سفرنامے ’’ شنگریلا کی تلاش ۔۔بلتستان میں ‘‘ سے ایک اقتباس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 5
  •  

میری داہنی طرف برف پوش پہاڑوں کا سلسلہ مجھ سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ اسی سلسلہ میں کہیں دنیا کا نواں اور پاکستان کا دوسرا سب سے اونچا پہاڑ نانگا پربت بھی چھپاہو اتھا۔ چھبیس ہزار چھ سو اٹھاون فٹ بلند نانگا پربت کو کلر ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں برف سے بنا ایک قلعہ ہے جس میں پریاں رہتی ہیں۔

دیومالائی حُسن لئے یہ پہاڑ ایسا شا ہکار ہے کہ انسان اسے دیکھتا ہی چلا جاتا ہے۔ انسان کا جی چاہتا ہے کہ وہ اس کے اوپر جائے، اس کے اندر جائے، اس کے گنگناتے جھرنوں کے گیت سنے، ہوا سے سرگوشیاں کرتے پھولوں کی سرگوشیوں پر کان دھرے، اس کے دامنوں میں پھیلی جھیلوں کے کنارے پتھر پر بیٹھ کر گھنٹوں ان کے بدلتے ہوئے رنگوں کا نظارہ کرے۔ اس میں اٹھتے برف کے طوفانوں کے سامنے بانہیں پھیلا دے۔ ایسی ہی خواہشیں لے کر سینکڑوں لوگ نانگا پربت کی طرف بڑھتے رہے، کچھ کامیاب لوٹے، کچھ ناکام اور کچھ اس کے طوفانوں میں کھو گئے۔ اس کی طرف بڑھنے والوں میں زیادہ تر لوگ جرمن تھے اس لئے اس پہاڑ کوجرمن پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔

ہم تھالیچی کے قریب نانگا پربت ویو پوائنٹ پر پہنچے۔ سب تصویریں بنانے میں مصروف ہو گئے۔ میں دریا کے پار مٹیالے پہاڑوں سے پرے آسمان کے ساتھ جڑی ہوئی اس برف نگری کے حسن کے سفید موتی سمیٹنے میں مگن تھا۔ یہ نگری آج کافی زیادہ واضح، نکھری اور دُھلی ہوئی، دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی چوٹیاں بادلوں کے سفید تاج اوڑھے شہزادیاں دکھتی تھیں۔ غارت گر شہزادیاں جنہیں پانے کے لئے کتنے دیوانے برف نگر کا حصہ ہو گئے۔ میں اپنے قرطاس ذہن پر کتنے ہی کوہ پیماؤں کی بنتی بگڑتی تصویریں دیکھ رہا تھا۔

1934 کا سال تھا۔ جرمن کوہ پیما وِلی مرکل اپنے بیس کیمپ میں بیٹھا اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہا تھا۔

جرمنی میں ہٹلر کی نازی حکومت فتوحات پہ فتوحات حاصل کر رہی تھی۔ وِلی مرکل اس قاتل پہاڑ کی چوٹیوں پر اپنے وطن کا جھنڈا لہرانے کا خواب لے کر یہاں پہنچا تھا۔ اُ س کی حکومت اور ملک نے اُ س کی خوب مدد کی تھی۔ اُس کی خواہش سے کہیں زیادہ فنڈز اُ س کے حوالے کیے تھے۔ اِس لئے اُس نے اس مہم کی کامیابی کے لئے خصوصی اقدامات کیے تھے۔ اپنے دور کے ماہر کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم بنائی۔ کوہ پیمائی کی تعلیم کے ماہرین کے تیار شدہ مستند نقشے اکٹھے کیے۔ علاقے کے چپے چپے سے واقف تجربہ کار پوٹرز اپنی ٹیم میں شامل کیے۔ اپنے وقت کاجدید ترین وائرلیس سسٹم اپنے ساتھ رکھا تاکہ پل پل کی خبر بیس کیمپ تک پہنچائی جا سکے۔ کیمپنگ کا جدید ساز وسامان بھی اُس کے ہمراہ تھا۔

اُس نے اپنے پیش رو یورپین کوہ پیما البرٹ ممری کا بھی خوب مطالعہ کیا تھا جس نے 1895 میں نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش کی تھی مگر نانگا پربت کی برفوں نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ مرکل نے ممری کی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ دوسال پہلے بھی وہ انہی رستوں پر انہی برف جزیروں تک رسائی کے خواب لے کر نکلا تھا۔ مگر برفانی طوفانوں نے اُسے ایسا بھٹکایا تھا کہ وہ نانگاپربت تک جانے کی بجائے راکا پوشی کی راہوں پر چل نکلاتھا۔ اپنی ناکامی کے بعدپچھلے دو سال اس نے ہر وہ اقدام اٹھائے تھے جو اسے کامیابی کا دن دکھا سکیں اور یہ کہ اس سے کسی قسم کی کوئی بھول نہ ہو۔

وہ اپنے ساتھیوں کے برزل پاس کی طرف سے تقریباً سو میل کا سفر طے کرتا ہوا آگے بڑھ رہاتھا۔ برزل پاس پر ابھی تک برف نے ڈیرے جما رکھے تھے اور موسم بھی اُس کے حق میں نہیں تھا۔ مگر اُسے وقت ضائع کیے بغیر آگے بڑھنا تھا اور اپنے راستے میں آئی تمام رکاوٹوں کو عبور کرنا تھا۔ اُس کا حوصلہ، جوش اور ولولہ آسمان کی بلندیاں چھو رہا تھا۔ اُس نے رائے کوٹ کے پُل کی طرف سے چلنا شروع کیاتھا تاتوکے گاؤں کے قریب کیمپنگ کی تھی۔

سترہ دن چلتے ہوئے وہ برف کے اُسی میدان میں پہنچا تھا جہاں اُس نے دو سال پہلے بیس کیمپ بنایا تھا۔ یہاں سوائے برف کے کچھ نہیں تھا۔ ہوائیں تھیں کہ کوہ پیمائی کے لباس کے اندر بھی جسم کو چھونے سے باز نہیں آتی تھیں جب اُس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں کیمپ بنایاتو یہ کسی قصبے سے کم نہیں دکھتا تھا۔ اُس کے کیمپ میں اُس کے ساتھی کوہ پیماؤں کے علاوہ بیسیوں پوٹر اور کارندے تھے۔

مئی کا مہینہ تھا ابھی بھی ٹنوں برف پگھلنے کے وقت کی منتظر تھی۔

ایک چمکتی صبح اُس نے تین آدمیوں پر مشتمل ایک گروپ کو معلومات کے حصول کے لئے آگے بھیجا تھا جس نے واپس آکر اچھی خبریں سنائی تھیں۔ اگلے دن انہوں نے سفر جاری رکھا۔ کیمپ بناتے ہوئے اور شاندار نظاروں کو فلماتے ہوئے وہ آگے بڑھتے رہے۔ جب وہ میلوں نیچے پھیلی ہوئی وادیوں، پہاڑوں اور دریاؤں کو دیکھتے تو خود کو بہت خوش قسمت سمجھتے۔ یہی وہ نظارے تھے جو ان کے سفر کا حاصل تھے۔ ابھی تک سب کچھ ویسے ہی چل رہا تھا جیسا انہوں نے سوچا تھا۔

مگر جب وہ چھٹی کیمپنگ کر رہے تھے تو شدید برف باری نے انہیں آن گھیرا۔ پہاڑوں کے پہاڑ برف کے گرنے لگے۔ برفیلی آندھیوں نے ان کے قصبہ نما کیمپ کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس دوران بیس کیمپ سے ان کا وائرلیس رابطہ بھی ختم ہو گیا تھا۔ اب ان کا سفرموسمی حالات کے رحم و کرم پر تھا۔ حالات بہتر ملتے تووہ اپنا سفر جاری رکھتے۔ خراب ہوتے تو انہیں رکنا پڑتا۔ یوں وہ چھٹے کیمپ سے آٹھویں تک کا سفرمکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

آٹھویں منزل سے آگے ایک مرتبہ پھر انہیں برفانی طوفانوں نے گھیر لیا۔ ماورائی طاقتیں انہیں اپنی سرحدوں میں داخل ہونے سے روکنے لگیں۔ برف کی فوج در فوج ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ وہ اس برفانی شیش محل میں قید ہو کر رہ گئے۔ برفانی آندھیوں نے اُس کی ٹیم کی جُڑی مالا کو اس طرح بکھیرا کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلا کہ کون سا موتی کہاں گیا۔ پوٹر کہیں رہ گئے تھے۔ سامان کہیں۔ کسی کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ بہت سوں کو برف کھا گئی۔ کئی راستے سے بھٹک گئے تھے۔ جب حالات بدتر سے بدترین ہوئے تو سامانِ رسد ختم ہوگیا۔ خیمے پوٹروں کے ساتھ ہی برف میں دفن ہوگئے۔

” میرا خیال ہے کہ ہمیں واپس جانا چاہیے۔ “

مرکل کے ایک ساتھی نے مرکل سے کہا۔

” نہیں ہمیں آگے بڑھنا ہے نیچے سے مدد بھی پہنچ جائے گی۔ “

مرکل ابھی بھی کسی معجزے کا منتظر تھا۔ حالانکہ وہ اپنا بہت سا سازو سامان اور ساتھی کھو چکا تھا۔ وہ ایک جگہ رک کر کمک کا انتظار کرنے لگے۔ مگر چار دن انتظار کے باوجود کچھ نہ بدلا البتہ اُس کا ایک دوست نمونیہ کا شکار ہو کر اس دنیا کو خیر باد کہہ گیا۔

” ہمیں لازمی نیچے چلے جانا چاہیے۔ کوئی مدد نہیں آنے والی۔ “

مرکل کے ساتھی نے مرکل سے کہا۔

اُس کی تجویز پر مرکل نے چار ساتھیوں کو مدد لینے کے لئے نیچے بھیج دیا۔ شاید یہ اُس کی بہت بڑی غلطی تھی۔ شاید اُسے اپنی کامیابی کا یقین ِ کامل تھا۔ وہ اور اس کا ایک ساتھی برفانی طوفان میں اپنے خیمے تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ وہ امداد کے منتظر تھے مگر اس انتظار میں ان کے پاس خوراک کے ذخائر ختم ہونے لگے۔ حالات قابو سے باہر تھے۔ طوفان پر طوفان چڑھے آ رہے تھے۔ ۔ حالت کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے مرکل نے واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

مگر اب بہت دیر ہو گئی تھی۔ اُن کے پاس ایک خیمہ تھا اور دو بستر تھے، کھانے پینے کا سامان نہ ہونے کے برابر تھا۔ ۔ چھٹے کیمپ تک پہنچنے کے لئے ابھی مزید دو دن اور دو راتیں درکار تھیں۔ مرکل کی اپنی حالت بھی خراب ہونے لگی۔ برف نے اُس کی کھال تک ادھیڑ کر رکھ دی تھی۔ اُس کے ساتھی کی آنکھوں پر برف کا قہر نازل ہو گیاتھا۔

وہ اپنے خیمے میں بیٹھا حالات کا جائزہ لے رہا تھا۔ مرکل کا ساتھی بے ہوش مُردوں کی طرح پڑا تھا۔ مرکل اپنی غلطیوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ برفانی طوفان تھا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ اُسے ان ساتھیوں کی بھی فکر تھی جو خوراک لینے نیچے گئے تھے۔

اُن ساتھیوں میں سے ایک نے کچھ سالوں بعد اخبار میں ایک انٹرویو میں بتایا،

” ہم جب نیچے سے مدد لے کر اوپر جانے لگے تو ہمیں بدترین طوفان نے گھیر لیا۔ ہم آٹھ دن برف کے طوفان میں پھنسے رہے۔ ہمارے ساتھ مدد کے لئے جانے والے ساتھی غائب ہو گئے۔ میں اکیلا زندگی کے لئے ہاتھ پیر مارتے ہوئے خود برف کی نذر ہو گیا۔ وہ تو قسمت اچھی تھی کہ طوفان مجھے نیچے لے آیا۔ “

اس واقعہ کے چار سال بعد پھر ایک مہم نانگا پربت کو سر کرنے گئی۔ وہ مہم تو سر نہ کر سکی مگر انہوں نے مرکل اور اُس کے ساتھیوں کی لاشیں حاصل کر لیں۔

میں نانگا پربت کو دیکھ رہا تھا اُس کی چوٹیوں پر سے بادل ہٹ گئے تھے۔ میں آسٹرین کو ہ پیما ہرمن بوہل کو اکیلے اوپر چڑھتے دیکھ رہا تھا۔ انیس سو ترپن میں ہرمن بوہل ایک بڑے دل گردے کا کوہ پیما، وِلی مرکل کا خواب پورا کرنے کے لئے بہت اوپر تک پہنچ چکا تھا۔ اس کی ٹیم تتر بتر ہوگئی تھی۔ اس کے پاس آکسیجن کا سامان ختم ہو گیا تھا۔ مگر اُس کا حوصلہ اور پھیپھڑے قائم تھے وہ کچھ کیے بغیر واپس جانے والا نہیں تھا۔

نانگا پر بت کی قوتیں اُسے اوپر آنے سے روک رہی تھیں۔ انہیں کسی انسان کی یہاں تک رسائی پسند نہ تھی۔ نانگا پربت کے برفانی دیو مالائی قلعہ کے اندر سے طوفانوں کی بارش ہونے لگی۔ ایک شام ہرمن ایسے طوفان میں پھنسا کہ وہ اپنے کیمپ تک پہنچنے سے قاصر ہوگیا۔ پھر اُس نے ایک چٹان کے اوپر ایک چھوٹی سی برفانی چھت کے نیچے پناہ لی۔ شام رات میں بدل گئی مگر طوفان نہ تھما۔ وہ اپنے حوصلوں اور ولولوں کے سہارے ساری رات وہاں کھڑا رہا۔

1895 میں انسان نے نانگا پربت کو مسخر کرنے کی جنگ شروع کی تھی۔ جو ہرمن بوہل نے 13 مئی 1953 کی ایک سرمئی دوپہر میں جیت لی۔ اس نے نانگا پربت تسخیر کر کے یہ ثابت کر دیا کہ انسان ہی اس دنیا میں مالک حقیقی کا واحد خلیفہ ہے۔ اُس کو اس کی حکومت کا حق حاصل ہے اور کسی کو نہیں چاہے کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔

کوہ پیماؤں کی کہانیاں بڑی عجیب و غریب ہوتی ہیں۔

اس شاندار کامیابی کے چار سال بعد 1957 میں بعد یہ بہادر اور عظیم کوہ پیما ہرمن پاکستان میں قراقرم رینج کے کنکورڈیا ریجن میں بلتورو گلیشئیر کے قریب موجود ایک چوٹی چوگولیزا سر کرتے ہوئے ایسے برفانی طوفان میں پھنسا کہ زندگی کے راستے اُس سے روٹھ گئے۔ وہ گھر کے راستے کی تلاش میں منوں برف کے نیچے ایسا دبا کہ آج تک اُس کا نام و نشان نہ ملا۔

کہنے کو یہ ایک کہانی ہے۔ گزرے زمانے کی کہانی۔ جس میں کوئی چلا اور ہار گیا، کوئی چلا اور جیت گیا۔ مگر ہم میں سے کتنے ہیں جونانگا پربت کی چوٹیوں میں موجود ہواؤں کی سرگوشیوں کو سمجھتے ہیں۔ کتنے ہیں جو دیو کی طرح کھڑے اس پہاڑ کے جلال کو محسوس کرتے ہیں۔ کتنے ہیں جنہوں نے برف کے پہاڑوں کو کاٹتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا۔ بہت کم۔ ہم سب اپنی زندگی کے شب و روزمیں کھوئے ہوتے ہیں۔ یہ کوہ پیما کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں جو اپنی قبروں کی طرف جاتے راستوں پر دانستہ چلتے ہیں۔ اگر ایک سال موت کی آغوش میں جاتے بچ جاتے ہیں تو اگلے سال اُسی راستے پر چل نکلتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 5
  •  
غلام وارث اقبال کی دیگر تحریریں
غلام وارث اقبال کی دیگر تحریریں