کیا معاشرے کی خدمت صرف ڈاکٹر اور افسر ہی کرتے ہیں؟

ہمارے ملک میں روزگار کے سلسلے میں مختلف پیشے اختیار کرنے میں ذات پات کی طرز کا ایک امتیازی رویہ رائج ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ آرمی افسر، ڈاکٹر یا بیوروکریٹ ہیں تو آپ کا شمار برہمنوں میں ہو گا۔ آپ کا کام زیادہ معزز تصور کیا جائے گا اور اس بنا پر آپ ایک اونچے معاشرتی مقام کے حقدار ہوں گے۔ اِسی طرح اگر آپ کوئی دفتری ملازم یا استاد ہیں تو آپ برہمن سے بہرحال کم

Read more

طلاق كے بڑھتے ہوٸے رحجان كی وجوہات

ہمارے معاشرے میں طلاق کو ایک ٹیبو (Taboo) سمجھا جاتا ہے۔ اِس کے باوجود اِس کی شرح میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک وکیل صاحب سے اِس موضوع پر بات ہوئی تو ٱنہوں نے تصدیق کی کہ فیملی کورٹس میں طلاق کے کیسز میں غیر معمولی اِضافہ ہوا ہے۔ پوچھنے پر ٱنہوں نے وجوہات کچھ یوں بتائیں : ”شوہر مارتا ہے اور خرچا نہیں دیتا“ ”بیوی کا الگ گھر کا مطالبہ ہے“ ”حق مہر ادا نہیں کیا“ مزید ٱن

Read more

کیا یہ بھی کوئی یہودی یا غیر ملکی سازش ہے؟

قیامِ پاکستان، ایک ایسی آزادی کی داستان جس کی بنیادوں میں خونچکاں قربانیوں کی کئی داستانیں چھپی ہوئی ہیں۔ خوف کی دبیز تہوں میں اپنے گھر بار چھوڑنے والوں کی لاکھوں کہانیاں ہیں۔ میری نانی، دادی اور ان کے خاندان اس ہجرت کا حصہ تھے۔ وہ اس ہجرت کو ”أجاڑے“ کے نام سے یاد کیا کرتی تھیں۔ کسی کو سالوں سے بسا گھر بار ایک دم سے چھوڑ دینا پڑے تو اسے ”أجاڑا“ کہنا مناسب ہی ہو گا۔ وہ بتایا

Read more

صفائی نصف ایمان ہے

فلموں، ڈراموں اور خبروں میں مغربی ممالک کی جو جھلکیاں نظر آتی ہیں ٱن میں ایک چیز واضح ہوتی ہے اور وہ ہے صفائی۔ صاف ستھری سڑکیں اور فضا، طوفان اور شدید بارش کے بعد جلد ہی رواں دواں ہوتے معمولاتِ زندگی، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت ٱن پر کچھ زیادہ ہی مہربان ہے۔ کیا یہ واقعی قدرت کی مہربانی ہے یا درِپردہ وجوہات کچھ اور ہیں؟ ہم میں اور ٱن میں کیا فرق ہے؟ ارشادِ نبوی ہے کہ

Read more

پاكستانی خواتین كے محبوب مشاغل

پاکستانی عورت ایک دلچسپ مخلوق ہے۔ اِس کا دل اتنا موم ہے کہ کسی ڈرامہ یا ناول میں بھی مظلوم کردار کی مظلومیت کو دیکھ کر آنکھیں بھر آتی ہیں۔ ہمہ وقت ایک معاشرتی دباٶ سے نبرد آزما لیکن اس کے باوجود بھی زندہ دل۔ کہیں کہیں یہ مردوں سے بھی سبقت لیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ پاکستانی عورت ہر فن مولا ہے۔ یہ تعلیم بھی حاصل کرتی ہے اور پیشہ وارانہ خدمات بھی انجام دیتی ہے۔ گھر بھی سنبھالتی

Read more

آبادی میں اضافہ اور صنفی توازن

ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر روز دنیا میں اوسط 10,000 پاکستانیوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے دن پاکستان میں 15,000 بچوں کی پیدائش ہوئی۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک آبادی کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان چودھویں نمبر سے ترقی کرتے ہوئے چھٹے نمبر پر آگیا ہے، مزید ترقی کا امکان بھی روشن ہے۔ چلیں باقی نہ سہی کسی ایک دوڑ میں تو ہم دنیا کے سینکڑوں ممالک

Read more

پیشہ ور بھكاریوں كی بدمعاشی

کچھ روز پہلے ایک کتاب خریدنے کے لیے بازار جانا ہوا۔ کتاب خریدنے کے بعد ایسے ہی گزرتے ہوئے ملبوسات کے ایک مشہور برینڈ کے سٹور میں داخل ہو گئی۔ گھوم پھر کر مختلف لباس اور ان کی قیمتیں دیکھ کر غریبی کے شدید احساس سے اداس ہو کر باہر نکل آئی۔ خریدنا تو کچھ تھا نہیں۔ گاڑی تھوڑی دور پارک تھی اس کی طرف بڑھتے ہوئے پیچھے سے آواز آئی ”باجی پیسے دے دو“ پیچھے مڑ کے دیکھنے پر

Read more

محنت كی داستان: دوسری كہانی

اپنی مدد آپ کے تحت خود پر بھروسا کرتے ہوئے محنت کرنا اور قدم قدم ترقی کی طرف بڑھنا ایک قابلِ ستائش عمل ہے۔ عام دستور یہ ہے کہ بڑے خواب دیکھنے والوں کو کافی رکاوٹوں اور تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ٱن کی کوششوں کی تعریف اور حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے۔ ہر خواب دیکھنے والا اس صورتِ حال کو سمجھ سکتا ہے۔ ہمارے اردگرد ایسے کردار ضرور ہوتے ہیں جو محنت کی عملی شکل ہوتے ہیں۔ نہ مشکل حالات کا رونا اور نہ ہی تنقید کی پرواہ، بس اپنی ہی دھن میں کام کیے جانا ایسے لوگوں کا خاصہ ہوتا ہے۔ قانون کی طالبِ علم ہونے کے ناطے اس شعبے کہ کچھ لوگوں سے جان پہچان ہے۔ ٱنہیں میں سے ایک اس کالم ”محنت کی داستان“ کی دوسری کہانی ہیں۔

Read more

محنت كی داستان: پہلی كہانی

کامیابی حاصل کرنا محنت سے مشروط ہے۔ جب ہم میں سے کوئی بھی کامیاب انسان یا کامیابی کی بات کرتا ہے یا اس پر لکھتا ہے تو ہمارے پیشِ نظر عام طور پر بڑی بڑی شخصیات ہوتی ہیں۔ ایسی شخصیات جو زندگی گزار چکی ہوتی ہیں اور کسی نا کسی میدان میں جھنڈے گاڑ چکی ہوتی ہیں۔ یقینناَ ایسے لوگ لائقِ تحسین ہوتے ہیں۔ لیکن میری اس تحریر کا موضوع ہمارے ارد گرد موجود ایسے کردار ہیں جن کی زندگیاں محنت اور لگن کی داستانیں ہیں، جن کی محنت سے چاہے کم لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی اور بہتری آئی لیکن وہ اس میں کامیاب رہے۔

Read more

بنام عمران خان: ہمارے جذبات سے كیوں كھیلا؟

زمانہ طالبِ علمی اور نوجوانی میں شاید ہر انسان ہی بہت جذباتی اور آئیڈیلسٹ ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا ہماری مٹھی میں ہے اور کیا ہے جو ممکن نہیں ہے۔ کون سا ایسا خواب ہے جس میں رنگ نہ بھرا جا سکتا ہو۔ جذباتی نعرے اور دنیا بدلنے کی باتیں اس عمر میں بہت متوجہ اور متاثر کرتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا۔ سیاست سے پہلی آگاہی عمران خان کے ذریعے ہوئی۔ عمران خان کی

Read more

حدیقہ کیانی: عمر تو محض ایک عدد ہے

آج معمول کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک لاگ ان کی تو سکرول کرتے ہوئے ایک پوسٹ نظروں سے گزری۔ پوسٹ کچھ یوں تھی کہ نامور گلوکارہ اور سماجی کارکن حدیقہ کیانی کے انسٹاگرام پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف لکھتی ہیں کہ یہ ان، یعنی حدیقہ کیانی کے اللہ اللہ کرنے کی عمر ہے۔ اس کے جواب میں گلوکارہ نے صارف کا نام لیے بغیر مہذب انداز میں جواب دیا کہ کسی کام کی بھی کوئی مخصوص عمر نہیں ہوتی۔

Read more

 کچھ پاکستانی ڈرامہ کے بارے میں

اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہونے والا ڈرامہ سیریل ”چیخ“ ایک اہم سماجی رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ مرکزی کردار منت ایک شادی شدہ عورت ہے جس کا دیور اس کی دوست کو قتل کر دیتا ہے۔ ایسا وہ اپنی جنسی زیادتی کی کوشش کو چھپانے کے لیے کرتا ہے۔ بڑا بھائی بھی اس کی حرکت سے واقف ہو جاتا ہے لیکن خاندان کی عزت بچانے کے لیے اپنے چھوٹے بھائی کو بچانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ملزم اس

Read more

تعصب اور تنگ نظری سے نجات كیسے ممكن ہو؟

کچھ عرصہ، تقریباَ ایک سال قبل، میری ایک دوست جو ایک بہترین تعلیمی ادارے میں معلم ہے، نے اپنی کلاس میں پیش آنے والا ایک واقعہ بتایا۔ یہ سال کا آخری دن تھا اور سب طالب علم کلاس میں لنچ شیرنگ پارٹی کر رہے تھے۔ کلاس کے تمام بچوں نے اپنے عیسائی کلاس فیلو کو اپنے ساتھ کھانے اور اس کا لایا ہوا کھانا کھانے سے منع کر دیا کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھا۔ وہ عیسائی طالب علم بچہ تو جو افسردہ ہوا وہ الگ کہانی ہے لیکن میرے ذہن سے یہ بات ایک سال گزرنے کے باوجود محو نہیں ہو سکی۔ زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ سب بچے 10 سال سے کم عمر کے تھے۔بچوں کے ذہن میں یہ بات کس نے ڈالی؟کیا اسکول اس کا ذمہ دار ہے یا والدین؟

Read more

ایک خواب

میرا ایک خواب ہے کہ خدا کرے ہر گھر میں گھر کے افراد کے مابین فکری تبادلے ہوں، اختلاف رائے کا احترام ہو، نئی سوچوں کو آزادانہ بیان کرنے اور کھلے دل سے سننے کا رواج ہو۔ کسی ایک فرد کا نقطئہ نظر ماننا سب کے لیے لازم نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ سب افراد محبت اور احترام سے رہیں۔ اس خواب کے پیچھے جو وجوہات ہیں وہ یہ ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اس تحریر

Read more

عورتوں کے حقوق کی جنگ

ہر سال 8 مارچ آتا ہے اور معاشرے میں خواتین کے مقام اور حقوق پر ایک بحث چھڑ جاتی ہے۔ دو مختلف اندازِ فکر آمنے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک کا اصرار ہے کہ عورت کے مقام کا تعین اسلام کئی سو سال پہلے کر چکا ہے لہذا بحث کی کوئی گنجائش نہیں اور حقوقِ نسواں کے جو نعرے آج کل لگائے جاتے ہیں وہ بے بنیاد اور مادر پدر آزادی حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔ اس سلسے میں اسلام سے پہلے خواتین کی حالتِ زار موازنے کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ دوسری طرف حقوقِ نسواں کے علمبردار ہیں جو بضد ہیں کہ عورت کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ یہ ختم ہونا چاہیے اور عورت کو اپنی زندگی پر مکمل اختیار ملنا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے دونوں اندازِ فکر کے حامی ایک دوسرے پر عورت کے استحصال کا الزام لگاتے ہیں۔

Read more

سی ایس ایس کا امتحانی نظام: چند گزارشات

 پاکستانی نوجوان گریجویشن کرنے کے بعد جب روزگار کی تلاش میں نکلتے ھیں تو ھزاروں گریجویٹس افسر شاھی کے ٹھاٹ باٹ سے مرعوب ھو کے مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کا فیصلہ کرتے ھیں۔ سی ایس ایس پاکستان کا سب سے بڑا مقابلے کا امتحان ھے جس کا انعقاد ھر سال فیڈرل پبلک سروس کمیشن کرتا ھے۔ ایک أمیدوار اگر پہلی دفعہ میں ھی کامیاب ھو جاۓ تو بھی تیاری سے لے کر امتحان تک اور پھر باقی مراحل سے

Read more