ہاف چمچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

درد برداشت کرنے والوں میں شاعروں، فوک گلوکاروں اور پتے کے مریضوں کا کوئی ثانی نہیں۔ میرا شمار موخر الذکر میں ہوتا ہے۔ آج سے تین سال پہلے جب مجھے پہلی بار پتے کی تکلیف ہوئی تو پتا ہی نہ چل سکا کہ یہ درد ہے کس چیز کا؟ ہسپتال کی ایمرجنسی میں گئے، سریع الاثرپین کلر لگوایا اور دو تین گھنٹے بعد کھلکھلاتے ہوئے گھر آگئے۔ ٹھیک ایک سال بعد دوبارہ یہی کام ہوا۔ اب کی بار ماتھا ٹھنکا۔ ڈاکٹر حفیظ صاحب سے مشورہ مانگا تو انہوں نے کچھ ٹیسٹ تجویز کیے۔

لیبارٹری جاکر ان کے حکم کی تعمیل کی تو پتا چلا کہ پتے میں پتھریاں ہیں۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ دیرینہ دوست بھی ہیں لہذا تسلی دی کہ اگر پتے کی پتھریوں کو کچھ نہ کہا جائے تو یہ بھی کچھ نہیں کہتیں۔ میں نے اسی دن سے پتے کی پتھریوں سے پردہ شروع کردیا۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر صاحب معدے کے ڈاکٹر ہیں اورسمن آباد کے پٹھورے نہایت شوق سے تناول فرماتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے جو خاص نصیحت کی وہ یہ تھی کہ اب آپ نے درج ذیل اشیاء بالکل نہیں کھانی مثلاً نہاری، سری پائے، دیسی گھی، چھوٹا بڑا گوشت، مکھن وغیرہ۔

عرض کی ٗ حضور یہ چیزیں آج کے بعد منع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ آج سے پہلے بھی میں نے کبھی ان کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ میری تو گنتی کی چند چیزیں ہیں ان سے باہر جاؤں تو مجھ سے کھانا ہی نہیں کھایا جاتا۔ ڈاکٹر صاحب نے میری پرہیز گاری کی تعریف اور میرے ذوق پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پوچھاکہ اگر آپ اتنا ہی پرہیزی کھانا کھاتے ہیں تو پھر پتھریاں کیسے بن گئیں؟ میں نے کچھ دیر سوچا، پھر گہری سانس لی۔ اس بارے میں میرا ایک شعر ہے، امید ہے پتھریاں بننے کی وجہ سمجھ آجائے گی، عرض کیا ہے ’کارِ عشق میں ہوئیں اتنی سنگ باریاں / آج تک بھی پتے سے پتھریاں نکلتی ہیں‘ ۔

ڈاکٹر صاحب کے مشورے سے میں نے ایک سال مزید پتھریوں کو اپنے سینے سے لگا کر رکھا۔ احتیاط اور بھی سخت کردی۔ اس کے باوجود پھر چیخیں نکل گئیں۔ اب کی بار تمام تر معائنے کے بعد طے پایا کہ آپریشن ناگزیر ہوچکا ہے۔ معلومات لیں تو پتا چلا کہ آج کل پتا نکالنے کے لیے لیپروسکوپک ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتاہے۔ یعنی مریض کا پورا پیٹ چاک کرنے کی بجائے تین سوراخ کیے جاتے ہیں۔ ایک سوراخ کے ذریعے کیمرہ اندر داخل کیا جاتاہے اور دیگر دوسوراخوں میں سے آلات کی مدد سے پتے کو کاٹ کر باہر نکال لیا جاتاہے۔

نہ چاہتے ہوئے بھی آپریشن کی ہامی بھر لی۔ قریبی دوست احباب کو سختی سے تاکید کردی کہ اس آپریشن کے بارے میں کوئی بھی خبر یا دُعائیہ اسٹیٹس فیس بک پر اپ لوڈ نہ کیا جائے۔ مجھے قارئین کو ہنسانے میں مزا آتاہے، انہیں اپنی پریشانیوں میں شامل کرنے میں نہیں۔ احباب نے خوشی کی خبر سنائی کہ آپریشن بہت آسان سا ہوتا ہے اور ڈیڑھ دن بعد ہی مریض گھر چلا جاتاہے۔ اچھا لگا ورنہ میرے جیسے بے ہنگم ترین مصروفیات والے بندے کے لیے تین چار دن اسپتال رہنا ممکن نہیں۔ بہرحال یہ آپریشن ہوچکا۔ مجھے ڈیڑھ دن بعد گھر آنا تھا لیکن آپریشن میں پرابلم کی وجہ سے آٹھ دن اسپتال میں گزارنا پڑے جس کی اذیت کا کوئی شمار نہیں۔ سابقہ تجربات کی بنا پر اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی جگہ اگر خطرے کا صرف پوائنٹ ون پرسنٹ چانس ہو تو یہ سیدھا میرے حصے میں آتاہے۔

اسپتال میں کئی کردار ملے جن میں دو کردار مجھے کافی مزیدار لگے۔ میرے سامنے والے کمرے میں ایک ٹوانہ صاحب زیرعلاج تھے۔ خاصے صحت مند تھے۔ شوگر، بلڈ پریشر اور ’دیگر امراض چشم‘ میں مبتلا تھے اورپرہیز سے زیادہ علاج کے قائل تھے۔ اپنے خاندان میں وہ سب سے زیادہ دولت مند تھے اور اسی وجہ سے خاندان کے غریب افراد پر ان کا شدید رعب بھی تھا۔ موصوف کا ایک پچاس سالہ غریب کزن شمسی بھی ان کی دیکھ بھال پر مامور تھا جسے وہ دن میں ڈیڑھ سو گالیوں سے نوازتے۔

شمسی اکثر اُدھر سے تھک جاتا تو میرے پاس چائے پینے آجاتا۔ شمسی ان پڑھ آدمی تھا اور انتہائی متوسط دماغ کا بندہ تھا جسے صرف دو جمع دو کا پتا تھا۔ وہ ٹوانہ صاحب کی گالیاں سن کر بھی بے مزہ نہ ہوتا۔ ایک دن میں نے ٹوانہ صاحب کے کمرے میں بار بار ڈاکٹروں کا آنا جانا دیکھا تو شمسی کو بلا کر پوچھا کہ کیا ماجراہے؟ شمسی نے بتایا کہ ٹوانہ صاحب سخت ترین قبض کا شکار ہو چکے ہیں اور کوئی دوائی اثر نہیں کر رہی۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر ز چلے گئے تو میں اٹھ کر ٹوانہ صاحب کی عیادت کو چلا آیا۔

ٹوانہ صاحب ادھ موئے ہوئے جارہے تھے۔ اسی دوران بیٹے نے باپ سے لجاجت سے کہا ’ابو جی میں ذرا گھر سے ہو آؤں؟ کپڑے بدل کر آجاؤں گا‘ ۔ ٹوانہ صاحب نے نقاہت سے سرہلایا اور بولے ’میرے پاس کون رہے گا؟ ‘ ۔ بیٹا جلدی سے بولا ’شمسی انکل ہیں نا۔ ۔ ۔ دوگھنٹے بعد نرس دوائی لے کر کمرے میں آئی تو ٹوانہ صاحب گہری نیند سو چکے تھے۔ شمسی نے جلدی سے دوائی وصول کی اور نرس کو تسلی دی کہ میں خود ہی بھائی جان کو اٹھا کر دوائی پلا دیتا ہوں۔

نرس نے سرہلایا اور نسخے کی طرف اشارہ کرکے بولی، خوراک اوپر لکھی ہوئی ہے۔ شمسی صاحب نے سرہلایا اور نرس چلی گئی۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد میں اپنے روم سے وہیل چیئر پر نکل کر کاریڈور میں تازہ ہوا لینے نکلا تو دوسری طرف سے شمسی جلدی سے میری طرف لپکا۔ میں رک گیا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا ڈاکٹر کا نسخہ میرے سامنے کیا، نسخے پر دوائی کی مقدار ایک بٹا دو ( 1 / 2 ) لکھی تھی۔ شمسی بولا‘ بھائی جان یہ کتنے چمچ بنتے ہیں؟

’۔ میں ہنس پڑا‘ کتنے نہیں، صرف آدھا چمچ لکھا ہے ’۔ یہ سنتے ہی شمسی کی آنکھیں پھیلیں اور حلق سے سانس پھنسنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے معاملہ پوچھا تو کانپتی ہوئی آواز میں بولا‘ میں سمجھا ایک بڑا چمچ اور دو چھوٹے چمچ دینے ہیں ’۔ شمسی کی بات سن کر میں چونک اٹھا۔ مستقبل کا سارا نقشہ میرے سامنے گھوم گیا۔ میں نے آہستہ سے شمسی کا ہاتھ دبایا‘ بھاگ شمسی بھاگ ’۔ شمسی شاید اسی جملے کے انتظار میں تھا۔

اس نے ایک زقند بھری اور اگلے دروازے سے غائب ہوگیا۔ میں نے اسی وقت ٹوانہ صاحب کے بیٹے کو کال کی اور بتایا کہ جہاں بھی ہو فوراً پہنچ جاؤ۔ دیر نہ ہوجائے کہیں دیر نہ ہوجائے۔ یہی اطلاع ہسپتال کی ایمرجنسی کو بھی دی اور اپنے اٹینڈنٹ لڑکے سے کہا کہ بیٹا جتنی جلدی ہوسکے میری وہیل چیئر کو اسپتال کے اُس مقام پر لے جاؤ‘ جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہووے ’۔ تاہم اسپتال کے آخری کونے تک پہنچنے سے پہلے ہی اطلاع آگئی کہ‘ بگ بینگ ’ہوچکا ہے۔ شمسی اس دوران شاید نارووال والی بس پکڑ چکا تھا اور سیٹ پر 1 / 2 ہوا بیٹھا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>