بھارتی حملہ: کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نسلوں سے ”اپنے حلقے“ کی بنیاد پر سیاست کرنے والے اتوار کے دن ووٹروں کی شادی/غمی والے معاملات سے تعلق جوڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہنگامی صورتوں میں بھی ہم صحافیوں کو ان سے رابطہ کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ 24 گھنٹے قبل کا اتوار مگراس تناظر میں مجھے غیر معمولی محسوس ہوا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس روز اپنے آبائی شہر ملتان میں تقریباً دن چڑھتے ہی ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کے ذریعے قوم اور عالمی برادری کو واضح الفاظ میں خبردار کردیا گیا کہ پاکستان کو ٹھوس ذرائع کی بنیاد پر حاصل ہوئی معلومات عندیہ دے رہی ہیں کہ 16 اپریل سے 20 اپریل کے درمیان بھارت ہمارے خلاف کسی جارحانہ حملے کی تیاری کررہا ہے۔ یقینی بات ہے کہ ایسا ہوا تو پاکستان کی جانب سے مؤثر جواب آئے گا۔

اس کے بعد کیا ہوگا اس کے بارے میں حتمی رائے دیناناممکن ہے کیونکہ جنگ کی آگ ایک بار بھڑک اُٹھے تو اس پر قابو پانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ خارجہ امور کے بارے میں کئی برسوں تک رپورٹنگ کرنے کے باعث میں نے پاکستان کے وزیر خارجہ کی مذکورہ پریس کانفرنس کو بہت سنجیدگی سے لیا۔ دو جمع دو چار والے کلیے کو استعمال کرتے ہوئے 16 اپریل سے 20 اپریل والے عرصے کی اہمیت کو بھارت پہ ان دنوں حاوی انتخابی بخارسے جوڑا۔ اپریل کی 11 تاریخ سے وہاں پولنگ کا پہلا مرحلہ شروع ہورہا ہے۔

بھارتی لوک سبھا میں نشستوں کی کل تعداد 543 ہے۔ ان میں سے اس روز فقط 91 حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دوسرا مرحلہ 18 اپریل سے شروع ہوگا۔ اس دوران بھارت کے 13 صوبوں کے 97 حلقوں میں پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں مقبوضہ کشمیر کے سری نگر اور اودھم پور بھی شامل ہیں۔ ان دو حلقوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ انتخابی عمل کو ناکام بنانے کے لئے پلوامہ جیسے واقعہ کے امکانات کو اعتماد سے رد نہیں کرسکتے۔ ایسا واقعہ اگر ہوگیا یا جسے فالز فلیگ کہا جاتا ہے اس کے اطلاق سے ”کروا“ دیا گیا تو 16 اپریل سے 20 اپریل والے ٹائم فریم کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ مگر ایک رپورٹر کی طرح فقط امکانات پر انحصار نہیں کرسکتے۔ آج کے دور میں انہیں برسرِ زمین موجود ذرائع کے علاوہ جدید ترین آلات سے جمع ہوئی اطلاعات بھی میسر ہوتی ہیں۔ ان اطلاعات کا بہت سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی رائے بنائی جاتی ہے۔ عموماً ایسے تجزیے برسرِعام نہیں لائے جاتے۔ اپنے تجزیے کو آشکار کرتے ہوئے لیکن شاہ محمود قریشی صاحب نے ایک حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کی طاقت سے مالامال امریکہ جیسے ممالک کو اس امر پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ پاکستان کے بیان کردہ خدشات کا خود کو میسر ذرائع سے اپنے تئیں جائزہ لیں۔

اگر ہمارے خدشات ان کی جانب سے ممکنہ طورپر ہوئے کاؤنٹر چیک کے مطابق درست ثابت نہ ہوئے تو ہم پر بے بنیاد پینک مچانے کا الزام لگایا جاسکتا ہے۔ میں یہ اصرار کرنے کو لہذا مجبور ہوں کہ ہمارے وزیر خارجہ نے سوبار سوچنے کے بعد ہی 16 سے 20 اپریل والا ٹائم فریم اپنی قوم کے روبرو ہی نہیں عالمی دنیا کے سامنے رکھا ہوگا۔

اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئی میری قوم مگر ان پہلوؤں پر توجہ دینے کے قابل نہیں رہی۔ سوشل میڈیاپر متحرک کئی افراد بلکہ بضد رہے کہ 16 سے 20 اپریل کے ٹائم فریم کا ذکر کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی صاحب نے درحقیقت تحریک انصاف کی حکومت کی ”ناقص کارکردگی“ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ ذاتی طورپر مجھے تحریک انصاف کی کامیابی یاناکامی سے کوئی غرض نہیں۔ شاہ محمود قریشی صاحب بھی ریمنڈ ڈیوس والے واقعے کے بعد سے اکثر میرے پھکڑپن کا شکار رہے ہیں۔

اتوار کے روز ملتان میں ہوئی ان کی پریس کانفرنس کو لیکن میں اس کالم کے آغاز میں بیان کردہ وجوہات کی بنیاد پر سنجیدگی سے لینے کو مجبور ہوں۔ اپوزیشن کے چند رہ نماؤں کی اس بات میں یقینا وزن ہے کہ اگر معاملہ واقعی بہت سنگین تھا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کے پاس اس ضمن میں ٹھوس اطلاعات موجود تھیں تو وہ فی الفور حزب مخالف کی جماعتوں سے رابطہ استوار کرتے۔ سینٹ اور قومی اسمبلی میں خارجہ امور سے مختص کمیٹیاں بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

ان دونوں کا ایک مشترکہ ہنگامی اجلاس بلایا جاسکتا تھا۔ بہتر ہوتا کہ ملتان میں پریس کانفرنس کے ذریعے 16 سے 20 اپریل وائے ٹائم فریم کو برسرِ عام لانے سے قبل اسے طے کرنے والی معلومات مجوزہ اجلاس کے روبرو لائی جاتیں۔ ایسا ہوجاتاتو اس اجلاس کے اختتام پر پاکستان کے وزیر خارجہ مذکورہ کمیٹی کے سرکردہ اراکین کو ساتھ بٹھا کر ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مذکورہ ٹائم فریم کو دُنیا کے روبرولاتے عالمی برادری کو اس کی بدولت یہ پیغام مل جاتا کہ ممکنہ بھارتی جارحیت سے نبردآزما ہونے کے لئے حکومت اور حزب اختلاف باہمی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے یکسوویکجا ہے۔ محض اپیرینسز کی منطق کا اطلاق اس ضمن میں قطعاً درست مگر یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ کو دستیاب معلومات جب سفارتی ذرائع سے اقوام متحدہ کے ”پانچ بڑوں“ تک پہنچائی گئیں تو ان میں سے فرانس یا امریکہ جیسے ممالک نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خود کو میسر معلومات پر اصرار کرنے کے لئے ملتان میں ایک ”ہنگامی“ دِکھتی پریس کانفرنس سے لہذا خطاب کو مجبور ہوئے۔ انتخابی بخار کے تناؤ میں حیران کن بات یہ بھی ہے کہ بھارتی میڈیا اور سیاست دانوں نے شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کو خاص اہمیت نہیں دی۔ اسے ہائپ کی صورت نہیں دی گئی۔ کئی گھنٹوں کی خاموشی کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے محض ایک تحریری بیان دے کر پاکستان پر وار ہسٹیریا بھڑکانے کا الزام لگانے کے بعد چپ سادھ لی گئی۔ بھارتی رویے نے مگر میرے خدشات کو تقویت دی۔ ”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے“ والی سوچ میں مبتلا ہوگیا۔ بے چینی سے منتظر ہوں کہ اقوام متحدہ کے ”پانچ بڑے“ اور ویٹو کی طاقت رکھنے والے ممالک اس ضمن میں اب کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •