موت کے سودا گر


روزانہ ہزاروں لوگ لا چاری کے عالم میں موت کا شکار ہوجاتے۔ متعدد لوگ کھلی ہوا میں آکر اپنی آخر ی سانسیں لیتے جبکہ بہت سے دیگر اپنے گھر وں کے اندر ہی جان دے دیتے اور پڑوسیوں کو لاش کی بدبو سے موت کی خبر ملتی، پورا شہر مُردوں سے بھر پڑا تھا۔ لوگ لاشوں کو محض اس خوف کے مارے گھروں سے باہر نکال کر دروازوں کے سامنے رکھ دیتے کہ کہیں اُن کے گلنے سڑنے سے اُنہیں بھی مرض نہ لگ جا ئیں۔ بلخصوص صبح کے وقت گھر سے باہر نکلنے والوں کواپنے ارد گرد بے شمار لاشیں نظر آتی تھی تب وہ جاکر تابوت لاتے اور کچھ کو تختے پر ہی ڈال دیتے ایک تابوت میں دو تین لاشیں ہوتی بس ایک مرتبہ ہی ایک تابوت میں ایک لاش دیکھی نہ ہی یہ دیکھا جاتا کہ کس تابوت میں شوہر اور بیوی، دو یا تین بھائی، باپ اور بیٹا وغیرہ ہیں۔ معاملات یہاں تک پہنچے کے لوگ لاشوں کو اس طرح دیکھتے جیسے آج کل مردہ بکر یوں کو دیکھ جا تاہے۔

یہ سولہویں صدی کے اٹلی کے شہر وینس کا منظر ہے۔ اور کم و بیش پورے ملک اور براعظم میں کچھ اسی طرح کے شب و روز تھے۔ یہ وہ وقت ہے جب یورپ میں طاعون کی وبا پھیلی جس نے سارے براعظم کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وبا کو ”کالی موت“ کے نام سے تاریخ میں جانا جا تاہے۔ لا کھو ں لوگ اس بیماری کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اتر گئے اور کم و پیش دس سال تک اس دہشت کا راج رہا۔

وبا (Epidemic) کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد اس کا شکار ہو کر بیمار پڑ سکتی ہے اور موت کے گھاٹ بھی اُتر سکتی ہے۔ طاعون ایک ایسی خطرناک لا علاج بیماری تھی کہ جس نے انسانی تاریخ میں بے پناہ تباہی اور بربادی برپا کی اور اُس کی سب سے بڑی مثال یورپ میں طاعون کا حملہ تھا۔ جس سے لا کھو ں لوگ لقمہ اجل بن گئے۔

ملک میں بڑھتی بیماریاں اور اموات ہماری بے رحمی، روح میں پھیلی وحشت، معاشرتی گرواٹ اور جلد امیر بننے یا دولت اکٹھی کرنے کی اندھی ہوس نے ہمیں انتہا ئی گھناؤنا روپ دے دیا ہے۔ جسے دیکھ کر کوئی بھی انسان دہشت زدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ چند روپوں کی خاطر یہ ایسا وحشیانہ قتل عام ہے جسیے کوئی درندرہ بھی دیکھ کر سہم جائے۔

ذرا غور کیجئے دودھ کی ملاوٹ۔ انسان جو پاکیزہ ترین غذا اپنے اور بچوں کو مہیا کر سکتا ہے۔ وہ دودھ ہے۔ ہمارے آقاﷺکا محبوب ترین مشروب جسے وہ انتہائی رغبت سے نوش فرماتے تھے۔ ہم اُس میں پانی کی ملاوٹ تو عرصہ دراز سے سنتے آئے ہیں۔ اب وہ ملاوٹ انتی غلیظ ترین سطح تک پہنچ چکی ہے کہ ”بال صفا“ پوؤڈر اور دوسرے اسی قسم کے کیمیکل اس میں ملائے جاتے ہیں۔ جس کے نتا ئج لا محالہ جسمانی عارضوں اور پھر خطرناک لا علا ج بیماریوں کی صورت ہمارے سامنے آتے ہیں۔ جن سے اموات تک واقع ہو تی ہیں۔

دراصل یہ نارمل موت نہیں بلکہ درحقیقت قتل ہوتا ہے۔ جو کہ ہفتوں مہینوں سالوں میں متواتر استعمال کی وجہ سے بالآخر اپنے انجام تک پہنچتی ہے۔ گوشت کو دیکھے مرغی، مچھلی، مٹن، وغیرہ تما م اقسام کے گوشت جو ہر گھر میں لوگ اپنی حیثیت کے مطابق پکاتے ہیں۔ جس میں مٹن کے نام پر گدھے کتے اور اسی قسم کے دوسر ے نجس وناپاک جانوروں کا گوشت تک کھلا دیا جا تا ہے۔ اور عوام مجبور ہیں کہ انہیں علم تک نہیں ہو سکتا کہ یہ گوشت جو اُنہون نے کھایا ہے دو درحقیقت تھاکس جانور کا؟

ادویات کو دیکھیں۔ یہ قاتل، ظالم مافیا وہ ادویات بناتے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے کہ ”زندگی بچانے والی ادویات“ مگر جب مریض یا اُ ن کے عزیز وہ دوا لے کر آتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ جب وہ دوا استعمال گے تو صحت یاب ہو کر گھر جا ئیں گے۔ ۔ مظلومیت کا اندازہ لگائے کہ ہا تھ میں جو زندگی بچانے والی دوا ہے وہ دوا نہیں ”موت ہے“۔ جو وہ خودکھائے گا یا اپنے پیارے کو دے گا۔ اور اس طرح بازار میں بکنے والی ہر جنس، تما م مصنوعات بے ایمانی، درندگی اور ہلاکت کا نشان ہیں۔

وینس میں طاعون پھو ٹنے اور اُسکی ہلاکت خیزیوں کی انتہا تک پہنچتے پہنچتے، رفتہ رفتہ وہاں کے مکینوں کے لیے لاشیں، اموات، تعفن اور مایوسیوں کا اتھا ہ سمندرہ زند گی کے عام سے معاملات ہو گئے تھے۔ جب وہ صبح اپنے کام کا ج کے لیے روانہ ہوتے تھے تو ہمسایوں، گلی محلے، چوک اورمیدانوں میں لاشیں دیکھ دیکھ کر وہ عادی ہو گئے تھے۔ کسی کے مر جا نے پر کوئی آہ فغاں نہ ہو تی کو ئی آنسو نہ بہاتا۔ محکمے والوں کا کام بس ان مُردوں کو اُٹھا نا، پھر تختے پر ڈالنا، ایک تختے پر کئی کئی لاشیں لے جا کر اجتماعی قبروں میں دفن کر دینا ہوتا تھا۔ یہ سلسلہ تقریباً دس سال تک دراز رہا۔ اسی طرح پھر ایک اور نیا دن۔ وہ ایک قدرتی آفت تھی وہاں کے شہری بے بس اور مجبور تھے۔ اس بے بسی اور مجبوری نے انہیں بے حس کر دیا تھا۔ کہ موت اُن کے لیے روز مرہ کی صرف ایک ”بات“ تھی۔

ہمارے پاس قوانین بھی ہیں۔ اُس پر عمل کر انے کے لیے فورسس بھی کہ اگر کوئی شخص کسی کو قتل کر دے تو اُسے کے لیے سزاے موت یا عمر قید ہو تی ہے۔ اور دیگر سزائیں مقر ر ہیں۔ دوسری طرف ان قاتلوں کے لیے جو سینکڑوں ہزاروں لاکھوں لوگوں کے قتل میں ملوث ہیں اور زہر بیچتے ہیں۔ کوئی سزا نہیں ہے۔ یہ وہ درندے ہیں جن کے منہ کو خون لگا ہوا ہے۔ ہلکی پھلکی دھمکی سے اُن کا کچھ نہیں بگڑ سکتا۔ یہ ایک خطر ناک قاتل مافیا ہے۔

پارلیمنٹ کو چاہیے کہ اس پر قانون سازی کرے، حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ہے۔ اور ان کے لیے ایسی سزا مقرر کرے جس کی کم سے کم سزا عمر قید ہو۔ سپریم کورٹ۔ اس پر Sou Moto ایکشن لے اوراس مافیا کے خلاف زبردست کر یک ڈاؤن کر نے کے احکامات جاری کر ے۔ اور حکومت اس پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔ اور اس قتل عام کے خاتمہ کو ہر صورت یقینی بنائے۔

صرف حکومت نہیں پارلیمنٹ میں بیٹھے تما م معز ز ارکان کا یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ کہ ان کرڑوں لوگوں کہ جن کے ووٹ لے کر وہ ایوان میں جا بیٹھتے ہیں وہ لو گ جب سارا دن محنت مشقت کے بعد جو روٹی کما کر لاتے ہیں۔ وہ بچہ جو اُسے حلق میں اُتارتا ہے۔ وہ ”موت نہ ہو۔ “۔

طاعون ایک چھوت کا مرض ہے۔ جو ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوکر اپنے پنجے گاڑ دیتا ہے۔ اور موت تک اُ س کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ جسما نی طاعون سے انسان مر جاتے ہیں۔ خواہ لاکھوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ مگر اخلاقی طاعون سے قومیں فنا ہو جا تی ہیں۔ اور پیچھے عبرت کے لیے صرف ٹوٹے پھوٹے مزار ہی باقی رہ جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS