ٹی وی ڈرامے کے غیر معیاری ہونے کے اسباب ایک گفتگو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھ، سات اورآ ۤٹھ اپریل کو کراچی آرٹس کونسل میں ایک ثقافتی سطح کا فیسٹیول آراستہ کیا گیا۔ اس فیسٹیول میں بہت سی نئی اورمختلف باتوں یا آئڈیازکے علاوہ جوسب سے زیادہ ابھر کی چیز سامنے آئی وہ یہ کہ شہر میں نئے فنکاروں، دانشوروں، ڈراما نویسوں اور سکہ بند مفکروں کی جگہ کچھ نئے چہرے طلوع ہوتے دکھائی دیے ہیں۔ ناظمین جو کسی بھی تقریب کو قابو میں رکھنے اور آگے بڑھانے کا کام انجام دیتے ہیں جنھیں انگلش میں ماڈریٹر کہا گیا ہے، اس میدان میں بھی نئے چہرے دیکھنے کو ملے اور برسہا برس سے جو چہرے تقریبات کی نظامت کے امور انجام دیتے چلے آرہے ہیں ان کی مدد یا تو سرے سے لی ہی نہیں گئی یا پھر بہت کم لی گئی تاہم میں نے جن پروگراموں میں شرکت کی ان میں تو قطعی طور پر مجھے نئے چہروں سے ہی سابقہ پڑا۔

ویسے تو یہ سارا فیسٹیول ہی ممکن ہے لائق ستائش رہا ہو لیکن میں نے چونکہ چند پروگراموں میں ہی شرکت کی اس لیے میں انھی پر بات کرنا چاہوں گا۔ فیسٹیول کے انعقاد کا سہرا ثمینہ نزیر جو خود بھی ایک رائٹر ہیں اور ان کے ساتھ تھے طارق صدیقی ان دونوں شخصیات کے سر باندھا گیا ہے۔

تین ایسے پروگرام تھے جن میں میری دلچسپی سب سے زیادہ رہی اور ان میں سے ایک موجودہ تھیٹر پہ ہونے والی گفتگو اور اس کے بعد سعادت حسن منٹو کے افسانے باشاہت کا خاتمہ کی ڈرامائی صورت گری اور آخری دن ایک مذاکرہ جس کا موضوع تھا ٹی وی ڈرامے کا کانٹینٹ۔ اس کے شرکاء میں بی گل ( جو بڑی مضبوط ٹی وی ڈراما رائٹر ہیں علاوہ ازیں وہ افسانے بھی لکھتی ہیں اور اب تو فلم بھی لکھ رہی ہیں ) ظفر معراج بھی ٹی وی ڈرامے کے حوالے سے بے حد معروف اور بڑا نام ہے۔ فصیح باری خان کی شہرت ایک قطعی مختلف اوربڑی حد تک انوکھے انداز کے ڈرامے لکھنے کی رہی ہے۔ اس مذاکرے کی نظامت ساجی گل کے ہاتھوں میں تھی، ساجی بھی ایک ابھرتے ہوئے اور اپنی الگ پہچان بناتے ہوئے ٹی وی ڈراما رائٹر ہیں۔

زنجبیل عاصم شاہ ایک چینل کی کانٹینٹ ہیڈ ہیں جو خود بھی بڑے معرکے کے ٹی وی ڈرامے لکھتی رہی ہیں۔ اس وقت بھی وہ ٹی وی ڈرامے کی دنیا کا ایک مصروف اور اہم نام ہیں۔ ان کے علاوہ عاطف حسین تھے جو ٹی وی ڈراموں کے ڈائریکٹر ہیں اور خوب جانے مانے ہیں۔ تھیٹر پر ہونے والی گفتگومیں نظامت آصف فرخی کے ہاتھوں میں تھی اوران سے ایک چوک یہ ہوئی کہ وہ حاضرین کو اس گفتگو کا حصہ نہیں بنا سکے، جس کی وجہ سے پروگرام بوجھل اورکسی حد تک ناقابل برداشت سا رہا۔

گفتگو بھی تھیٹر کے ایسے مسائل پر ہوتی رہی جو اس سے قبل بھی بہت مرتبہ دیکھی اور سنی جاچکی ہے۔ اردو میں تھیٹر ڈراما نہیں ہے۔ یا بہت ہی کم ہے یہ موضوع اتنی بار دہرایا جاچکا ہے کہ اسے سننے کی تاب اب شاید ہی کسی میں رہی ہو۔ اس گفتگو کا حصہ ٹی وی اور فلم کی مٓعروف اداکارہ فائزہ حسن کو بھی بنایا گیا لیکن ان سے زیادہ تر موضوع سے ہٹ کر ٹی وی ڈرامے کے حوالے سے سوالات کیے جاتے رہے ان سوالات میں بھی ایسی جذبیت نہیں تھی کہ حاضرین جماہیاں لینے سے باز رہ سکتے۔

اس کے بعد منٹو کے افسانے ٓبادشاہت کا خاتمہ کی ڈرامائی تشکیل کا وقت ہوا۔ اس تھیٹر ڈرامے میں کیف غزنوی ایک اچھی گائکہ اور ٹی وی و تھیٹر اداکارہ ہیں کے ساتھ تھیٹر اور ٹی وی و فلم کے ابھرتے ہوئے اداکار نذر الحسن نے کام کیا۔ یہ دو ہی کرداروں پر مشتمل ڈراما تھا جیسا کہ افسانے کا منظر نامہ رہا ہے۔ نہایت سنجیدہ اور غیر معمولی گہرائی لیے ہوئے اس ڈرامے کو بی گل نے یقیناً مہارت سے لکھا۔ خالد احمد نے اس کی ڈرامائی صورت گری بھی متقاضی فنی ضرورتوں تحت کی۔

کیف کی گائی غزلیں جو زیادہ تر غالب کی تخلیق ہیں ڈرامے کا حصہ بنائی گئیں جو ظاہرہے افسانے میں موجود نہیں ہیں۔ اس ڈرامے نے تاثر تو ضرور کریئٹ کیا لیکن یہ تاثر اتنا زیادہ شدید نہیں رہا کہ جسے مدتوں تک یاد رکھا جاسکتا ہو۔ تاہم بی گل نے ایک سچے فنکار کے افسانے کو اسی سچائی سے ڈرامے کے قالب میں اتارا اور کہیں بھی منٹو کی روح کو بے چین کردینے والی کوئی قابل گرفت حرکت نہیں کی اور یہ بات لائق توصیف ہے۔ اداکاروں سے خالد احمد نے حتی الوسع بہترین کام لینے کی کوشش کی تاہم ایکٹنگ کا شعبہ پوری طرح خامیوں سے پاک نہیں کہا جاسکتا۔ متاثر کردینے والی اور برجستہ دل و روح کو چھولینے والی جس پرفارمنس سے کوئی بھی فن پارہ ناقابل فراموش بنتا ہے اس سطح کی خوبیاں ایکٹنگ کے حوالے سے دیکھنے میں نہیں آئیں۔ تاہم کیف کی گائکی نے اوڈئنس کومحظوظ کرنے میں کچھ نہ کچھ کردار تو ضرور نبھایا ہے۔

اب تیسرے پروگرام یعنی ڈرامے کے کانٹینٹ کے حوالے سے ہونے والی گفتگو پر آتے ہیں۔ اس پورے مذاکرے کو سننے کے بعد ایک چیز کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ پاکستان کا ٹی وی ڈراما ایسے مسائل کا شکار ہے جس میں معیار اور موضوعات کی وسعت کو محدود بنانے کی دانستہ کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس حوالے سے چینل مالکان کو بھی مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ زنجبیل عاصم نے اسی تناظر میں کچھ واقعات بھی پیش کیے جب چینل مالکان نے ان سے کہا کہ ہم یہاں پیسا کمانے یا بزنس کرنے آئے ہیں ہمیں ادب یا لٹریچر کے فروغ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

جبکہ فصیح نے کہا کہ رائٹرز کو بہر حال وہ لکھنا چاہیے جس پران کا دل اور ضمیر راضی ہو۔ اگر آپ کسی کے بھی کہنے سے لکھتے ہیں تو در اصل آپ خود کو خوشی و مسرت کے بجائے اداسی کے حوالے کررہے ہیں۔ بی گل نے کہا کہ ڈرامے کے معیار کا مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ کوئی بھی ڈراما دیکھنے کے بعد ایک قسم کی تشنگی اور شکایت محسوس کرتے ہیں تو در اصل آپ نے غیر معیاری ڈراما دیکھا ہے کیونکہ آپ سمجھتے ہیں ڈرامے میں جو کچھ بھی آپ کو دکھایا گیا ہے وہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ انھوں نے مذید کہا کہ کیا کسی بھی ایسی پروڈکٹ کے بارے میں آپ اتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرسکتے ہیں جس کا تعلق براہ راست عوام سے ہو۔ اگر لوگوں کو آپ کی پروڈکٹ سے غیر معیاری ہونے کی شکایت ہے جو مسلسل بڑھ رہی ہے تو پھر یہ ماننا ہی ہوگا کہ آپ کو اپنے کام کو از سر نو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

عاطف حسین جس قسم کے ڈراموں کی ڈائریکشن کے حوالے سے مشہور ہیں ان کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ میں تو اس سوچ کا حامی ہوں کہ لوگوں کو ہمیں وہ ہی کچھ دکھانا ہے جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ عاطف حسین ڈرامے کو ریٹنگ کے پیمانے سے مامتے ہیں اور اسی ڈرامے کو معیاری سمجھتے ہیں جس کی ریٹنگ کا گراف بلند ہوتا ہے۔ لیکن سنجیدہ طبقے اس سوچ کی مذمت کرتے ہیں ان کے خیال میں ریٹنگ تو ایسی چیزوں کی بھی آسکتی ہے جن کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اسی ضمن میں انڈین ڈراما بھی ہے جس پر حالیہ دنوں میں پابندی لگائی گئی ہے انڈیا کے ٹی وی ڈراموں کی ریٹنگ کئی مرتبہ پاکستان کے ٹی وی ڈراموں سے زیادہ آتی رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے لوگ انڈیا کے ڈرامے دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر انڈین ڈراموں پر تو پابندی کو نہیں ہونا چاہیے جبکہ پاکستان کے تمام ہی ڈراما بنانے والے ادارے اور افراد انڈین ڈراموں پر پابندی لگانے کا مطالبہ ہمیشہ کرتے رہے ہیں۔

ظفر معراج نے کہا کہ ڈرامے کے معیار اور انٹلکچوئیلٹی کو بڑھانے میں جو کردار سرکاری میڈیا ادا کرسکتا ہے اسے کورپوریٹ کلچر سے وابستہ افراد نہیں ادا کرسکتے۔ ویسے بھی سرکاری ٹی کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ملک اپنے خطے کے ادب، فنون اورکلچر کو معدوم ہونے سے بچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ سرکاری میڈیا بھی ریٹنگ کی اسی دوڑ کا شکار ہے جس سے سماج میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اس مذاکرے میں حاضرین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

مذاکرے کے موضوع نیز ہونے والی گفتگو میں لی گئی دلچسپی اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان کا ٹی وی ڈراما غیر معیاری ہے اسے معیاری بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اوراس نوعیت کے فورمز اورمباحثے اس معاملے میں یقیناً اپنا ایک ٹھوس اور مضبوط کردار ادا کرسکتے ہیں۔ چراغ فیسٹیول نے سماجی اور ثقافتی شعور کو بڑھاوے دینے میں جو کوشش کی وہ قابل تعریف ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •