لمبی ہے غم کی شام پر مگر شام ہی تو ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ کالم میں پاکستان تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی تو احباب نے جوابی تبرہ بازی میں طعنہ دیا کہ تبدیلی سرکار کو لانے والے کاروان کے ہمرکاب تبدیلی کا ڈھول پیٹنے اور وطن عزیز کی تقدیر بدلنے کی نوید سنانے والوں میں آپ بھی پیش پیش تھے۔ بہت سے سیاسی کارکنوں ہی نہیں بلکہ لیڈروں کا بھی خیال ہے کہ میڈیا کا مکو ٹھپاگیا لہٰذا وہ حکومت گرانے یا کم ازکم اسے ناکام ثابت کرنے پر تلا ہواہے۔ ایک خام خیالی یہ بھی ہے کہ نون لیگ نے خزانے کی تجوری کھول دی ہے لہٰذا راتوں رات میڈیا حکومت کے خلاف ہوگیا۔

میڈیا کا مالی بحران اپنی جگہ، کارکنوں کو بے روزگارکرنے والے مالکان کی مذمت بھی درست لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ میڈیاسماج کا نباض ہوتاہے۔ شہریوں کی چیخیں جب نکلتی ہیں تو میڈیا بھی تڑپ اٹھتاہے۔ تحریک انصاف کو مقبول پارٹی بنانے میں میڈیاکا بنیادی کردار ہے۔ جناب اسد عمر کی طرح کے پارٹی راہنماؤں کو مسیحا اور معاشی گرو بنا کر پیش کرنے کا گناہ بھی میڈیا ہی سے سرزدہواتھا۔ توقعات اورامیدیں دم توڑ رہی ہوں تو میڈیا میں اس دھواں نہ اٹھے یہ فطری عمل نہیں۔

بیزاری اور غصہ ملک کی ایلیٹ کلاس کے خلاف عوام میں پایاجاتاہے۔ وہ نہ صرف ان کے دکھوں اور مصائب سے نابلد ہے بلکہ اکثر ان کے زخموں پر نمک پاشی بھی کرتی ہے۔ حال ہی میں حکمران پارٹی کے ایک لیڈر نے مشورہ دیا کہ عوام آدھی روٹی کھائیں۔ لوگوں کو کہاجاتاہے کہ وہ ٹیکس چور ہیں۔ حالانکہ وہ بے چارے بازار سے خریدی گئی ہر شہ پر سیل ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بینک سے لین دین پر ٹیکس دیتے ہیں۔ کوئی ایسی سروس نہیں جس پر بلاواسطہ ٹیکس نہ ہو۔

نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی طرح تحریک انصاف کی بالائی قیادت بھی طبقہ اشرافیہ پر مشتمل ہے۔ تجارتی اور کاروباری اداروں کے لوگ اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ احساس تک انہیں نہیں کہ بجلی کا بل بیس ہزارآجائے کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں اور بچوں کو سکولوں سے نکال دیاجاتاہے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں ملکی معیشت کا محور غربت کے سمند ر میں امارت کے جزیرے تعمیر کرتا رہا ہے۔ خیال تھا کہ رفتہ رفتہ اقتصادی ترقی کے ثمرات معاشرے کے عام طبقات تک پہنچیں گے اور خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔

سرمایہ دارانہ ممالک کی نقالی میں آزادانہ تجارتی پالیسی اور سرمائے کی آزادانہ نقل حمل پر پوری ایمان داری کے ساتھ عمل درآمدکیاگیا لیکن شہریوں کو سرمایہ دارانہ نظام کے ثمرات میں شریک نہ کیاگیا۔ چنانچہ پورا اقتصادی ڈھانچہ نہ صرف پوری طرح فلاپ ہوگیا بلکہ بقول اسد عمر کے ملک دیوالیہ پن کے کنارے پہ کھڑا ہوگیا۔ دنیا کا تیسرا بڑی آبادی والا ملک بننے کی طرف ہم سرپٹ دوڑ رہے ہیں لیکن اس آبادی کو سنبھالنے، روزگار، تعلیم، صحت اور پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس او رجامع پروگرام پیش نہیں کیاگیا۔

کہتے ہیں کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے وزیرخزانہ اسد عمر سے استفسار کیا کہ زراعت کی ترقی کے لیے کیا منصوبہ ہے تو انہوں نے ہاتھ کھڑے کردیئے اور کہا: انہیں زراعت کی اونچ نیچ کی سمجھ نہیں و ہ شہری بابوہیں۔ حکومت یہ بھی بتاتی نہیں کہ پانچ برس بعداس کی مدت اقتدار تمام ہوگئی تو پاکستان عالمی رینکنگ میں کہاں کھڑا ہوگا؟ 63 فی صدعورتیں اس ملک میں ناخواندہ ہیں کیا پانچ برس بعد یہ تعدا د چالیس فی صد ہوگی۔

اگر آج دوکروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں تو کیا اگلے الیکشن کے وقت یہ تعداد کم ہو کر ایک کروڑ ہوچکی ہوگی۔ کیا دس برس بعد یہ تعداد محض پچاس لاکھ رہ جائے گی۔ آج کراچی کا شمار دنیا کے گندے ترین شہروں میں شمار ہوتاہے۔ کیاحکومت کے پاس کوئی منصوبہ ہے کہ وہ اسے دنیا کے پہلے پچاس صاف ستھرے شہروں میں شامل کراسکے۔ ہماری یونیورسٹیوں کی عالمی تعلیمی گراف میں رینکنگ کا حال بھی بہت پتلا ہے۔ انہیں دنیا کی پہلی دو سو جامعات کی فہرست میں لانے کی بھی کسی کو فکر ہے۔

نہیں۔ ’کوئی منصوبہ عمل نظر نہیں آتا۔ البتہ یہ ضرور سنتے میں آتا ہے کہ ٹاسک فورس پہ ٹاسک فورس تشکیل دی جارہی ہے۔ ان کے لیے مراعات کا بھی اعلان ہوتاہے لیکن ان کے جائزوں اور سفارشات پر عمل درآمد کی کوئی خبر نہیں۔ تحریک انصاف اور حکمران طبقات کو ادراک ہونا چاہیے کہ انہیں حکومت ایک بہت مختلف وقت میں ملی ہے۔ یہ اطلاعات ہی نہیں فیک انفارمیشن کا بھی عہدہے۔ صرف ممالک ہی نہیں بلکہ جماعتیں اور کاروباری طبقات بھی ایک دوسرے کو ناکام کرنے کے لیے اطلاعات کا بڑی مہارت سے اسٹرٹیجک استعمال کرتے ہیں۔

جسے ہائی بریڈوار کہاجاتاہے وہ صرف ریاستوں کے درمیان ہی برپا نہیں ہوتی بلکہ سیاسی جماعتیں بھی اس ٹول کو اس دوسرے کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔ اس صورت حال سے نکلنے یا اس کامقابلہ کرنے کے لیے حکومت کو متاثر کن کارکردگی دکھانا ہوگی۔ مخالفین سے زیادہ محنت کرنا ہوگی۔ جدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے منصوبے بروکار لانے ہوں گے جو نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں اور بزرگ شہریوں کو دلکش نظر آئیں۔ تحریک انصاف چونکہ اب حکمران جماعت ہے اس لیے لوگوں کو خواب دیکھا کر یہ محض مخالفین کو رسوا کرکے عوامی ہمدردیاں حاصل نہیں کرسکتی۔

اسے عوام کی جھولی میں کچھ ڈالنا ہوگا۔ ایسی پالیسیوں سے اعتراض کرنا ہوگا جن کا محور غریب کا خون چوسنا اور بدحال کو مزید بدحال بنانا ہو۔ گزری سات دہائیوں میں پاکستانیوں نے بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ ترقی اور خوشحالی کے سہانے خواب انہیں دکھائے گئے۔ حکمران طبقات امیر سے امیر تر ہوتے گئے لیکن عام آدمی کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ اب وہ مزید پسنے اور انتظار کرنے کو تیار نہیں۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 121 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood