شاہ لطیف بھٹائی کا سُر کلیان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاہ عبدالطیف بھٹائی سندھی زبان کے سب سے بڑے اور نامور شاعر ہیں جو 1689 کو گاؤں ہالا حویلی میں پیدا ہوئے اور 1752 میں تقریباً 63 سال کی عمر میں رحلت فرما گئے۔ آپ کی زندگی کا کافی حصہ سفر میں گزرا اس لیے آپ نے اپنی شاعری میں بہت سے علاقوں کا نہ صرف ذکر کیا ہے بلکہ ان علاقوں کے باشندوں کے رہن سہن، رسم و رواج اور زندگی کے بارے میں بھی بتایا ہے۔ آپ نے اپنے تجربات اور خیالات کو اپنی شاعری میں قلم بند کیا ہے جسے ‘شاہ جو رسالو’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آج ہم شاہ لطیف کے کلام کے پہلے سُر کے بارے میں بات کریں گے جسے سُر کلیان کہا جاتا ہے۔

آپ کی نظر میں جہاں تک نظر جاتی ہے وہاں وہاں صرف محبوب نظر آتا ہے۔

یار اور چاہنے والے کے قریب رہنا، ہر چاہنے والے کی خواہش ہوتی ہے، اور وہ ہمیشہ اپنے محبوب سے ملنے کے لئے بے تاب ہوتا ہے لیکن شاہ سائیں نے اپنے تصور میں یہ بات کہی ہے کہ میں اپنے محبوب سے ایسے ملاقات کا شرف حاصل کروں کہ زیادہ سے زیادہ میں اس کے سنگ رہوں چاہے محبوب قتل کرنے کے لئے آئے لیکن محبوب کے ہاتھ کو روکنا عشق کے دین میں واجب نہیں ہوتا، آپ کہتے ہیں۔

دست یار میں خنجر ہے وہ تیز نہ ہونے پائے

ہاتھ ذرا رک جائے، یار کا پل بھر تن پر

شاہ صاحب کے نزدیک تیز جنجر سے انسان بہت آسانی سے مر سکتا ہے لیکن آپ کے نزدیک آسان موت سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہوگا بھلے تکلیف ہو اور جنجر ذبح نہ کر پائے لیکن گلا کاٹتے وقت محبوب کے ہاتھ جو جسم کے ساتھ ہوں گے تو اس سے کہیں زیادہ اچھا ہے کہ آسان اور جلدی موت ہو۔ شاہ صاحب کے نزدیک اپنے محبوب کو پانے کے لئے جو سفر کیا جاتا ہے وہ کتنا بھی تکالیف اور مصائب سے بھرا ہوا ہو لیکن عاشق کو محبوب کے حصول میں ہر تکلیف کو برداشت کرنا چاہئے۔

آپ کے نزدیک کڑوی چیز مطلب تکلیف پانے کے بغیر آپ کبھی بھی عاشق نھیں کہلوا سکتے۔

کڑوی مئے گر پی نہ پائے، مت لے مئے کا نام،

جاں رگوں سے کھینچے یہ مئے، لرزاں جسم تمام،

چکھ لے کڑوا جام، سَر دے کر تو پی لے گھونٹ

شاہ سائیں کے نزدیک کوئی بھی انسان جو خود کو عاشق، محبوب کے سفر کا طالب کہتا ہے تو وہ جب اس زہر کے گھونٹ اور کڑواہٹ اور تکلیف کو عبور نہیں کرے گا تب تک وہ سچا عاشق اور محبوب کی راہ میں نکلے سچے مسافر کا بلند درجہ نہیں حاصل کر سکتا۔ دراصل اپنی شاعری میں شاہ لطیف نے اپنے تصور والے انسان کا ایک خاکہ مرتب کیا ہے کہ وہ کیسے ہونے چاہئیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو اصلی سچے عاشق ہیں وہ اپنا سَر محفوظ نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنے سَر کو قلم کروانے کے لئے ہر لمحے تیار رہتے ہیں۔

جو ہیں پریت کے مارے ان کو، کب ہے پیاری جان،

یار کی ایک جھلک کے خاطر، لاکھوں سَر قرباں،

میرا جسم و جان، یار کی خاک پا پہ صدقے

شاہ سائیں کے نزدیک کوئی بھی عاشق جو اپنے محبوب سے اتنا لگاؤ رکھتا ہے اس میں محبوب کو پانے کی شدت اور خواہش ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ زمانے کے خطرات، لوگوں کے خوف و ڈر، سماج کے جھوٹے رسم و رواج، لوگوں کی تنقید اور ان کے گھسے پٹے اصولوں سے اپنے محبوب مقصد کے حصول کو ترک کر دے۔ اس لئے تمام خطرات مول لیتے ہوئے محبوب کے ملنے والے رستے پہ جان کا سودا ہو جائے تو یہ کوئی مہنگی چیز نہیں ہے۔

اپنے ایک مشہور کلام میں جو کافی فنکاروں نے گایا بھی ہے، آپ کہتے ہیں۔

پی کر مئے کا جام، ساجن کو پہچان لیا،

عشق کے پیالے پی کر ہم نے، جانا بھید تمام

انگ انگ میں پیار کی اگنی، سلگیں سب اندام

جگ میں جینا دو دن کا ہے، دو دن کا قیام،

کہے لطیف کہ تو ہی تو ہے، باقی تیرا نام

محبوب کے انتظار میں جب وقت گزرتا ہے اور محبوب سے ملنے اور ان کی بات سننے کا موقع جب نہیں مل پاتا تو شاہ سائیں اس درد کو کیسے بیان کرتے ہیں۔

پل پل جھن جھن باج رہے ہیں، رگ رگ تار رُباب،

میرے لب پر مُہر لگی ہی، ساجن دے نہ جواب،

وہ جو میرے زخم کا مَرہم، دل کو کرے کباب،

، وہ ہی عین عذاب، وہی راحت روح کی

شاہ سائیں کے نزدیک عاشق صرف وہ بات، وہ لمحے، وہ پل، وہ گیت اور الفاظ یاد رکھتے ہیں جو پل محبوب کے ساتھ بسر ہوا ہو، باقی زندگی ان کے نزدیک کوئی معنے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ اس کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔ آپ کہتے ہیں جس دم اور لمحے میں محبوب نے مجھے یاد کیا، میرا نام لیا، مجھے پکارا وہ پل صرف میری زندگی کی حاصلات ہیں۔

پریتم نے ایک بار پکارا، مہر سے مجھ برہن کو،

بس ایک سخن کو، سکھیو، دل دہراتا ہے

لطیف سائیں کے نزدیک خطرات سے بھرپور راستے پہ چل کے ہی محبوب کے دربار میں پہنچا جا سکتا ہے۔ اس لئے جان جوکھم میں ڈالنا محبوب کو پانے کے لئے پہلا معیار ہے۔ جو اپنے وجود کا محافظ بنا ہوا ہے وہ کیسے محبوب کو پانے کی خواہش کر سکتا ہے؟ ایسی خواہش کرنی بھی نہیں چاہئے۔

پوچھ رہے ہیں یار، پی نے باندھا کدھر نشانہ

عشق کے بھالے برس رہے ہیں، خود کو کریں نثار،

دیکھ کے کیسی سج دھج سے وہ آئیں سوئے دار،

سَر دیتے ہیں وار، مر مٹنا تو پیا ملن ہے

شاہ سائیں کے نزدیک محبوب کو پانے کا اپنا لطف ہوتا ہے اور اس پانے کھونے، ملنے ملانے کے سفر میں لطافت بھی ہے، تکلیف اور درد کے احساس کا رنگ بھی ہے۔ محبوب کو پانے کی خواہش کے تقاضوں کو سمجھنے کے بنا محبوب کے ملنے کی خواہش کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

پاس پلا کر قتل کرے، اور پھر وہ پاس بلائے،

لاکھ گڑے ہوں عشق کے بھالے، قدم لرز نہ پائے

موت سے آنکھ ملائے، بھول کے علم و دانش کو

شاہ سائیں کے نزدیک محبوب کے حصول کی یہ آخری حد ہے جو کہ محبوب کو پانے کی خواہش رکھنے والے عاشقوں کو ذہن نشیں کر لینی چاہئے اور اس کو اپنے دل اور ذہن کے خانوں میں محفوظ کر کے پھر وہ عاشق کہلوائے گا۔

قتل کرے تو مہر کرے اور، مہر سے قتل کرے وہ،

میرے روح کی راحت ہے اور، میرا قاتل ہے وہ

شاہ سائیں کے کلام ‘شاہ جو رسالو’ کا پہلا سُر کلیان جس پہ آج ہم نے گفتگو کی ہے وہ اس ذہنی سوچ اور تصور کی ایک ایسی اڑان ہے جس سے وہ اپنے محبوب سے ملنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک ہر انسان کا اپنا اپنا مقصد ہے لیکن کوئی بھی مقصد تب تک پورا نہیں ہوتا جب تک انسان اس کی جستجو کے راستے پر گامزن نہ ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •