میری داہنی طرف برف پوش پہاڑوں کا سلسلہ مجھ سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ اسی سلسلہ میں کہیں دنیا کا نواں اور پاکستان کا دوسرا سب سے اونچا پہاڑ نانگا پربت بھی چھپاہو اتھا۔ چھبیس ہزار چھ سو اٹھاون فٹ بلند نانگا پربت کو کلر ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں برف سے بنا ایک قلعہ ہے جس میں پریاں رہتی ہیں۔
دیومالائی حُسن لئے یہ پہاڑ ایسا شا ہکار ہے کہ انسان اسے دیکھتا ہی چلا جاتا ہے۔ انسان کا جی چاہتا ہے کہ وہ اس کے اوپر جائے، اس کے اندر جائے، اس کے گنگناتے جھرنوں کے گیت سنے، ہوا سے سرگوشیاں کرتے پھولوں کی سرگوشیوں پر کان دھرے، اس کے دامنوں میں پھیلی جھیلوں کے کنارے پتھر پر بیٹھ کر گھنٹوں ان کے بدلتے ہوئے رنگوں کا نظارہ کرے۔ اس میں اٹھتے برف کے طوفانوں کے سامنے بانہیں پھیلا دے۔ ایسی ہی خواہشیں لے کر سینکڑوں لوگ نانگا پربت کی طرف بڑھتے رہے، کچھ کامیاب لوٹے، کچھ ناکام اور کچھ اس کے طوفانوں میں کھو گئے۔ اس کی طرف بڑھنے والوں میں زیادہ تر لوگ جرمن تھے اس لئے اس پہاڑ کوجرمن پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔
Read more