کٹاس راج مندر میں شیو کے آنسو کی باز گشت

اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے، ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے دھڑکنیں بچھا دیں گے شوخ تیرے قدموں پہ، ہم نگاہوں سے تیر ی آرتی اتاریں گے ہم تو وقت ہیں، پل ہیں، تیز گام گھڑیاں ہیں، بے قرار لمحے ہیں، بے تکان صدیاں ہیں کوئی ساتھ…

Read more

شنگریلا کی تلاش: پسو کونز

سورج کسی دیوانے کی طرح برف پوش پربتوں کے ویرانوں میں بھٹکتے بھٹکتے تھک کر کہیں سو گیا تھا۔ تاہم آسمانِ لازوال پر اُس کے ہونے کے نشان ابھی بھی باقی تھے۔

ٹھنڈ تھی کہ سانسوں کے دریچوں سے گزر کر رگ رگ میں سماتی تھی۔
کالی گھٹاؤں نے پہاڑوں کو اپنے دامن میں چھپا لیا تھا اور اُن کے سروں پر بیٹھی راج کرتی تھیں۔
”وہ وہاں برف باری ہورہی ہے۔ “ ہم میں سے کسی نے کہا تھا۔

Read more

’’ شنگریلا کی تلاش‘‘ سے ایک اقتباس

مانسرورجھیل سے نکل کر کھر منگ کے مقام پر پاکستان میں داخل ہونے والا شیر دریا اپنی منزلوں کی طرف گامزن تھا۔ لگتا تھا جیسے ہم اُس کی دُم پر سوار اُس کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ وقار کچھ پھرتیاں دکھا رہا تھا اُس کی رفتار کو کم کرنے کا طریقہ یہی تھا…

Read more

شنگریلا کے معبد

اسکردو کی شاہراہ میں شاہراہ نام کی کوئی شے نہ تھی۔ وہ تو بس راہ تھی۔ اک آہ تھی۔ بیابانوں میں ہوکتے کوُکتے مجنوں کی آہ۔ ایک ایسی راہ تھی جس پر سورج خود جلتا تھا۔ آندھیاں اس سڑک پر آکر اندھی ہوجاتی تھیں۔ بنجر اور سنگلاخ پہاڑ خوف کے تازیانے لئے ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔

عجب اتفاق تھا کہ ہم سارا دن دھوپ میں جلتے رہے اور جب شنگریلا ریزورٹ پہنچے تو بدلیوں نے سایہ کر دیا۔
ہم شنگریلا ریزورٹ کی راہ داریوں میں یوں پھرتے تھے جیسے صحرا کے مسافر کے سامنے اچانک کوئی نخلستان آ گیا ہو اور وہ پھولے نہ سماتا ہو۔

Read more

شنگریلا کی تلاش

اگلے دن ہم اپنی نئی منزل اسکردو کی طرف روانہ ہوئے۔ ہماری گاڑی میں جابجا کئی قسموں کی چیری سے بھرے چھوٹے بڑے شاپنگ بیگ لٹکتے تھے۔ کوئی سیٹوں کی ٹیک کے پیچھے کوئی شیشوں کے ساتھ کوئی ہینڈلز کے ساتھ۔ یہ سوغاتیں ہمیں علی حرمت نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پالے ہوئے درختوں سے…

Read more

سفرنامہ ”شنگریلا کی تلاش“ سے ایک اقتباس راما جھیل

ڈاک بنگلے سے باہر نکلے توراما وادی اس طرح سامنے آئی کہ جیسے کوئی حسینہ اچانک گلی کی نکڑ پر بے حجاب سامنے آجائے۔سبز مرغزار تھا جس کی حدیں درختوں کی سبز جھالر کو چھوتی تھیں جس کے پار دلربا پہاڑوں کا ایک وسیع و عریض سلسلہ پھیلاچلا جاتا تھا۔ اس مرغزار کے بیچوں بیچ ایک کومل اور معصوم سی بل کھاتی ندی کانچ کی ردا اوڑھے انتہائی سکون سے بہتی تھی۔ مجھے وہ کوئی ایسی معصوم سی بچی لگی جو چاندی کے گوٹوں سے سجی سرمئی چنری لے کر گھر سے نکلی ہو اور اب اُ س کی چنری اس سے سنبھالے نہ سنبھلتی ہو، کبھی دائیں طرف سے سرکتی ہو تو کبھی بائیں طرف سے مچلتی ہو۔

Read more

چار ویک اینڈ کا دیس نکالا

موسمِ بہار نے ہر طرف اپنے رنگ بکھیرنا شروع کر دیے تھے۔ نہر کنارے سبنل کے درختوں سے جھڑے خزاں رسیدہ سرخ، جامنی اور پیلے پتے بھی بہار کے رنگوں میں شامل ہو گئے تھے۔ سنبل کے یہ درخت ساری رات خزاں رسیدہ پتوں کو چن چن کر اپنی شاخوں سے جدا کرتے رہے تھے۔…

Read more

شاؤسر جھیل: شنگریلا کی تلاش میں بلتستان کا سفر

ہمارے ارد گرد آمنے سامنے سر سبز میدان اور برف پوش پہاڑیاں تھیں۔ ۔ ہر میدان کے پیچھے میدان ہر پہاڑی کے پیچھے پہاڑی۔ دنیا کے دوسرے اونچے میدانوں نے ہمارے سامنے پسپائی اختیار کر لی تھی۔ کہ دور کے پہاڑوں کے علاوہ باقی سب پہاڑ کوئی زیادہ اونچے نہ تھے۔ سبز، میدانوں میں نیلے…

Read more

سفرنامے ’’ شنگریلا کی تلاش ۔۔بلتستان میں ‘‘ سے ایک اقتباس

میری داہنی طرف برف پوش پہاڑوں کا سلسلہ مجھ سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ اسی سلسلہ میں کہیں دنیا کا نواں اور پاکستان کا دوسرا سب سے اونچا پہاڑ نانگا پربت بھی چھپاہو اتھا۔ چھبیس ہزار چھ سو اٹھاون فٹ بلند نانگا پربت کو کلر ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں برف سے بنا ایک قلعہ ہے جس میں پریاں رہتی ہیں۔

دیومالائی حُسن لئے یہ پہاڑ ایسا شا ہکار ہے کہ انسان اسے دیکھتا ہی چلا جاتا ہے۔ انسان کا جی چاہتا ہے کہ وہ اس کے اوپر جائے، اس کے اندر جائے، اس کے گنگناتے جھرنوں کے گیت سنے، ہوا سے سرگوشیاں کرتے پھولوں کی سرگوشیوں پر کان دھرے، اس کے دامنوں میں پھیلی جھیلوں کے کنارے پتھر پر بیٹھ کر گھنٹوں ان کے بدلتے ہوئے رنگوں کا نظارہ کرے۔ اس میں اٹھتے برف کے طوفانوں کے سامنے بانہیں پھیلا دے۔ ایسی ہی خواہشیں لے کر سینکڑوں لوگ نانگا پربت کی طرف بڑھتے رہے، کچھ کامیاب لوٹے، کچھ ناکام اور کچھ اس کے طوفانوں میں کھو گئے۔ اس کی طرف بڑھنے والوں میں زیادہ تر لوگ جرمن تھے اس لئے اس پہاڑ کوجرمن پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔

Read more