مولانا تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند برس قبل پاکستان گیا تو ہمارے ایک دیرینہ دوست نے فون کیا اور خوشخبری دی کہ آج ان کے یہاں حضرت مولانا تقی عثمانی تشریف لا رہے ہیں ملنا چاہو تو آ جاؤ۔ میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا تھا کہ حضرت کی صحبت میسر ہوتی واضح رہے کہ جب ہم پاکستان میں رہتے تھے تو میں آپ سے متعدد مرتبہ ملاقاتوں کا شرف حاصل کر چکا تھا مگر ایسی نیک و صالح اور سراپا فکر عمل کی جیتی جاگتی زندہ و جاوید شخصیت سے جتنا بھی ملا جائے تشنگی تو باقی ہی رہتی ہے۔ لہذا وقت مقررہ پر ان کے دولت خانے پہ حاضر ہوگیا اور مولانا کی پر اثر فکر انگیز اور نہایت روحانی کلمات و گفتگو سے مستفیذ ہونے کا شرف حاصل کیا۔

پچھلے ماہ جب مولانا پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا تو یہ خبر بجلی بنکر دل پہ گری اور طبیعت نہایت دل گرفتہ و رنجیدہ ہوگئی۔ مگر اس بات سے ڈھارس بندھی اور ملانا تقی عثمانی کو خدا لایزال نے اپنی حفاظت میں رکھا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ پر اس طرح کا حملہ کیوں کیا گیا تو اس کے لئے ہمیں مولانا تقی عثمانی کی اپنی شخصیت ان کے خیالات مولانا کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی پاکستان سے نظریاتی محبت اور جد و جہد کو بھی زیر غور لانا ہو گا۔ یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ مولانا تقی عثمانی کا خاندان وہ واحد خاندان ہے جس نے ناصرف کھل کر پاکستان کی بلکہ قائد اعظم کا اس وقت بھر پور ساتھ دیا جب جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں نے قائد اور قیام پاکستان دونوں کی مخالفت کی مولانا شبیر احمد عثمانی کی خدمات قیام پاکستان اور حمایت قائد اعظم میں سنہری الفاظ میں لکھنے لائق ہیں۔

مولانا تقی عثمانی دینی اور دنیاوی علوم میں یکساں کامرانیوں کی داستان کا نام ہیں آپ نے قرآن و حدیث اسلامی فقہ و شریعت کے ساتھ ساتھ متعدد ماسٹرز ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ آپ کو عربی کے علاوہ بہت ساری دیگر زبانوں پر بھی عبور حاصل ہے آپ مبلغ دین کی حیثیت سے دنیا بھر میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں اور آپ کی آراء کو اہم معاملات میں دنیا بھی کی پذیرائی حاصل ہے۔ آپ سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں اور وفاقی شرعی عدالت کے سربراہ۔ آپ اسلامی نظریاتی کاؤنسل کے ممبر بھی رہے اور یہ کہ آپ نہت عمدہ شاعر بھی ہیں اور آپ کی لکھی ہوئی ایک دعا جو مجھے آپ ہی کی زبانی سننے کا موقع بھی ملا

”الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں

سراپا فکر ہو عجز و ندامت ساتھ لایا ہوں ”

زبان زد عام ہے

آپ شب و روز اشاعت دین احیاء دین اور نصرت دین کی سربلندی میں ایک ہراول دستہ ہیں۔ مجھ ناچیز کے علاوہ آپ انگنت دلوں کی دھڑکن ہیں۔ آپ باقاعدگی کے ساتھ خطبات عطا فرماتے ہیں اور لوگوں کو ان کے اعمال و افعال پر نصیحت کا دروازہ کھولے ہوئے ہیں۔ آپ نے ہمیشہ امن و آشتی کو پروان چڑھانے کے لئے اپنی ذاتی حیثیت میں کام کیا ہے اور اس عمل کی سیکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب لال مسجد کا واقعہ ہوا تو اس کارروائی کو رکوانے کے لئے مولانا بذات خود انتھک محنت میں مشغول رہے مگر صد افسوس کہ نہ تو لال مسجد والے مانے اور ناں ہی حکومت وقت نے اپنا ہاتھ روکا مگر مولانا تقی عثمانی کے کردار اور کوششوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

بحیثیت جج آپ کی بے شمار رولنگز اور فیصلے آپ کی علمی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں آئین پاکستان کو اسلامی اور شرعی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں میں دیگر قانون دانوں اور علماء کے علاوہ آپ کا کردار مینارہ نور کی مانند ہے۔

مگر یہ سوال اپنی جگہ اب بھی قائم ہے کہ آپ پر یہ حملہ کیوں کیا گیا اس کا جواب شاید قانون نافذ کرنے والے یا تفتیش کرنے والے ادارے تو نہ دی سکیں مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کلمہ حق بلند کرنے والے ہی سولی پہ چڑھائے گے انہیں کے سر نیزوں پہ چڑھائے گے امن محبت بھائی چارے وطن دوستی ایثار بین الا مذاہب ہم آہنگی فرقہ وارانہ امن کے داعی ہی امن کے دشمنوں اور وطن کے غداروں کی ہٹ لسٹ پر ہوتے ہیں مجھے بھی یہ معاملہ ایسے ہی فاسق اور امن دشمن لوگوں کی ناکام کوششوں کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔

یہ وہی لوگ ہیں جو امن کے ہر داعی کی آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش کرنے کے درپے رہتے ہیں یہ وہی ہیں جنہوں نے مملکت خداداد پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں کو اپنا ہاتھ تھما دیا ہے یہ ہم ہی میں سے ہم ہی جیسے بن کر ہمارے ہی دست و بازو شق کرنے کی شازشوں میں ہمارے دشمنوں کے آلہ کار بن چکے ہیں اور یہ کسی قسم کی رعائیت کے ہر گز مستحق نہیں ہیں

حکومت تو اپنا کام کرے گی یا نہیں میں نہیں جانتا لیکن میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ ایک حاکمیت جہانوں پہ چھائی ہے اور اس کا مالک سب جانتا ہے اور سمجھتا ہے مگر اس نے ان فاسقوں کی رسی کو ذرا دراز کیا ہوا ہے مگر جلد ہی وہ اس کی پکڑ میں آنے والے ہیں اور وہاں کوئی مصلحت آڑے نہیں وہاں میزان ہے اس قانون کی آنکھیں بھی کھلی ہیں مگر اس کے ایک ہاتھ میں اجر و کامرانیاں ہیں تو دوسرے ہاتھ میں دردناک عذاب ہے اور وہ انہیں لوگوں کے لئے ہے۔ اور یہ تو ہوکر ہی رہے گا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت جاگے اور دیانتداری سے مولانا تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ آوروں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور شفاف تحقیقات کرئے اور اسے عوام کے سامنے لائے وگرنہ ہم اسی طرح ان لوگوں کو ڈھیل دیتے رہے تو ان حوصلے اور بھی بڑھ جائیں گے جو قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔

حکومت جو ریاست مدینہ کی بنیاد پہ حکومت کرنے کے ارادے یہ آئی ہے کے لئے انتہائی شرم کا مقام ہے ابتک اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں ہوئی ہے ناصرف اس معاملے میں بلکہ مولانا سمیع الحق کا ناحق خون بھی ابھی حکومتی انصاف کے دروازے پر جواب کا منتظر ہے۔ یہ سب روکا جا سکتا ہے اگر حکومت وقت معاشرے کے ان ناسوروں کو کاٹ پھینکنے کا ارادہ کر لے۔ حکومت وقت کے پاس سب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اگر وہ چاہے تو اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ایسا چاہتی ہے یا طفل تسلیوں سے ایسے معاملات کو دبا رہنے دینا چاہتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •