مسلم دنیا میں سائنس کا زوال کیسے ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دور جدید میں مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی کی تخلیق میں دوسری اقوام سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ سائنس کے مورخین بتاتے ہیں کہ 16 ویں صدی عیسوی تک کرۂ ارض پر موجود 3 تہذیبوں میں سائنسی تخلیقات تقریباً ایک ہی معیارکی تھیں۔ چین، مسلم دنیا اور براعظم یورپ کی سائنسی اور ٹیکنالوجی کی تخلیقات میں کوئی نمایاں فرق نہ تھا۔ ہم موجودہ مضمون میں پہلے 16 ویں صدی تک مسلم علاقوں میں سائنسی صورت حال کا جائزہ لیں گے۔ اور پھر یورپ میں ہونے والی اعلیٰ درجہ کی سائنسی ترقی کی صورت حال دیکھیں گے۔

کچھ عرصہ پہلے کے سائنسی مورخین مسلم دنیا کے سائنسی زوال کے 2 اسباب بیان کیا کرتے تھے۔ پہلا سبب امام غزالی کی عقلی علوم کی بڑے پیمانے پر مخالفت کو سمجھا جاتا تھا۔ امام غزالی کے بارے ہر کوئی جانتا ہے کہ ان کی تحریروں کے اثرات پوری مسلم دنیا پر ہوئے ”تہافت الفلاسفہ“ ان کی بڑی زور دار تحریر ہے۔ یونانی فلسفلہ اور سائنسی فکر جو غزالی سے پہلے ذہنوں کو متاثر کر رہا تھا۔ امام غزالی نے اس کی بڑے پیمانے پر مخالفت شروع کردی۔

سائنس کے کچھ عرصہ پہلے تک کے مورخین مسلم سائنسی تحقیقات کو 2 ادوار میں تقسیم کر لیتے تھے۔ غزالی سے پہلے کا دور اور بعد کا دور۔ لیکن مورخین اس بات کی وضاحت موثر انداز سے نہیں کرتے کہ آخر غزالی کے بعد کے دور میں بھی اعلیٰ درجے کے مسلم سائنسدان کیسے پیدا ہوتے رہے۔ ان لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں بھی اعلیٰ معیار کی تھیں۔ فلکیات، طب، مکینکل انجیئرنگ اور بصریات میں غزالی کے بعد اونچے درجے کا کام ہوا۔

بلاشبہ فلکیات کی مختلف شاخوں میں 13 ویں صدی عیسوی کے بعد کام کرنے والے ایسے ماہرین بڑی تعداد میں تھے جو سیاری نظریات میں نئی راہیں نکال رہے تھے۔ اور متبادل فلکیات ترتیب دے رہے تھے۔ اسے ہم ہئیت جدیدہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہم امام غزالی کے تقریباً 100 سال بعد آنے والے عزالدین الجزری ( 1206 ) کے کام کا مقابلہ 9 ویں صدی عیسوی کے بنو موسیٰ سے کرتے ہیں۔ تو ہمیں الجزری کا کام بہت اونچے درجے کا محسوس ہوتا ہے۔

خلیفہ متوکل ( 847 ء تا 861 ء) بنو موسی کے بنائے ہوئے آلات کو بہت ہی پسند کرتا اور ان میں محسور رہتا تھا۔ بنو موسی کے تحت کام کرنے والے انجینئرز ہر وقت طرح طرح کے آلات بناتے رہتے تھے۔ اس صورت حال کے برعکس الجزری کے مربی کی خواہش یہ تھی کہ الجزری ایک ایسی کتاب لکھے جس میں اس کے بے مثال نمونے (اشکال) اور جو چیزیں اس نے ایجاد کی تھیں اور جو مثالیں اس نے سوچی تھیں وہ سب دستاویزی شکل میں محفوظ ہو جائیں۔

الجزری کی کتاب پڑھنے والوں کو اس کی تحریر میں گہری بصیرت محسوس ہوتی ہے۔ میکانکی آلات کیسے کام کرتے ہیں؟ اور کیوں اس طریقے سے کام کرتے ہیں؟ الجزری نے بعض اوقات یہ بھی کہا تھا کہ وہ فطرت کے ایک ایک اصول کی تشریح مختلف آلات سے کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ ان اصولوں کا کائنات میں ہمہ گیر طور پر نافذ ہونا ثابت ہو سکے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سائنسدان الجزری جو امام غزالی کے بہت بعد آئے ان کا کام سائنسی لحاظ سے اونچے درجے کا ثابت ہوتا ہے۔

ایک اور مثال علم طب میں ابن نفیس کی ہے۔ وہ اپنے ممدوح ابن سینا سے بہت اختلاف کرتا ہے بلکہ ابن سینا کی سند اول جالینوس پر بھی شدت سے اعتراض کرتا ہے۔ ابن نفیس نے جالینوس اور ابن سینا دونوں کے مشاہدات کو رد کر دیا تھا۔ یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غزالی کے بعد کے زمانے میں مسلم سائنسدانوں میں اتنا اعتماد آگیا تھا کہ وہ اپنے متقد مین پر بے دھٹرک اعتراض کرنے لگے تھے۔ امام غزالی کے دور کے بعد کما الدین الفارسی وفات ( 1320 ء) میں بھی اسی طرح کا رجحان نظر آتا ہے۔

الفارسی کا میدان تحقیق بصریات کا میدان تھا۔ الفارسی کے استاد قطب الدین شیرازی ( وفات 1311 ء) نے اسے ابن ہیشم کی کتابوں کے مطالعہ کی سفارش کی تھی۔ ابن ہیشم بھی امام غزالی سے پہلے دور کا سائنسدان تھا۔ بحریات کا الگ اہم موضوع قوس قزح (Rainbow) بھی تھا۔ اس کی تشریح نہ یونانی سائنسدان صحیح طرح سے کر سکے تھے اور نہ ہی ابن ہیشم جیسا بڑا بصریات دان قوس قزح کے رنگوں کی وضاحت کرسکا تھا۔ الفارسی نے اس کام کو کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

اس کام کے لئے اس نے ایسے آلات بنائے جس سے قوس قزح میں مختلف رنگوں کے ظہور کی توضیح ہوسکے۔ یوں قوس قزح کے رنگوں کی صحیح تشریح مابعد غزالی سائنسدان الفارسی نے کی۔ الفارسی نے ابن ہیشم کی معروف کتاب کی تشریح لکھی۔ اس میں یونانیوں اور ابن ہیشم کے خیالات کو غلط ثابت کیا۔ اس دور میں رواج اور روایت یہی تھی کہ سابقہ سائنسدانوں کی کتابوں پر شرح لکھی جائے۔ مصنف کے اپنے متبادل نظریات انہی شرحوں میں پیش کیے جاتے تھے۔

سائنسدان الجزری، ابن نفیس اور الفارسی نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا تھا۔ غزالی کے بعد کے زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ فلکیات، میکانکی انجینئرنگ، طب اور بصریات میں بہت سے نئے معیاری آلات بنائے گئے اور اونچے درجے کی کتابوں میں درج ہوئے۔ اوپر بیان کی گئی مثالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام غزالی کے دور کے بعد بھی مسلمانوں میں سائنسی تحقیقات وتخلیقات کا کام اونچے درجے پر جاری رہا۔ یہ کام 16 ویں صدی تک ہوتا نظر آتا ہے۔

یہاں آکر کاسیکی نقطہ نظر کے اس بیانیہ کی تردید ہو جاتی ہے کہ امام غزالی کے دور کے بعد سائنسی تحقیقات پر کام نہیں ہوا۔ قدیم مورخین اس بات کو بڑی شدومد سے بیان کرتے ہیں کہ بغداد کی تباہی ( 1258 ء) کے بعد مسلمانوں کی سائنسی قوت اور سوچ میں زوال آگیا۔ مرکزی ریاست منتشر ہوگئی اور سائنس کی ترقی کا کام بھی رک گیا۔ یہ نقطہ نظر ان مورخین کا ہوتا ہے جو تاریخ کو سیاسی واقعات کی عینک سے پڑھتے ہیں۔ یہ لوگ تاریخ کو صرف جنگ وجدل قرار دیتے ہیں اور یہ فکری تاریخ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

ان کے نزدیک مسلم سائنس کے زوال کی توجہ صرف منگول یلغار سے ہو جاتی ہے۔ مگر یہ وجہ اتنی اطمینان بخش نہیں جتنی عام لوگ سمجھتے ہیں۔ اگرچہ یہ صحیح ہے کہ ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد بالکل تباہ ہو گیا مگر یہ اتفاق بھی قابل غور ہے کہ اسی زمانے میں ہلاکو خان کا مشیر معروف فلکیات دان نصیر الدین طوسی تھا۔ ہلاکو خان نے اسے علاقہ الموت کے اسماعیلی قلعہ کی تسخیر کے دوران گرفتار کیا تھا۔ وہ بہت جلد اپنے علم وتجربہ کی بنا پر ہلاکو خان کا مشیر بن گیا تھا۔

طوسی نے اپنی عقلمندی اور حکمت عملی سے بغداد کی تباہی سے پہلے کتابوں کے 4 لاکھ مسودات ضائع ہونے سے بچا لئے تھے۔ یہ تمام باتیں جدید دور کی ریسرچ سے معلوم ہو رہی ہیں۔ نصیر الدین طوسی نے ابن الفوطی نامی نوجوان کی زندگی بھی بچالی۔ اور اس کو اپنے ساتھ تبریز کے نزدیک اس جگہ لے گیا جو بعد میں ایلخانی قلعہ کے نام سے مشہور ہوئی۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •