ایڈز زدہ خاندان کی موت کی کہانی


دریا کنارے واقع اس قصبے کی آبادی کوئی چالیس ہزار ہوگی۔ یہ بہت چھوٹا سا شہر تھا۔ زیادہ تر پرانے خاندان آباد تھے۔ روز گار کے مواقع کم تھے۔ لوگ چھوٹی چھوٹی دکانوں کے مالک یا کاشتکار تھے۔ اس شہر میں حکیموں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ کوئی جنسی بیماریوں کا ماہر تھا اور کشتے بیچا کرتا۔ کوئی یرقان جیسی نہ ٹھیک ہونے والی امراض کا ماہر کہلاتا۔ یہاں عاملوں کی بھی بھر مار تھی۔ کینسر سے نجات اور بے اولاد جوڑوں کا علاج بذریعہ عمل کیا جاتا۔ یہ سب لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے اور خاموشی سے زندگی گزار رہے تھے۔ الیکشن کے دنوں میں البتہ تھوڑی چہل پہل ہو جاتی جو الیکشن کے بعد یوں ختم ہوتی جیسے آندھی کے بعد ہوا۔ اس قصبے میں ہر سال ایک میلہ لگا کرتا تھا جو یہاں کی واحد تفریح ہوتی تھی۔

حبیب اللہ کی اچانک شدید بیماری نے اس شہر کے سکوت کا خاتمہ کر دیا۔ اسے ایمرجنسی میں ڈاکٹر انجام کے کلینک پر لایا گیا تھا۔ حبیب اللہ یوں تو ذات کا کمہار تھا مگر وہ کئی سال کویت میں ملازمت کرکے لٙوٹا تھا۔ اس نے قصبے میں نیا گھر بنایا تھا۔ جس کے گیٹ لوہے کے بنے تھے اور ان پر سفید چمکدار رنگ کیا گیا تھا۔ اس گھر کی دیواریں سفید ماربل کی بنی تھیں۔ یوں وہ چھوٹا سا وائٹ ہاؤس بن گیا تھا۔ حبیب اللہ خود بھی سفید کپڑے پہنا کرتا۔ اب اس کا شمار شہر کے سفید پوشوں میں ہونے لگا تھا۔ اس نے اپنے گھر کے عقب میں بھینسوں کا باڑہ بنایا ہوا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی اور گھر والے سارے شہر کو دودھ سپلائی کیا کرتے۔ حبیب اللہ روز بروز امیر ہوتا جا رہا تھا مگر اس کی بیماری نے اچانک صورتحال الٹ کر رکھ دی۔

اس کو کھانسی کا شدید دورہ پڑتا۔ کھانستے کھانستے نڈھال ہو جاتا۔ اس کے پھیپھڑوں میں پانی بھر گیا تھا۔ ڈاکٹر پہلے پہل ٹی بی کا علاج کرتا رہا۔ افاقہ نہ ہوا تو اس کے خون کے نمونے آغا خان لیب بھیجے گئے۔ لیب رپورٹ کے مطابق اسے ایڈز ہو گئی تھی۔

یہ رپورٹ اس چھوٹے سے قصبے میں ایٹم بم کی طرح پھٹی۔ قصبے میں بے چینی پھیل گئی۔ ڈاکٹر انجام کی زندگی کا یہ پہلا کیس تھا۔ اس نے ایڈز کے بارے پڑھا تو تھا دیکھا کچھ نہیں تھا۔ اس نے سوچا شہرت حاصل کرنے کا یہ اچھا موقع ہے۔ اس نے ایک اشتہار چھپوایا۔ اس اشتہار میں ایڈز کی علامات اور اس سے بچنے کے طریقے بتائے گئے تھے۔ اس اشتہار نے قصبے کے لوگوں کو مزید خوفزدہ کر دیا۔ رشید طارق اس قصبے کا مشہور صحافی تھا۔ لوگ، خاص طور پر سرکاری ملازم اس سے ڈرتے تھے۔

اس قصبے میں ایک رورل ہیلتھ سنٹر تھا جس کا ڈاکٹر قصبے میں واحد گریڈ سترہ کا افسر تھا۔ سکول ہیڈ ماسٹر اور چیف افسر بلدیہ اس سے چھوٹے افسر تھے۔ رشید طارق نے اخبار میں خبر لگوادی ”شہر میں ایڈز پھیل گئی“۔ اس خبر کے شائع ہوتے ہی محکمہ صحت میں کھلبلی مچ گئی۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر اپنے عملے کے ہمراہ حبیب اللہ کے گھر پہنچا۔ اس کی چھوٹی سی گلی میں اتنی بڑی گاڑی پہلی بار آئی تھی۔ سارا شہر اکٹھا ہو گیا۔ ڈی ایچ او اپنے ہمراہ ایمبولنس لے کر آیا تھا، اسی میں حبیب اللہ کو میو ہسپتال لاہور لے گیا۔

جانے سے پہلے مرکز صحت میں پریس کانفرنس کی گئی۔ صحافیوں اور معززین شہر کو یقین دلایا گیا کہ حکومت حبیب اللہ کا علاج کرائے گی۔ اور مرض کی روک تھام کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرے گی۔ وریں اثنا محکمہ صحت کی ٹیم نے حبیب اللہ کی بیوی، بچوں، بھائی اور قریبی رشتے داروں کے خون کے نمونے اکٹھے کر لئے۔ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو شہر کے مشکوک افراد کے خون کے نمونے لے کر لیب بھجوائے تاکہ ابتدائی سطح پر ہی بیماری کی تشخیص ہو سکے۔ پریس کانفرنس کے بعد جیسے ہی ڈسٹرکٹ افسر باہر نکلے تو دیکھا باہر لوگوں کا ہجوم تھا جو حبیب اللہ کے خلاف نعرے لگا رہا تھا۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر نے شہر کے چیدہ چیدہ معززین اور تمام اخباری نمائندوں کو ہیلتھ سنٹر بلایا۔ زیادہ تر لوگ خوفزدہ تھے۔ انہوں نے سن رکھا تھا کہ ایڈز لا علاج مرض ہے اور یہ ایک سے دوسرے کو لگتی ہے۔ ڈی ایچ او نے لوگوں کو یقین دلایا کہ یہ بیماری شریف آدمی کو نہیں ہوتی۔ یہ بیماری مرد کو ایڈز زدہ عورت سے ہوتی ہے۔ اور جنسی بے راہ روی اور ایک سے زیادہ عورتوں سے جنسی تعلقات کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ کئی شرفا نے ڈسٹکٹ ہیلتھ افسر کو سرگوشیوں میں بتایا کہ حبیب اللہ کی بیوی کا کردار اچھا نہیں تھا اور اس کے کئی لوگوں سے نا جائز تعلقات تھے۔ ان سب کا خون ٹیسٹ کرونا چاہیے۔ افسر نے ان لوگوں کے نام جاننے کی کوشش کی جن کے حبیب اللہ کی بیوی سے ناجائز تعلقات تھے مگر کوئی بھی زبان کھولنے پر تیار نہ ہوا بلکہ ایک دوسرے کے منہ دیکھنے لگ پڑے۔

اخبارات نے اس واقعہ کی خوب کوریج کی۔ اور روزانہ کی بنیاد پر پراگریس شائع کرتے رہے۔ قصبے میں صرف ایک ہی موضوع تھا۔ جہاں چار لوگ اکٹھے ہوتے حبیب اللہ کے خاندان کا ذکر چل پڑتا۔ ان لوگوں کے نام ڈسکس ہوتے جن کے حبیب اللہ کے خاندان کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ ایسے ایسے ناموں پر انگلیاں اٹھیں جو شرافت کا مجسمہ سمجھے جاتے تھے۔ کچھ لوگوں نے خاموشی سے لاہور جا کر اپنے ٹیسٹ کروائے۔

اسی دوران حبیب اللہ کے خاندان کی خون کی رپورٹ آگئی۔ جو اخبارات کی سرخیوں کی زینت بنی۔ اس کی بیوی سمیت دونوں بچے ایڈز کا شکار پائے گئے۔

حبیب اللہ کا خاندان نفرت زدہ خاندان بن گیا۔ شہر میں اس کی بدکرداری کی باتیں زبان زد عام ہو گئیں۔ لوگوں نے ان سے ہاتھ ملانا تو درکنار سلام دعا لینا بھی چھوڑ دی۔ بھولے سے کو ئی ہاتھ ملا بھی لیتا تو فوری طور پر ہاتھ دھوتا۔ وہ لوگ بھی نفرت کا شکار ہونے لگے جن کا کسی بھی حوالے سے ان کے ساتھ نام آتا تھا۔

حبیب اللہ کو کئی دن بعد ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اس کی صحت بہتر ہو رہی تھی۔ اس کی کھانسی ٹھیک ہوتی جا رہی تھی۔ اور بخار اتر گیا تھا۔ اس کی بیوی بظاہر صحت مند تھی اور بچے ہنستے کھیلتے پھرتے تھے لیکن لوگوں کی نفرت اس خاندان کے لئے بڑھتی جا رہی تھی۔ حبیب اللہ کا کاروبار ٹھپ ہوتا چلا گیا۔ اس کے دودھ کی سیل کم ہوتی چلی گئی۔ بھینسوں کو چارہ ڈالنے کے لئے پیسے کم ہوئے تو بھینسیں کمزور ہوتی چلی گئیں۔ حبیب اللہ نے بھینسیں بیچنا شروع کر دیں جن کے اسے مناسب دام نہ ملے۔ اخبار میں حبیب اللہ کے خلاف اشتہار چھپنے لگے۔ ایک دن پولیس آئی اور حبیب اللہ کو گرفتار کر کے لے گئی۔ اس کے خلاف کئی دن تفتیش ہوتی رہی اور پھر وہ رہا ہو گیا۔ اس کی گرفتاری اور رہائی کے اخراجات نے اسے قلاش کر دیا اور نوبت فاقوں پر آگئی۔

لوگوں کی نفرت بڑھتی جا رہی تھی۔ ایک دن معززین شہر کا اجلاس ہوا جس میں حبیب اللہ کے خاندان کو شہر بدر کرنے کی تدابیر زیر غور آئیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ حکومت کا کام ہے۔ زیادہ لوگوں کی رائے تھی کہ ان کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کا سوشل بائیکاٹ تو پہلے ہی چل رہا تھا۔ حبیب اللہ نے باقاعدگی سے نماز پڑھنا شروع کردی تھی مگر امام مسجد تک اس سے ملنا گوارا نہیں کرتا تھا۔ آخر کار ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ سب لوگ مل کر حبیب اللہ کے پاس جا ئیں اور اسے قصبہ چھوڑنے پر مجبور کر دیں۔

چیدہ چیدہ معززین کا ایک وفد تشکیل دیا گیا۔ ان کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ صبح حبیب اللہ کے گھر جائیں اور اسے شہر کے لوگوں کے فیصلے سے آگاہ کریں۔ اگلی صبح وفد حبیب اللہ کے گھر پہنچا۔ وہ کافی دیر دروازہ کھٹکھٹاتے رہے۔ دروازہ نہیں کھولا گیا۔ شور سن کرپہلے گلی کے لوگ اور آہستہ آہستہ سارا شہر اکٹھا ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے حبیب اللہ کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیے۔ اتنی دیر میں پولیس پہنچ گئی۔ میڈیا کی ایک گاڑی کیمرے سیدھے کیے آن کھڑی ہوئی۔ پولیس دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئی۔

حبیب اللہ ایڈز کے موضی مرض سے بچ نکلا تھا لیکن لوگوں کی نفرت کا مقابلہ نہ کر سکا۔ پچھلی رات اس کو معززین شھر کے اسے شہر بدر کرنے کے فیصلے کا علم ہو گیا تھا۔ اس نے سارے خاندان کو قتل کرکے خودکشی کر لی تھی۔

Facebook Comments HS