یونیورسٹیوں کے پاور فل بابو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اہل دانش نے کرپشن کا سدباب یہ تجویز کیا کہ اختیارات نچلی سطح پر منقتل کر دیے جائیں، نہ فرد واحد کے پاس اختیارات ہوں گے نہ ہی کوئی اختیارات کا غلط استعمال کرکے کرپشن کرے گا لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلاہے جو کیمونیکیشن کے گیپ کانکلتا ہے، جیسے کیمونیکیشن کے گیپ میں پہلے سے آخری شخص تک بات پہنچے پہنچتے کیا سے کیا بن جاتی ہے بالکل ویسے ہی اختیارات کی متعددلوگوں کو منتقلی سے معاملہ ایسا الجھاؤ کی شکل اختیار کرلیتا ہے کہ اسے سلجاھتے ہوئے بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ اس کی ہلکی سی جھلک دیکھنی ہو تو کسی بھی سرکاری ادارے کا وزٹ کرلیں آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔

گزشتہ دنوں ہمیں بھی ایک ایسے ہی تلخ تجربے سے گزرنا پڑا۔ ہم انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے اپنی چھ سات سال پرانی ایم اے کی ڈگری لینے گئے، سالوں بعد اس لئے گئے کہ ہم نے 2008 میں بھی کسی دوسرے سبجیکٹ میں ایم اے کر رکھا تھا، جب بھی ضرورت پیش آتی اورملازمت وغیرہ کے لئے اسی سے کام چلاتے رہے۔ یونیورسٹی جاتے ہی ہم نے کلیئرنس فارم حاصل کیے اور ہاسٹل کی کلئیرنس سے اس کا آغاز کیا، لائبریری، فیس سیکش، ڈین سے کلئیرنس میں کامیاب ٹھہرے۔

ایگزامنیشن والے بابو صاحب نے فرمایا کہ ان کا پرنٹر ٹھیک نہیں ہے لہذاآپ کل آجائیے، ہمیں یہ سن کر بہت عجیب لگا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا ایک نام ہے اور سسٹم بالکل ناقص۔ سو ہم نے بابو صاحب سے عرض کی کہ ہمارا کل آنا بہت مشکل ہے آپ آئی ٹی سے کسی کو بلوا کر پرنٹر کو ٹھیک کروا لیں، بابو صاحب بولے کہ آپ اپنا ٹائم ضائع کریں گے، ہم بابو صاحب کے تیور دیکھ چکے تھے اس لئے ہم وہاں سے رخصت ہوگئے، اگلے دن ہم لاسٹ سمسٹر کا رزلٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو سیدھے اکاونٹس سیکشن میں گئے وہاں سیٹ پر موجود بابو صاحب نے ہمارے کاغذات دیکھے اور سوال داغ دیا کہ آپ اتنے سال بعد کیوں آئے ہیں؟

ہم نے عرض کیا کہ آپ شفقت فرمائیے اور ہمارامسئلہ حل کر دیجئے، انہوں نے ریکارڈ کے کیے پرانے رجسٹر دیکھے لیکن ہمارا ریکارڈ انہیں نہ ملا، بابو صاحب کہنے لگے کہ آپ کا تو ہمارے پاس ریکارڈ ہی نہیں ہے، ہم نے جھٹ سے وہ فارم آگے کر دیے جس پراسی یونیورسٹی کے تقریباً 10 شعبوں کی طرف سے ہمیں کلئیرنس مل چکی تھی، جس پر اسی یونیورسٹی کی کے کئی ڈیپارٹمنٹ کی مہریں لگی ہوئی تھیں، بابو صاحب کہنے لگے کہ آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن میرے پاس آپ کا ریکارڈ کیوں نہیں ہے؟

میں نے عرض کیا کہ یہ سوال تو مجھے آپ سے کرنا چاہیے کیونکہ ریکارڈ رکھنا تو آپ کی ذمہ داری ہے، اسی دوران ایک اہم پوائنٹ میں نے نوٹ کیا کہ بابو صاحب پرانے رجسٹروں میں ریکارڈ تلاش کر رہے ہیں، میں نے ان سے کہا کہ رجسٹر میں اگر ریکارڈ نہیں مل رہا تو کیا ہوا آپ کمپیوٹر میں چیک کریں وہاں پر میرا ریکارڈ موجود ہوگا، بابو صاحب نے کہا کہ ریکارڈ کمپیوٹرائز نہیں ہے، یقین جانیں بابو صاحب کی یہ بات سن کر میں ہکا بکا رہ گیا اورمجھے اس سوال کا جواب مل گیا کہ ہم دنیا سے پیچھے کیوں ہیں اس لئے کہ ہمارے تعلیمی ادارے بہت پیچھے ہیں، اس لئے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں آج بھی قدیم سسٹم رائج ہے۔

دنیا آج ون ونڈو کی سہولت فراہم کر چکی ہے جبکہ ہم آج بھی وہی قدیمی سسٹم پر عمل پیرا ہیں۔ یقین جانیں جو کام ایک گھنٹہ میں یا زیادہ سے زیادہ ایک دن میں ہو جانا چاہیے تھا میں ایک ہفتہ کی تگ دو اور روزانہ یونیورسٹی آنے جانے کے بعد صرف ٹرانسکرپٹ کے لئے اپلائی کر پایا۔ مجھے 15 دن کا وقت دیا گیا کہ آپ اس کے بعد اپنا ٹرانسکرپٹ لے جائیے گا ہم نے یہ ساری روداد اپنے ایک صحافی دوست کو بتائی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا، خیر انہوں نے مجھ سے رسید لے لی اور اگلے دن فون کیا کہ آپ اپنا ٹرانسکرپٹ کے جائیں، میں حیران کہ 15 دن کا کام ایک دن میں کیسے ہوگیا، سو اسی دن انہوں نے مجھے ڈگری کے لئے اپلائی کرنے کو کہا جس کا پروسیجر 20 دن کا تھا لیکن انہوں نے مجھے ایک گھنٹے کے بعد کال کی کہ آپ اپنی ڈگری وصول کر سکتے ہیں۔

ایک طرف تو میرے سامنے گزشتہ ایک ہفتے کی خجل خواری تھی جبکہ دوسری طرف ایک ہی دن میں دونوں کاموں کا ہو جانا تھا یہ میرے لئے کسی معجزے سے کم نیہں تھا لیکن ایک سوال مسلسل میرے ذہن میں اٹھ رہا تھا کہ جن لوگوں کے پاس کوئی سفارش یا ریفرنس نہیں ہوتا وہ یونیورسٹیوں کے پاور فل بابووں کے ہاتھوں کتنے دن ذلیل ہوتے ہوں گے؟ پاکستان کے سرکاری اورغیرسرکاری اداروں کے قدیم سسٹم کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ترقی کے لئے ابھی ہم نے بہت سفر کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •