گھر سے بھاگی ہوئی بیٹی


گاؤں کے دس بارہ معززین احمد علی کے گھر کے صحن میں بیٹھے تنے ہوئے چہروں کے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر تبصرے کر رہے تھے۔ صحن میں چار پانچ ٹوٹی پھوٹی کرسیاں اور دو چارپائیاں پڑی تھیں جو اس گھر کی خستہ حالی کو ظاہر کرتی تھیں۔ ان میں صرف ایک شخص خاموش تھا اور وہ تھا بوڑھا احمد علی۔ وہ سر جھکائے چارپائی پر بیٹھا تھا اورمسلسل زمین کو گھور رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے دل میں طوفان مچا تھا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ درزی تھا اور گاؤں بھر کے کپڑے سیتا تھا۔ ان کے تن ڈھکنے کا وسیلہ تھا اور آج اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ گاؤں کے ہر شخص کے سامنے ننگا ہو گیا ہے۔

اندر کمرے کا دروازہ کھلا اس میں ایک جھری سی پیدا ہوئی۔ ایک عورت نے اس درز سے جھانک کر بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھا۔ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نوجوان اٹھ کر اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ چائے کے کپ لے کر آ گیا۔ وہ احمد علی کا بیٹا تھا۔ کسی سے کچھ کہے بغیر وہ مشینی انداز میں سب کو ایک ایک کپ پکڑاتا گیا۔

”اوہو شاریب بیٹے! خواہ مخواہ تکلف کیا۔ پہلے بھی دو تین بار تو چائے پی چکے ہیں۔ “ گلفراز چاچا نے رسمی سے انداز میں کہا۔ شاریب کا چہرہ اسی طرح بے تاثر رہا اس نے کپ آگے بڑھائے رکھا۔ گلفراز نے کپ لے لیا۔ آخری کپ اس نے اپنے باپ کے سامنے پڑی ہوئی تپائی پر رکھ دیا۔ پھر خود بھی بیٹھ گیا۔ کئی منٹ گزر گئے احمد علی اسی طرح ساکت بیٹھا رہا۔ اس نے ایک بار بھی نگاہ اوپر نہ اٹھائی تھی۔ اب شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ شاریب نے اٹھ کر صحن میں لگے بلب کو روشن کیا۔ میلے سے بلب کی ناکافی روشنی سے ماحول پر کوئی خاص فرق نہ پڑا تھا۔ اچانک چند نوجوانوں کے بولنے کی آواز آئی اوران کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ احمد علی نے چونک کو آوازوں کی سمت دیکھا۔ گاؤں کے نوجوان واپس آ گئے تھے۔

”سب جگہ دیکھ لیا۔ دریا کے ساتھ ساتھ میلوں تک گئے ہیں۔ آس پاس کے سارے گاؤں چھان لئے لیکن ان دونوں کا کچھ پتا نہیں۔ “ ایک نوجوان نے آگے بڑھ کر رپورٹ دی۔ سب لوگ جو بے تابی سے کچھ اور سننے کے منتظر تھے ان کے منہ لٹک گئے۔ ادھیڑ عمر رمضان جو گاؤں کے ایک دین دار آدمی کی حیثیت سے مشہور تھا۔ اٹھ کھڑا ہوا۔

”اٹھو بھائیو! یہ بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ اگر وہ کسی جگہ نہیں ملے تو آخر گئے کہاں؟ میرے خیال میں وہ گاؤں کے اندر ہی کہیں چھپے ہوئے ہیں لیکن ہم انہیں تلاش کر کے رہیں گے۔ “
”اب رات کو انہیں کیسے تلاش کریں گے۔ کیوں نہ کل پھر سے کوشش کریں۔ “ گلفراز نے تجویز پیش کی۔
”صبح تک وہ ہماری پہنچ سے کہیں دور نکل چکے ہوں گے۔ سمجھنے کی کوشش کرو گلفراز بھائی۔ یہ ہماری عزت اور غیرت کا معاملہ ہے ہم آرام کیسے کر سکتے ہیں۔ “

گلفراز نے بھی سر ہلا دیا۔ نوجوانوں کے ساتھ ایک اور پارٹی روانہ ہو گئی۔ اب صحن میں احمد علی کے ساتھ دو تین لوگ رہ گئے تھے۔ وقت جیسے تھم سا گیا تھا گزر ہی نہیں رہا تھا۔ احمد علی کی بیوی نے کھانا تیار کر دیا تھا۔ اس کے گھر میں بیٹھے لوگوں نے بڑی مشکل سے چند نوالے احمد علی کو کھلائے۔ ساڑھے نو بج گئے کسی طرف سے کوئی خبر نہ آئی تھی۔

اچانک گاؤں کا ایک لڑکا تقریباً بھاگتا ہوا آیا۔ ”وہ پکڑے گئے چاچا۔ “ اس نے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ بتایا۔ احمد علی اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے چہرے پر انتہائی کرختگی کے آثار صاف دیکھے جا سکتے تھے۔

”کہاں ہیں وہ؟ “ اس نے پہلی بار زبان کھولتے ہوئے شدید غصے کے عالم میں کہا۔

”لڑکا تو مر گیا چاچا، وہ دونوں رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر بھاگنا چاہتے تھے۔ گاؤں کے لڑکوں نے ان کا پیچھا کیا اور آخر انہیں جا لیا۔ وہاں اس لڑکے نے ہاتھا پائی کی تو گاؤں کے لڑکے نے چاقو نکال کر اس کے پیٹ میں مار دیا۔ یہ لڑائی دریا کے کنارے ہو رہی تھی۔ اسی کشمکش میں وہ لڑکا نیچے دریا میں گر گیا۔ اسی وقت مر گیا ہو گا یہ پہاڑوں کا دریا ہے اس میں تیرنا کسی کے بس کی بات نہیں اور وہ زخمی بھی تھا۔ جب وہ گرا تو میمونہ باجی نے چیخ ماری اور دریا میں کود کر جان دینے کی کوشش کی لیکن لڑکوں نے اسے پکڑ لیا اور اب ادھر لا رہے ہیں۔ “ اس لڑکے نے تفصیل بتا دی۔

”بہت برا کیا ان لڑکوں نے۔ اسے وہیں کود کر مر جانے دیا ہوتا۔ “ احمد علی نے غصے سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا۔ لڑکا خواہ مخواہ ہی سر ہلانے لگا۔ قریب ہی میمونہ کا بھائی شاریب بھی کھڑا تھا۔ وہ بولا تو کچھ نہیں بس غصے اور نفرت سے اس کا چہرہ بگڑا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد گاؤں کے لڑکے اورآدمی پہنچ گئے۔ ان کے درمیان ڈری سہمی میمونہ تھی۔ احمد علی طیش کے عالم میں آگے بڑھا تو گلفراز اس کے راستے میں آ گیا۔

”نہیں احمد علی بھائی! لڑکی کو اندر جانے دو۔ اب یہ بات صرف تمہاری نہیں رہی۔ پورے گاؤں کی غیرت کا مسئلہ ہے۔ آج ہی عدالت لگے گی اور آج ہی فیصلہ ہو گا۔ “

اس نے مضبوط لہجے میں کہا۔ احمد علی چپ چاپ پیچھے ہٹ گیا۔ میمونہ بھاگ کر اندر چلی آئی۔ کمرے میں اس کی ماں کھڑی رو رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو گر رہے تھے۔ میمونہ کو دیکھ کر وہ آگے بڑھی اور ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دیا۔ میمونہ کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ اتنے زور کا تھپڑ اس نے پہلی بار کھایا تھا۔

”ماں۔ “ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کچھ کہنا چاہا لیکن اس کی ماں کے دوسرے تھپڑ نے اس کی زبان بند کر دی۔

”چپ کر کلموہی! تو نے گاؤں بھر میں ہمیں ذلیل کروا دیا۔ کاش تو پیدا ہوتے ہی مر گئی ہوتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ مجھے تو پتا ہی نہ چلا تو جانے کب سے یہ گل کھلا رہی تھی۔ ہم بھی تو تیری شادی کر ہی رہے تھے اس نامراد عاشق کے ساتھ بھاگنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ بول؟ “

” جس پینسٹھ سالہ بڈھے سے تم میری شادی کروا رہی تھیں وہ عمر میں میرے باپ سے بھی بڑا ہے۔ خیراب تو تمہارا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا ہوگا ماں۔ تم لوگوں نے مل کر میرے بختاور کو مار دیا۔ ہائے وہ مر گیا اور میں اب تک زندہ ہوں۔ “ میمونہ نے اس بار زخمی لہجے میں چیختے ہوئے کہا۔

”بے شرم، بے حیا کیسے منہ پھاڑ کر اپنے عاشق کا نام لے رہی ہے۔ میں تو برباد ہو گئی۔ یہ کیسی اولاد مجھے مل گئی۔ “ اس کی ماں نے رونا شروع کر دیا۔

باہر پنچایت لگی تھی۔ گاؤں کے سب بڑے اپنے غم وغصے کا اظہار کر رہے تھے۔ احمد علی سب کو دیکھ رہا تھا۔ رمضان اچھل اچھل کر عزت و غیرت کا احساس دلا رہا تھا جو ہر رمضان میں پھلوں اور سبزیوں کے دام بڑھا دیتا تھا اور ساتھ سموسے پکوڑوں کا سٹال لگاتا تھا۔ ساری گلی سڑی سبزیاں اس طرح ٹھکانے لگ جاتی تھیں۔ افضل دودھ والا جو دودھ میں نہ جانے کہاں سے لے کر پانی ملاتا تھا کہ ایک بار احمد علی کی بیوی نے چھوٹا سا مینڈک بھی اس کے دودھ سے نکالا تھا اور پھر دودھ ضائع کر دیا تھا۔

وہ بھی امانت اور دیانت کا سبق پڑھا رہا تھا۔ اکبر جو کھاتا پیتا آدمی تھا، کئی دکانوں اور ایک چھوٹے سے باغ کا مالک تھا۔ جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس نے پیشہ ور عورتوں کے ساتھ ساتھ گاؤں کی چند لڑکیوں کے ساتھ بھی منہ کالا کیا ہے لیکن ثبوت نہیں چھوڑا وہ بھی لڑکی کی عفت و پاکیزگی اور چال چلن پر لیکچر دے رہا تھا۔

جتنے منہ تھے اتنی باتیں۔ بس ایک بات مشترک تھی کہ میمونہ نے گاؤں بھر کی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے لہٰذا اسے ایسی عبرت ناک سزا دی جائے کہ آئندہ کسی لڑکی کو گھر سے بھاگنے کی جرات نہ ہو۔ کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ تھا جس نے اختلافی بیان دیا ہو۔

وہ مدعی بھی خود تھے۔ وکالت بھی خود ہی کر رہے تھے اور فیصلہ بھی خود سنانے والے تھے۔ بحث کئی گھنٹے چلتی رہی۔ پھر کسی نے کہا کہ لڑکی سے پوچھا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے بھاگی تھی یا لڑکا اسے اغوا کر کے لے جا رہا تھا۔ بات معقول تھی۔ سب کی مشترکہ رائے تھی کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔

چناں چہ لڑکی کو پنچایت میں لانے کا حکم دیا گیا۔ میمونہ کی ماں کو اندر پیغام پہنچایا گیا۔ اب سب بے چینی سے اس کے باہر آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ گاؤں کے وہ نوجوان جو اسے پکڑ کر لائے تھے وہ بھی وہیں تھے اور بے تابی سے اندرونی دروازے کی طرف دیکھتے تھے۔ پھر میمونہ اپنی ماں کے ساتھ باہر آئی دونوں کے جسم بڑی بڑی چادروں میں لپٹے ہوئے تھے۔

سب کی نظریں راجہ عابد پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ اس مجلس کا واحد آدمی تھا جس کی داڑھی کا ایک بال بھی سیاہ نہیں تھا۔ اس کی بھنوئیں بھی سفید ہو چکی تھیں۔ جوانی کے قصے اپنی جگہ لیکن اب اس سے سہارے کے بغیر چلنا بھی ممکن نہیں تھا۔ اب اس کی عبادت گزاری کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ تاہم وہ کریانے کی دکان چلایا کرتا تھا اور اس کی تعلیم محض پیسوں کے حساب کتاب تک محدود تھی۔ آخری فیصلہ اسی نے سنانا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2