سفرنامہ ”شنگریلا کی تلاش“ سے ایک اقتباس راما جھیل

ڈاک بنگلے سے باہر نکلے توراما وادی اس طرح سامنے آئی کہ جیسے کوئی حسینہ اچانک گلی کی نکڑ پر بے حجاب سامنے آجائے۔سبز مرغزار تھا جس کی حدیں درختوں کی سبز جھالر کو چھوتی تھیں جس کے پار دلربا پہاڑوں کا ایک وسیع و عریض سلسلہ پھیلاچلا جاتا تھا۔ اس مرغزار کے بیچوں بیچ ایک کومل اور معصوم سی بل کھاتی ندی کانچ کی ردا اوڑھے انتہائی سکون سے بہتی تھی۔ مجھے وہ کوئی ایسی معصوم سی بچی لگی جو چاندی کے گوٹوں سے سجی سرمئی چنری لے کر گھر سے نکلی ہو اور اب اُ س کی چنری اس سے سنبھالے نہ سنبھلتی ہو، کبھی دائیں طرف سے سرکتی ہو تو کبھی بائیں طرف سے مچلتی ہو۔

Read more

چار ویک اینڈ کا دیس نکالا

موسمِ بہار نے ہر طرف اپنے رنگ بکھیرنا شروع کر دیے تھے۔ نہر کنارے سبنل کے درختوں سے جھڑے خزاں رسیدہ سرخ، جامنی اور پیلے پتے بھی بہار کے رنگوں میں شامل ہو گئے تھے۔ سنبل کے یہ درخت ساری رات خزاں رسیدہ پتوں کو چن چن کر اپنی شاخوں سے جدا کرتے رہے تھے۔…

Read more

شاؤسر جھیل: شنگریلا کی تلاش میں بلتستان کا سفر

ہمارے ارد گرد آمنے سامنے سر سبز میدان اور برف پوش پہاڑیاں تھیں۔ ۔ ہر میدان کے پیچھے میدان ہر پہاڑی کے پیچھے پہاڑی۔ دنیا کے دوسرے اونچے میدانوں نے ہمارے سامنے پسپائی اختیار کر لی تھی۔ کہ دور کے پہاڑوں کے علاوہ باقی سب پہاڑ کوئی زیادہ اونچے نہ تھے۔ سبز، میدانوں میں نیلے…

Read more

سفرنامے ’’ شنگریلا کی تلاش ۔۔بلتستان میں ‘‘ سے ایک اقتباس

میری داہنی طرف برف پوش پہاڑوں کا سلسلہ مجھ سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ اسی سلسلہ میں کہیں دنیا کا نواں اور پاکستان کا دوسرا سب سے اونچا پہاڑ نانگا پربت بھی چھپاہو اتھا۔ چھبیس ہزار چھ سو اٹھاون فٹ بلند نانگا پربت کو کلر ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں برف سے بنا ایک قلعہ ہے جس میں پریاں رہتی ہیں۔

دیومالائی حُسن لئے یہ پہاڑ ایسا شا ہکار ہے کہ انسان اسے دیکھتا ہی چلا جاتا ہے۔ انسان کا جی چاہتا ہے کہ وہ اس کے اوپر جائے، اس کے اندر جائے، اس کے گنگناتے جھرنوں کے گیت سنے، ہوا سے سرگوشیاں کرتے پھولوں کی سرگوشیوں پر کان دھرے، اس کے دامنوں میں پھیلی جھیلوں کے کنارے پتھر پر بیٹھ کر گھنٹوں ان کے بدلتے ہوئے رنگوں کا نظارہ کرے۔ اس میں اٹھتے برف کے طوفانوں کے سامنے بانہیں پھیلا دے۔ ایسی ہی خواہشیں لے کر سینکڑوں لوگ نانگا پربت کی طرف بڑھتے رہے، کچھ کامیاب لوٹے، کچھ ناکام اور کچھ اس کے طوفانوں میں کھو گئے۔ اس کی طرف بڑھنے والوں میں زیادہ تر لوگ جرمن تھے اس لئے اس پہاڑ کوجرمن پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔

Read more