میں جمہور کی آواز ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں جمہور کی آواز ہوں۔ ارادہ تو یہ تھا کہ کسی شعر کا روپ دھاروں۔ پھر سوچا شاعر تو تنگنائے غزل کے بقدر شوق نہ ہونے کے مسئلے سے دوچار رہتے ہیں۔ پھر سوچا نظم بن جاؤں لیکن وہ ارادہ بھی توڑ دیا اور فیصلہ کیا کیوں نہ نثر کا سہارا لیا جائے۔ سو اب میں اب ایک کہانی ہوں اور میرے کہانی کار جمہور کی آواز کے منتخب نمائندے ہیں لیکن کچھ طاقت ور کہانی کار ان سے قلم چھین کر میری کہانی خود لکھنے کی کوشش کرتے ہیں، سو یہ کہانی جگہ جگہ سے بے ربطی اور انتشار کا شکار ہوتی رہی ہے۔ میری کہانی سنیے۔

میں جمہور کی آواز ہوں۔ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بے یارو مددگار ہوں۔ مجھ پر شب خون مارنے والے کیا اور میرا سہارا لے کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنے والے کیا، سب نے میرا برا حال کر دیا ہے۔ مجھے دُکھ اس بات کا ہے کہ مجھے تسلسل سے پنپنے بھی تو نہیں دیا گیا۔ مجھے دوسرے ملکوں میں بھی نازونعم سے نہیں پالا جا رہا لیکن اتنا برا سلوک بھی روا نہیں رکھا جا تا۔ یہاں تو میں ہر وقت خطرے میں گھری رہتی ہوں۔ اتنی تو یہاں کی عورتیں غیر محفوظ نہیں جتنی میں ہوں۔ اس قدر امتیازی سلوک کا شکار تو اقلیتیں نہیں، جتنی میں ہوں۔ اتنے ظلم کا شکار تو جانور بھی نہیں، جتنی میں ہوں۔

کچھ کردار کہتے ہیں کہ ان سب کے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان کا براہ راست تعلق میری کہانی سے ہے۔ میری کہانی جسے کبھی تسلسل سے چلنے نہیں دیا گیا۔ میری کہانی کے کہانی کار جتنے بھی ہوں جیسے بھی ہوں ، وہ ہوتے تو جمہور سے ہیں۔ اور جمہور کی آواز کی کہانی تو ایک ہی رہتی ہے لیکن بار بار کوئی طاقت ور کہانی کار مداخلت کرتا ہے اور میرے نمائندہ کہانی کار سے قلم چھین لیتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ یہ کہانی بہت بہتر لکھ سکتا ہے۔ لیکن اس کہانی کے ساتھ ساتھ تاریخ بھی تو لکھی جاتی ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ اس طاقت ور کہانی کار کا طریقہ کار ہمیشہ ہی غلط ثابت ہوا۔

قلم چھیننے سے یاد آیا ، اس شب خون مارنے کے عمل کو کچھ مقدس قلم ہمیشہ ہی سند توثیق عطا کرتے ہیں۔ اسی قلم سے کبھی کبھار میرے کسی کہانی کار کی موت کا، کسی کی ملک بدری کا اورکسی کی قید کا نوشتہ لکھا جاتا ہے۔ میرے لیے یہ مقدس قلم کبھی بھی جمہور کے نمائندہ کہانی کاروں کے ساتھ نہیں رہا، یہ اس کہانی کا مستقل المیہ ہے۔ اس سے مجھے کافکا کا ناول ٹرائل یاد آیا اور ساتھ ہی ایک گلہ بھی جو مجھے یہاں کے فکشن نگاروں سے ہے۔ فکشن لکھنے والوں نے جمہور کے مسائل پر تو بہت لکھا لیکن جمہور کی آواز پر ہونے والے مظالم کو کھل کر قلم بند نہیں کیا۔ کاش مجھے بھی سارتر اور مارکیز جیسے فکشن نگار میسر آتے جو میری آواز کی بحالی کے لیے لکھتے بھی رہے اور عملی طور پر جدوجہد بھی کرتے رہے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا اس ملک خداداد میں میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوا۔ میرے پہلے کہانی کار کو ،جس نے بغیر کسی جنگ کے اتنا بڑا خطہ حاصل کیا، انتہائی بیماری کی حالت میں بے یارومددگار ایک خراب ایمبولینس میں مرنے دیا گیا۔ دوسرے کو لیاقت باغ میں مار دیا گیا۔ ہاں وہیں، اسی جگہ جہاں میری ایک اور کہانی کار کی کہانی ایک طاقت ورنے ابھی چند برس پہلے ختم کی۔

پہلے دو کی قربانی کے بعد بھی یہ سلسلہ رکا نہیں۔ اس ملک کے قیام کے لیے اپنے روز و شب قربان کرنے والی محبوب ترین ہستیوں میں سے دوسری بڑی محبوب ترین ہستی نے جمہور کی آواز بننے کا سوچا۔ بلکہ وہ تو سراپا جمہور کی آواز تھی۔ وہ ایسی کہانی لکھنا چاہتی تھی جس میں جمہور کا بھلائی کا ذکر ہو۔ لیکن اسے کہا گیا تمہاری یہ مجال کہ ہمارے ہوتے ہوئے تم یہ خواب دیکھو۔ اسے تو خیر یہ منصب ہی نہ دیا گیا۔

پھر ایک کہانی کار آیا جس نے حقیقتاً جمہور کی آواز کو جمہور کی آوازبنایا۔ اس کہانی میں اس نے پسے ہوئے اور محروم طبقات کے کرداروں کو اٹھا کر عزت سے جینے کا پیام اور حوصلہ دیا۔ وہ میری کہانی کے اصل کرداروں یعنی جمہور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خوشحال اور خودمختار بنانا چاہتا تھا لیکن اسے ایسا نہ کرنے دیا گیا۔ وہ میری کہانی کے سب سے بڑے خواب کا قتل تھا، جو چار اپریل کو ہوا۔ اور یہ کہانی کا ایسا ٹرننگ پوائنٹ تھا جس کے بعد اصولوں سمیت بہت کچھ بدل گیا۔ خواب بیچنے والے دکانیں بڑھا گئے یا ان دکانوں میں کوئی اور مال بیچنے لگے۔ میں اپنے بعد کے کئی نمائندہ کہانی کاروں کے ہاں پیدا ہونے والی خرابیوں کی جڑ اسی سانحے کو سمجھتی ہوں۔

اس کے بعد قلم اس طاقت ور کہانی کار کے ہاتھ میں تھا جس نے اس دھرتی کی کہانی کو مذہبی لبادہ پہنانے کی کوشش کی۔ اس نے میرے اصل کرداروں پر بہت ستم ڈھائے، میرا گلہ ہی دبا دیا گیا آواز کہاں سے آتی۔ ایسے میں میری ایک اور کہانی کار، ہاں وہی جسے بعد میں لیاقت باغ میں مارا گیا، آنکھوں میں میری بحالی کے خواب سجائے لاہور میں اتری تو جمہور کی آواز بن گئی۔ جمہور نے نہ صرف اسے اپنا کہانی کار تسلیم کر لیا بلکہ سر آنکھوں پر بٹھایا کہ ہاں بی بی! اب تم ہماری کہانی لکھو۔ اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا۔

انھی دنوں طاقت وروں نے ایک نیا کردار متعارف کروایا تھا ،جسے بعد میں جمہور کا کہانی کار بنایا گیا تا کہ وہ ان کے کام آ سکے اور اس کہانی کار کو اس اصل کہانی کار کے ساتھ لڑا دیا گیا۔ نتیجتاً وہ دونوں آپس میں گتھم گتھا ہوتے رہے اور طاقت ور کہانی کار کہانی کی بربادی پر ہنستے رہے۔ یہ تماشا اور اچھل کود چل رہی تھی کہ جب فریق دوئم کی دوسری باری آئی تو اسے چلتا کر دیا گیا،اس نے کمین گاہ کی طرف دیکھا۔۔۔ لیکن تب تک پانی سر سے گزر چکا تھا۔

اس چھینا جھپٹی کی دہائی میں میری کہانی کو اگرچہ نقصان تو بہت پہنچا لیکن اس کے باوجود مجھ جمہور کی آواز کا اتنا برا حال نہیں تھا جو آنے والے برسوں میں ہوا کہ جب یہ قلم براہ راست مقتدر کہانی کار کے ہاتھ آگیا۔ اپنے سے بھی بڑے ایک اور عالمی کہانی کار کی ایک فون کال پر ’ہاں‘ کر کے میرے کرداروں یعنی جمہور کے خون کی ہولی کھیلنے کے لیے دنیا کو لائسنس اسی نے دیا۔ پھر جمہور کی آواز تو پہلے ہی گئی تھی، جمہور بھی گئے اور طویل عرصے کے لیے خاک و خون میں لتھڑے ڈھانچے آسمانوں کی طرف بے بسی سے دیکھنے لگ گئے۔

اتنی دیر تک وہ دونوں کہانی کار جو ایک دہائی تک ایک دوسرے سے الجھتے رہے، یہ سارا کھیل سمجھ چکے تھے۔ انہوں نے آپس میں ایک معاہدہ کر لیا۔ یہ میری کہانی کا بہترین باب تھا جس کا نام ہی میثاق جمہوریت رکھا گیا۔ میں بہت خوش تھی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ میری کہانی کے دو کہانی کار ایک ہو گئے اور میں یعنی جمہور کی آواز خوش ہوں تو انہیں الگ کرنا ضروری سمجھا گیا ورنہ میر ی کہانی کے چل پڑنے کی امید پیدا ہو گئی تھی۔ وہ دونوں واپس آئے اور اب کی بار ایک کہانی کار کا کراچی نے استقبال کیا۔ وہاں اسے ڈرانے کے لیے دھماکہ ہو گیا، وہ نہ ڈری تو پھر جلد ہی اسے لیاقت باغ میں موت کی نیند سُلا دیا گیا۔

جمہور نے بی بی کے نام پر قلم اس کی پارٹی کودے دیا اور انھیں بھی مقدس قلم والوں نے ناکوں چنے چبوائے۔ اس پارٹی نے میثاق جمہوریت میں سے جو ہو سکا کرنے کی کوشش کی اور اٹھارہویں ترمیم جیسا کارنامہ سرانجام دے دیا تا کہ کہانی کے اصل کرداروں یعنی جمہور کوجمہوریت کے حقیقی ثمرات میسر آئیں۔

اب رہ گیا تھا ایک کردار، اس نے کمال بصیرت کا مظاہرہ کیا اور تن تنہا اپنا اور بی بی کا قرض ادا کرنے کا تہیہ کر لیا۔ پانچ سال بعد جب قلم میثاق کے دوسرے حصہ دار کو سونپا گیا تو اسے سب یاد تھا۔ یاد رہنا بھی چاہیے تھا۔ وہ گھائل تھا۔ مسائل مزید گھمبیر ہو گئے۔ اس نے کہانی اپنی مرضی سے آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن ایسا ممکن نہ تھا۔ سب راستے مسدود کر دیے گئے۔ وہ رفتہ رفتہ اس جال میں پھنستا گیا اوراس بار طریقہ کار بھی تو مختلف اپنایا گیا تھا۔ یہاں سے کہانی ایک نئے انداز سے چلتی ہے۔

مقتدر کہانی کار نے سوچا کہ جمہور کے اصل کہانی کاروں سے جب بھی قلم چھین کرہم نے کہانی لکھنے کی کوشش کی یہ پہلے سے زیادہ مقبول ہوئے ہیں۔ سواب یہ طے ہوا کہ مقتدر کہانی کار خود سامنے نہیں آئیں گے بلکہ پس پردہ رہ کر کہانی لکھیں گے اور یہ شور مچائیں گے کہ یہ کہانی جمہور نے لکھی ہے۔ یہ نیا تبدیلی کا ترانہ جمہور کی آواز کہلائے گا۔ آپ انہیں کہانی کار کے ساتھ ساتھ ہدایت کار بھی کہہ سکتے ہیں۔ اب کہانی ان کی ہدایات پر چل رہی ہے۔

سوچتی ہوں کسی کی لکھی گئی کہانی کو اپنی کہانی کہنے والوں کا ضمیر کبھی مطمئن رہ سکتا ہے؟ وہ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی لمحے، اسے ضرور یاد دلاتا ہے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ خیر کہانی چل رہی ہے۔۔۔ لیکن سنا ہے اب اصل کہانی کار و ہدایت کار بھی پریشان ہے کہ جمہور تو بلبلا رہی ہے۔ جمہور کی بلبلاہٹ کو روکنے کے لیے اظہار رائے پر ہر طرح کی قدغن لگائی جا رہی ہے۔ سچ بتاؤں میری آواز کو اتنا تو کسی طاقت ور نے براہ راست طاقت میں رہ کربھی نہیں دبایا تھا۔ لیکن یاد رہے میں جمہور کی آواز ہوں اور جمہور کے اصل کردار یعنی اصل عوام کا بھلا تبھی ہو گا جب یہ کہانی جمہور خود لکھے گی۔ اس میں برے بھلے کردار اور وقت آتے رہیں گے لیکن اسے تسلسل درکار ہے۔ اس کا اس کے سوا اور کوئی حل نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •