ایک خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا ایک خواب ہے کہ خدا کرے ہر گھر میں گھر کے افراد کے مابین فکری تبادلے ہوں، اختلاف رائے کا احترام ہو، نئی سوچوں کو آزادانہ بیان کرنے اور کھلے دل سے سننے کا رواج ہو۔ کسی ایک فرد کا نقطئہ نظر ماننا سب کے لیے لازم نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ سب افراد محبت اور احترام سے رہیں۔ اس خواب کے پیچھے جو وجوہات ہیں وہ یہ ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ کہ اس تحریر کا مقصد قطعی طور پر والدین کی بے ادبی یا ان کی عظمت سے انحراف نہیں ہے۔ صرف چند مشاہدات ہیں جو قلم بند کیے ہیں۔ آج کل ہر طرف تعلیم کا شور ہے۔ حکمرانوں کا بھی یہی خیال ہے کہ تعلیم سے ہی ہم اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ لاتعداد لوگ تعلیم کی دولت سے محروم ہیں تو اس کے ساتھ ہی ڈگری یافتہ لوگوں کی بھی بھر مار ہے۔ ہر سال بے شمار نوجوان ڈگری یافتہ لوگوں کی صف میں آ کھڑے ہوتے ہیں۔

نتیجتاَ اچھا خاصا بڑا تعلیم یافتہ مڈل کلاس طبقہ معرض وجود میں آچکا ہے لیکن وہ ترقی اور انقلاب جو ہم تعلیم سے موسوم کرتے ہیں وہ کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ یہ تعلیم ہمیں آگے کیوں نہیں لے کے جا رہی؟ ڈگری زدہ لوگوں کے اختلاف رائے کا انداز دیکھ کے گھبراہٹ ہوتی ہے، جی چاہتا ہے انسان کہیں روپوش ہو جائے۔ والدین لاکھوں روپیہ خرچ کر کے اپنی اولاد کو ڈگری یافتہ تو بنا دیتے ہیں لیکن اس بات کا پورا انتظام بھی ساتھ ہی ساتھ کرتے ہیں کہ یہ تعلیم انہیں سوال اٹھانے کہ قابل نہ بنا دے۔

یہ بات دورانِ تعلیم اچھی طرح سے باور کرا دی جاتی ہے کہ اس تعلیم کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا ہے لہذا وہ کسی بھی قسم کا انقلاب لانے سے گریز کریں۔ یہ معاشرے کے وہ کردار ہیں جن کا معاشرے کی بہتری میں کردار سب سے معتبر ہے۔ اولاد کو اعتماد دینا، انہیں دنیا کی اونچ نیچ سمجھا کے فکری آزادی دینا اور اپنے ساتھ ساتھ معاشرے اور ملک کے لیے کارآمد و مفید بنانا والدین کے اختیار میں ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کے روزمرہ معمولات سے لے کر ان کی سوچ تک کو کنٹرول کرنے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔

اس طرح سے صرف مصنوعی ادب احترام اور خوشحالی نظر آتی ہے جس سے صرف نفسیاتی مسائل ہی جنم لیتے ہیں۔ والدین کی فطری محبت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ہر مشکل سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایک دن اولاد کو ماں باپ کے بغیر ہی اس معاشرے میں جینا ہے تو پھر کیوں نہ انہیں اس کے لیے قبل از وقت ہی تیار کر دیا جائے؟ پراعتماد اور تخلیقی صلاحیتوں کے مالک لوگ ہی اس ملک کے حالات بدل سکتے ہیں اکیلی ڈگریوں سے کچھ نہ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •