EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

مسلم دنیا میں سائنس کا زوال کیسے ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نصیر الدین طوسی نے ہی ہلاکو خان سے مالی مدد حاصل کی اور مراغہ شہر کے قریب ایک پہاڑی پر ایسی رصدگاہ قائم کی جو بعد میں اسلامی دنیا کی سب سے بڑی رصدگاہ کے طور پر معروف ہوئی۔ پھر جلد ہی منگولوں نے اسلام قبول کر لینا شروع کر دیا۔ ایلخانان کا اسلام قبول کر لینا بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔ طوسی نے تمام معروف فلکیات دانوں کو مراغہ شہر میں اکٹھا کیا۔ اسی رصد گاہ کی بلڈنگ میں وہ تمام مسودات اکٹھے کر لئے گئے اور محفوظ کر لئے گئے جو بغداد، دمشق اور دوسرے شہروں سے بچا کر لائے گئے تھے۔

یہاں کا کتب خانہ ابن فوطی کی نگرانی میں کام کرتا رہا۔ فلکیات پر تحقیق و تخلیق یہاں دوبارہ شروع ہوگئی۔ یہیں پر شیرازی کی 2 جلدوں پر مشتمل فلکیات کی کتاب لکھی گئی۔ اگر آج کل مغرب کی لائبریریوں میں مسلم سائنسدانوں کی کتابوں کے نمونے موجود ہیں تو یہ اسی مراغہ شہر میں قائم لائبریری کی وجہ سے ہی ہیں۔ مراغہ شہر میں رصدگاہ کی بنیاد بغداد کی تباہی کے صرف ایک سال بعد ( 1259 ء) میں رکھ دی گئی تھی۔ رصد گاہ کے آلات معروف انجینئرز عرضی نے تیار کیے تھے۔

اور عرضی نے یہ تمام تفصیلات اپنی ہی کتاب میں لکھ دی تھیں۔ ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم سائنس میں تحقیق و تخلیق کا کام بغداد کی تباہی کے بعد بھی جاری رہا۔ صرف اس کا مرکز بغداد کی بجائے ایرانی شہر مراغہ بن گیا تھا۔ یہاں آکر کلاسیکی مورخوں کے دونوں بیانئے غلط ثابت ہو جاتے ہیں۔ سائنس میں تحقیق کا کام غزالی کے بعد بھی جاری رہا۔ اور بغداد کی تباہی کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں ہوتا رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں اسباب سے نہ سائنسی پیداوار کی رفتار کم ہوئی اور نہ دور زوال شروع ہوا۔

یہ دور زوال ریاستی سطح پر تو نظر آتا ہے۔ فکری سطح پر نظر نہیں آتا۔ اس کی وجوہات کچھ اور نظر آتی ہیں۔ 16 ویں صدی کے وسط میں مسلم تاریخ میں سیاسی طاقت بڑے پیمانے پر منقسم نظر آتی ہے۔ اس تقسیم سے 3 بڑی سلطنیں پیدا ہوئیں۔ تینوں تقریباً ایک ہی وقت میں قائم ہوئیں۔ عثمانیہ خلافت کو چھوڑکر باقی دونوں مسلم سلطنتیں 18 ویں صدی میں ختم ہو گئیں۔ عثمانی سلطنت بطور سلطنت عام ( 1453 ء) قسطنطنیہ کی فتح سے شروع ہوئی۔

عثمانیوں نے پھر بڑھنا اور پھیلنا شروع کیا۔ کچھ ہی عرصہ بعد مصر اور شمالی افریقہ بھی ان کے کنٹرول میں آگئے۔ شام، عراق اور جزیرہ العرب کے ایک بڑے حصے پر بھی عثمانیوں نے قبضہ کر لیا۔ عباسیوں کے بعد مسلمان ایک عثمانی خلیفہ کے ماتحت نظر آتے ہیں۔ 16 وی صدی میں ایران کے بڑے حصے پر صفویوں نے اپنا اقتدار مستحکم کرلیا۔ عثمانیوں اور صفویوں میں مذہبی بنیادوں پر اختلاف اور جھگڑے ہوتے رہے۔

اس کے اثرات دور جدید تک نظر آتے ہیں۔ مغلوں نے ( 1520 ء) سے تقریباً 19 ویں صدی کے وسط تک اپنی سلطنت کو قائم رکھا۔ یوں مغلوں نے وسط ایشیاء سے مشرق کی طرف بڑھتے بڑھتے ایک طویل المدت حکومت قائم کی۔ ان تینوں سلطنتوں کے قیام سے مسلمانوں میں تہذیبی پیوستگی کمزور پڑگئی۔ مختلف مواقع پر صفویوں اور عثمانیوں میں جھگڑے چلتے رہے۔ ریاستی حکمرانوں کی توجہ سائنسی اور ٹیکنالوجی کی تحقیقات و تخلیقات کی طرف بہت کم نظر آتی ہے۔

تھوڑا بہت علمی کام عثمانی سلطنت میں نظر آتا ہے۔ لیکن 16 ویں صدی میں ہی ایک اور بڑا واقعہ کرہ ارض پر پیش آیا۔ جس نے دنیا کے سارے نظم کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ نئی دنیا امریکہ کا انکشاف تھا۔ اس انکشاف کا سب سے زیادہ فائدہ یورپی سائنس کو ہوا۔ اس واقعہ سے نہ صرف زمانہ دراز سے قائم شدہ یورپ اور ایشیاء کے درمیان تجارتی شاہراہوں میں شکنیں پڑ گئیں۔ اب نیا خام مال یورپ میں براہ راست نئی دنیا سے پہنچنے لگا۔

اس واقعہ کو تفصیل سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 16 ویں صدی کے آغاز سے نئی دنیا کا انکشاف ہوا۔ کولمبس اور دیگر لوگوں کی مہمات سے تمام لوگ واقف ہیں۔ یہ واقعہ چند سالوں تک پھیلا ہوا نہ تھا بلکہ پوری 2 صدیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ نئی دنیا کی دریافت سے تجارت کا رخ بدل گیا۔ یورپ کا رخ اب ایشیاء کی بجائے نئی دنیا امریکہ کی طرف ہوگیا۔ نئی دنیا کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لئے افریقی غلاموں کو لاکھوں کی تعداد میں پکڑ کر مفت کام لینے کے لئے لایا گیا۔

نئی زمینوں کی کھوج نئے وسائل پر قبضہ، نئی نوآبادیات کے قیام کے لئے افریقی غلاموں کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔ 16 ویں اور 17 ویں صدیوں سے یورپ کے تاجروں کے راستے بدل گئے۔ یہ تاجر اسلامی دنیا کے باہر سے ہی بے شمار وسائل اور دولت یورپ لانے لگے۔ یورپ کے بادشاہ اور شہزادے بڑے بڑے تجارتی جہازوں کے بیڑوں کے مالک بن گئے۔ یورپ نے اپنی اس دولت کی بنا پر پہلے جنوب مشرق اور پھر مزید مشرق کی طرف قبضے شروع کیے۔

( 1757 ء) سے برصغیر پاک وہند پر بھی قبضہ شروع ہو گیا تھا۔ یہاں سے بھی دولت اور وسائل یورپ منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ اس طرح یورپ میں مغرب نئی دنیا اور مشرق قدیم دنیا سے بے شمار وسائل اور دولت یورپ منتقل ہوئی۔ اسی عرصہ میں یورپ میں سائنس اکیڈمیاں قائم ہوئیں۔ یہ ایک نیا رواج تھا۔ ان اکیڈمیوں کو یہ ہدایت تھی کہ سب سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو فکر معاش سے آزاد کر دیں جو دانشور ان اکیڈمیوں سے وابستہ ہوئے۔ وہ اکیڈمی علمی اور ذہنی مسابقت کا ماحول دانشوروں کے لئے پیدا کرتی تھیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صحت مند مسابقت عام طور پر سائنسی ترقی کا سبب بنتی ہے۔ ان اکیڈمیوں کو نئی دنیا سے حاصل ہونے والی بے شمار دولت حاصل تھی۔ گلیلیو جیسے لوگ ان اکیڈمیوں سے وابستہ ہوگئے۔ ان اکیڈمیوں میں Lincie کی اکیڈمی 1603 ء میں قائم ہوئی۔ 1662 ء میں Royal Society of England قائم ہوئی۔ اور فرانسیسی علمی اکیڈمی 1666 ء میں ترتیب دی گئی۔

اس سے پہلے یورپ میں نشاة ثانیہ اور اصلاح مذہب جیسی روشن خیال کی تحریکیں شروع ہو چکی تھیں۔ یورپی لوگوں نے چرچ کی ذہنی غلامی سے آزادی حاصل کر لی تھی۔ نئی دنیا سے حاصل کردہ دولت کی سرمایہ کاری سے سائنس زیادہ بارآور ہوئی۔ بے شمار یونیورسٹیوں کا قیام بھی اسی عرصہ میں شروع ہوا۔ 16 ویں صدی عیسوی کے بعد مسلم سائنس، یورپین سائنس کی نسبت بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ اس وقت سے یورپی سائنس اگر بہت زیادہ ترقی یافتہ نظر آ رہی ہے۔

تو اس میں نئے وسائل سے حاصل شدہ دولت کا بڑا رول ہے۔ یورپ اب (Micro) سطح کی سائنس پر آگیا ہے۔ چاند کی تسخیر اس کے لئے اب قصہ پارینہ ہے۔ اب اس کا رخ زہرہ سیارے کی طرف ہے۔ مسلم دنیا اور یورپ امریکہ کے درمیان جو فرق ہے اب ایسا لگتا ہے کہ آئندہ صدیوں تک قائم رہے گا۔ چینی تہذیب نے یہ فرق یورپین ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے کم کر لیا ہے۔ لیکن مسلم دنیا بکھرے ہوئے قطعات کی وجہ سے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں کوئی بڑی جست نہیں لگا سکی۔

مسلم دنیا کا رول صرف صارف کا رول ہے۔ یورپ اور امریکہ کے برابر آنے کے لئے مسلم دنیا کو اپنی جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ تحقیق وتخلیق کے لئے مختص کرنا پڑے گا۔ ابھی تک ہم کتنا خرچ سائنسی تحقیق و تخلیق پر کر رہے ہیں۔ صرف پاکستان کی مثال سے بات واضح ہو جائے گی۔ پاکستان سائنس وٹیکنالوجی کی تحقیق پر اپنی جی ڈی پی کا صرف اور صرف 2 فیصد خرچ کرتا ہے۔ انسانی اور مادی وسائل کے بڑے حصے کو مختص کر کے ہی ہم سائنسی دور زوال سے نکل سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صفحات: 1 2