب جو وہ کہیں گے وہی سچ ہو گا۔ کانگریس کے دیگر رہنما ان کی شخصیت کے زیر اثر آ جاتے ہیں مگر قائد اعظمؒ کسی کی مطلق العانیت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔ یہاں اسے قائد اعظمؒ اور گاندھی کے اختلافات شروع ہوئے کہ قائد اعظمؒ کسی کو باپو نہیں مانتے تھے۔
گاندھی کی مطلق العنانیت کی سیاست کی بات میں کسی جذبات کی رو میں بہہ کر نہیں کہہ رہا۔ مائیکل ایڈورڈز نے اپنی کتاب The Myth of Mahatma میں گاندھی کا یہ قول تحریر کیا ہے کہ۔ ”اب آپ کو میری شرطیں ماننی پڑیں گی۔ میری آمریت اور مارشل لاء جیسا میرا نظم ہو گا“۔ سسا دھر سنہا نے گاندھی کے متعلق کہا تھا کہ سیاست میں گاندھی جی کو کچھ چیزوں سے چڑ تھی۔ مثلاً فکر اور عمل کی آزادی۔ اور قائد اعظمؒ نہ تو کسی کی آمریت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار تھے اور نہ ہی مارشل لاء جیسا نظم وہ برداشت کر سکتے تھے۔ فکر و عمل کی آزادی بھی کسی کی اندھی تقلید میں ترک نہیں کی جا سکتی تھی۔ ایس کے مجمدار اپنی کتاب Gandhi and Jinnah: Their Role in the Quest for Freedom میں تحریر کرتے ہیں کہ گاندھی جی عملی طور پر کانگریس کے آمر تھے جناح کو یہ حیثیت ناقابل برداشت اور نا قابل قبول تھی۔ وہ دادا بھائی نورو جی، فیروز شاہ مہتہ، گوپال کرشن گھوکھلے، سریندر ناتھ بینر جی اور دیگر لیڈروں کی کانگریس کی روائیتوں کے قدیم نگہبان اور بڑے پاسبان تھے۔ جب قائد اعظمؒ نے یہ محسوس کیا تھا کہ گاندھی جی مہاتما کا روپ دھاڑ کر سب کچھ اپنی مرضی اور منشاء سے کرنے پر تلے بیٹھے ہیں چاہے اس کے نتائج کچھ بھی نکلیں تو انہوں نے اس بات کی پرواہ کیے بناء کہ گاندھی جی ایک غیر معمولی اختیار حیثیت کر چکے تھے۔ ان سے جدا ہونے بلکہ ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ ٹکراؤ صرف اسی صورت میں ٹالا جا سکتا تھا کہ آمرانہ رویے کی بجائے گفت و شنید سے کوئی راستہ نکالا جاتا اور میں بھی غلط ہو سکتا ہوں۔ رویہ نرم ہو سکتا ہے کو گاندھی جی تسلیم کر لیتے۔
گوردھن بھائی پٹیل نے اپنی کتاب ”وتھل بھائی پٹیل“ میں تحریر کیا ہے کہ بلند ہمت فکر و عمل میں معقول جناح کے غیر معقول گاندھی سے ان دنوں سخت اختلافات تھے۔ جب لوگ گاندھی ازم سے فدویانہ وفاداری کا دم بھرتے تھے۔ جناح ہی صرف ایسے لیڈر تھے جو سیاست میں آزاد روش رکھتے تھے۔
مسئلہ آج بھی یہی ہے۔ بد قسمتی سے وطن عزیز میں ایک طویل عرصے سے ایک ”باپو“ تراش دیا گیا ہے کہ جو بات یہ باپو کہے گا بس وہی درست ہو گی۔ اور اگر اس کی بات سے اختلاف کیا تو ایسی صورت میں سب سے پہلے غدار، اسلام دشمن کے سرٹیفکیٹ بانٹے جاتے تھے اور اب اس کے ساتھ ساتھ کرپٹ کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جانے لگا ہے۔ یہی نواز شریف کا مسئلہ ہے کہ وہ کسی کو ”باپو“ تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے کی بات سنی نہ جائیں یا اس کے احترام میں کمی لائی جائیں۔ بلکہ اس کو مہاتما کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ نواز شریف نے اپنے پہلے دور حکومت سے آخری دور حکومت تک ہمسائیوں اور بین الاقوامی برادری سے اچھے تعلقات کی بات کی۔ تجارتی رشتوں کو فروغ دینے کی بات کی عسکریت پسندی کے خاتمے پر کام کیا جو وطن عزیز کے لئے زہر قاتل ہے۔ مگر جب ضرورت پڑی تو ایٹمی دھماکے بھی کر ڈالے۔
انہی اقدامات پر مودی کا یار اور مختلف القابات دیے اب ہمیں دوسرے ممالک لیڈر بھی یہی نصیحت کر رہے ہیں اور ہم خود بھی یہی چاہ رہے ہیں۔ لیکن اب مودی فون اٹھانے تک کا روا دار نہیں رہا۔ لیکن جب نواز شریف نے یہی بات کی تو تصور یہ دیا گیا کہ ”باپو“ کے بیان کردہ بیانیے کے خلاف بات کی گئی ہیں اور اس سے دستبردار ہونا چاہیے۔ مگر نواز شریف نے اس سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ نتائج تو ضرور سامنے آنے تھے لیکن جو نتائج سامنے آئے یا آ رہے ہیں ان کے متعلق یہ رائے رکھنا کہ نواز شریف کے لئے نا قابل توقع تھے درست نہیں ہو گا۔ اتنے نشیب و فراز دیکھنے کے بعد وہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ حالات کیا سمت اختیار کریں گے۔ مگر اپنی سوچ سے دستبردار ہونا بغیر کسی دلیل کے ان کے لئے ممکن نہیں رہا۔
جب طبی بنیادوں پر ان کی ضمانت کی خبر آئی تو اس وقت ایک دوست نے مجھ کو فون کر کے کہا کہ اس عارضی ضمانت سے کیا حاصل ہو گا۔ سیاسی معاملات اتنے مشکل کر دیے گئے ہیں کہ نواز شریف کے لئے ان سے نکلنا نا ممکن ہو گا۔ میں نے جواب دیا کہ جب رولٹ ایکٹ 1919 ء کی قائد اعظمؒ نے مخالفت کی اور امپیریل لیجسلیٹو کونسل سے استعفیٰ دے دیا تو انگریز سرکار نے انہیں برما جلا وطن کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ برما تو جلا وطن نہ کر سکے لیکن ایک مملکت کی بھاگ دوڑ ضرور سونپنی پڑ گئی۔ بس ثابت قدمی شرط ہے۔


